بےنامی کھاتے اور اکاؤنٹ ہوتے کیا ہیں؟

وزیراعظم عمران خان نے پیر کو قوم کے نام ایک پیغام میں کہا کہ تمام ایسے افراد جو بےنامی بینک اکاؤنٹ، بے نامی اثاثے اور ملک سے باہر اثاثے رکھتے ہیں وہ 30 جون تک ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھا کر اپنے اثاثے ظاہر کر دیں۔ اپنے مختصر پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کی جائیدادوں سے متعلق ان کی حکومت کے پاس بہت سی معلومات ہیں جبکہ پاکستانیوں کے بینک اکاؤنٹس کی معلومات آرہی ہیں جو پہلے کبھی کسی حکومت کے پاس نہیں تھی۔
 


وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر پاکستانی ٹیکس نہیں دیں گے تو ملک اُوپر نہیں اٹھے گا۔ انھوں نے تمام ایسے افراد کو خبردار کیا کہ وہ 30 جون تک اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں تاہم اس کے بعد انھیں کوئی موقع نہیں ملے گا۔

*یہ تحریر 21 مارچ 2019 کو سیاست دانوں کے خلاف بےنامی کھاتے رکھنے کے الزامات کے تناظر میں لکھی گئی تھی۔

بےنامی کھاتے اور اکاؤنٹ ہوتے کیا ہیں؟
بے نامی" کا لفظی مطلب تو ’بغیر کسی نام‘ کے ہی بنتا ہے لیکن پاکستان میں اس اصطلاح کا استعمال ان بینک کھاتوں اور املاک کے لیے کیا جاتا ہے، جس کا مالک اپنے بجائے کسی اور کے نام پر کھاتے یا املاک بنائے۔

بےنامی ممنوع ایکٹ کی تعریف کے مطابق ایسی منتقلی یا انتظامات جو جعلی نام پر کی جائیں، یا ملکیت کا مالک منتقلی سے آگاہ نہ ہو یا اس کی ملکیت سے لاتعلقی کا اظہار کرتا ہے۔ جبکہ بے نام دار وہ شخص ہے جس کا نام استعمال کیا گیا ہو۔

ماہر معاشیات، نجکاری اور ٹیکس اصلاحات کمیٹی کے رکن اشفاق تولہ کا کہنا ہے کہ ’بے نامی کھاتے‘ کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے پیسے میرے نام پر ہوں جبکہ میری اتنی حیثیت نہ ہو۔ پھر سرمایہ دار چاہے اپنے چوکیدار یا ڈرائیور کے نام پر اکاؤنٹ رکھے یا کسی نے آپ کو شناختی کارڈ دیا ہو تو آپ اس کے نام پر اکاؤنٹ کھول کر اپنا کھیل کھیلتے رہیں۔

کراچی میں گذشتہ سال بے نامی اکاؤنٹس سامنے آئے جب کچھ لوگوں کو ایف بی آر نے نوٹس جاری کیے۔ ایک تاجر کے اکاؤنٹ سے کروڑوں روپے برآمد ہوئے، اس کے بعد ایک جوس بیچنے والے کے نام بنے اکاؤنٹ میں اسی طرح ایک بڑی رقم موجود تھی، ایک رکشہ والے کو بھی ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تینوں نے اس سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔

ایف آئی اے نے ایسے ہی کھاتوں کی تحقیقات شروع کی۔ ان میں بینک حکام بھی گرفتار ہوئے اور ان کھاتوں سے مستفید ہونے والوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور، بلاول بھٹو، بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے داماد زین ملک اور دیگر کے نام سامنے آئے۔

سپیکرسندھ اسمبلی آغا سراج درانی پر قومی احتساب بیورو نے یہ الزام عائد کیا کہ انھوں نے ملازمین کے نام پر زمین حاصل کی اور اس پر تعمیرات کرکے فروخت کردی۔ ایف آئی اے کی جوائنٹ انٹروگیشن ٹیم نے دوران تفتیش دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے 70 کے قریب ایسے بے نامی کھاتوں کا پتا لگایا ہے۔
 


بلیک اکانومی اور بےنامی کھاتے
ماہرین کا کہنا ہےکہ بے نامی کھاتوں کی وجہ سے سرمایہ دار اور جرائم پیشہ افراد اور ان کے معاون ٹیکس اور انسداد دہشت گردی، مالی بدعنوانی اور منشیات کی روک تھام کے اداروں کی گرفت سے بچ جاتے ہیں۔

ماہر معاشیات، نجی کمیشن اور ٹیکس اصلاحات کمیٹی کے رکن اشفاق تولہ کا کہنا ہے کہ جتنی اس ملک کی اکانومی ہے اتنی ہی بلیک اکانومی بھی ہے۔ اب بلیک اکانومی یہ تو نہیں ہے کہ گڑھا کھود کر رقم اس میں چھپا دو، سونا لے کر رکھ دو یا باہر ملک میں پراپرٹی لےکر رکھ لو یہ رقم اس ملک کے کاروبار میں ہی آتی ہے۔

’قانون میں دو تین ایسی گنجائشیں ہیں جہاں آپ بلیک اکانومی میں سرمایہ کاری کرسکتے ہیں جیسے پراپرٹی۔‘

کراچی میں ریئل اسٹیٹ کے کاروبار سے منسلک نوشاد ملک بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی بنگلہ 36 کروڑ مالیت کا ہے تو کاغذ پر اس کی قیمت 6 کروڑ دکھائی جائے گی جبکہ باقی ادائیگی بے نامی اکاؤنٹ سے ہوگی، جس سے ٹیکس کی ادائیگی میں خریدار کو بچت ہوتی ہے۔

اشفاق تولہ کے مطابق بے نامی کھاتوں کو بزنس منتقلیوں کے لیے رقم گھومانے (ادائیگیوں) کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، فرض کریں سو روپے کی ایف بی آر ویلیو اور پانچ سو رپے کی مارکیٹ ویلیو ہے اب میں چار سو روپے کہاں سے دوں گا میں آپ کو بینک کے حوالے سے کوئی نہ کوئی چیک دے دوں گا اگر اپنے نام کا دوں گا تو پکڑا جاؤں گا تو میں نے ڈرائیور یا کسی ملازم کے نام پر اکاؤنٹ کھولا ہے، انہیں گھوماتا رہوں گا اور ایک سطح پر آکر اکاؤنٹ بند کردوں گا۔

’انکم ٹیکس فائلر اور نان فائلرز کا معاملہ بھی ہے۔ دونوں کا ریٹ مختلف ہے لوگ یہ کہتے ہیں کہ فائیلر بن کر کون پریشان ہوگا اس لیے بغیر فائلر ہی کام چلاؤ۔ اس طرح سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ اور نان رجسٹرڈ کا فرق ہے یہ ایسے معاملات ہیں جہاں رقم کی پارکنگ کی ضرورت ہوتی ہے اسی کے لیے "بے نامی یا جعلی جعلی اکاونٹ بنائے جاتے ہیں۔
 


بے نامی اکاؤنٹ یا املاک رکھنا کیا جرم ہے؟
پاکستان میں حال ہی میں "بے نامی ممنوع ایکٹ" نافذ عمل کیا گیا ہے، جس کی منظوری 2017 میں دی گئی تھی اب بے نامی کھاتے کا مالک یا عمل میں شریک افراد جرم کا مرتکب ہوں گے، اس جرم میں ملوث افراد کو کم از کم ایک سال اور زیادہ سے زیادہ سزا سات سال قید ہوگی جبکہ بے نامی کھاتے اور املاک ضبط کی جائیں گئی اور جائیداد کی مارکیٹ ویلیو کا 25 فیصد جرمانہ بھی عائد ہوگا۔

بے نامی اکاؤنٹ اور مخبری
’بے نامی ممنوع ایکٹ‘ میں بے نامی کھاتوں اور املاک کی معلومات دینے والے شہری کے لیے انعام بھی رکھا گیا ہے، لیکن یہ انعام منسوخ بھی ہوسکتا ہے اگر فراہم کردہ معلومات کی کوئی اہمیت نہ ہو، یا پہلے سے موجود اور پبلک ریکارڈ میں دستیاب ہوں۔ اسی طرح غلط معلومات دینے والے افسر کو سات ماہ سے پانچ سال کی سزا کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
 


اس ایکٹ کے تحت فیڈرل حکومت کی جانب سے ٹربیونل بنایا جائے گا جس کا سربراہ حاضر سروس جج ہوگا۔ ایکٹ کے تحت بے نامی اتھارٹی کے چیئرپرسن اور ممبر اپیلٹ ٹربیونل کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ وفاقی یا صوبائی حکومت کے کسی بھی ایسے افسر جو رجسٹریشن، کھاتے یا املاک کی منتلقی کا حساب کتاب رکھتا ہو کو طلب کرسکتا ہے، اس کے علاوہ اتھارٹی کے چیئرمین اور اراکین کو بغیر کسی نوٹس جاری کیے ہوئے کسی بھی جگہ مقام یا کمپیوٹر اور ریکارڈ تک رسائی حاصل ہوگی۔

بے نامی کھاتے کی روک تھام جہاں مقامی ضرورت تھی وہاں انھیں قانونی گرفت میں لانے کے لیے بین الاقوامی دباؤ بھی تھا، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا بھی اس میں عمل دخل موجود ہے، ایف بی آر کے ممبر لینڈ ڈاکٹر حامد عتیق نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان بے نامی اکاؤنٹس کی وجہ سے ایف ٹی ایف کے سامنے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا، ڈان اخبار کے مطابق انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ انٹیلی جنس اداروں کے پاس ایسی رپورٹس ہیں کہ 900 سے زائد بے نامی اکاؤنٹس ہیں جن میں سے کروڑوں روپوں کی منتقلی کی گئیں۔

بے نامی کھاتوں کی نگرانی اور حوصلہ شکنی کے لیے اسٹیٹ بینک نے تمام کھاتے داروں کے بائیو میٹرک کا بھی آغاز کر دیا ہے، ایک اندازے کے مطابق پاکستان کے بینکوں میں پچاس لاکھ کھاتے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان کی آبادی اس وقت 20 کروڑ سے زائد ہے۔


Partner Content: BBC

Reviews & Comments

Language: