قسم ہے وقت کی آپ ہیں نہیں تھے

(Azra Faiz, Wah)

جب مجھے ہوش آیا تو میں ایک ٹریک پہ بھاگ رہا تھا ۔ٹریک بہت رنگین تھا،بہت مست کردینے والا ،میوزک ایسا کہ مدہوش کردینے والا ،رنگ برنگی لائیٹیں آنکھوں کو چندھیانے والی،اردگرد اڑتی تتلیوں کا روپ دھارتی ماڈلز اپنےحسن اور جوبن کا کمال دکھاتیں،ریس میں موجود لوگوں کا دل بہلاتیں۔ میرے ارد گرد لوگوں کا ہجوم تھا۔وہ سب بھی اندھا دھند بھاگ رہے تھے ۔ایک دیو ہیکل وجود جس کا آگے اور پیچھے ایک ہی چہرہ تھا ۔جو وقفے وقفے سے ہوا میں کچھ اڑاتا اور لوگ اسے حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کو دھکے دیتے۔کچلتے،چھینتے آگے بڑھ رہے تھے۔ایک انجانی دوڑ تھی ۔سب کی کوشش تھی اس دیو ہیکل کے پاس رہے۔اور زیادہ سے زیادہ مال اکٹھا کرے۔ان سب کے پاس دو دو ٹرالیاں تھیں ،ایک سفید اور ایک کالی لیکن عجیب بات تھی ان کی سفید ٹرالی خالی تھی یا پھر برائے نام ہی کچھ تھا۔میں نے دوڑ جاری رکھتے ہوئے ساتھ والے کی ٹرالی میں دیکھا اس میں کچھ کھلونے تھے جیسے گاڑی،ڈول ہاؤس،موبائل،سکے،کاغذ ،کپڑے ،جوتے اور بہت کچھ ،ایسی چیزیں جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھیں۔اس دوڑ میں موجود سب لوگ اپنی ایک ہی ٹرالی کو بھرے جا رہے تھے۔کبھی کبھی بڑا عجیب ہوتا اچانک کسی کی بھری ہوئی ٹرالی خالی ہوجاتی یا ساتھ والا چھین لیتا۔میری تو دونوں ٹرالیاں ہی خالی تھیں۔اس ٹریک میں میں نے دیکھا اچانک ایک کالے کپڑوں میں ملبوس کوئی آتا اور دوڑتے بھاگتے لوگوں کو اٹھا کے لے جاتا اس کے ساتھ ہی اس کی خالی یا برائے نام مال والی سفید ٹرالی لے جاتا اور سامان سے بھری کالی ٹرالی چھوڑ جاتا۔اس کے ساتھی لمحہ بھر کو اداس ہوجاتے لیکن پھر وہی تیز میوزک اور لوٹ لو لوٹ لو کی آوازیں آتیں اور دوڑ میں موجود لوگ اس دیوہیکل کے پیچھے دوڑتے ۔میں اس دوڑ سے تھکنے لگا اور کالے کپڑے والے کا ڈر میرے اندر بیٹھتا گیا۔۔کہیں میں بھی۔۔۔نہیں۔۔نہیں۔۔۔ایسا نہیں ہوسکتا ۔۔۔میری تو ابھی دونوں ٹرالٖییاں خالی ہیں گو کہ میرا اور دوڑ میں موجود سب لوگوں کا دیو ہیکل وجود سے فاصلہ ایک جتنا تھا پھر بھی میں خالی ہاتھ۔۔۔۔میں رک گیا ۔۔۔سوچنے بیٹھا ہی تھا کہ میری نظر ساتھ والی ٹریک پر پڑی۔۔۔اس اندھا دھند ریس اور روشنیوں کی بے تہاشا تیزی نے اس ٹریک کو دبا دیا تھا۔۔۔۔۔میں نے دل میں اس ٹریک میں جانے کا سوچا گو کہ دونوں ٹریکوں کے درمیان کوئی خاص فاصلہ نہ تھا ۔۔۔۔میرے دل کی بات جیسے ساتھ والی ٹریک میں موجود لوگوں نے سن لی ۔۔ان میں سے کچھ نے مجھے آواز دی ۔۔۔اشارے سے بلایا۔۔۔۔میں متجسس تھا۔۔ اب وہ ٹریک مجھے واضح نظر آرہا تھا۔۔۔میں ان کے ٹریک کے قریب ہوگیا۔۔۔میں نے دیکھا ان کے پاس بھی دو ٹرالیاں تھیں کالی اور سفید۔۔ ان کے سامنے بھی وہی دیوہیکل تھا آگے پیچھے چہرے والا۔اپنے پیچھےبھگانے والا۔۔۔۔ہوا میں کھلونے اڑانے والا۔۔۔لیکن وہاں لوگ اندھا دھند نہیں بھاگ رہے تھے۔۔۔میں نے چند لوگوں کو اس ٹریک سے ساتھ والے ٹریک میں جاتے دیکھا اور وہاں سے ادھر آتے بھی دیکھا ۔۔آنے والوں کے کانوں میں تیز میوزک کا ہیڈ فون لگا دیا جاتا ۔ماڈل تتلیاں اسے اس کے سادہ ٹریک کو چھوڑنے کا رکس کر کے ویل کم کرتیں۔۔۔اسے اس ٹریک کا جام پلایا جاتا اور وہ بھی اندھا دھند بھاگ کھڑا ہوتا اس بات کی پرواہ کیئے بغیر کہ اس کی سفید ٹرالی خالی ہوگئی ہے۔۔۔۔کیونکہ میں نے تہیا کر لیا تھا ساتھ والے ٹریک میں جانے کا سو ان لوگوں کی لائن میں کھڑا ہوگیا جو میری طرح اس رنگ برنگے ٹریک سے تھک گئے تھے اس رنگین ٹریک کو چلانے والے کچھ کارندے ہر طرح سے قائل کر رہے تھے کہ تم بور ہوجاؤ گے۔۔۔۔نہ میوزک۔۔نہ جام۔۔۔نہ تتلیاں۔۔۔نہ رنگ۔۔۔نہ کھیل کا جوبن۔۔۔نہ مزہ۔۔۔۔میں کچھ شش و پنج میں پڑ گیا۔۔۔اس دوڑ کا اپنا ہی مزہ تھا۔۔۔۔پھر کالے کپڑے والے کا خیال آیا ۔۔۔۔نہیں مجھے ہر قیمت پر ساتھ والے سادہ ٹریک میں جانا ہے۔۔۔اور یوں میں سادہ ٹریک میں چلا گیا۔
یہاں صورت حال مختلف تھی۔۔نہ چکا چوند کردینے والی روشنی۔۔۔نہ تتلیاں۔۔۔نہ جام۔۔۔یہاں کی دوڑ بھی ہلکی تھی۔۔۔یہاں ٹھہراؤ تھا۔۔۔چھینا جھپٹی نہیں تھی۔۔۔یہاں لوگوں کی سفید ٹرالی بھری ہوئی تھی۔۔۔کالی ٹرالی البتہ کسی کی کم اور کسی کی زیادہ تھی۔۔۔عجیب بات تھی لوگ اپنی خوشی سے کالی ٹرالی میں سے کچھ سامان دوسرے کی کالی ٹرالی میں ڈال دیتے اور عجیب بات ان کی کالی ٹرالی میں تو سامان آتا ہی آتا سفید ٹرالی بھی بھر جاتی۔۔۔۔میں حیران تھا ۔۔۔۔یہاں کی دوڑ الگ تھی ۔۔۔۔دیوہیکل اسی طرح تھا لیکن یہاں اس کی رفتار تیز نہیں محسوس ہوتی تھی جبکہ فاصلہ دونوں ٹریکس نے ایک ہی طے کیا تھا۔۔۔یہاں رات اور دن تھا جبکہ وہاں کی روشنی رات کو کھا گئی تھی۔۔۔اس ٹریک میں میں نے دیکھا کچھ وقفے سے پکارنے کی آواز آتی لوگ رک جاتے ۔۔۔جھک جاتے ۔۔۔ایک کتاب جس کو وہ پڑھ کر اس کے مطابق چلنے لگتے ۔اس کتاب میں نہ صرف اس ٹریکس کے مطلق ہر طرح کی رہنمائی تھی بلکہ اس کے ختم ہونے کے بعد جیتنے والوں کو ملنے والے انعامات کا بھی تذکرہ تھا میں حیران ہوا کہ رنگین ٹریک میں بھی لوگوں کے پاس یہ کتاب تھی لیکن وہ کیوں نہیں پڑھ رہے تھے اور ان کو اس ٹریک کے بعد کے انعامات کا نہیں پتہ کیا؟بہر حال میں نے دیکھا سادہ ٹریک کے لوگ اس کتاب کو پڑھتے اور سفید ٹرالی کو بھرنے لگتے۔۔۔۔میں نے بھی ایسا ہی کیا ۔۔۔۔۔۔۔ایک اور عجیب بات تھی یہاں بھی لوگ اچانک غائب ہوجاتے لیکن یہاں ان کو اٹھانے والے سفید کپڑوں میں تھے۔۔۔اور اسی طرح لوگوں کو سفید ٹرالی کے ہمراہ لے جاتے۔۔۔۔پھر ایک دن میری باری آئی اور وہ مجھے میری سفید ٹرالی کے ہمراہ لے گئے۔۔۔۔۔میری آنکھ کھلی ۔۔۔۔۔عجیب منظر تھا ۔۔۔دوڑ میں حصہ لینے والوں کا حساب کتاب تھا ۔۔۔۔جس کی سفید ٹرالی یعنی نیک اعمال کی ٹرالی بھری تھی ان کے لیئے باغ تھے۔۔۔۔دودھ کی نہریں تھیں ۔۔۔۔حوریں تھیں جن کے سامنے اس ٹریک کی تتلیاں ہیچ تھیں۔۔۔دوڑ ختم ہوگئی تھی۔۔۔سکون تھا۔۔۔۔خوشیاں تھیں ۔۔۔۔میں نے اللہ کا شکر ادا کیا جس نے مجھے دنیا کی غرق ہونے والی زندگی سے بچا کر آخرت کی دائمی ۔۔۔نہ ختم ہونے والی زندگی دی۔۔۔۔جس نے مجھے صحیح راستے پر لگایا ۔جس نے کتاب ٌقرآن ٌ کے ذریعے مجھے ذندگی میں سفید ٹرالی ٌنیک اعمالٌ کا مال اکٹھا کرنے کا طریقہ بتایا اور جس نے مجھے اس دیوہیکل ٌوقت ٌسے برائی اکٹھی کرنے کی بجائے اچھائی اکٹھی کرنے کی توفیق دی ۔۔۔جس نے مجھے رنگین ٹریک کے کارندوں ٌشیطان ٌ سے بچا کر نیکی کے ٹریک پر لگا دیا۔۔۔ورنہ آج میرا حال بھی وہی ہوتا جو اس رنگین ٹریک میں موجود لوگوں کا ہو رہا ہے۔۔۔۔دوزخ کی کھائی۔۔۔۔ان کا مقدر ہے وہ دنیا کا مال اکٹھا کرنے میں لگے رہے اور آخرت کا خسارہ ان کا مقدر ٹھہرا۔۔وہ وقت کے پیچھے بھاگتے رہے اور وقت ان کے ہاتھ سے نکل گیا ۔وہ لوٹ لو لوٹ لو کرتے خود ہی لٹ گئے۔ کالے کپڑے والے ٌ موت کے فرشتے ٌ کا آنا اور دیو ہیکل وقت کا ہنسنا اور کہنا کہ تم ٌ ہوٌ نہیں ٌ تھے ٌ ان کو دنیا میں اپنے ساتھی کی موت پر سنائی دیا تھا۔۔۔لیکن۔۔۔اب کچھ بھیٌ تھاٌ نہیں بلکہ ٌہے ٌ ہی ہے ۔جنت ٌہے ٌاور دوذخ ٌہے ٌ
دیوہیکل وقت نے اللہ کے الفاظ جو سورۃ العصر میں اللہ نے فرمایا، دہرا؍ئے(وقت کی قسم ! انسان خسارے میں ہے۔مگر وہ لوگ نہیں ۔جو ایمان لائے۔اور نیک عمل کرتے رہے)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: azra faiz

Read More Articles by azra faiz: 39 Articles with 44652 views »
I belong to a baloach family .I born in a village ,got my primary education under a tree and higher education from the well reputed institute in Karac.. View More
22 May, 2019 Views: 390

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ