رمضانی افسانچے

(Yousuf Bidri, )

(۱)بہت سی عورتیں :
بہت سی برقعہ پوش اجنبی عورتیں جب راہگیروں میں شامل ہوجاتی ہیں تو پتہ چلتاہے کہ غربت کاسالانہ پردرشن شروع ہوچکاہے۔ مجھے بھی احساس ہوتاہے کہ میں اگر ان کی غربت کے خاتمہ کے لئے کچھ نہیں کرسکتاتو کم سے کم اہل خیر سے کہہ کر ان کے ایک ماہ کے ہانڈی چولہے اور عید کااہتمام کروں۔

گذشتہ 5سال سے میں نے ایسا ہی کچھ اہتمام کررکھاہے۔ لیکن تنہاہونے کی بناپر اب تھک چکاہوں۔ اب چاہتاہوں کہ اس غربت کو ٹھکانے لگانے کے لئے حکومت سے کہہ دوں کہ سال میں ایک مرتبہ 30کیلو معیاری چاول، معیاری تیل، اشیائے خوردونوش، سیویاں اور دودھ وکھجور کااہتمام حکومت کرے۔ لیکن ہمت جواب دے جاتی ہے کہ کہیں حکومت پلٹ کر یہ نہ کہہ دے کہ ان غریب عورتوں کے ایک ماہ کے اشیائے خوردونوش کا انتظام نہیں کرسکتے، ایسے طبقہ کو ڈوب مرنا چاہیے۔ جب سے سوچ رکھا ہے کئی بار حکومت کی آواز کانوں میں آچکی ہے اور میں ڈوب مرچکاہوں۔ پھرنہ جانے کس طرح زندہ ہوجاتاہوں۔ روز کا یہی معمول ہے ۔ روز مرجاتاہوں، روزجی اٹھتا ہوں۔ بے حیاکہیں کا۔

(۲)میں روزے سے ہوں: مختار سیٹھ نے اپنا تما م کام بچوں کے حوالے کردیاہے۔ گھر کاکام ہویا اپناکاروبار ، سبھی کچھ بچوں نے اپنے ہاتھوں میں لے رکھاہے۔اور مختار سیٹھ بالکل خالی ہاتھ ہیں۔ جب کبھی ان سے پوچھا جاتاہے کہ سیٹھ صاحب کاروبار کا کیاحال ہے ، جواب ملتا ہے اﷲ جانے ۔دوسراسوال کیاجاتاہے کہ سیٹھ صاحب اس طرح فارغ کیوں بیٹھے ہیں آپ؟ تو وہ بڑے اطمینان سے جواب دیتے ہیں ’’میں روزے سے ہوں‘‘

(۳)چھوٹی سی آرزو:فارہہ بڑی بے بسی سے تڑپ رہی تھی لیکن کرتی بھی کیا، سحر کے لئے پکانا تھا۔ شوہر سورہاتھا۔ کھانا بناکر شوہر نامدار کو اٹھانا اور کھانے کے دوران شوہر کی تمام چھوٹی چھوٹی طلب کو پوری کرنا اس کافریضہ تھا۔ پیٹ کادرد بڑھ رہاتھااور وہ دعا کررہی تھی کہ اے اﷲ ! سحرختم ہونے تک یہ درد تھم جائے۔

شوہر سحری نوش کررہاتھا اورفارہہ کے چہرے پر تکلیف کے آثار نمایاں تھے۔ شوہرکے ہاتھ سے نوالہ گرپڑا ۔ اس نے پوچھا ’’آخرکیاہورہاہے تمہیں، تم ٹھیک تو ہونافارہہ‘‘فارہہ نے کچھ نہیں کہا۔ صرف اپنے پیٹ پرتکلیف سے ہاتھ پھیرنے لگی۔ شوہر نے بڑی تیزی سے اس کو اپنی بانہوں میں لے لیااور اپنے کھردرے ہاتھ سے خودبھی اس کے پیٹ کوسہلانے لگا۔ شوہر کی آنکھوں میں آنسوتھے۔ وہ گھبرایا ہوالگ رہاتھا۔ فارہہ کے ہاں سے تکلیف کااحساس یکلخت غائب ہوگیا اور وہ فرحت محسو س کرنے لگی۔اس نے زیر لب صرف اتنا ہی کہا’’قربتیں زندگی میں جان ڈال دیتی ہیں‘‘
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 294 Print Article Print
About the Author: Yousuf Bidri
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: