آئی ٹی کی جنگ

(Sami Ullah Malik, )

اکیسویں صدی میں تجارتی تنازعات میں سب سے اہم’’ٹیکنالوجی‘‘کے شعبے میں سبقت لے جانے کی جنگ ہوگی۔یہ جنگ ’’مصنوعی ذہانت‘‘سے لیکر’’نیٹ ورکنگ‘‘کے آلات تک تمام شعبہ جات کواپنی لپیٹ میں لے گی اورنیم موصّل (Semi conductors)کواس جنگ میں بنیادی حیثیت حاصل ہوگی۔’’چِپ‘‘ (chip)کی صنعت ہی وہ صنعت ہے جہاں امریکااپنی سبقت کوبرقراررکھنا چاہتا ہےاوردوسری طرف چین اس شعبے میں مہارت حاصل کرنے کیلئےسرتوڑ کرششیں کررہا ہے۔یہی وہ مرکزی نکتہ ہے جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے کے مقابل آکھڑے ہوئے ہیں۔اسی لیےگزشتہ G-20اجلاس میں ٹرمپ اورصدرشی کے درمیان یہ تنازعہ برقراررہا،وہ اس لیے ’’کمپیوٹرچِپ‘‘کواس وقت ڈیجیٹل معیشت اورقومی سلامتی کے امور میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔کاریں ٹائروں پرچلنے والے کمپیوٹرکی شکل اختیارکرچکی ہیں،بینک وہ کمپیوٹربن چکے،جورقم کی نقل وحرکت کاباعث بنتے ہیں۔فوجیں اپنی جنگیں لوہے کے ساتھ ساتھ’’سلی کون‘‘ سے بھی لڑرہی ہیں۔امریکااوراس کے اتحادی ممالک کوریااورتائیوان کی صنعتوں کواس جدیدشعبے پرغلبہ حاصل ہےجبکہ چین ابھی بھی”high-end chips” کیلئے دوسرے ممالک پرانحصارکرتاہے۔چین کی Semi conductors کی درآمدکاخرچ تیل کی درآمدکے خرچ سے بھی زیادہ ہے۔ فروخت کے لحاظ سے دنیا کی پندرہ بڑی کمپنیوں میں ایک بھی چینی کمپنی شامل نہیں ہے۔

ٹرمپ کے صدارت سنبھالنے سے پہلے ہی چین اس حوالے سے اپنی منصوبہ بندی کرچکاتھا۔2014 ءمیں چین نے اپنی اس صنعت کوفروغ دینے کیلئےایک کھرب یوآن (150/ ارب ڈالر)کا’’انوسٹمنٹ فنڈ‘‘قائم کیا۔2015ءمیں جاری ہونے والے”میڈان چائنا2025″منصوبے میں بھیSemi Conductorsکوخاص اہمیت دی گئی ہے۔اس جدید صنعت کی ترقی کے حوالے سے چین کے عزائم نے اوباماکوکافی پریشان کیے رکھا۔ 2015ءمیں اوبامانے’’انٹیل‘‘کواپنی جدیدترین chipsچین کو فروخت کرنے سے روک دیاتھا،اس کے علاوہ 2016ءمیں جب ایک چینی کمپنی ایک چِپ بنانے والی جرمن کمپنی کوخریدنے کی کوشش کررہی تھی توامریکا نے اس سودے کو رکوادیا۔اوباماکے عہدہ چھوڑنے سے پہلے وائٹ ہاؤس سے ایک رپورٹ شائع ہوئی جس میں ایسی چینی کمپنیوں کے خلاف اقدام کرنے کی تجاویزدی گئی تھیں جو’’ٹیکنالوجی ٹرانسفر‘‘پربضد تھیں ۔دیگرممالک نے بھی اسی طرح کے اقدامات کیے ہیں۔ تائیوان اورجنوبی کوریاکے ہاں پہلے سے ہی اس طرح کی پالیسیاں موجودہیں جن کے تحت چینی کمپنیوں پرجدیدترین آلات خریدنے پرپابندی لگائی گئی ہے۔

اگرچہ’’چِپ‘‘کی یہ جنگ ٹرمپ کے آنے سے پہلے کی ہے،تاہم ٹرمپ نے اس جنگ میں مزیدتیزی پیداکردی ہے۔انہوں نے Qualcom کی فروخت کے حوالے سے چین کے ڈرسے سنگاپورکی کمپنی کی جانب سے لگائی جانے ولی بولی کومستردکر دیا۔اسی سال کے آغازمیں امریکی کمپنیوں کواپنی “chips”اور’’سافٹ وئر‘‘چینی ٹیلی کام کمپنی ZTE کوفروخت کرنے پر پابندی لگائی۔جس کی وجہ سے یہ کمپنی دیوالیہ ہونےکے قریب پہنچ گئی تھی۔ٹرمپ کے بقول چینی صدرکی اپیل پر فی الحال انہوں نے یہ فیصلہ واپس لیاہے۔دوباتیں اب تبدیل ہوچکی ہیں۔پہلی یہ کہ امریکاکواس بات کااندازہ ہے کہ اسے چین پرحاصل سبقت صرف اورصرف جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے ہے۔امریکا نے درآمدات کوکنٹرول کرنے کے حوالے سے کافی پابندیاں لگائیں ہیں،ان ہی پابندیوں کی وجہ سےچینی کمپنی “Fujian Jinhua”بھی متاثرہوئی،جس پرالزام تھاکہ اس نے خفیہ ٹیکنالوجی منتقل کرنے کی کوشش کی تھی۔اس کے علاوہ وائٹ ہاؤس نئی آنے والی ٹیکنالوجی پرمسلسل پابندیاں لگا رہاہے۔ دوسری تبدیلی یہ آئی ہے کہ چین Semi Conductorsکی صنعت میں خودمختاری کے حصول کیلئے مسلسل کوششیں کررہاہے اوراس معاملے میں حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ بے پناہ مراعات بھی دے رہاہے۔امریکانے جب ZTE پرپابندی لگائی توصدرشی نے اپنے ملک کی تمام بڑی کمپنیوں سے رابطہ کیا۔ چین کی تمام بڑی کمپنیاں جن میں Alibaba,Baidu اور Huaweiشامل ہیں،’’چِپ سازی ‘‘پرسرمایہ لگانے کے حوالے سے یکساں مؤقف رکھتی ہیں اورچین نے اس بات کوثابت کیاہے کہ وہ امریکی کمپنیوں کے راستے میں حائل ہوسکتا ہے۔

دونوں ممالک کے مفادات میں کوئی خاص تبدیلی نظرنہیں آرہی۔امریکاکے خدشات بھی صحیح ہیں کہ وہ اگر’’چِپ‘‘کے شعبے میں چین پرانحصار کرے گاتواس کی ملکی سلامتی بھی خطرے میں پڑسکتی ہے۔اسی طرح چین کاسپرپاوربننے کاخواب بھی اس وقت تک پورانہیں ہوسکتا،جب تک کہ وہ اس شعبے میں خود انحصارنہیں ہوجاتا۔چین اس دوڑکوجیتناچاہتاہے جبکہ امریکااس دوڑمیں اپنی سبقت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔سوال یہ ہے کہ امریکااپنے اس رویے میں کس حدتک آگے جاسکتاہے ؟وائٹ ہاؤس کے موجودہ مقیم توچاہتے ہیں کہ Semi Conductorsکی مکمل فراہمی امریکامنتقل کردی جائے۔یہ اچھی سوچ ہےلیکن عالمگیریت کے اس دورمیں یہ ممکن نہیں۔امریکاکی ایک کمپنی کے 16000سپلائرہیں جس میں سے نصف غیر ملکی ہیں۔چین بہت سی صنعتوں کیلئےمرکزی منڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔Qualcommاپنی پیداوارکادوتہائی چین میں فروخت کرتی ہے۔اس صنعت کودوحصوں میں تقسیم کرنے سے امریکی صنعت کاراورصارفین دونوں ہی متاثر ہوں گے اوریہ مخالفت میں اٹھایاجانے والا ایک ایسا قدم ہوگاجس سے اس صنعت میں موجود مسابقت کی فضاکونقصان پہنچے گا۔

ویسے اگربڑے تناظرمیں دیکھاجائے توایسے کسی قدم سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایاجاسکتا۔آج اگر امریکاکو’چِپ سازی‘‘کی صنعت میں سبقت حاصل ہے تووہ ایسے اقدام سے اپنے حریف کی رفتار کوکم توکرسکتاہے لیکن چین کی ترقی کی راہ میں حائل ہوناشایدممکن نہ ہو۔جس طرح ’’سلی کون ویلی‘‘کے عروج کی بڑی وجہ امریکی حکومت کی مدد تھی،بالکل اسی طرح چین بھی اس صنعت کو فروغ دینے کیلئےحکومتی اورکاروباری وسائل کابے دریغ استعمال کررہا ہے۔ چین نے ذہین لوگوں کواپنی جانب کھینچنے کیلئےایک مراعاتی پیکیج بنایاہواہے۔اس معاملے میں تائیوان پر خصوصی نظررکھی جاتی ہے۔چین کی Huaweiجیسی کمپنیاں ایجادات کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ 2015ءمیں جب انٹیل پر’’چِپ‘‘چین درآمدکرنے پرپابندی لگائی گئی تواس پابندی نے چینی’’سپر کمپیوٹر‘‘کی صنعت کواپنے پاؤں پرکھڑا کرنے میں بھرپورکرداراداکیا۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 98 Print Article Print
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 188 Articles with 37631 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: