ہاتھ گھما کر کان پکڑنے کی کوشش

(Ilyas Muhammad Hussain, )

" دوست ممالک سے اربوں کھربوں کے قرضے لینے کے بعد موجودہ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ قرض دوگنا بڑھ جانے کی وجہ سے آئندہ مالی سال کے لئے سٹیٹ بینک سے قرض نہیں لیا جائے گا حالانکہ قرض لینے کی بجائے اگرٹیکس نیٹ میں کیٹاگری کے لحاظ سے کاروباری لوگوں کو شامل کیاجائے تو حکومت تمام تر خسارے پر قابو پاسکتی ہے لیکن آسان کام کرنے کی بجائے ہاتھ گھماکر کان پکڑنے کی کوشش کی جارہی ہے رواں مالی سال کے دوران 14 جون تک حکومت نے مرکزی بینک سے 27 کھرب روپے کے قرضے لئے لیکن گذشتہ برس یہ قرضے صرف 14 کھرب 30 ارب روپے تک لئے گئے تھے۔ رواں مالی سال کے دوران حکومت کی ٹیکس وصولی میں واضح کمی کی وجہ سے حکومت، مرکزی بینک سے بڑی تعداد میں قرضے لینے پر مجبور ہوئی تاہم آئندہ برس قرضے نہ لینے کا فیصلہ موجود صورتحال کا عکاس نہیں۔ حکومت نے مالی سال 20-2019 کے بجٹ میں آمدن کو 14 کھرب روپے تک بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے جس میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ اور سبسڈیز میں کمی شامل ہے جب اس حکومت نے چارج سنبھالا تو خسارہ بیس ارب ڈالر تھا 4300ارب ڈالر مالیاتی خسارہ کا سامنا تھا۔ عمران خان کے مخالفین بڑی لے دے کررہی ہے کہ موجودہ حکومت آئی ایم ایف شرائط پوری کرنا چاہتی ہے چاہے کروڑوں عوام کا گلا گھونٹنا پڑے۔ دوسروں سے قرضوں کا حساب مانگنے والے خود قوم پر پانچ ہزار ارب کا قرضہ چڑھا چکے ہیں۔ موجودہ حکومت نے 10 ماہ میں پانچ ہزار ارب قرض لیا اور ایک بھی اینٹ نہیں لگائی۔ احسن اقبال کاکہناتھا دیکھنا ہوگا ہم پہلے کہاں کھڑے تھے اب کہاں کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سوچیں ایک سال بعد کہاں ہوں گے ، ہم نے ان کو ایک ہنستا بستا پاکستان دیا تھا۔ دنیا کے ممالک ہم سے سی پیک میں شمولیت کا پوچھتے تھے لیکن وزیراعظم نے اپنے ہی ملک بارے کرپشن کی باتیں شروع کردیں اس کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان ہر حوالے سے پریشان ہے۔ حکومت نئی نویلی دلہن نہیں اسے حساب دینا پڑے گا اس لئے ٹیکس ہدف کے حصول میں ناکامی کی ذمے دار موجودہ حکومت ہے، بھینسیں اور گاڑیاں بیچ کر سادگی کا ڈرامہ رچایا گی جبکہ سونے کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 78 ہزار 600 روپے کو چھو گئی ہے ۔کرپشن کے خاتمہ کے لئے 20-2019 کے فنانس بل کی منظوری کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو گھروں پر چھاپے مارنے کا اختیار مل جائے گا انکم ٹیکس کمشنر غیر ظاہر شدہ سونے اور غیر ملکی کرنسی کی بر آمدگی کیلئے چھاپے مارسکیں گے اور چھاپوں میں بر آمد شدہ سونا اور غیر ملکی کرنسی ضبط کرلی جائے گی۔وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ کچھ عرصہ بعد ا ایف بی آر کے چھاپے مارنے کے اختیار کی شق ختم کردی جائے گی۔ ا س خبرنے عوام کو ہلاکررکھ دیاہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے پہلے 10 ماہ کے دوران خالص سونے کی فی تولہ قیمتوں میں 24 ہزار 250 روپے کا ہوشربا اضافہ ہوا۔ وزیر اعظم عمران خان کے وزارت عظمی کا حلف لینے کے 4 روز بعد 22 اگست 2018 کو 24 قیراط خالص سونے کی فی تولہ قیمت 54 ہزار 350 روپے تھی جو گزشتہ روز500 روپے بڑھ کر 78ہزار 600 روپے فی تولہ ہو گئی، اسی طرح 24 قیراط فی دس گرام سونے کی قیمت 40 ہزار 596 روپے تھی جو دس ماہ میں اضافے سے 67487روپے ہو گئی۔ اسی طرح دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 22 اگست 2018 کو 22 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت 49 ہزار 820 روپے تھی جو بڑھ کر 70 ہزار 858 روپے ہو گئی جبکہ 22 قیراط فی دس گرام سونا بھی 42 ہزار 712 روپے سے بڑھ کر 61 ہزار 771 روپے ہو گیا۔ چاندی کی فی تولہ قیمتیں بھی 16.67 فیصد اضافے کے بعد 780 روپے سے بڑھ کر 910 ر وپے ہو گئیں۔حکومت معیشت کی بحالی کیلئے الٹے سیدھے اقدامات کررہی ہے جس کے اثرات نہ جانیں کیا نکلیں بہرحال زیرو ریٹنگ سہولت کے خاتمے کے بعد5بڑی بر آمدی صنعتوں پر17فیصد سیلز ٹیکس عائد کردیا گیا ہے۔جس کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا۔ چیف تمام کمشنر زان لینڈ ریونیو زیرو ریٹ کی سہولت کے خاتمے کے بعد مذکورہ صنعتوں کی پیداوار کی نگرانی کریں گے اور یکم جولائی سے قبل ان کے پاس موجود فروخت کے لئے تیار مال کی فہرست مرتب کی جائے۔ اس وقت 5 بڑی برآمدی صنعتوں کے پاس بڑے پیمانے پر انوینٹری موجود ہے جو ایکسپورٹ یا مقامی سیلز کے لئے تیار کی گئی۔ٹیکس حکام کو مذکورہ صنعتوں کے گوداموں میں موجود انوینٹری کا تخمینہ لگا ئیں گے تاکہ اسٹاک پر سیلز ٹیکس وصول کیا جائے۔ ٹیکس حکام سیلز ٹیکس ایکٹ1990کے سیکشن 38کے تحت صنعتوں میں مالی سال کے آغاز اور گزشتہ مالی سال کے اختتام پر انوینٹری کا معائنہ کرکے مالیت اور مقدار درج کریں گے۔ اس حوالے سے ملک بھر کی صنعتوں کو نوٹس جاری کردئیے گئے اس صورت ِ حال میں جولوگ پہلے ہی حکومت کوٹیکسزدے رہے ہیں ان کے گرد شکنجہ مزید کس دیاجائے گا حالانکہ ضرورت اس بات کی تھی کہ ٹیکس ٹیٹ میں زیادہ سے زیادہ کاروباری لوگوں کو شامل کیاجاتا ٹیکس ریٹرن فارم کو آسان اورسہل بنایاجائے تاکہ لوگ اسے خودپرکرسکیں فی الوقت 2000ہزار ٹیکس دینے والے سے وکیل 10000 فیس مانگتاہے اب ٹیکس گذارکوپاگل کتے نے کاٹاہے کہ دمڑی کی بڑھیا روپیہ سرمنڈوائی کے فارمولے کو اپنائے یعنی حکومت آسان کام کرنے کی بجائے ہاتھ گھماکر کان پکڑنے کی کوشش کرر ہی ہے لگتا ہے عمران خان کے گردسب تماشا دیکھنے والے ہیں کیا حکومتی ٹیم میں ایک سخص بھی ایسا نہیں جو سمجھانے کی کوشش کرتا بس ہماری تو دلی دعاہے کہ اﷲ اس ملک اور عمران خان پر اپنا رحم کرے آمین۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ilyas Muhammad Hussain

Read More Articles by Ilyas Muhammad Hussain: 316 Articles with 111632 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Jun, 2019 Views: 289

Comments

آپ کی رائے