اوٹ پٹانگ - ایک نئی صنفِ نثر

(Prof Niamat Ali Murtazai, )

 ’اوٹ پٹانگ‘ ایک نئی صنفِ ادب کے طور پر متعارف کرانا میری ذاتی کوشش ہے۔ کوئی نئی صنفِ ادب تخلیق کرنا اور اسے متعارف کرانا کسی بھی ادیب کا شخصی حق ہو سکتا ہے اور اسی طرح اس کو شرفِ قبولیت دینا یا نہ دینا بھی ہر دوسرے ادیب یا قاری کا ذاتی حق ہو سکتا ہے۔ عمومی طور پر تو یہی ہوتا ہے کہ اصنافِ ادب کسی فردِ واحد کی اختراع یا تخلیق نہیں ہوتیں بلکہ ایک جنریشن انہیں پروان چڑھاتی ہے اور پھر اگلی جنریشن کے حوالے کردیتی ہے اور یوں اصنافِ ادب ایک زمانے سے دوسرے زمانے تک چلتی چلی جاتی ہیں۔لیکن بعض اوقات کوئی ادیب یا ادیبوں کا کوئی خاص مکتب فکر کسی خاص تکنیک یا صنف کو ادب میں متعارف بھی کروا دیتا ہے اور پھر اس کو قبولِ عام کی حیثیت بھی حاصل ہو جاتی ہے اگرچہ ہر شخص کا اس سے متفق ہونا ضروری بھی نہیں ہوتا۔اسی تناظر میں میں بھی ایک صنفِ ادب متعارف کرانا چاہتا ہوں جس کا ادبی نام میں نے از خود ہی ’اوٹ پٹانگ‘ رکھا ہے۔ یہ نام اس کی مجموعی نوعیت کے اعتبار سے رکھا گیا ہے جس کی بحث نیچے دی گئی ہے۔

’اوٹ پٹانگ‘ کی اپنی حیثیت جس سے اس کے وجود میں آنے کا جواز اور استدلال پیش کیاجا سکتا ہے کچھ یوں ہے:
’اوٹ پٹانگ‘ ایک ایسی صنفِ ادب ہے جس کا وجود مضمون اور انشائیہ دونوں سے بالکل مختلف ہے اور اس کا مختلف ہونا ہی اس کے وجود کے استحکام اور ضرورت کی دلیل ہے۔ مضمون ایک سنجیدہ تحریر ہے جوکسی علمی ، ادبی، سیاسی، اخلاقی، سماجی، معاشی یا مذہبی موضوع پر بحث اوراستدلال کے لئے لکھا جاتا ہے۔ جبکہ انشائیہ مضمون کی نسبت ہلکے پھلکے انداز کی تحریر ہے اور کسی بھی موضوع پر لکھا جا سکتا ہے۔ اس کا عنوان اس کے تمام پیش کردہ مواد میں موجود رہتا ہے اور قاری کا ذہن اس خاص عنوان پر ادیب کی جانب سے لکھے گئے نئے نئے خیالات اور برجستہ جملوں سے محظوظ ہوتا ہے۔ مضمون کے لئے فکر انگیز ، سنجیدہ اور گہراہونا ضروری ہے جبکہ انشائیے کے لئے ہلکا پھلکا، مختصر اور حظ افروز ہونا مفیدہے۔
جب کہ ’اوٹ پٹانگ‘ ان دونوں سے مختلف و منفردہے۔ اس کا اختلاف و انفراد کچھ یوں ہے:
’اوٹ پٹانگ ( اردو ، پنجابی یا کسی بھی زبان میں ) وہ صنفِ نثر ہے جس کا عنوان تو ہوتا ہے لیکن اس کا سارا مواد اس عنوان کے تابع یا متعلق نہیں ہوتا بلکہ ایک عنوان کے نیچے متعدد موضوعات پر بھی بات کی جاتی ہے۔

’اوٹ پٹانگ‘ میں بات کا فکر انگیز، سنجیدہ اور گہرا ہونا یا حظ افروز ہونا ضروری نہیں اور منع بھی نہیں۔ اس کا عنوان کچھ بھی ہو ، اس عنوان کے نیچے موضوعات کی ایک کہکشاں بکھری ہوتی ہے اور اس کہکشاں میں باہمی ربط بھی نہیں ہوتاجیسا کہ مضمون یا انشائیہ میں ہوتا ہے۔اگر ربط بنا بھی لیا جائے تو منع نہیں لیکن عمومی طور پر نہیں ہوتا۔ ربط ہو بھی تو من گھڑت سا ہی لگتا ہے۔

’اوٹ پٹانگ‘ سنجیدہ بھی ہو سکتی ہے اور مزاحیہ و طنزیہ بھی لیکن مقدس یا مذہبی عنوانات یا موضوعات کو اس میں نہیں لیا جا سکتا کیوں کہ ان کا اصل زمرہ مضمون ہے۔

’اوٹ پٹانگ ‘ شعور کی رو سے بھی اپنا اختلاف رکھتی ہے کہ اس میں موضوعات کا انتخاب اور ترتیب ادیب کی مرضی پر منحصر ہے۔ ویسے بھی شعور کی رو کو مکمل طور پر لکھنا کسی کے بس میں نہیں کیوں کہ ایک خیال کو لکھتے ہوئے کئی ایک خیالات ذہن میں آ کر نکل جاتے ہیں۔

’اوٹ پٹانگ‘ ایک ہلکی پھلکی اور مختصر تحریر ہے جسے کوئی قاری کچھ منٹوں میں آسانی سے پڑھ سکے اور اسے سوچنے اور سمجھنے کی کوفت سے نہ گزرنا پڑے۔لیکن اس کا مختصر ہونا بھی ضروری نہیں کیوں کہ تحریر کی طوالت قاری اور ادیب کا باہمی معاملہ ہے تیسرے کی رائے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی لیکن پھر بھی کہا جا سکتا ہے کہ عام طور پر ایک ’اوٹ پٹانگ‘ مختصر ہی ہوتی ہے۔ اگرچہ ایسی باتیں ویسے بہت لمبی ہو جاتی ہیں۔اس صورت میں یہ انشائیہ کے قریب جاتی ہے لیکن اس سے تعلق پیدا نہیں کرتی۔

’اوٹ پٹانگ ‘ اس طرح اپنی انفرادی حیثیت بھی بناتی ہے کہ اس کا تعلق ذہن کی اس عادت یا روئیے کے ساتھ ہے جس کے مطابق انسانی ذہن نے نئے خیالات و احساسات کی ا ماج گاہ بنا رہتا ہے۔ انسانی ذہن کی عام عادت ہے کہ جب کسی ایک نقطے پر سوچنا پڑے تو وہ جلد تھک جاتا ہے اور تھکاوٹ بوریت کو جنم دیتی ہے، اسی لئے لمبے لمبے مضامین کم سے کم قاری حاصل کر پاتے ہیں اور مختصر تحریریں زیادہ سے زیادہ نظروں کو اپنی طرف مائل اور قائل کرنے میں کامیاب رہتی ہیں۔اگر ذہن ایک نقطے پے نہیں رہتا تو پھر تحریر کو بھی اپنا فوکس بدل لینے کی اجازت ہونی چاہیئے جس کا تجربہ’ اوٹ پٹانگ ‘ میں کیا گیا ہے۔ اس طرح یہ صنفِ ادب انسانی ذہن کی بہتر عکاسی کر سکتی ہے اور نفسیات دان اس کی مدد سے انسان کے ذہن تک بہتر رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔جدید دور میں ادب کو جتنا زیادہ نفسیاتی حوالوں اور نظریات کی روشنی میں پرکھا گیا ہے اتنا پہلے کسی دور میں نہیں ہوا ۔ اس حوالے سے بھی ’اوٹ پٹانگ‘ باقی اصنافِ نثر کی نسبت ادب میں اپنا بہتر مقام بنا سکتی ہے۔

’اوٹ پٹانگ‘ ایک سے دوسرے خیال تک یوں اچھل کود کر جاتی ہے جیسے کوئی تتلی اڑتے ہوئے دائیں بائیں اوپر نیچے ہوتی چلی جاتی ہے اور کسی ایک لائن پر چلنے کی زحمت نہیں اٹھاتی۔ ’اوٹ پٹانگ‘ کو تتلی کی اڑان بھی کہا جا سکتا ہے۔جس پر ذہن اور سوچ بھی چل رہی ہوتی ہے ۔ لیکن عمومی تحریریں اس اڑان کو ایک لائن جسے پلاٹ کہا جا سکتا ہے پر لانے کی سرتوڑ کوشش کرتی ہیں اور اسے تحریر کا حاصل بھی سمجھتی ہیں۔ جبکہ ’اوٹ پٹانگ‘ اس سیدھی لائن سے بے نیاز ہو کر تتلی کی طرح اپنی ہلکی پھلکی اڑان بھرتی چلی جاتی ہے اور دیکھنے والے محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہتے۔

’اوٹ پٹانگ‘ کی زبان بھی مضمون اور انشائیہ کی زبان جیسی نہیں ہوتی اس میں زبان سادہ لیکن کاٹ دار زیادہ مناسب رہتی ہے۔ مضمون کی زبان عالمانہ زیادہ ہوتی ہے جب کہ انشائیے کی زبان جذباتی انداز کی زیادہ ہوتی ہے جب کہ’ اوٹ پٹانگ‘ کی زبان ایک عام قاری کو مدِ نظر رکھتی ہے اور کبھی اتنی مشکل ہونے کی کوشش نہیں کرتی کہ لوگ ادب کو بہت عالم فاضل سمجھنے پر مجبور ہو جائیں اور نہ ہی اتنی سادہ ہوتی ہے کہ ادب کا لطف ہی غائب ہو جائے۔انشائیے کی جذباتیت کی جگہ اس میں برجستگی اور ندرت غالب ہوتی ہے۔

’اوٹ پٹانگ‘ کا یہ نام رکھنے کی وجہ یعنی وجہ تسمیہ بھی یہی ہے کہ اس کے مواد میں ربط یا استدلال کاتسلسل نہیں ہوتا بس بے ربط سی سوچیں کسی ایک عنوان کے تحت اکٹھی کر دی جاتی ہیں۔اگر یہی چیز کسی مضمون یا انشائیہ کے ساتھ کی جائے تو اسے نا مناسب اور نا قابلِ قبول گردانا جائے گا جب کہ یہ بات ’اوٹ پٹانگ‘ کی سب سے بڑی صفت ہے۔

درج بالا اوصاف اور انفراد رکھنے والی تحریر کو اگر کوئی علیحدہ نام جیسا کہ میں نے’ اوٹ پٹانگ‘ دیا ہے دے دیا جائے تو کسی اور صنفِ ادب کا کیا جاتا ہے۔ جس ادیب یا قاری کی مرضی ہو اسے مان لے اوراگر وہ اپنی ’اوٹ پٹانگ‘ لکھنی چاہے تو لکھ بھی لے اور جس کی مرضی ہو نہ لکھے یا نہ پڑھے کسی کو کب کسی نے مجبور کیا ہے۔سارے لوگوں تو شاعری بھی پسند نہیں ہوتی اور نہ ہی سارے نثر پسند ہوتے ہیں۔ انسانی مزاجوں اور طبیعتوں کی رنگا رنگی میں ایک رنگ ’ اوٹ پٹانگ‘ کا بھی مل جائے تو کیا مضائقہ ہے ادب میں ایک نئی مخلوق کا اضافہ ہی ہے، دنیا کے باقی ادبوں میں اس صنف کا وجود میری معلومات کے مطابق کسی اور ادب میں نہیں ۔ اس طرح اگر ’اوٹ پٹانگ‘ جیسی صنف کو اردو ادب میں پزیرائی مل جائے تو یہ اردو ادب کی ایک امتیازی صنف بن جائے گی۔

ادب کے رستے اور دروازے کھلے رکھنے چاہئیں۔ اگر کوئی ذہن اچھی بات دے تو لے لینے میں کیا ہرج ہے۔ انسان اتنا مجبور نہیں ہونا چاہیئے کہ ادب میں بھی اپنی بات نہ کہہ سکے۔ باقی شعبوں کے رویئے تو ہمارے سامنے ہیں ہی۔ ادب اور ادیب کھلے دل والے ہوتے ہیں اور ہر اچھی بات اور اختراع کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ ادب بہترین شخصی آزادی اور خوبصورت اظہار کا شعبہ ہے اس میں سماجی زندگی کے باقی شعبوں جیسی پابندیاں مناسب نہیں ۔

امید ہے کہ قارئین کو ہماری گزارشات پسند آئیں گی اور وہ ہماری اس اختراع اور کوشش کو سراہیں گے۔

مثال کے لئے اردو نیٹ جاپان کے قاری اردو نیٹ جاپان پے چھپنے والی میری ’اوٹ پٹانگ‘ ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Niamat Ali

Read More Articles by Niamat Ali: 174 Articles with 177089 views »
LIKE POETRY, AND GOOD PIECES OF WRITINGS.. View More
21 May, 2019 Views: 274

Comments

آپ کی رائے