پاکستان کے خلاف سوچی سمجھی معاشی سازشیں ۔۔۔!!

(جاوید صدیقی, Karachi)

اسلامی جمہوریہ پاکستان عرصہ ستر سالوں سے تواتر کیساتھ قومی و بین الاقوامی سطح پر سازشوں کا شکار رہا ہے، پاکستان کے خلاف اسرائیل اورامریکہ نواز ملکوں نے بھارت کیساتھ پس پردہ ملکر بھارت سے جنگ کراتے رہے، سن انیس سو پینسٹھ کی بد ترین ناکامی کے بعد اسرائیل اور امریکہ نواز ممالک نے بھارتی خفیہ اینجسیوں اور بھارتی انتہا پسندوں کیساتھ ایک گھناؤنی سازش مرتب کی ، پاکستان مخالف ملکوں نے پہلے پہل اپنے ایجنڈوں، اپنے ہم خیال لوگوں کو پاکستان کے سیاست ، نوکر شاہی طبقہ اور این جی اوز کیساتھ ملکر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کیلئے ہمیشہ سے کوشاں رہے، کہیں مسلکی تو کہیں تعصب اور کہیں لسانی بنیادوں پر پاکستانی عوام کو منتشر کرتے رہے، تمام سیاسی حلقوں کو اپا گرویدہ بنائے رکھا ان کو اپنے ممالک میں شہریت دی اور دولت نچھاور کرتے رہے، پاکستان مخالف قوتوں میں ان کا سب سے بڑا سہارا قادیانی، احمدی، لاہوری جیسے کافر شامل رہے ہیں، اسرائیل کیونکہ امریکہ کی تمام تجارت ، معیشت، اقتصادیت پر ہمیشہ سے حاوی رہا ہے، پاکستان کو مٹانے کیلئے جو پلاننگ تیار کی گئیں تھیں وہ لانگ ٹائم تھیں ،پاکستان مخالف قوتیں جان چکی ہیں کہ اب پاکستان کو جنگ سے نہیں بلکہ معاشی طور پر انتہائی کمزور کردیا جائے تاکہ پاکستان کی سیکیورٹی پر براہ راست منفی اثر پڑے صرف یہی نہیں معاشی بد حالی سے عوام میں انتشار پھیل جائے اور مہنگائی کے طوفان میں عوام بلک اٹھیں، دنیا نے دیکھا کہ جب جب جمہوری حکومتیں آئیں انھوں نے پاکستان کو معاشی و اقتصادی بنیاد پر مستکم کرنے کے بجائے وہی کیا جو پاکستان مخالف قوتیں چاہتیں تھیں، پاکستان میں جمہوری حکومتوں میں سب سے زیادہ اقتدار پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نون رہیں، ان دونوں سیاسی جماعتوں میں وطن عزیز پاکستان کی معاشی و اقتصادی صورتحال جس قدر ابتر رہی ہیں وہ ماہر معاشیات اس بارے میں کہتے ہیں کہ ان حکومتوں نے کبھی بھی پاکستان اور پاکستانی عوام کیلئے مثبت شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم مضبوط جامع پلاننگ نہیں کیں البتہ زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ ان دونوں جماعتوں کے ساتھ ساتھ ذیلی سیاسی جماعتیں جن میں اے این پی، ایم کیو ایم، جماعت اسلامی، جمعیت علما اسلام فضل الرحمٰن ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی قومی خذانے کو لوٹنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، چند سال قبل وکی لیکس اور پاناما لیکس منظر عام آئیں، دنیا بھر کی اہم شخصیات کیساتھ ساتھ پاکستان کی پانچ ہزار سے زائد شخصیات بھی بے نقاب ہوئی ان میں اکثریت سیاستدانوں، بیوروکریٹس اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات تھیں، ان میں کچھ این جی اوز بھی شامل تھے یہ اچھی بات ہے کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور ان کے دیگر جسٹس صاحبان نے اس بابت قدم بڑھایا اور پاکستان کی دولت لوٹنے والوں کے خلاف کمر کس لی ان کے ساتھ ساتھ نیب کے ادارے، ایف آئی اے نے بھی اپنی خدمات کو بہتر انداز میں پیش کیا، لیکن اسچ عمل میں الیکشن کمیشن کا رویہ نہایت افسوسناک ثابت ہوا بحرکیف الیکشن دو ہزار اٹھارہ میں تحریک انصاف کو پاکستانی عوام نے بھرپور اعتماد کرتے ہوئے اپنے ووٹوں سے نوازا اور تحریک انصاف سیاسی جماعت برسراقتدار ہوئی، پاکستان کے نئے وزیر اعظم عمران خان اور صدر بھی تحریک پاکستان کے عارف علوی بننے، وزراتیں بھی سب سے زیادہ تحریک انصاف کے نمائندگان کو ملیں ۔۔۔معزز قائین!! چند سال قبل میڈیا انڈسٹری میں ایک نیا چینل آرہا تھا جس کے صدراور سی ای او نے ایسے ایسے خواب دکھائے جو صرف ترقی یافتہ ممالک کے چینل وہ تنخواہیں اور مراعات دیتے ہیں بلکہ یوں کہنا مناسب ہوگا کہ اس نئے چینل کے سی ای او نے تو ترقی یافتہ ممالک کے چینلز کی مراعات سے بھی دو قدم آگے بڑھ کر مراعات اور تنخواہیں دینے کا خواب دکھایا پھر کیا ہوا ہر چینلز سے جوق در جوق ملازمین اچھے خواب کو پرو کرنے کیلئے شامل ہونے لگے، ابتدامیں اس چینلز نے چند ماہ اپنے تمام ملازمین کو خواب کی حقیقت والی دنیا کا نظارا کرایا لیکن پھر جلد ہی خاک اڑانی شروع کردی اب تو حال یہ ہے کہ برسوں سے کئی ملازمین اپنے تنخواہ کو ہی ترس رہے ہیں ، یہی حال ہمارے سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں کا بھی ہے ستر سالوں سے یہ قوم ان کے ہاتھوں بے وقوف بنتی جارہی ہے ، خوابوں کی تلاش میں بچا کچا سکون بھی برباد کروادیا ہے، پاکستان پیپلز پارٹی ہو یا پاکستان مسلم لیگ نون ان دونوں سیاسی جماعتوں نے ظلم تو یہ کیا کہ آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا، تمام شقوں کو برباد کرکے رکھ دیا گویا آئین نہ ہو اپنے باپ کی وصیت ہو، جوآیا اپنے مقاصد کے تحت تبدیلی کرتا چلا گیا سہنے پر سہاگا اٹھارہویں ترمیم نے بچا کچا آئین بھی ریزہ ریزہ کردیا، اٹھارہویں ترمیم میں اپنے جرائم کی پردہ پوشی، جرائم کا قانونی تحفظ شامل کردیا رہی بات عوام کی تو اسے مرنے چھوڑ دیا،
عدالتوں کی اصلاح، جیل خانہ جات کی اصلاح، اداروں اور وزراتوں کی اصلاح، فرسودہ قانون کی اصلاح، ترقیاتی امور کی اصلاح،امپورٹ اور ایکسپورٹ کی اصلاح،تجارتی بنیادوں کی اصلاح، سیاسی اخلاقی اصلاح، مذہبی و مسلکی اصلاح،امن و امان کی اصلاح، تھانوں کی اصلاح،خدماتی اداروں کی اصلاح، ریوینیو اداروں کی اصلاح، ٹیکس اینڈ ٹیکسیشن کی اصلاح، انکم ٹیکس ادارے کی اصلاح، ایف بی آر ادارے کی اصلاح، ٹرانسپورٹ ادارے کی اصلاح ، ماس ٹرانزٹ کی اصلاح، بحری و بری تجارت کی اصلاح، وزارت داخلہ و خارجہ کی اصلاح، انفارمیشن وزارت کی اصلاح، بلدیاتی اداروں کی اصلاح، مین پاور اداروں کی اصلاح، وزارت پیٹرولیم اینڈ منرل کی اصلاح، وزرات صحت کی اصلاح، وزارت تعلیم کی اصلاح گو کہ کہیں بھی ایسا کام نہیں کیا جس میں پاکستان اور عوام کی بہتری نظر آتی ہو البتہ یہ تمام ادارے اور وزارتیں بہت سال پہلے بہترین عمل کرتی نظرآتی تھیں ، محققین کے مطابق ان جمہوری حکومتوں کے بجائے ڈکٹیٹروں نے عوامی فلاحی امور کو بخوبی سر انجام دیا جو تایخ میں آج بھی تحریر ہے، ڈکٹیٹر کے دور حکومت میں ڈیم، اسلحہ جات کی فیکٹریاں،جدید میزائل، جنگی جہازاور دیگر امور پر کام ہوا، آج پاکستان دنیا میں اگر نظر آتا ہے تو وہ اپنے بہترین عسکری قیادت کی وجہ سے ہے، سیاسی بہروپیوں نے سوا پاکستان کو دنیا بھر میں رسوائی، بے عزتی اور معاشی کمزوری کے علاوہ کچھ نہیں دیا، ان سیاسی جماعتوں کے میگا اسکینڈلز موجود ہیں ہونا تو یہ چاہیئے تاکہ کہ شرم و حیا سے ڈوب مرتے لیکن ان کی بے حسی اور بے غیرتی نے تمام ریکارڈ توڈ دیئے ہیں یہ اپنے جرم کو چھپانے اور خود کو إحفوظ رکھنے کیلئے ملک کو سودا تک کرسکتے ہیں، ان کی نفرت کا عالم دیکھ لیں کہ انھوں نے اپنے کارندوں کے ذریعے مصنوعی معاشی بحران لاکھڑا کردیا ہے، دنیا میں سیاستدان اپنے ملک کی خاطر خود اور اپنے خاندان کی قربانی پیش کرتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں لیکن پاکستان اور پاکستانی قوم بد قسمت ہے کہ انھیں جھوٹے، مکار، عیار،خود غرض، منافق سیاسی رہنما نصیب ہوئے لیکن دوسری جانب پاکستان اور پاکستانی قوم خوش نصیب بھی ہے کہ اسے پاک فوج جیسی نعمت حاصل ہوئی ہے اس وقت پاک فوج ہی ہے جس نے پاکستان کی
۳
سلامتی و بقا کیلئے دشمن کے سامنے آہنی دیوار بن کر کھڑی ہوئی ہے ،پاکستانی افواج کیساتھ ساتھ سابقہ جسٹس میاں ثاقب نثار اور ان کے رفقائے کار ان جسٹس صاحبان اور موجودہ جسٹس صاحبان نے پاکستان کی دیوار کو گرنے سے بچایا ہوا ہے ۔۔۔۔معزز قارئین!! موجودہ صورتحال کا حل کیا ہونا چاہیئے،ہاں اس بابت بات کرنی چاہیئے اور حل بھی دینا چاہیئے، عوامی کئی طبقوں سے رابطہ کرکے معلوم ہوا ہے کہ اس بحران سے کس طرح نکلا جائےتو مجھے بتایا کہ پاکستان میں سعودی ماڈل فیل رہے گا یہاں چینی ماڈل لاگو کرنا ہوگا کیونکہ یہاں کے سیاسی رہنما ، اشرفیہ، بیورو کریٹس و دیگر صرف اور صرف چینی ماڈل سے ہی درست ہوسکتے ہیں کیونکہ ان میں برسوں کی کرپشن، لوٹ مار، بد عنوانی، لاقانونیت اور اسلام سے دوری کے سبب انہیں چینی ماڈل سے گزارنا لازمی ہوگا، جو جو مجرم ثابت ہوچکے ہیں اور ان پر سزا وار ہوچکی ہیں ان کی ملکی تمام جائیداد کو فوری فروخت کرکے قومی خذانے میں رقم جمع کرائی جائے،وڈیرہ شاہی، چوہدری ازم، خان زادے جیسے ظالمانہ نظام کو مکمل کچل دیا جائے ان کی دولت کا بھی مکمل احتساب کیا جائے، چھوٹی چھوٹی دکانوں، ٹھیلوں، کیبن سے بھی ٹیکس لیا جائے کیونکہ یہ پولیس اور اداروں کے چھوٹے ملازمین کو رشوت دیکر لاکھوں کماتے ہیں، چنچی، رکشوں، ٹیکسی اور بسوں مالکوں کو ٹیکس کے دائرہ میں شامل کیا جائے،قومی ٹیکس اور قومی خذانے کو نقصان پہنچانے والوں پر سزا کیساتھ ساتھ جرمانے بھی عائد کیئے جائیں، معاشی دہشتگردوں کو قاتل کا درجہ دیتے ہوئے سزائے موت دی جائے، رشوت ستانی پر عمر قید مع جرمانے عائد کیئے جائیں، سرکاری امور پر بہتر نیک نیتی اور ایمانداری سے کام کرنے والوں کو سالانہ انعامات کی صورت میں مراعات دی جائیں جن میں رقم بھی شامل ہو، فوجی عدالتوں کا دائرہ وسیع کیا جائے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ فیصلے سنائیں جائیں،پاکستان کو کسی بھی طور پر نقصان پہنچانے والوں کو غداری کے ضمن میں شامل کیا جائے اور اسی تحت قانونی سزا بھی دی جائے، سب سے پہلے میڈیا کا احتساب کیا جائے کیونکہ میڈیا غلط رپورٹنگ، انتشار پھیلانے کے سبب سخت رد عمل پیش کیاجائے، پاکستان کے کسی بھی ادارے کو فروخت ہر گز ہرگز نہیں کیا جائے بلکہ اس کی اصلاح اور بہتری کیلئے ہنگامی بنیادوں پر عمل کیا جائے ، یاد رہے کہ اسرائیل، بھارت ،امریکہ، برطانیہ اور نیٹو ایران ، چین ، روس اور پاکستان کے مد قابل جنگ کیلئے کھڑا ہے یہ ممالک جنگ سے قبل پاکستان کو معاشی بحران سے دوچار کرنا چاہتے ہیں اور انھوں نے اپنے کارندوں کیساھت ایسا عمل کرنے مین کافی حد تک کامیابی حاصل کرلی ہے ، پاکستان کو فی الفور اس کا جواب دینا ہوگا اور ان کے سہولتکاروں کو سرے عام قتل کرنا لازم و ملزوم بن گیا ہے ، ایک مجرم بھی اگر سرے عام قتل ہوا تو آپ دیکھیں گہ کہ باقی منافقین کا قبلہ کس طرح درست ہوتا ہے، اللہ پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے اور منافقوں کے شر سے محفوظ رکھےآمین ثما آمین ۔ پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔!!

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 100 Print Article Print
About the Author: جاوید صدیقی

Read More Articles by جاوید صدیقی: 306 Articles with 116613 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: