پاکستانی افسران پر امریکی ویزے کی پابندی کیوں؟

پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے وضاحت کی ہے کہ امریکہ کی جانب سے عائد ہونے والی ’محدود‘ ویزا پابندی عام پاکستانی شہریوں پر نہیں بلکہ وزارتِ داخلہ کے صرف تین افسران پر ہے۔
 


ایوانِ زیریں کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے اراکین کو اس بارے میں بریف کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکہ سے ملک بدر کیے گئے غیر قانونی پاکستانی تارکین وطن کو قبول کرنے میں تاخیر کی وجہ سے عائد ہونے والی حالیہ ’محدود‘ ویزا پابندی سے عام پاکستانی متاثر نہیں ہوں گے۔

جن افسران پر پابندی لگی ہے ان میں وزارتِ داخلہ کے ایڈیشنل اور جوائنٹ سیکرٹریز اور ڈی جی پاسپورٹ شامل ہیں۔

قائمہ کمیٹی کی میٹنگ کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ کا خیال تھا کہ پاکستان میں ملک بدر کیے گئے غیر قانونی تارکین وطن کو قبول کرنے کا عمل سست روی کا شکار ہے جبکہ پاکستانی وزارتِ داخلہ کا موقف ہے کہ ایسے تارکین وطن کو قبول کرنے سے قبل قوانین کے تحت شناخت کی تصدیق کے مراحل سے گزرنا ہوتا ہے۔

’ان افراد میں اکثر وہ لوگ ہیں جو 1970 اور 1980 کی دہائی میں امریکہ گئے تھے اور ان کے پاس پرانے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ ہیں۔ اس کی تصدیق کا ایک عمل ہے جس میں وقت لگتا ہے اور ہم اس کو تیز کر رہے ہیں اور اس میں اب خاصی پیش رفت بھی ہوئی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کُل تین افراد ہیں جو اس محدود ویزا پابندی سے متاثر ہوئے ہیں اور جیسے ہی یہ عمل ٹھیک ہو گا یہ محدود پابندی بھی ختم ہو جائے گی۔

اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’اسلام آباد میں ویزا آپریشنز معمول کے مطابق جاری ہیں۔‘

پاکستان پر ویزا پابندی کی نوعیت ہے کیا؟
امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے 22 اپریل 2019 کو لاگو ہونے والے ’ریفیوزل پروسیجرز فار ویزاز‘ کے قانون کے تحت امریکی قونصلر آفیسر اب صرف ویزا جاری کرنے یا مسترد کرنے کے علاوہ ویزے کے اجرا کے عمل کو 'ڈسکانٹینیو' یا موقوف بھی کر سکتے ہیں۔

امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2019 میں پاکستان کو ان دس ممالک میں شامل کیا گیا ہے جن پر ویزے کے حوالے سے پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

یہ پابندیاں ان ممالک پر عائد کی گئی ہیں جو امریکہ سے بے دخل کیے گئے اپنے شہریوں کو واپس لینے سے انکار کرتے ہیں یا اس حوالے سے غیر ضروری تاخیری حربے استعمال کرتے ہیں۔

اس قانون کا مقصد امریکہ کے امیگریشن اینڈ نیشنیلٹی ایکٹ کے اس حصے کا مؤثر انداز میں نفاذ ہے جو امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کی موجودگی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ہے۔

امریکہ میں موجودہ قوانین کے تحت عدم تعاون پر عمل پیرا ممالک پر ویزے کی پابندی مکمل طور پر عائد نہیں کی جاتی بلکہ یہ کام مرحلہ وار ہوتا ہے۔
 


ابتدائی طور پر تعاون نہ کرنے والے ممالک کے ان افسران پر ویزا پابندی عائد کی جاتی ہے جو ان محکموں میں کام کر رہے ہوتے ہیں جو غیر قانونی تارکین وطن کو واپس اپنے ملک میں قبول کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔

پاکستان میں وزارت داخلہ وہ محکمہ ہے جس کا اس تمام عمل میں کلیدی کردار ہے اور وزیر خارجہ کے مطابق اس وزارت کے تین افسران پر ویزا پابندی عائد کی گئی ہے۔

تاہم امریکی قوانین کے مطابق اگر محدود پابندی مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہے تو اس پابندی کا دائرہ کار وسیع کیا جاتا ہے جس کا مقصد ایسے افسران کے خاندان کے افراد اور دوسرے متعلقہ محکموں کے افسران پر اسی نوعیت کی پابندی کا اطلاق کرنا ہے۔

اگر عدم تعاون کرنے والا ملک پھر بھی تعاون پر آمادہ نہیں ہوتا تو قونصلر آفیسر حکومتی وزرا کو نجی دوروں کے لیے ویزے کا اجرا بھی روک سکتے ہیں۔

فروری 2018 میں پارلیمان کے سامنے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2015 سے سنہ 2017 کے لگ بھگ 90 ہزار پاکستانیوں کو مختلف ممالک سے واپس پاکستان ڈی پورٹ کیا گیا ہے۔


Partner Content: BBC

Reviews & Comments

Language: