ماہِ ربُّ البَر۔۔۔بندہ زر

(Mehrun Nisa, Karachi)

"اسلام کو صرف مذہب نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات کہا جاتا ہے.کیونکہ یہ اپنے ماننے والوں کو زندگی گزارنے کا سلیقہ بھی سکھاتا ہے.رمضان دائرہ اسلام میں موجود لوگوں کے لیے مشق کا وہ دورانیہ (training period) ہے جو مسلمانوں کو باقی کے گیارہ مہینوں کا طریقہ کار سکھاتا ہے.جیسے فوج میں داخلہ کے لیے سخت ٹریننگ کے بعد ایک فوجی کو فٹ قرار دیا جاتا ہے..اسی طرح رمضان میں بھی ہمیں زیادہ اجر وثواب کی ترغیب دے کر عبادات کی مشق کروائی جاتی ہے.تاکہ رمضان کے بعد ہمیں بھی ایک بہترین مسلمان اور مومن قرار دیا جاسکے.سوال یہ ہے.؟کہ کیا ہم اپنی ٹریننگ صحیح طریقے سے کر رہے ہیں...؟؟"آسیہ نے اپنا درس شروع کرتے ہوئے کہا تھا.

عائشہ صاحبہ کے گھر میں ہر سال کی طرح اس سال بھی رمضان میں دورہ تفسیر القرآن کا اہتمام کیا گیا تھا.جس میں محلے کی بہت سی خواتین شرکت کرتی تھیں. اور ہر سال قرآن کو بہتر سے بہتر سمجھنے کی کوشش کرتیں.اسی حوالے سے رمضان سے دو دن قبل استقبال رمضان کے طور پر ایک درس کا اہتمام تھا.جس میں محلے کی تمام دیگر خواتین کے ساتھ مسز فاروق بھی شریک تھیں جو ایک مہینہ قبل ہی اپنے شوہر ایک بیٹے اور دو بیٹیوں کے ساتھ عائشہ صاحبہ کے پڑوس میں شفٹ ہوئیں تھیں.درس تو وہ پہلے بھی اٹینڈ کر لیا کرتی تھیں.لیکن آسیہ کے درس نے انہیں بہت متاثر کیا تھا.کہ وہ بہت دیر تک اس کے الفاظ کی تاثیر میں رہیں تھں.الفاظ کتنے ہی عام ہوں .مگر بقول شاعر:دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے.
آسیہ کے دل میں علم کا نور تھا.اسکی بات دلوں میں اثر کیسے نہ کرتی.اور پھر عائشہ صاحبہ کی بہترین تربیت کا نتیجہ تھا.کہ اولاد کے دل میں دین کی وہ محبت پیدا کی کہ آسیہ نے قرآن و حدیث کی تعلیم حاصل کی.اور آج وہ لوگوں تک اسے پہنچا رہی تھی.
یہ سب مسز فاروق کو اس درس میں ہی معلوم ہوا تھا

" چاند نظر آگیا.!"سنبل زور سے چلائی.
"کدھر ہے؟؟"ارمان نے ادھر ادھر نظر دوڑاتے ہوئے پوچھا.
"ارے وہ رہا".سنبل اپنی انگلی آسمان میں نظر آتے کھجور کی شاخ کی طرح باریک چاند کی طرف کیے زور زور سے کہہ رہی تھی.
مسز فاروق کا پورا کنبہ چاند دیکھنے کے لیے چھت پر آکھڑا ہوا تھا.
مسز فاروق نے مڑ کر عائشہ کے گھر کی چھت کو دیکھا تھا.وہاں عائشہ کی چھوٹی بیٹی اور دونوں بیٹے کھڑے تھے.
بڑے بھائی نے کچھ کہا تھا.اور پھر سب کے ہاتھ دعا کے لیے اٹھ گئے تھے.
مسز فاروق کو یاد آیا تھا،آسیہ درس دیتے ہوئے کہہ رہی تھی."دعا اللہ کی طرف سے بہترین تحفہ ہے.اس نے اپنے بندوں کو یہ حق دیا کہ اس سے مانگیں.اور اسے یہ سب سے زیادہ محبوب ہے کہ بندہ اس سے مانگے.اور وہ اسے یقینا عطا کرتا ہے.اسی لیے دعا کو عبادت کہا گیا ہے.یہ بندے کو رب سے جوڑتی ہے.
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے:
تمہارا رب مالک حیا و کرم ہے.بندہ اسکی بارگاہ میں ہاتھ اٹھائے اور وہ انھیں خالی چھوڑ دے.اس سے وہ اپنے بندے سے حیا فرماتا ہے.(ترمذی،ابو داود)
اسی لیے ہر موقعے کی مناسبت سے احادیث کے ذریعے ہمیں دعائیں سکھا دیں گئ ہیں.تاکہ بندے کا اپنے رب سے تعلق جڑا رہے.
ارشاد نبوی(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے:
تم میں سے جس کسی کے لیے دعا کا دروازہ کھولا گیا اس کے لیے رحمت کے دروازے کھول دیے گئے.اللہ سے جس چیز کی دعا مانگی جائے ان سب میں بہتر خیر و عافیت کی دعا ہے.
لہذا نئے مہینے کا چاند دیکھ کر اس طرح دعا مانگنی چاہیے:
اے اللہ!اس چاند کو ہم پر برکت کے ساتھ اور ایمان و سلامتی اور اسلام اور اس چیز کی توفیق کے ساتھ نکال جس سے تو راضی ہوتا ہے.اور پسند کرتا ہے.(اے چاند) تیرا اور میرا رب ایک ہے.
"جلدی چلو !ڈرامہ شروع ہونے والا ہے.!!"انبر کی آواز نے مسز فاروق کی سوچوں کے تسلسل کو توڑا تو وہ چونکیں."کون سا ڈرامہ.؟"انہوں نے اپنی بیٹی سے سوال کیا..
"وہی جو دکھارہے تھے رمضان اسپیشل.ہر رات پورا رمضان"جواب سنبل نے دیا.اور پھر تینوں بہن بھائی نے تیزی سے نیچے کا رخ کیا.
مسز فاروق البتہ وہیں کھڑی رہ گیئں.مڑ کر پھر سے چاند کو دیکھا."ایمان اور اسلام..کیا تم نے کبھی مانگا..؟"ضمیر نے سوال کیا تھا..وہ زندہ تھا...!
"نہیں.!"دل نےجواب دیا تھا.
"پھر تمہارے لیے یہ رب کی رضا لے کر کیسے آسکتا ہے..؟."ضمیر نے شرمندہ کیا تھا.
"اے چاند تیرا اور میرا رب ایک ہے" دل نے تڑپ کر کہا تھا.چاند البتہ خاموش رہا تھا.
رحمتیں اور برکتیں لے کر رمضان پہنچ چکا تھا.اپنے ساتھ ایک کا بدلہ ستر گنا لیے..ہر طلب کرنے والے کے لیے..ہرتڑپ رکھنے والے کے لیے...!
مگر مسز فاروق کو اپنے گھر میں ایسا کوئی نور محسوس نہیں ہورہا تھا.ان کے گھر میں بس سحری اور افطاری آئی تھی.رحمت اور برکت کہیں پیچھے رہ گئی تھی.ہر طلبگار کو ملتا ہے .وہ جو اس نے طلب کیا ہو..!
ہر سال کی طرح ان کے گھر کی روٹین اس رمضان میں بھی وہی تھی.رمضان نشریات,انعامی پروگرام اور ماہ رمضان کے لیے خصوصی ڈرامے.جن کا دور دور تک رمضان سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا.
جو مختلف تھا وہ تھی ان کی سوچ.
فکر مند..الجھی ہوئی...اور انجام سے خوفزدہ..!یہ اللہ کی توفیق ہوتی ہے..کب..کس طر..کسی کی سوچ کے دھارے اپنی طرف موڑ لے..

مسز فاروق کی دونوں بیٹیاں لاونج میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہیں تھیں.جبكہ وہ خود کچن میں کھڑیں تھیں.
اچانک ان میں سے ایک چلائی تھی..
"ماما!یہ دیکھیں.!ٹرانسمیشن میں آج کون آیا ہے.."
یہ سنبل کی آواز تھی.
وہ جو پیاز کاٹ رہیں تھی..آواز پر چونکیں پھر پیاز وہیں رکھی.اور لانج میں آکر پوچھا.!"کون آیا ہے..؟؟"
ان کی بیٹی ٹی وی میں نظر آتے ایکٹر کی طرف اشارہ کر کے اس کا نام اور بایو ڈیٹا بتا رہی تھی.جس کو بطور مہمان اس رمضان کے پروگرام میں مدوع کیا گیا تھا.
آسیہ کا درس پھر سے یاد آیا تھا.جب شاید اس سے کسی نے ان پروگراموں کے بارے میں سوال کیا تھا.تب اس نے کہا کہ
"کئی سالوں سے ہمارے ہاں رمضان نشریات اور انعامی شوز کا آغاز کیا گیا ہے.اور ہماری عوام کی ایک اچھی خاصی تعداد اس کو ثواب کی نیت سے دیکھتی ہے..جب کہ ان کے اپنے لیے یہ بزنس ہے.اس میں آنے والے اداکاروں کو اسلامی لباس اور دینی باتیں کرتے دیکھ کر متاثر ہوتی ہے.اور ان کی ریٹنگز بڑھتی ہیں.پیسہ بڑھتا ہے.
مسئلہ یہ نہیں کہ وہ لوگ اچھی باتیں بتا رہے ہیں.ہر مسلمان پر فرض ہے کہ جب وہ اچھی بات سنے یا سیکھے تواسے آگے پہنچائے.لیکن ہمارا دین مستقل عمل کو پسند کرتا ہے.رمضان کے مہینوں میں دین سکھانے والے باقی مہینوں میں کیا اعمال کر رہے ہیں.کیا باقی مہینوں میں اللہ کی طرف سے اعمال کی کتابیں بند کر دی جاتی ہیں.اور باقی مہینوں کی بات چھوڑیں اسی نشریات میں کچھ وقت دین کی بات کرنے کے بعد کیا ہوتا.اداکاروں کےکام اور ان کی داستان حیات پر بات.جیسے محمد بن قاسم یا صلاح الدین ایوبی ہوں کوئی.شعر و شاعری،طنز ومزاح اور بیکار کھیل تماشے.آپ بتایے..!ایسا کون سا عمل ہے ان میں سے جو رمضان کے تقدس کے مطابق ہوتا ہے.اور اس پر اجر ثواب اور رب کی خوشنودی کی امید لگائی جاسکے..؟؟اور وہاں موجود علماء وہ تمام چیزیں خاموشی سے بیٹھے دیکھ رہے ہوتے ہیں.مگر کچھ نہیں کہتے.یہی مسئلہ ہے.ہم نے کہنا چھوڑ دیا ہے.ہم نے صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنا چھوڑ دیا. "مسز فاروق آسیہ کی باتوں سے اس وقت باہر آئیں.جب انکی کام والی نے انہیں آواز دی تھی..."بی بی جی..!"
وہ چونکیں:"ہاں.!کہو..!"
"بی بی جی وہ..آپ کو بتایا تھا کہ میرے بیٹے کی طبیعت بہت خراب ہے...ڈاکٹر کو دکھایا تھا.دوائی بھی لی تھی.مگر وہ ٹھیک نہیں ہوا.اللہ جانے کیا ہوگیا ہے..اب ڈاکٹر نے کہا ہے ٹیسٹ کرواو جاکر..میں کہہ رہی تھی کہ اگر آپ اس مہینے تنخواہ کے ساتھ کچھ اور پیسے دے دیں....!"نہ اس کی بات مکمل ہوئی نہ مسز فاروق نے بات شروع کی تھی.کہ اچانک انکا بیٹا جو کہ تھوڑی دیر پہلے آکر بیٹھا تھا. بول پڑا:"ارے سکینہ!تم اس رمضان ٹرانسمیشن میں چلی جاو.انہیں اپنا مسئلہ بتاو یہ تمہیں بہت پیسے دیں گے.."
میں نے حیرت سے اپنے بیٹے کو دیکھا تھا.
"نہیں صاحب!پوری دنیا میں تماشہ بنا دیتے ہیں..بھکاری نہیں ہوں.عزت سے کماتی ہوں." سکینہ برا مان گئی تھی
بات تو اس نے صحیح کی تھی..انسان امیر ہو یا غریب.عزت نفس ہر کسی کی ہوتی ہے.مسز فاروق یاد کرنے لگیں.آسیہ کی آواز ایک بار پھر ان کی سماعتوں میں گونجنے لگی تھی.
"ہمارا دین کہتا ہے اللہ کی راہ میں اس طرح خرچ کرو کہ دائیں ہاتھ سے دو تو بائیں کو خبر نہ ہو.یہ اس لیے کہا گیا.کہ انسان کا عمل خالص اللہ کے لیے ہو.اس کے دل میں عجز و انکساری پیدا ہو.اور لینے والے کی بھی عزت نفس مجروح نہ ہو.وہ بھی عزت کے ساتھ معاشرے میں سر اٹھا کر جئے.
لیکن آج میڈیا کیا کر رہا ہے.کسی کی مصیبت اور پریشانی کا تماشہ بنا کر اس کی عزت نفس کو مجروح کر رہا ہے..بلکہ ختم ہی کر دیتا ہے.بولی لگائی جاتی ہے لوگوں کے دکھ کی..اور مدد اس کی جھولی میں ڈال دینے پر لوگ تالیاں پیٹتے ہیں.اپنے ہی چینلز کے لیے تعریفوں کے پل باندھے جاتے ہیں.ریٹنگز بڑھتی ہیں.اور اپنا کام بنتا ہے..!!کیا ایسے پورا ہوتا ہے روزے کا مقصد..؟؟
...تقوی..پرہیزگاری..عجزی..انکساری.. پانے کا یہ طریقہ ہے..اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کا یہ طریقہ ہے..""
"بی بی جی!"سکینہ کی آواز نے آسیہ کے الفاظ کا راستہ روکا ..تو وہ بھی خیالوں سے باہر آئیں.
"ہاں!.."اس نے چونک کر پوچھا ..
"وہ پیسے..!"اس نے یاد دلایا."آپ آگے کے مہینوں میں میری تنخواہ میں سے کاٹ لینا.!!"انکار کے ڈر سےاس نے تجویز پیش کردی..
"نہیں!ٹھیک ہے.میں دے دیتی ہوں پیسے."کمرے کی طرف جاتے ہوئے انہوں نے اس سے کہا.
اور کمرے سے پیسے لاکر اس کے ہاتھ میں رکھتے ہوئے انہوں نے کہا."تمہیں.یہ لوٹانے کی ضرورت نہیں.زیادہ ضرورت ہو تو بھی بتا دینا"
پیسے لے کر وہ مطمئین ہوئی تھی اور اسے دعا دینے لگی.."اللہ آپ کو اچھا بدلہ دے.آپ سے راضی ہو..آمین."
"آمین"..مسز فاروق کے دل نے بھی کہا تھا.
افطار کے بعد انعامی پروگرام شروع ہوجاتے تھے.جو کہ ان کے بچے بڑے شوق سے دیکھتے تھے.اور کسی نے انہیں نہ روکا تھا نہ ٹوکا تھا.اس وقت بھی گھر کے سارے افراد یہی پروگرام دیکھنے میں مصروف تھے.جب مسز فاروق چائے کی ٹرے لیے لاونج میں داخل ہوئیں.ٹرے ٹیبل پر رکھی اور صوفے پر بیٹھ کر ٹی وی کی جانب متوجہ ہوئیں.جہاں میزبان گلا پھاڑ پھاڑ کر چلا رہا تھا.جب کہ لوگ اپنی نشستوں پر اس طرح اچھل رہے تھے.کہ ابھی کوئی کہے.:"حملہ..!!"اور وہ اسٹیج پر موجود اشیاء پر پل پڑیں.ایک دم سے یہ منظر دھندلانے لگا.ایک بار پھر وہ آسیہ کے درس میں پہنچ گئیں.جہاں وہ کہہ رہی تھی.:"اس میڈیا کو دیکھ کر یہ بھی لگتا ہے کہ شیطان صرف سحر سے لے کر افطار کے وقت تک کے لیے قید ہوتا ہے.اس کے بعد اسے کھول دیا جاتا ہے.لیکن اب انسان کو شیطان کی ضرورت ہی کہاں ہے.انسان تو اس سے بھی دو ہاتھ آگے نکل گیا ہے.انسان کے فتنوں کے جال کو دیکھ کر اب تو وہ محو حیرت ہوتا ہوگا.کہ کس طرح انسان خدا کو بھی دھوکہ دے رہا ہے.یہ جانتے ہوئے کہ وہ سب جانتا اور دیکھتا ہے.افطار سے قبل لوگوں کا لباس اور انداز جتنا مہذب ہوتا ہے بعد از افطار اتنا ہی غیر مہذب.عجیب و غریب قسم کے کھیل کھلائے جاتے ہیں جس میں صرف انسان کی تضلیل کی جاتی ہے اور اس تضلیل کے بدلے انعامات دیئے جاتے ہے.چیخ و پکار اور بے حیائی عروج پر ہوتی ہے.ہماری نئی نسل اس سے کیا سیکھ رہی ہے...؟؟"
"بابا.!"سنبل کی آواز انہیں درس سے باہر لائی تھی.
"ہاں جی.!فاروق صاحب جو اپنے فون میں مصروف تھے.نظر موبائل فون سے ہٹائے بغیر بولے تھے.
"بابا!ہم بھی اس گیم شو میں چلیں..!."
"کیوں..!!بابا سے پہلے ماما نے پوچھا تھا.
"اتنا سب کچھ ملتا ہے ..وہ بھی فری میں...!"وہ حسرت سے بولی.
ہاں!اور ہم بائیک بھی جیتیں گے.!انبر نے بھی اپنی خواہش کا اظہار کیا
"اور وہ میں چلاوں گا..."ارمان نے فوراً لقمہ دیا.جو کہ انبر کو پسند نہیں آیا تھا.
"جی نہیں!اس پر میں اس ہوسٹ کے پیچھے بیٹھوں گی...جیسے وہ جیتنے والی سب لڑکیوں کو اپنے پیچھے بٹھا کر ہال کا چکر لگاتے ہیں."اس نے روانی سے جواب دیا.جس پر ماما نے چونک کر اور بابا نے فون نے نظر ہٹا کر دیکھا تھا..
جبکہ انبر کندھے اچکا کر ٹی وی کی جانب متوجہ ہوگئی.
"ہماری نئی نسل اس سے کیا سیکھ رہی ہے.؟؟"آسیہ کا سوال ان کی سماعتوں میں گونجا تھا.جس کا جواب بھی انہیں آج عملی طور پر مل گیا تھا."ہماری نئی نسل اپنے اخلاقی اقدار ..اپنی تہذیب اپنے مذہب کو بھول رہی ہے.وہ سیکھ رہی ہے..بے حیائی،بد تہذیبی،بد اخلاقی..کیونکہ اس کے بدلے اسے انعامات سے نوزا جارہا ہے..ہماری نئی نسل سیکھ رہی ہے کہ عزت نفس کے بدلے میں دنیاوی آسائشوں کو اہمیت دی جائے.محنت کرنے کے بجائے مفت کی چیزوں کے لیے بے حیائی کر لی جائے تو اس سے فرق ہی کیا پڑتا ہے.نتیجہ یہ کہ ہماری قوم حیا اور غیرت سے عاری ہوگئی..علم اور اس پر عمل سے دور ہوگئی..در حقیقت دین سے دور ہوگئی ہے.اور اسی لیے پوری دنیا میں بے وقعت ہوگئی ہے.شاعر مشرق نے درست فرمایا تھا.:
قوم مذہب سے ہے مذہب جو نہیں تم بھی نہیں.
آج ہم بھی کہیں نہیں..ترقی کی کسی شاہراہ پر نہیں..کسی بلند مرتبے پر نہیں.."
"وجہ یہ نہیں کہ برائی اور بے حیائی پھیلانے والے موجود ہیں.اور اپنا کام مکمل جانفشنی سے کر رہے ہیں.وہ تو موجود ہونگے ہی.تاریخ گواہ ہے کہ حق کو مٹانے والے اور باطل کا ساتھ دینے والے ہر دور میں پیدا ہوئے ہیں.ضرورت انکا سر کچلنے والوں کی ہوتی ہے.ان کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی.صحیح اور غلط کا فرق کرنے اور غلط کو غلط کہنے کا شعور اور ہمت رکھنے والوں کی.اور اس غلط کے خلاف جہاد کرنے والوں کی.اور وجہ یہی ہے کہ ایسا کوئی موجود نہیں.جو اپنی اس ذمہ داری کو محسوس کرے.."جو آسیہ نے کہا تھا.ٹھیک کہا تھا.
"جس طرح ہم نے کبھی نہیں کی."مسز فاروق نے درد سے سوچاتھا...!

"يٰٓـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُتِبَ عَلَيۡکُمُ الصِّيَامُ کَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَۙ ۞
سورۃ البقرة - آیت نمبر 183
ترجمہ:
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم پر روزہ رکھنا لکھ دیا گیا ہے، جیسے ان لوگوں پر لکھا گیا جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم بچ جاؤ۔

تاکہ تم بچ جاؤ...بچ جاؤ ان برائیوں.اور بد اخلاقیوں سے..جن میں مبتلا ہونے کے سبب ہم سے پہلے والی قوموں سے امامت کا منصب لے کر ہمیں دے دیا گیا..اور اب ہم ان ہی قوموں کے نقش قدم پر چل پڑے ہیں.تو اپنے انجام کے بارے میں سوچ لیں...!"
درس مکمل ہوگیا تھا....مگر بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر گیا تھا...مسز فاروق کی طرح..آیئے ہم اور آپ بھی اس پر سوچیں....!!ذندگی ایک مہلت ہے..اور جب تک مہلت ہے لوٹنے کی امید بھی..پس جب اللہ کی طرف سے ہدایت مل جائے تو اسے قبول کر لینا چاہیے..وہ بہت بخشنے والا ہے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mehrun Nisa

Read More Articles by Mehrun Nisa: 2 Articles with 1002 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Jun, 2019 Views: 373

Comments

آپ کی رائے