نفع بخش سودا

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: آسیہ پری وش، حیدرآباد
مجھے سمجھ نہیں آتا کہ تمہارے ماں باپ نے یوں صاف انکار کیسے کردیا۔ تمہیں پتا ہے گھر آکر ماما پاپا نے میری کتنی بے عزتی کی ہے۔ کتنی مشکلوں سے تو انہیں تمہارے گھر آنے کے لیے راضی کیا تھا صرف تمہاری خوشی کے لیے۔ لیکن تم نے شاید اپنے ماں باپ کو اچھی طرح نہیں سمجھایا تھا کہ ہم دونوں ایک دوسرے سے کتنی محبت کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے سو انہوں نے ماما پاپا کو کسی صورت بھی انکار نہیں کرنا۔ شمع کے والدین کے اپنے رشتے سے یوں صاف انکار پہ وہ جتنا غصے میں تھا اتنا ہی بدلحاظ بھی ہورہا تھا۔

رات کی خاموشی کا وہ پہر جو وہ دونوں فون پہ محبت کی باتیں کرتے گزارتے تھے آج وہی پہر دانش کے غصے کی نذر ہورہا تھا۔ دانش! اس انکار کی وجہ تو تمہارے ماما پاپا ہی ہیں۔ ایک تو اتنے روکھے انداز میں بات کررہے تھے بلکہ بات کیا کررہے تھے لگ رہا تھا کہ جیسے پتھر مار رہے ہوں۔ صاف ظاہر ہورہا تھا کہ میرے رشتے کے لیے آکے انہوں نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ اوپر سے امی اور بابا سے یہ بھی کہہ دیا کہ جب آپ کی لڑکی اور ہمارا لڑکا آپس میں سب باتیں طے کرچکے ہیں تو ہمیں اور آپ کو ایک دوسرے سے ملنے کی بھلا کیا ضرورت تھی۔

تمہیں پتا ہے ناں تمہارے والدین کی طرح میرے والدین بھی اس رشتے پہ کسی صورت راضی نہیں تھے۔ تمہاری طرح میں نے بھی انہیں بہت مشکل سے راضی کیا تھا لیکن تمہارے ماما پاپا کی اس بات نے سارا معاملہ بگاڑ دیا۔شمع روتے ہوئے دانش کا غصہ برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ اسے اس کے والدین کا قصور بھی بتا رہی تھی۔

ہاں ہاں سارا قصور تو میرے ماں باپ کا ہے۔ تمہارے ماں باپ تو بڑی خوشدلی سے ان سے ملے تھے۔ ان کے سامنے بچھے بچھے جارہے تھے۔شمع کی وضاحت پہ دانش اور زیادہ بپھرا تھا۔

یہ سچ تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے سے جتنی زیادہ محبت کرتے تھے اتنے ہی ان دونوں کے والدین اس رشتے کے خلاف تھے اور ان دونوں نے ہی بڑی مشکلوں اور منت سماجت کے بعد اپنے اپنے والدین کو منایا تھا لیکن رشتہ مانگنے کے وقت معاملہ یوں بگڑا تھا کہ اب وہ دونوں کچھ نہیں کرسکتے تھے۔ ایسے میں دانش کا اس کے اور اس کے والدین کے لیے اتنا ہتک آمیز رویہ شمع کو تھکا بھی رہا تھا۔ ویسے بھی تمہارے ماں باپ لڑکی کے ماں باپ ہی تو تھے۔ سو کیا ہوجاتا جو وہ اتنی چھوٹی سی بات پہ اکڑنے کے بجائے ماما پاپا کے سامنے تھوڑا سا جْھک جاتے اور ان کی بات برداشت کرجاتے۔ اس طرح سے ہماری شادی تو ہوجاتی۔ ہم دونوں کو ایک دوسرے کی محبت تو مل جاتی۔ اتنا مہنگا سودا۔ عزت کے بدلے محبت؟ وہ سوچ کر رہ گئی۔

چلو دانش مان لیا کہ میرے والدین نے ہی تمہارے والدین کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ اب یہ بتاؤ کہ اب اس کا حل کیا نکلنا ہے؟ شمع کی اس ہار نے دانش کے اندر اْبلتے لاوے پر ٹھنڈے پانی کے چھڑکاؤ کا کام کیا۔ وہ یکلخت ٹھنڈا ہوگیا۔ اب اس کا صرف ایک ہی حل ہے۔ کون سا؟ کورٹ میرج۔ کورٹ میرج؟ دانش کے لہجے کی سنسناہٹ شمع کے پورے وجود میں پھیل گئی۔

ہاں کورٹ میرج۔ میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہا تھا کہ ہماری محبت کا ملن کورٹ میرج پہ ہی ہوگا پر تم ہی نہیں مان رہی تھیں کہ نہیں۔ گھر والوں کو ہر صورت میں منا کر عزت سے شادی کریں گے۔ دیکھ لیا اس کوشش کا انجام۔ اب بتاؤ کب کررہی ہو کورٹ میرج؟ دانش اتنے یقین سے کہہ رہا تھا جیسے اسے یقین ہو کہ شمع کورٹ میرج کے لیے اب کوئی تاریخ دے ہی دے گی۔ آخر کیوں نا اس کے لہجے سے یہ یقین بولتا۔ یہ یقین اسے اسی کا دیا ہوا ہی تو تھا۔

تمہیں پتا ہے دانش! جس طرح تمہارے ماما پاپا ہم پر احسان عظیم کرنے والے انداز میں بیٹھے ہوئے تھے اور باتیں کررہے تھے اور ان کے سامنے بیٹھے میرے امی بابا جس طرح سے ان کا ہر توہین آمیز انداز اور ہر بات صرف میری ضد کی خاطر جس صبر، تحمل اور ضبط سے برداشت کررہے تھے مجھے ان کو دیکھ کر ان کی حالت پر ترس آرہا تھا اور اپنی محبت اور ضد پر رونا آرہا تھا۔ پتا نہیں کیوں؟ حالانکہ یہ سب میری ایما پہ ہی تو ہورہا تھا۔ سو مجھے تو خوش ہونا چاہیے تھا کہ میرے والدین میری ضد اور خوشی کی خاطر یہ سب برداشت کررہے تھے پھر میرا اندر کیوں رو رہا تھا؟ موبائل کان سے لگائے شمع اس وقت کے منظر میں کھوئی دکھ سے بول رہی تھی جبکہ دانش خاموشی سے شمع کا دکھ سن رہا تھا۔

اس پہ مجھ پر مزید ستم یہ ہوا کہ وہاں پر بیٹھے بیٹھے ہی میری نظروں کے سامنے میری آئندہ شادی شدہ زندگی کی فلم بھی چلنے لگی جس میں اپنے ماں باپ کی جگہ میں نے خود کو بیٹھے پایا۔ بس فرق صرف اتنا تھا کہ ان کے چہرے ضبط اور برداشت کی سرخی کے باوجود سپاٹ تھے جبکہ میرے چہرے پر صبر اور برداشت کی سرخی کے ساتھ ساتھ ہونٹوں پر مسکراہٹ بھی سجی ہوئی تھی۔ میں اپنی پوری سچائی، خوش اخلاقی، صبر اور عزت سے تمہارے گھر والوں کے دل جیتنے کی ہر ممکن کوشش کر کر کے اب تھکنے لگی تھی لیکن تمہارے گھر والوں کے ماتھے کے بل کسی طور کم ہی نہیں ہورہے تھے۔ ہاں تو کم ہوں بھی کیوں۔ میرا جرم تھا بھی تو اتنا بڑا۔ تم سے محبت پلس میں ضد کی یہ شادی۔ کوئی چھوٹا جرم تو نہیں ہے ناں اور اگر ساتھ میں والدین کی نافرمانی بھی ہو تو سوچو جرم کس نوعیت کا ہوجاتا ہے۔
اور تم۔۔۔؟ جو میرے اس جرم میں میرے ساتھ ساتھ تھے اپنی محبت اور غرض حاصل کرکے اپنی محبت کی رتی برابر عزت بھی اپنے گھر والوں کی نظروں میں پیدا نہیں کروا سکے تھے۔ الٹا تم بھی مجھے صرف اپنی محبت سے بہلاتے رہتے۔ یہ جانے بغیر کہ محبت کے ساتھ اگر عزت نہ ہو تو محبت بھی آہستہ آہستہ ختم ہوجاتی ہے۔ اور میرے دل میں اب تمہاری کتنی محبت بچی ہے اس پیمائش سے بچنے کے لیے میں تم سے بھی چھپتی پھر رہی تھی۔اور وہ میرا پیارا بابل کا آنگن ! جو ہر شادی شدہ لڑکی کے لیے اپنے دکھ سکھ، آنسو، ہنسی اور خوشیاں بانٹنے کے لیے اور کچھ دیر سستانے کے لیے ایک بہترین لگژری جگہ ہوتی ہے وہاں چند گھنٹے سستانے تو جاتی لیکن وہاں پہ اپنے آنسو اور دکھ چھپا کے صرف جھوٹی مسکراہٹیں اور خوشیاں بانٹ آتی کیونکہ اپنے آنسو اور دکھ بانٹنے کا حق تو میں خود اپنی ضد کے ہاتھوں خود سے چھین چکی تھی۔

نہیں نہیں۔۔۔ میں بے اختیار جھرجھری لے کر حال میں لوٹ آئی۔ جہاں پر وہی منظر میرا منتظر تھا۔ تمہارے ماں باپ کا کروفر بھرا انداز اور میرے ماں باپ کا ضبط کی آخری حدوں کو چھوتا خاموش انداز۔ شمع سانس لینے کو رکی تو دانش کو اپنا سانس رکتا محسوس ہوا۔ شمع کی بات و انداز میں اسے کچھ غیرمعمولی سا محسوس ہورہا تھا جسے وہ محسوس نہیں کرنا چاہ رہا تھا۔

اتنا کڑا سودا۔۔۔؟ کچھ دیر کی تکلیف دہ صبرآزما خاموشی کے بعد شمع دوبارہ بولنا شروع ہوئی۔ یعنی محبت کے بدلے عزت کا سودا؟ اتنا کڑا سودا؟ کیا میں اس کڑے سودے کو نبھانے کے قابل ہوں؟ جبکہ مجھے پتا بھی ہے کہ اس سودے کے بعد تمہاری محبت بھی میرے اندر سے ختم ہوجائے گی۔ پھر۔۔۔؟

حال میں لوٹ کر سامنے کے منظر پر نظریں جمائے میں ابھی اپنی ان سوالات بھری سوچوں میں ہی تھی کہ تمہاری ماں کی اس بات پر کہ جب آپ کی لڑکی اور ہمارا لڑکا آپس میں سب باتیں طے کرچکے ہیں تو ہمیں اور آپ کو ایک دوسرے سے ملنے کی بھلا کیا ضرورت تھی۔ اس تمسخرانہ انداز میں کہی بات پر میرے باپ کے ٹوٹتے ضبط کے ساتھ اس رشتے سے صاف انکار نے ایک دم سے میرے اندر کے رونے اور ان سوالیہ سوچوں کو تھپکی دے کر خاموش کرادیا۔ میرے اندر میں اچانک سے ایک اطمینان بھری خاموشی چھاگئی۔

بابا کے اس صاف انکار پہ تمہارے ماما پاپا میرے گھر والوں کے خلاف اور میرے کردار پر نجانے کیا کیا بول کر چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد امی بابا نے بھی مجھے کھری کھری سنائی۔ لیکن پتا نہیں کیوں دانش! ان کی وہ باتیں مجھے اس وقت غصہ نہیں دلا رہی تھیں بلکہ میرے اندر سکون بخش رہی تھیں۔ مجھے امی بابا پر بہت پیار آرہا تھا جنہوں نے بروقت اپنا حکمت بھرا فیصلہ سنا کر مجھ ناسمجھ کو اتنا مہنگا سودا کرنے سے بچالیا۔ شمع نے اپنے اندر گھٹی سانس کو تازہ ہوا میسر کروانے کے لیے پھر چند لمحوں کا توقف کیا جبکہ شمع کے انداز و بات میں وہ غیرمعمولی پن جسے دانش محسوس نہیں کرنا چاہ رہا تھا اب وہ کْھل کر اس کے سامنے آکھڑا ہوا تھا۔

باقی دانش! جہاں تک بات کورٹ میرج کی ہے تو وہ تو مکمل عزت کی خواری ہے۔ ایسی صورتحال میں سسرال میں تو جگہ کیا ملنی لڑکی کے لیے اپنے آنسو اور دکھ چھپا کر جھوٹا ہنسنے اور کچھ دیر سستانے کے لیے وہ پیارا بابل کا آنگن بھی نہیں رہتا۔

سو سوری دانش۔ بابا کے ساتھ ساتھ اب میرا بھی اس رشتے سے صاف انکار ہے۔ شمع نے مضبوط لہجے میں دانش تک اپنا انکار پہنچایا جسے سن کر دانش بھڑکنے کے بجائے گھبرا گیا۔ لیکن شمع! میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا اور میں عزت کے بغیر نہیں رہ سکتی جو کہ مجھے تمہارے گھر میں بالکل نہیں ملے گی۔ بولو کیا مجھے عزت دلا سکو گے؟ شمع کے مضبوط لہجے کے سامنے دانش کو اس کو عزت دلانے کا اپنا ہر دعوا بودا لگا تبھی شمع کے اس سوال پہ وہ بیبسی سے خاموش ہوگیا۔

دانش کی بے بس خاموشی محسوس کرکے شمع نے بھی بیبسی سے اپنے آنسوؤں کو صاف کیا۔ حالانکہ دانش کی بے بس خاموشی پہ وہ چاہتی تو ہنسنا تھی لیکن اس وقت ہنسی نے بھی اس کا ساتھ نہیں دیا ۔ میں نے تمہیں یہ بھی بتانا تھا کہ بابا نے میرا رشتہ خالہ کے بیٹے سے طے کردیا ہے۔ جنہوں نے بہت محبت اور عزت سے میرا رشتہ مانگا تھا۔ امی اور بابا تو پہلے ہی اس رشتے کے مکمل حق میں تھے۔ صرف میری ضد کی خاطر ان کو ٹالا ہوا تھا۔ اب انہوں نے میری ضد کی بھی پرواہ نہ کرتے ہوئے وہاں ہاں کردی ہے اور میں بھی ثاقب کے لیے اب راضی ہوں۔ اپنی سسکیوں کو روکتے وہ دانش کی سسکی پر خاموش ہوگئی۔ دانش اور اپنی محبت کی اس بیبسی اور ماتم پر وہ تڑپ تو سکتی تھی لیکن یوں اپنی اور اپنے ماں باپ کی عزت کا سودا نہیں کرسکتی تھی۔

میں مانتی ہوں دانش کہ میں ثاقب سے محبت نہیں کرتی لیکن میرا اس بات پر بھی پورا یقین ہے کہ جہاں صرف محبت ہو عزت نہ ہو وہاں سے محبت بھی آہستہ آہستہ چلی جاتی ہے اور جہاں صرف عزت ہو محبت نہ ہو وہاں پر آہستہ آہستہ محبت بھی اپنی جگہ بنالیتی ہے۔

اور مجھے ثاقب سے محبت نہ سہی پر وہ میری عزت کرنے والا ضرور ہے۔ باقی آگے میری قسمت۔ یوں آنکھوں دیکھی مکھی نگلنے سے تو بہتر ہے کہ قسمت وہاں آزمائی جائے جہاں کچھ حاصل ہونے کا امکان ہو۔ نہیں تو' کم از کم میری پشت پہ میرے دْکھ سْکھ سننے والا میرا پیارا بابل کا آنگن تو ہوگا۔ یہ کہہ کر شمع نے کال کاٹ دی اور ہاتھوں کے پیالے میں منہ چھپا کر رونے لگی۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 179 Print Article Print
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1023 Articles with 284562 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: