سندھ اور اسکی تعلیم

(Humaira ahmed, Karachi)

چار کروڑ اٹھتر لاکھ سے زائد آبادی والا پاکستان کا دوسرا بڑا صوبہ، سندھ معیاری تعلیم کے فقدان کا شکار ہے. صوبے میں کُل ملا اُنچاس ہزار سے زائد سرکاری اسکولز ہیں مگر ان میں سے تئیس ہزار بجلی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں. باقی اسکولز کی حالت بھی ملتی جُلتی ہے جہاں تعلیمی اداروں کی حالت خستہ فرنیچر نا مکمل اور اساتذہ غیر حاضر ہوتے ہیں. تازہ ترین مردم شماری کے مطابق سندھ خواندگی کے اعتبار سے اٹھاون فیصد کے ساتھ باقی صوبوں کے مقابلے میں تیسرے نمبر پر ہے. یہاں تعلیم کے فقدان اور عوام میں کی شعور میں کمی کی ذمہ دار صوبائی حکومت اور مقامی انتظامیہ ہے. سندھ میں بچوں کی ایک کثیر تعداد اسکول نہیں جاتی جس کی دو بنیادی وجوہات ہیں. پہلا، تعلیمی اداروں کا نہ ہونا اور دوسرا تعلیمی اداروں میں سہولیات کا نہ ہونا. اگرچہ دیکھا جائے تو حکومت ہر سال کے بجٹ میں تعلیم کے شعبے کے لئے ایک خطیر رقم مختص کرتی ہے مگر اس رقم کا استعمال عملی طور پر نظر نہیں آتا. یہی وجہ ہے کہ والدین سرکاری اسکول پر پرائیوٹ اسکول کو فوقیت دیتے ہیں اور اپنے بچوں کو پرائیوٹ اسکولز بھیجنے پر مجبور ہیں جہاں ان سے مہنگی مہنگی فیسیں وصول کی جاتی ہیں. اب آئیں ذرا بات کرتے ہیں پاکستان کے سب سے بڑے شہر یعنی کراچی کی جو سندھ کا صوبائی دارالحکومت بھی ہے مگر یہاں کی صورتحال بھی باقی شہروں سے کچھ مختلف نہیں شہر میں پرائیوٹ اسکول مافیا کا راج ہے اور غریب والدین انکے رحم و کرم پر ہیں. یہ مافیا اتنا مضبوط ہے کہ حکومت بھی انکے سامنے بے بس نظر آتی ہے یہ تعلیمی ادارے مہنگی فیس ہونے کے باوجود سالانہ فیس میں بیس فیصد اضافہ کرتے ہیں جو والدین کو اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کی خاطر بھرنا پڑتی ہیں. آخر میں اگر صوبے کے نظامِ تعلیم کی بات کریں تو یہ بھی انتہائی خراب اور حکامِ بالا کی توجہ کا منتظر ہے. کئی دہائیوں پرانہ نسابِ تعلیم حکومت کا منہ چڑھاتا نظر آتا ہے. امتحانات میں نقل اپنے عروج پر ہوتی ہے جو انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان چھوڑ جاتی ہے. بحیثیت پاکستانی اور سندھ کی شہری ہوتے ہوئے ہم سب پر لازم ہے کہ ہم اس بوسیدہ نظام کے خلاف آواز بلند کریں تاکہ ہماری آنے والی نسلیں بہتر تعلیم حاصل کرکے ملک و قوم کی خدمت کریں اور معاشرے میں ایک بہترین شخص کی حیثیت سے اپنی زندگی بسر کریں. جو اس نظام کے تحت ناممکن ہے.

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 213 Print Article Print
About the Author: Humaira ahmed
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: