مظلوم تریں، یتیم اور مسکین ،بے بس لوگ

(Tanvir Sadiq, Lahore)

بجٹ کی آمدآمد ہے ۔ مہنگائی بجٹ سے پہلے ہی فراٹے بھر رہی ہے۔ بجٹ کے بعد پتہ نہیں اسے کون سے پر لگیں کہ لگتا ہے بلندیوں کی طرف اس کی پروازبہت سے غریب لوگوں کو پاتال میں غرق کر دیگی۔ لوگوں کی زندگی تلخ سے تلخ تر ہوتی جا رہی ہے۔جن لوگوں کو اب بھی روٹی نہیں ملتی یا بہت مشکل سے ملتی ہے اگر یہی حال رہا تو وہ لوگ آئندہ فقظ آئی ایم ایف کے دیئے ہوئے کیک پر ہی گزارہ کریں گے۔خزانے کی وزارت کے نئے والیان جو عملی طور پر آئی ایم ایف ہی کے نمائندے ہیں، کا شاید یہی مشورہ ہے۔بہت سے ملازمیں احتجاج کر رہے ہیں اور یہ احتجاج کچھ تو مہنگائی کے کھاتے میں شمار ہے اور کچھ اس سالانہ روایتی احتجاج کی تجدید ہے جو سرکاری ملازم خصوصاًچھوٹے سرکاری ملازم ہر سال کرتے ہیں،ایسے میں ایک یتیم اور مسکین طبقہ ایسا بھی ہے کہ جس طبقے کے حالات سب سے زیادہ دگرگوں ہیں مگر وہ پروفیشنل قسم کا احتجاج کر نہیں سکتے۔ اس طبقے کے نوے فیصد سے زیادہ لوگ یتیم ہیں اور مسکین تو سبھی ہیں۔ یہ مظلوم تریں طبقہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کا ہے۔یہ عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں بھاگ دوڑ، نعرے بازی اور سڑکوں پر آ کر کرنے والے احتجاج کے یہ قابل ہی نہیں ہوتے۔ بس کچھ مل جائے تو دعاگو ہوتے ہیں اور اگر نہ ملے تو صبر ان کا وطیرہ ہوتا ہے۔وہ صبر جس میں ان کی گھٹی گھٹی آہ و زاری بھی شامل ہوتی ہے۔جو نا انصافی کے لئے اپنے رب سے رحم اور کرم کی طلب گار ہوتی ہے۔وہ صبر جو نا انصافی کرنے اور احساس نہ رکھنے والوں پر بہت بھاری ہوتا ہے۔

جی ہاں،یہ ریٹائرڈ لوگ جن کے مسائل کی میں نشاندہی کرنا چاہتا ہوں ۔ ان کی دعاؤں میں بہت اثر ہے۔اور جن کی دعاؤں میں اثر ہو ان کی آئیں بھی آسمان کو چھوتی ہیں۔ اس لئے کہ وہ سب عمر کے اس حصے میں ہیں کہ کہتے ہیں اس دور میں نیکی اور عاجزی خود بخود زندگی میں شامل ہو جاتی ہیں۔یہ بوڑھے اور یتیم لوگ کہ جن میں سے بہت سوں کی اولاد ان سے خائف رہتی ہے کہ کہیں وہ یتیم نہ ہو جائے۔وقت پیری بڑھاپے کے اثرات ا ن پر پوری طرح حاوی ہو جاتے ہیں۔گو زندگی دینے والا رب جو ہر چیز پر قادر ہے ان پر مہربان ہے، اس لئے جب تک اس نے زندگی دی ہے ہنسی خوشی جی رہے ہیں مگر ہماری حکومتیں ان پر مہربان نہیں۔سب جانتے ہیں کہ اس عمر میں کھانسی، نزلہ، زکام، جوڑوں کے درد، رعشہ سمیت چھوٹی چھوٹی بیماریاں ان کی زندگی کا حصہ ہیں۔ایک آدھ دوائی نہیں، دواؤں کا ایک ڈبہ ان کے سرہانے کی زینت ہوتا ہے۔

ہوتا یوں ہے کہ ایک شخص آج سے دس یا پندرہ سال پہلے مبلغ دس ہزار روپے تنخواہ لے رہا تھا۔ جس میں دو ہزارروپے کے قریب الاؤنس تھے۔ ریٹائر ہوتے ہی اس کے الاؤنس ختم۔ بقیہ آٹھ ہزار روپے میں سے تین یا ساڑھے تین ہزار روپے اسے پنشن ملنے لگتی ہے۔ اس کے ساتھیوں کی تنخواہ میں ہر سال ایک انکریمنٹ لگتی ہے۔ چار پانچ سال میں ایک دفعہ گریڈریوائز (Revise)ہو جاتا ہے۔ بجٹ کے موقع پر بیس فیصد اضافہ بھی ہوتا ہے یوں دس ہزار تنخواہ والا دس پندرہ سال میں چالیس پچاس ہزار کے لگ بھگ لینے لگتا ہے جو آج کے اس مہنگائی کے دور کے حساب سے گوبہت کم ہے۔ مگر اس پنشن زدہ کا اندازہ لگائیں جس کی پنشن دس پندرہ سال میں سال میں بہت کھینچ کھانچ کر بمشکل دس ہزار کے لگ بھگ ہو جاتی ہے۔کیونکہ اسے صرف بجٹ ہی کچھ اضافہ دیتا ہے۔

حکومت ہر سال پہلے تنخواہ اور پنشن میں ساڑھے سات یا دس فیصد اضافے کا اعلان کرتی ہے۔تنخواہ وصول کرنے والے چونکہ بہت بڑی تعداد میں ہوتے ہیں،اس لئے ان کے شورمچانے کے نتیجے میں حکومت فیصلے پر نظر ثانی کرکے تنخواہوں میں اضافہ بیس فیصد کر دیتی ہے مگر پنشن وصول کرنے والے دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ یہ معمولی پنشن کسی بیمار آدمی کو کسی بھی معقول ڈاکٹر کو ایک دفعہ دکھانے کا فقط خرچ ہوتی ہے۔ باقی سارا مہینہ ریٹائرڈ لوگ اپنے بچوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ جیسے مہنگائی کے حالات ہیں اس حساب سے اصولی طور پر تنخواہ میں اضافہ اگر بیس فیصد ہو تو ہنشن میں چالیس فیصد ہونا چاہیے۔ مگر یہ صرف وہاں ممکن ہے جہاں سوچ رکھنے والی اور بزرگ شہریوں کی دوست حکومتیں ہوتی ہیں، یہاں اضافہ تنخواہ کے برابر ہی ہو جائے تو غنیمت سمجھا جاتا ہے۔

ریٹائرڈسرکاری ملازمین کوریٹائرمنٹ پر جو رقم ملتی وہ بہت معمولی ہوتی ہے، اس کے علاوہ جو کچھ بچت ہوتی ہے وہ ابتدا ہی میں بچوں کی شادیوں اور ایسے ہی دوسرے معاملات کی نظر ہو جاتی ہے۔ اولاد بڑی اچھی بھی ہو، اس سے مانگنا یہ لوگ عزت نفس کے خلاف سمجھتے ہیں اور یوں ان کے حالات بد سے بد تر ہوتے جاتے ہیں۔مہذب ملکوں میں حکومتیں اپنے پنشنر حضرات کو اس قدر معقول پیسے دیتی ہیں کہ انہیں کبھی کوئی مالی پریشانی نہیں ہوتی۔ پنشنر کیا وہاں تو سینئر سٹیزن کے نام پر ہر بزرگ شہری حکومت کی خصوصی توجہ کا مستحق قرار پاتا ہے۔ صحت کی سہولتوں کی فراوانی ہوتی ہے۔ جب کہ ہمارے بزرگ حضرات کو صحت کے معاملے میں ہسپتالوں سے دھکوں کے سوا کچھ نہیں ملتا۔سرکاری ڈاکٹر ہسپتال میں فقط اپنی Goodwillبنانے اور گاہک گھیرنے جاتے ہیں۔ وہاں ان کا رویہ گھر یا پرائیویٹ ہسپتال میں کام کرتے وقت سے بہت مختلف ہوتا ہے ۔ ویسے بھی سرکاری ہسپتالوں کا عالم یہ ہے کہ مجھے Digital X-Ray کروانے تھے۔ اس ٹیکنالوجی کو آئے برسوں بیت گئے مگرابھی تک سرکاری ہسپتال اس ٹیکنالوجی سے محروم ہیں۔

حکومت کو اس سلسلے میں بزرگ حضرات خصوصاً پنشنر کے لئے کچھ بہتر اور مثبت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے کہ یہ لوگ جنہوں نے ساری عمر ملک کی خدمت کی ہے اپنی زندگی کا آخری حصہ سکون ، آرام اور باعزت طور پر گزار سکیں۔پنشن کو ریوائز کرنے کی ضرورت ہے ۔ وہ لوگ جنہیں ریٹائر ہوئے پندرہ بیس سال یا زیادہ ہو چکے اور جو تعداد میں بہت کم رہ گئے ہیں، ان کی پنشن تو موجودہ حالات میں شرمندگی سے زیادہ کچھ نہیں۔ امید ہے حکومت ان محدود سے مسکین اور مظلوم لوگوں کے معاملے کو سنجیدگی سے لے گی اور ان کے اس دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کے لئے فوری اقدامات کرے گی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 440 Articles with 226400 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
28 May, 2019 Views: 254

Comments

آپ کی رائے