خلاصہء سورة الِ عِمْرَان

(Aalima Rabia Fatima, )

• آیت نمبر 1 سے 20 تک میں اللہ عزوجل کی قدرت اور اسکی توحید بیان کی گئی ہے، مومنین اور کافروں کے گرہوں کا تذکرہ کیا گیا ہے، کافروں کا انجام اور خواہشات سے بچنے کا طریقے کا ذکر ہے، اور اللہ کی وحدانیت کا ذکر اور اللہ عزوجل کے نزدیک مقبول دین صرف اسلام ہونے کا ذکر ہے
• آیت نمبر 21 سے 25 میں انبیاء کرام علیهم السلام کو قتل کرنے کا ذکر اوراہل کتاب کی روگردانی اور انکے انجام کا ذکر کیا گیا ہے۔
• آیت نمبر 26 سے 27 تک میں اللہ عزوجل کی قدرت کاملہ کا ذکر کیا گیا ہے۔
• آیت نمبر 28 سے 30 تک میں کافروں کو دوست بنانے سے منع کیا گیا ہے، اور ان آیات میں یہ بھی مذکور ہے کہ اللہ عزوجل پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے
• آیت نمبر 31 سے32 تک میں مذکور ہے کہ اللہ عزوجل کی محبت ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اتباع میں ہے۔
• آیت نمبر33 سے 59 تک میں حضرت مریم علیہا السلام کا قصہ بیان کیا گیا ہے اور آپ کی والدہ کی مانی ہوئی نذر کا بھی ذکر موجود ہے۔
• آیت نمبر42 سے 48 تک حضرت عیسی علیہ السلام کی ولادت کی بشارت کا ذکر ہے۔۔
• آیت نمبر 49 سے 59 تک میں حضرت عیسی علیہ السلام کا قصہ مذکور ہے۔
• آیت نمبر 60 سے 91 تک میں مباہلہ کا ذکر ہے، نجران کے عیسائیوں کا رد کیا ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ واله وسلم سے جھگڑتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نبوت کو جھٹلاتے تھے.اہل کتاب کی صفات کا بهى ذکر کیا گیا ہے کہ ان میں بعض بد دیانت بھی ہیں اور بعض امانت دار بھی ہیں ۔
• آیت نمبر 81 سے 85 تک میں انبیاء کرام سے لیے گئے عہد کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور اسلام کے علاوہ دوسرے ادیان کی پیروی کرنے والوں کا عمل مقبول نہ ہونے کا ذکر بهى موجود ہے۔
• آیت نمبر 86 سے 91 تک میں ہدایت کے بعد گمراہی اختیار کرنے والوں کا ذکر کیا گیا ہے، اور کفار کی اقسام اور ان کے انجام کا ذکر کیاگیا ہے۔
• آیت نمبر 92 میں محبوب مال راہ خدا میں خرچ کرنے کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔
• آیت نمبر 93 سے 95 تک میں یہودیوں نے جھوٹ باندھا حضرت یعقوب علیہ السلام پر ان چیزوں کے بارے میں جو اپنے اوپر حرام کی تھیں ۔
• آیت نمبر 103 میں مسلمانوں کو فرقوں میں بٹنے سے منع کیا گیا ہے
• آیت نمبر 104 میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی فضیلت بیان کی گئی ہے
• آیت نمبر 106 میں روز حساب اہل ایمان کے چہرے روشن ہونے اور کفار کے چہرے سیاہ ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔
• آیت نمبر 110 میں امت مسلمہ کو بہترین امت کہا گیا ہے۔
• آیت نمبر 112 یہودیوں پر ذلت مسلط کرنے کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
• آیت نمبر 113 میں ہے کہ اہل کتاب میں کچھ نیک لوگ بھی ہیں جو حق پر قائم ہیں ۔۔
• آیت نمبر 120 سے 129 تک غزوہ بدر و احد کا ذکر کیا گیا ہے۔
• آیت نمبر 130 میں سود کی حرمت بیان کی گئی ہے۔
• آیت نمبر 139 میں مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔
• آیت نمبر 142 سے 156 تک میں احد میں پیش آنے والی ظاہری ناکامی کے اسباب بیان کیے گئے ہیں۔
• آیت نمبر 157 سے 158 تک میں جہاد کی ترغیب دلائی گئی ہے۔
• آیت نمبر 159 سے 164 تک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی صفات ذکر کی گئی ہیں ۔
• آیت نمبر 165 سے 174 تک میں شہداء کا مقام بتایا گیا ہے۔
• آیت نمبر 180 سے184 تک میں یہودیوں کے بخل اور اس بخل کے انجام کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
• آیت نمبر 185 سے 186 دنیا کے فناء ہونے اور صبر کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔
• آیت نمبر 189 سے 190 تک میں اللہ عزوجل کی وحدانیت کا اور اسکی قدرت کا ذکر موجود ہے۔
• آیت نمبر 191 سے 195 تک میں نیک لوگوں کی صفات اور ان کی دعاؤں کا ذکر ہے۔
• آیت نمبر 196 سے 197 تک میں کافروں کے انجام کا ذکر ہے۔
• آیت نمبر 198 سے 200 تک میں متقین کی جزاء کا اور صبر کرنے والوں کا اور اسلامی سرحدوں کی حفاظت کا ذکر کیا گیا ہے۔
• سورة ال عمران کے رکوع ، آیات مبارکہ ، الفاظ اور حروف کی تعداد:
• 20 رکوع، 200 آیات، 3542 الفاظ اور15336 حروف ہیں۔
• وجہ تسمیہ:
• چوتھے اور پانچویں رکوع میں آیت نمبر 33 تا 54 کے والد عمران کی آل کی سیرت اور فضائل کا ذکر ہے، اسی مناسبت سے اسکا نام آل عمران رکھا گیا ہے۔
• فضائل:
• حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن قرآن مجید اور اس پر عمل کرنے والوں کو لایا جائے گا ، انکے آگے سورہ بقرہ اور سورة آل عمران ہوں گی، حضرت نواس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان سورتوں کے لیے تین مثالیں بیان فرمائیں جنہیں میں آج تک نہیں بھولا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ دونوں سورتیں ایسی ہیں جیسے دو بادل ہوں جن کے درمیان روشنی ہو یا صف باندھے دو پرندوں کی قطاریں ، یہ سورتیں اپنے پڑھنے والوں کی شفاعت کریں گی ۔(مسلم کتاب صلاة المسافرين و قصرها ، باب فضل قراة القران ص نمبر 403، حدیث نمبر 253)

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aalima Rabia Fatima

Read More Articles by Aalima Rabia Fatima: 48 Articles with 26147 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 May, 2019 Views: 334

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ