ملکہ برطانیہ کی موت پر کیا انوکھا ہوگا؟ حیران کن حقائق اور تہلکہ خیز پلان

دنیا کی سب سے طاقتور خاتون جس نے کبھی ساری دنیا کے ایک تہائی حصے پر حکومت کی اور جسے کسی بھی ملک میں داخل ہونے کے لیے پاسپورٹ کی بھی ضرورت نہیں ہوتی- ہم بات کررہے ہیں ملکہ برطانیہ الزبتھ الیگزینڈرا میری کی جو 21 اپریل 1926 کو پیدا ہوئیں- لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جب اتنی طاقتور خاتون کی موت ہوگی تو پھر کیا ہوگا؟
 


آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی ملکہ برطانیہ کے انتقال پر بہت کچھ انوکھا ہوگا اور اس کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی ہے- آئیے ملکہ برطانیہ اور ان کے انتقال کے بعد ہونے والے چند انوکھے کاموں کے بارے میں جانتے ہیں-

ملکہ الزبتھ 6 فروری 1952 سے اب تک برطانیہ کے تخت پر براجمان ہیں۔ یہ 67 سال سے برطانیہ کی ملکہ ہیں جو اپنی زندگی میں انگلینڈ اور امریکہ کے 13 وزیراعظم اور 13 صدر کو آتے جاتے دیکھ چکی ہیں۔

حیرت انگیز طور پر ملکہ الزبتھ کبھی اسکول بھی نہیں گئی ہیں ۔بلکہ انھیں گھر پر ہی پرائیوٹ تعلیم دی گئی ملکہ کے تخت پر آنے کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہے ۔
 


1936 میں ملکہ الزبتھ کے انکل بادشاہ ایڈورڈ جو کبھی برطانیہ کے بادشاہ تھے نے اپنی پسند کی شادی کرنے کے لیے برطانیہ کے تخت کو چھوڑ دیا تھا ۔ یوں ملکہ الزبتھ کے والد کو بادشاہ جارج کو برطانیہ کا بادشاہ بنا دیا گیا تھا جبکہ موت کے بعد 1952 میں ملکہ الزبتھ برطانیہ کی ملکہ بن گئی ۔

یہ کتنی طاقتور ہیں اس بات کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ملکہ کو کسی بھی ملک میں سفر کرنے کے لیے پاسپورٹ کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ۔یہاں تک کہ کئی ممالک میں جو پاسپورٹ اور ڈرائیونگ لائسنس لوگوں کو دئیے جاتے ہیں وہ ملکہ الزبتھ کے نام سے ہی دئیے جاتے ہیں ۔
 


ملکہ ایک خاص ہینڈ بیگ بھی ہر وقت اپنے ساتھ رکھتی ہیں جس کے زریعے وہ اپنے گارڈز کو مختلف احکامات جاری کرتی ہیں ۔ یعنی وہ اپنا بیگ زمین پر رکھ دیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ فوراً اس جگہ سے جانا چاہتی ہیں۔ لہٰذا گارڈز انھیں وہاں سے لے جاتے ہیں۔

ملکہ الزبتھ کے کپڑوں میں ہر وقت ایک خاص قسم کا ہیرا لگا ہوتا ہے اور اس کی قیمت 6 کروڑ ڈالر سے بھی زیادہ ہے ۔
 


ملکہ الزبتھ وہ واحد شہری ہیں جنھیں ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے لیکن وہ پھر بھی باقاعدگی سے ٹیکس دیتی ہیں۔ ملکہ کے محل میں ایک خاص اے ٹی ایم مشین بھی نصب کی گئی ہے-

لیکن جب اتنی طاقتور خاتون کا انتقال ہوگا تو پھر کیا کیا جائے گا؟ اس کا پورا ایک پلان ابھی سے موجود ہے ۔

گارڈین نیوز پیپر کے مطابق ملکہ کی موت کی اطلاع ان کا پرائیوٹ سیکریٹری ایڈورڈ سب سے پہلے برطانیہ کے وزیراعظم اور ان ملکوں کو دے گا جن کی سربراہ اس وقت ملکہ الزبتھ ہیں ۔
 


اس اطلاع کے لیے کوڈ ورڈ London bridge is down استعمال کیا جائے گا ۔ ملکہ کی موت کے فوراً بعد شہزادہ چارلس کو برطانیہ کا بادشاہ بنا دیا جائے گا اور پھر ملکہ کی موت کی خبر میڈیا پر نشر ہوگی-

ملکہ برطانیہ کی موت پر 12 دن کے سوگ کا اعلان کیا جائے گا۔ اس دوران پورا لندن تقریباً بند رہے گا ۔ جس سے برطانیہ کی معیشت کو 3 ارب ڈالر کا جھٹکا لگے گا۔

یاد رہے صرف برطانیہ میں ملکہ الزبتھ کی تصویر والے ساڑھے تین ارب کرنسی نوٹ موجود ہیں ۔جبکہ آاسٹریلیا ، کینیڈا اور کئی دوسرے ممالک کے کرنسی نوٹ پر بھی ملکہ کی تصویر موجود ہیں- لہٰذا ان نوٹوں کو ضائع کرنے اور نئے ںوٹ بنانے میں 1 ارب ڈالر سے بھی زیادہ کا خرچ آئے گا۔
 


ملکہ الزبتھ کی آخری رسومات دنیا بھر میں کروڑوں لوگ لائیو دیکھیں گے جن پر کروڑوں ڈالر خرچ ہونگے ان 12 دنوں میں ٹی وی پر کوئی کامیڈی شو یا فلم وغیرہ بھی نہیں دکھائی جائے گی۔ اس طرح انگلینڈ ملکہ کی موت پر 8 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرے گا ۔

ملکہ الزبتھ کے مطابق ان کا سب سے خوشگوار دن 8 مئی 1945 کا تھا ۔ جب دوسرے جنگ عظیم کا خاتمہ ہوچکا تھا اور لندن میں لوگ سڑکوں میں جشن منارہے تھے۔ ایسی صورتحال میں ملکہ الزبتھ نے اپنی بہن کے ساتھ اپنا بھیس بدلا اور لوگوں کے ساتھ سڑکوں پر جشن منایا-
 

Reviews & Comments

The End
By: Muhammad Haseeb, Karachi on May, 25 2019
Reply Reply
0 Like
Language: