شکر ہے تم دیر سے آئی ہو

(Mukhtar Ahmed, Islamabad)

ندیم دس جماعت پاس تھا- اس کے محلے میں ایک لڑکی انیلا رہتی تھی- اس نے صرف پانچ جماعتوں تک پڑھا تھا مگر ندیم اسے دل و جان سے چاہتا تھا- وہ لوگ جس ماحول میں رہتے تھے وہاں تعلیم وغیرہ کی کوئی اہمیت نہیں تھی- ذہنی پسماندگی کا یہ عالم تھا کہ ماں باپ بیٹوں کے بارے میں صرف اس بات کی طرف سے فکر مند رہتے تھے کہ کسی طرح یہ بڑے ہوجائیں اور کسی کام پر لگ جائیں- لڑکیوں کی پڑھائی لکھائی کی طرف بھی کوئی توجہ نہیں دیتا تھا- ان کے لیے صرف یہ ہی ضروری سمجھا جاتا تھا کہ وہ تھوڑی بہت دینی تعلیم، سلائی کڑھائی اور کھانا پکانا سیکھ لیں-
ندیم نے میٹرک پاس کر لیا اور اس کو دسویں کا سرٹیفکیٹ مل گیا تو اس کے باپ نے اس کی نوکری کی کوششیں شروع کردیں- وہ کسٹم کے محکمے میں چپڑاسی تھا اور اس نے کہہ سن کر اس کو بھی وہیں کلرک بھرتی کروا دیا-
اس کی نوکری لگی تو گھر میں خوشیوں کے شادیانے بجنے لگے- اس کی ماں تو بہت ہی خوش تھی- وہ یہ سوچ کر مگن تھی کہ بیٹا برسر روزگار ہوگیا ہے، اب اس کا گھر بھی بس جائے گا-
لڑکی ڈھونڈنے میں اسے کوئی دقت نہیں ہوئی- وہ جانتی تھی کہ بیٹا انیلا کو پسند کرتا ہے- اسے بھی انیلا پسند تھی- وہ تھی تو اسی ماحول کی مگر اس ماحول کی دوسری لڑکیوں سے بہت مختلف تھی- ایک ہی محلے میں رہنے کی وجہ سے سب ایک دوسرے کو شروع ہی سے جانتے تھے، جب وہ ندیم کا رشتہ لے کر انیلا کے گھر گئی تو اسے بڑی خوشی سے قبول کرلیا گیا اور یوں چند دنوں بعد انیلا اسی محلے کے ایک گھر سے نکل کر اسی محلے کے ایک دوسرے گھر میں آگئی-
کہنے کو انیلا زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھی مگر اس میں سمجھ بوجھ بہت تھی- اس میں تو کوئی شک ہی نہیں تھا کہ وہ ندیم سے بہت محبّت کرتی تھی- اس محبّت کا ثبوت اس نے اس طرح دیا کہ سسرال کی گھر داری میں اپنے دن رات ایک کردئیے- اس کے ساس سسر اس کی خدمت سے بہت خوش تھے – اس کے آجانے سے انھیں بہت آرام مل گیا تھا-
انیلا نے دوسرا کام یہ کیا کہ ندیم کو کہہ کہہ کر پڑھائی کی طرف راغب کیا- کچھ تو اسے بھی شوق تھا اور پھر انیلا نے بھی اسے سمجھایا کہ ابھی موقع ہے، اگر وہ پڑھ لکھ گیا تو اس کی ترقی کی راہیں کھل جائیں گی، وہ ترقی کرے گا تو اس کے بچے اور گھر والے ایک اچھی زندگی گزارنے کے قابل ہو جائیں گے- انیلا کی بات اس کے دل کو لگی اور اس نے مزید آگے پڑھنے کا ارادہ کرلیا-
نوکری کے ساتھ ساتھ اس نے پرائیویٹ پڑھنا بھی شروع کردیا- انیلا اس کے کھانے پینے اور آرام کا بہت خیال رکھتی تھی- وہ دن بھر کسٹم ہاؤس میں اپنے دفتر میں کام کرتا، چھٹی کے بعد کالج چلا جاتا اور آٹھ بجے کے بعد وہاں سے لوٹتا- اس ساری مشقت سے اسے ذرا بھی کوفت نہیں ہوتی تھی- جب وہ رات کو گھر آتا تو انیلا خوشامد کی حد تک والی محبّت لیے اس کی منتظر ہوتی- اس کا انداز دیکھ کر ندیم خوشی سے سرشار ہوجاتا اور انیلا اسے مزید اچھی لگنے لگتی-
پلک جھپکتے ہی دو سال بیت گئے- ان دو سالوں میں انھیں دو خوشیاں ملی تھیں- پہلے سال تو دونوں ایک پیارے سے بیٹے کے ماں باپ بن گئے- دوسرے سال کی خوشی انٹرمیڈیٹ پاس کرلینے کی تھی- اس نے فرسٹ ڈویژن میں بارہویں جماعت پاس کر لی تھی-
انٹرمیڈیٹ کا سرٹیفکیٹ ملا تو ندیم کا حوصلہ مزید بلند ہوگیا- ایک مرتبہ پھر اس حوصلے کو مزید بڑھاوا انیلا نے دیا اور اس کے کہنے پر ندیم نے گریجویٹ کلاس میں داخلہ لے لیا- اس کے دفتر میں بھی سب لوگ حیران تھے کہ اس نے بیٹھے بٹھائے کیسے انٹر کر لیا ہے- مگر اس کی لگن دیکھ کر اس کے دوستوں نے سبق حاصل کیا اور خود بھی پڑھنے لکھنے کا سوچنے لگے مگر صرف سوچتے ہی رہ گئے اور ندیم نے شام کے کالج میں کلاسیں بھی جوائن کر لیں-
بچے کے پیدا ہونے کے بعد اخراجات میں کافی اضافہ ہوگیا تھا- ندیم کی اور اس کے باپ کی تنخواہوں سے گھر کا اچھا برا خرچ تو چل جاتا تھا مگر ندیم کی پڑھائی کے اخراجات برداشت کرنا مشکل ہوگئے تھے- انیلا نے اس کا یہ حل نکالا کہ ایک روز ساس کے ساتھ جا کر اس نے اپنے وہ زیورات بیچ دییے جو شادی کے وقت اس کی ماں نے دیے تھے- ان تمام پیسوں کو اس نے ایک طرف اٹھا کر رکھ دیا اور یہ نیت کر لی کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے ان میں سے ایک پیسہ بھی گھر کے خرچ کے لیے نہیں لے گی، یہ سارے کے سارے ندیم کی پڑھائی کے سلسلے میں خرچ ہونگے- ان پیسوں سے نہ صرف ندیم کا تھرڈ ایر میں داخلہ ہوگیا بلکہ اس کے بعد فورتھ ایر میں داخلے کے وقت بھی یہ ہی پیسے کام آئے-
کسٹم میں نوکری کرتے کرتے ندیم کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اگر وہ گریجویٹ ہوجائے اور چند ہفتوں کی لازمی ٹریننگ حاصل کرلے تو وہ بڑی آسانی سے کسٹمز آفیسر بن سکتا ہے- اس دوران اس نے اپنی انگریزی بھی بہت اچھی کر لی تھی – انگریزی زبان سرکاری دفتروں میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے- ندیم کی انگریزی اس افسر سے اچھی تھی جس کے نیچے وہ کام کرتا تھا- یہ ہی وجہ تھی کہ اس کا افسر لکھنے پڑھنے کا کام اسی سے کرواتا تھا اور اس کے بدلے اس کا خاص خیال رکھتا تھا- ندیم کی لگن سے اس کے افسر کو بھی امید تھی کہ وہ ایک روز کسی بڑے عہدے پر پہنچنے میں ضرور کامیاب ہوجائے گا-
ادھر اس نے گریجویشن کیا، ادھر اس کے ہاں بیٹی کی پیدائش بھی ہوگئی- ایک دفعہ پھر اس گھرانے میں خوشیوں کے شادیانے بجنے لگے- ندیم تو خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا- اسے انیلا اور بھی زیادہ اچھی لگنے لگی تھی- خدا نے ان خوشیوں کا ذریعہ اسے ہی تو بنایا تھا- اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ اس کے لیے کیا کرے- آدمی کے پاس کچھ نہ ہو تو پھر وہ اپنی محبّت کا اظہار صرف زبانی طور پر ہی کرتا ہے- ندیم بھی یہ ہی کر رہا تھا- یہ بھی حقیقت ہے اس زبانی محبّت میں جو خلوص ہوتا ہے، وہ ایک ازدواجی زندگی گزارنے کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے- انیلا خود کو بہت خوش قسمت سمجھتی تھی کہ شادی کے اتنے سال گزرانے کے بعد بھی ندیم کی محبّت میں کمی نہیں آئ تھی جس کا اظہار وہ اکثر و بیشتر کرتا ہی رہتا تھا- ندیم نے بہرحال یہ بات سوچ لی تھی کہ حالات اچھے ہوتے ہی وہ انیلا کو اتنے عیش کروائے گا کہ وہ زندگی کی ساری تلخیاں بھول جائے گی-
مسلسل کام کرنے کی وجہ سے انیلا کا وہ پہلے جیسا رنگ روپ نہ رہا تھا- اپنی مصروفیات میں گم رہ کر وہ اپنا خیال بھی نہیں رکھتی تھی- بیٹی کی پیدائش کے بعد اس کی آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے بھی نمودار ہوگئے تھے- ڈاکٹروں نے خون کی کمی بتائی تھی اور کچھ غذائیں بھی تجویز کی تھیں- اگر وہ لوگ پیسے والے ہوتے تو وہ ضرور ان غذاؤں کا استعمال کرتی مگر وہ لوگ پیسے والے تھے ہی کہاں- اب ان کے دو بچے ہوگئے تھے- ندیم کی ابھی تک ترقی نہیں ہوئی تھی، وہ بدستور کلرک کی حیثیت سے کام کر رہا تھا- بس کسی نہ کسی طرح، اچھے دنوں کی آس پر گھر کا نظام چل ہی رہا تھا-
اور پھر ان کی قربانیوں اور تکلیفوں کا صلہ ملنے کی امید پیدا ہوگئی- ندیم کے محکمے میں نئی بھرتیاں ہو رہی تھیں، بہت ساری پوسٹیں تھیں اور ان میں کسٹمز آفیسر کی بھی آسامی تھی- اس نے بھی اس پوسٹ کے لیے درخواست دے دی- اسے اپنی کامیابی کا بہت یقین تھا-
دس پندرہ دنوں میں انٹرویو ہوگئے اور اگلے دس پندرہ دنوں میں ہی رزلٹ بھی آگیا- اس کے خوابوں کی تعبیر مل گئی تھی، ایک روز وہ خوش خوش مٹھائی لے کر گھر پہنچا، کسٹمز آفیسر کی تقرری کا لیٹر اس کی جیب میں تھا- اس کے ماں باپ تو خوش تھے ہی، انیلا کے پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے-
اس کے سسر نے کہا- "بیٹی انیلا- یہ سب تمہاری کوششوں کا نتیجہ ہے، ہم دیکھتے تھے کہ تم ندیم کی پڑھائی کے پیچھے کیسے لگی رہتی تھیں، اس پر تم نے کوئی ذمہ داری بھی نہیں ڈالی تھی، گھر دیکھنا اور پھر دو چھوٹے بچوں کو سنبھالنا، یہ تمھاری ہی ہمت تھی-"
انیلا بولی- "ابا ہمّت والے تو یہ تھے، پڑھنا لکھنا اور وہ بھی بڑی کلاسوں کا معمولی بات تھوڑا ہی ہے-"
"کچھ بھی ہو- ان معاملات میں پڑ کر تم نے اپنا ذرا خیال نہیں رکھا تھا- خدا کا شکر ہے کہ اب اچھے دن بھی تم ہی دیکھو گی"- اس کے سسر نے کہا-
اس کی ساس مسکرا کر بولی- "بہو اب تو تم ایک افسر کی بیوی ہو- خوب عیش کرنا-"
جب ندیم اور انیلا کو تنہائ ملی تو ندیم نے بڑے خلوص سے کہا "ابا ٹھیک کہتے تھے- یہ تمھاری وجہ ہی سے ممکن ہوا ہے- ورنہ میں کلرک بھرتی ہوا تھا اور کلرک ہی ریٹائر ہوجاتا-"
"میں تو یہ سوچ سوچ کر خوش ہو رہی ہوں کہ اب ہمارے بچے بھی اچھے اسکولوں میں پڑھ سکیں گے-"
"اور میں یہ سوچ سوچ کر خوش ہو رہا ہوں کہ مجھے کتنی اچھی اور سمجھدار بیوی ملی ہے جس کی وجہ سے میں اس مقام پر پہنچ گیا ہوں-" ندیم نے پورے خلوص اور خوشدلی سے کہا-
"چلیں یہ بھی اچھا ہے کہ دونوں اچھی اچھی باتیں سوچ رہے ہیں- آپ کی سوچی ہوئی بات بہرحال مجھے اپنی سوچی ہوئی والی بات سے زیادہ اچھی لگ رہی ہے"- انیلا ہنس کر بولی-
اتنی دیر میں ان کا بیٹا راجو اور بیٹی ببلی دادا کے پاس سے وہاں آگئے- انیلا ان کے کھانے بندوبست کرنے لگی- ندیم موبائل پر اپنے دوستوں کو اس کامیابی کی اطلاع دینے میں مصروف ہوگیا-
زندگی اپنی ڈگر پر چلی جا رہی تھی- بلا شبہ ندیم ایک ذہین اور محنتی آدمی تھا- اس نے بہت جلد اپنے افسران بالا کی نظروں میں اپنا ایک مقام بنا لیا تھا- کسٹمز آفیسری کرتے ہوۓ اس نے دیکھا کہ وہاں پر اوپر سے نیچے سب لوگ رشوت لیتے ہیں- شروع شروع میں تو اس نے اس بات کو برا سمجھا مگر پھر وہ بھی اسی رنگ میں رنگ گیا- وہ سوچتا تھا کہ اگر اس نے اپنے باپ کی طرح سیدھی سادھی زندگی گزاری تو آخر میں اس کے پاس کچھ نہیں ہو گا- اس کا باپ ابھی تک اپنا مکان بھی نہیں بنا سکا تھا-
بہتی گنگا میں اس نے بھی ہاتھ دھونا شروع کردیے- تنخواہ سے زیادہ اسے اوپر کی آمدنی ہونے لگی- اس بات کی ہوا اس نے انیلا کو بھی نہیں لگنے دی تھی- وہ ایک سیدھی سادھی اور نیک طینت عورت تھی- ندیم کو احساس تھا کہ وہ اس اوپر کی آمدنی کو کبھی پسند نہیں کرے گی- وہ تاجر جو مہینے میں دو ایک باہر کے چکر لگاتے تھے اور اپنے ساتھ مختلف چیزیں لے کر آتے تھے، ان میں سے اکثر نے ندیم کے ساتھ سودے بازی کر لی تھی- ندیم اپنے تعلقات اور عہدے کا فائدہ اٹھا کر ان کے لیے آسانیاں پیدا کرتا تھا، وہ ان آسانیوں کے بدلے اس کو قیمت ادا کرتے تھے-
ان کے اچھے دن شروع ہوگئے تھے- انہوں نے ایک بڑا گھر بھی کرائے پر لے لیا اور راجو اور ببلی کو ایک اچھے انگریزی اسکول میں داخل کروا دیا- ندیم کو ویسے تو آفس سے گاڑی ملی ہوئی تھی مگر اس نے گھر والوں کے آنے جانے کے لیے ایک گاڑی بھی خرید لی تھی- انیلا کو اس نے بتایا تھا کہ یہ گاڑی اس نے قسطوں پر لی ہے، مگر اسے اس نے نقد ہی خریدا تھا- اس کے پاس اوپر کی کمائی کا بہت سا پیسا جمع ہوگیا تھا جسے اس نے الگ اکاؤنٹ میں رکھا ہوا تھا-
انیلا حالات کے ٹھیک ہوجانے پر بہت خوش تھی، مگر اس نے ندیم کے رویے میں بہت سی تبدیلیاں نوٹ کی تھیں- وہ گھر میں ہوتا تو خاموش خاموش رہتا، ضرورت کے وقت ہی اس سے بات کرتا- وہ کبھی اس بات کا گلہ بھی کرتی تو وہ کہتا کہ کام کی دباؤ کی وجہ سے اس کی پریشانیاں بڑھ گئی ہیں- انیلا نے آج تک اس کی ہر بات پر اعتبار کیا تھا، اس پر بھی کرلیتی تھی- اسے یہ احساس تو تھا کہ افسر بن جانے کے بعد اس کی ذمے داریوں میں بہت اضافہ ہوگیا ہے- وہ اس کے آرام کا اور کھانے پینے کا مزید خیال رکھنے لگی-
ندیم کے آفس میں ایک بیس بائیس سال کی لڑکی تھی- بے حد حسین و جمیل اور اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اس کا نام مریم تھا- وہ فر فر انگلش بولتی تھی جس کی وجہ سے آفس کے اکثر لوگ اس سے مرعوب ہوجاتے تھے- کسی زمانے میں اس کی ماں کرسچین تھی، مگر ایک مسلمان سے شادی کرکے وہ خود بھی مسلمان ہوگئی تھی-
ایک روز وہ اس کے پاس آئ- اس کا کوئی عزیز باہر کے کسی ملک جا رہا تھا- اس سلسلے میں اسے مشوره چاہیے تھا کہ وہ یہاں سے کتنا سامان اپنے ساتھ آسانی سے لے جاسکتا تھا- اس سامان میں کچھ ایسا بھی سامان تھا جس کے بارے میں مریم کے عزیز نے سوچا تھا کہ اس کو وہاں بیچ دے گا تاکہ اسے کچھ رقم مل جائے اور وہ اپنی نوکری ملنے تک بے فکری سے گزارہ کر سکے-
ندیم نے بڑی تفصیل سے اس کو ساری معلومات فراہم کیں اور اپنے تعاون کا یقین بھی دلایا- مریم کا نرم اور دھیما لہجہ اور باتیں کرتے کرتے اس کا معصومیت سے پلکیں جھپکانا ندیم کو بہت اچھا لگ رہا تھا- اس نے ندیم کا بے حد شکریہ ادا کیا کہ اس نے ایک مشکل معاملے میں اس کی مدد کرنے کا وعدہ کیا تھا-
اس کے بعد دونوں میں سلام دعا کا سلسلہ بھی چل نکلا- مریم کا ڈیپارٹمنٹ تو کوئی دوسرا تھا، مگر اسے جب بھی فرصت ملتی وہ ندیم کے پاس چکر لگا لیتی- چند ہفتے گزرے تو ندیم کا دل چاہنے لگا کہ مریم ہر وقت اس کے آس پاس رہے- بات بات پر کھلکھلا کر ہنسنا مریم کی عادت تھی اور ندیم کو اس کی ہنسی بہت پسند تھی- وہ ہر لحاظ سے ایک بھرپور عورت تھی اور تھوڑے ہی عرصے میں اس نے ندیم کے دل و دماغ پر قبضہ جما لیا تھا-
ندیم کی پوسٹ کی وجہ سے اس کے تعلقات وسیع سے وسیع تر ہوتے جا رہے تھے- ہفتے میں دو ایک مرتبہ وہ ڈنر پارٹیوں میں شرکت کرتا تھا- یہ پارٹیاں وہ لوگ دیتے تھے جو اپنے کسی مقصد کے لیے اسے اور اس کے محکمے کے دوسرے افسروں کو استعمال کیا کرتے تھے- ایسے لوگ تھوڑے سے روپے خرچ کر کے بہت سے روپے کمانا جانتے تھے- ان پارٹیوں میں زیادہ تر تاجر حضرات ہوا کرتے تھے- ان کے ساتھ ان کی بیگمات بھی ہوتی تھیں- پڑھی لکھی، گوری، چٹی، صحت مند اور زندگی سے بھرپور عورتیں- ندیم کو ایسے موقعوں پر اپنی کم مائیگی کا احساس ہوتا تھا- وہ انیلا کو ان محفلوں میں ساتھ نہیں لا سکتا تھا- وہ اس ماحول میں کسی طور ایڈجسٹ ہو ہی نہیں سکتی تھی-
جلد ہی اس کا حل بھی نکل آیا- وہ دو ایک دفعہ ایسی پارٹیوں میں مریم کو اپنے ساتھ لے آیا- وہ قدامت پسند نہیں تھی ایک حد تک کافی آزاد خیال تھی- اس کا فیملی بیک گراؤنڈ بھی ایسا تھا جہاں ان چیزوں کو برا نہیں سمجھا جاتا تھا- وہ ندیم کے ساتھ اس طرح کی محفلوں میں آئ تو ندیم نے اندازہ لگایا کہ یہاں آ کر وہ بہت خوش ہوتی ہے- ایک دو دفعہ نئے جاننے والوں نے اس سے پوچھا بھی تھا کہ کیا مریم اس کی مسز ہے- وہ تو اس سوال پر گھبرا سا جاتا تھا مگر مریم ہنس پڑتی تھی-
ایک روز مریم اس سے ملی تو کچھ فکرمند سی تھی- پوچھنے پر بتایا کہ اس کی ماں اس کی شادی کے لیے اصرار کر رہی ہے- اس نے کوئی لڑکا بھی دیکھ لیا ہے – اس کے پاس برطانیہ کی شہریت بھی ہے اور وہ وہاں کوئی کاروبار کرتا ہے- اس نے مزید بتایا کہ وہ لڑکا آجکل پاکستان آیا ہوا ہے مگر اسے ذرا پسند نہیں ہے-
ندیم کو یہ سن کر خوشی ہوئی کہ جس لڑکے سے اس کی ماں اس کی شادی کرنا چاہتی ہے وہ مریم کو پسند نہیں- اس نے اس سے پوچھ ہی لیا کہ اسے کیسا لڑکا پسند ہے- وہ نہ شرمائ اور نہ ہی جھجکی، فوراً بولی- "کم سے کم وہ آپ جیسا تو ہو-"
اس کی کہی ہوئی بات دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف تھی- وہ اس کوزے کو پکڑے پکڑے گھر پہنچا تو اس کے ذہن میں خیالات کی کھچڑی سی پک رہی تھی- وہ مریم کے کہے ہوۓ ان الفاظ کو بار بار یاد کر کے اپنے ذہن میں دوہراتا اور اسے بہت اچھا لگتا-
انیلا لاکھ گھریلو عورت سہی مگر اس کی حس بھی دوسری عورتوں کی طرح تیز تھی- وہ ندیم کے بدلے بدلے اطوار دیکھ رہی تھی اور وہ فکرمند رہنے لگی تھی- ندیم کی باہر کی مصروفیات اتنی اہم نہیں تھیں کہ وہ انھیں اپنے گھر پر ترجیح دینے لگ جاتا- ندیم نے راجہ اور ببلی پر توجہ دینا بھی ختم تو نہیں مگر بہت کم کردی تھی- ویسے بھی وہ سویرے نکل جاتا تھا اور رات گئے گھر آتا تھا- بچوں سے ملاقات چھٹی والے روز ہی ہوتی تھی- اس چھٹی والے روز بھی اس کا موبائل بار بار بجتا رہتا تھا- اس کا رویہ بلکہ بے رخی دیکھ کر بچے بھی اس سے دور دور رہنے لگے تھے اور آپس میں ہی کھیلتے رہتے تھے یا پھر انیلا کے پاس بیٹھ جاتے-
انیلا بھی چپ چپ اپنے کاموں میں لگی رہتی تھی- ایک روز اس کے باپ نے اس سے شکایت کی کہ اس کی توجہ گھر سے بالکل ہٹ گئی ہے تو اس نے باپ سے بڑی بے رخی سے کہا تھا- "ابّا آپ کو کیا پتہ مجھ پر کیا گزر رہی ہے- میں اپنا کام دیکھوں یا ان لوگوں کو وقت دوں- میں یہ سب کچھ ان ہی کے لیے تو کر رہا ہوں- انیلا نے آپ سے میری شکایت کی ہوگی-"
اس کے لہجے نے اس کے باپ کو غصہ دلا دیا تھا- اس نے تلخی سے کہا- "میاں- میں نے یہ بال دھوپ میں سفید نہیں کئے ہیں- میرا مشوره ہے سیدھی سادھی زندگی گزارو- نہیں گزارو گے تو پچھتاؤ گے- انیلا بیٹی نے آج تک کوئی شکایت نہیں کی- کبھی وقت ملے تو بیٹھ کر سوچنا- اگر وہ تمہارا ساتھ نہ دیتی تو تم کبھی اس مقام تک نہیں پہنچ سکتے تھے-"
باپ کی بات سن کر ندیم تلملا گیا تھا- "ابّا کیا احسان اس لیے کیے جاتے ہیں کہ ان کو جتلایا جائے- پھر میں نے بھی تو ان لوگوں کے ساتھ بہت کچھ کیا ہے- اس کے زیور جو میری تعلیم کے دوران بک گئے تھے، ان کے بدلے میں نے اسے ان سے چار گنا زیادہ زیورات دلا دیے ہیں- ہر ماہ اس کے بینک اکاؤنٹ میں ایک معقول رقم ڈلواتا ہوں- اور میں کیا کروں؟"
"فکر نہ کرو- یہ سب کچھ وہ تمہارے برے وقت کے لیے سنبھال سنبھال کر رکھ رہی ہوگی- میں انیلا کی عادتوں سے اچھی طرح واقف ہوں- ویسے یہ بات کان کھول کر سن لو کہ بیوی بچوں کو ان سب چیزوں کے ساتھ ساتھ اپنے شوہر اور باپ کی توجہ بھی درکار ہوتی ہے- سمجھ سکتے ہو تو سمجھ جاؤ ورنہ پچھتاؤ گے"-
باپ کی باتیں سن کر ندیم بہت بدمزہ ہوگیا تھا- وہ وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے میں آگیا- اس کے باپ نے اس کے دل کا چور پکڑ لیا تھا- انسان کی بدبختی جب شروع ہوتی ہے تو وہ ڈھیٹ بن جاتا ہے- ندیم کی بھی کچھ ایسی ہی حالت تھی- ایک بہت ہی محبّت کرنے والی بیوی، دو پیارے پیارے بچے اور ماں باپ جیسی نعمتیں اس کی نظروں سے اوجھل ہوگئی تھیں- اب اس کی سوچوں کا محور صرف بھرے بھرے جسم، کٹورا جیسی آنکھوں، سرخ و سفید رنگت اور سبک ہونٹوں والی مریم تھی، جس کے پاس بیٹھنے سے اس میں سے ایسی خوشبو آتی تھی کہ اسے کچھ ہوش نہیں رہتا تھا-
مریم بہت حسین و جمیل تھی اور پارٹیاں وغیر اٹینڈ کرنا اسے بہت اچھا لگتا تھا- آفس کے بہت سے لوگ اس سے متاثر تھے- شادی شدہ لوگ اس سے بات کرنے کے بہانے ڈھونڈتے تھے- کنوارے اس کے لیے آہیں تو بھرتے تھے مگر اس سے دور دور رہتے تھے کیوں کہ انھیں پتہ تھا کہ وہ مالی طور پر اتنے مستحکم نہیں ہیں کہ اس کا بوجھ برداشت کر سکیں- یہ چیزیں ندیم کے حق میں جاتی تھیں- اس میں مریم کا بوجھ اٹھانے کی سکت تھی- مریم بڑی تیزی سے اس کی طرف راغب ہوئی تھی- وہ اسے گھماتا پھراتا تھا، شاپنگ کرواتا تھا اور آئے دن کسی بڑے ہوٹل میں ڈنر پر بھی لے جاتا تھا-
ایک روز بیٹھے بیٹھے ندیم کو شدت سے اس بات کا احساس ہوا کہ وہ مریم کے بغیر نہیں رہ سکتا- لاشعور میں تو یہ بات تھی، شعور میں آئ تو وہ بے چین ہوگیا- ماں باپ اور بیوی بچے اس کی راہ میں حائل تھے- اگر وہ مریم سے شادی کرتا تو ان سب سے نمٹنا بھی پڑتا- سوال جواب سے اسے بے حد چڑ تھی- ایک یہ بھی خیال اس کے ذہن میں آیا کہ کسی اور جگہ دوسرا گھر لے کر خاموشی سے مریم کے ساتھ شادی کرلے- کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوگی- سوچ کی حد تک تو یہ بات ٹھیک تھی- مگر زندگی بہت لمبی ہوتی ہے- پوری زندگی اس راز کو راز نہیں رکھا جاسکتا تھا- اسے اپنے کئی دوسرے دوست یاد آئے- ان کی بھی دو دو شادیاں تھیں- پہلی شادی کے وقت ان میں سمجھ نہیں تھی- سمجھداری آتے ہی انہوں نے دوسری شادی بھی کرلی- یہ سمجھداری اس وقت آئ تھی جب ان کے پاس پیسہ آگیا تھا اور مفلسی کا دور رخصت ہوگیا تھا-
آدمی پیسے والا ہو تو آس پاس کے سب لوگوں کی یہ ہی کوشش ہوتی ہے کہ بیچ کی راہ نکال کر اس پیسے والے سے سمجھوتہ کر لیں- پہلی شادی اور دو چار بچوں کے ہوجانے کے بعد بیویاں مجبور ہوجاتی ہیں- حالات کی وجہ سے ان کا ساتھ دینے والا کوئی ہوتا نہیں ہے، ماں باپ زندہ ہوتے ہیں تو وہ نحیف و نزار ہوجاتے ہیں- بھائی اگر ہوۓ بھی تو ان کی اپنی ذمہ داریاں اتنی بڑھ جاتی ہیں کہ وہ سوائے زبانی ہمدردی کے بہنوں کے لیے کچھ اور نہیں کر سکتے- ان مظلوم بیویوں کے سامنے بچوں کی ادھوری پڑھایاں ہوتی ہیں اور ان کا مستقبل ہوتا ہے- سمجھوتے کے لیے اور کیا چاہیے- بے چاری سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہوجاتی ہیں- چاہے شوہر کچھ بھی کرے-
اسے مریم کی باتیں یاد آ رہی تھیں- وہ اس سے بہت متاثر تھی- اس کی ذرا ذرا سی بات کی تعریف کرتی تھی- اس کو ندیم کا سانولا رنگ بھی بہت پسند تھا- کل کینڈل ڈنر پر جب اس نے میز کے نیچے سے اس کے گھٹنوں سے گھٹنے ملا کر اور اس کے دونوں ہاتھ ہاتھوں میں لے کر اس سے شادی کی بات کی تھی تو وہ بالکل بھی نہیں شرمائ تھی بلکہ خوش ہوگئی تھی- اس نے کہا تھا کہ اگر وہ اس بات کو ہفتہ بھر پہلے کہہ دیتا تو اور بھی اچھا ہوتا- وہ یہ خوشی ہفتہ بھر پہلے ہی سے محسوس کر رہی ہوتی-
اس کی باتیں سن کر ندیم کا دل خوش ہوگیا- ایک بات پر دونوں فکر مند تھے- عورتوں کے حقوق پر حکومت بہت سنجیدہ تھی- عورتوں کے لیے جہاں دوسرے اقدامات اٹھائے گئے تھے، وہیں دوسری شادی کے لیے اس کی تحریری رضا مندی بھی ضروری قرار دی گئی تھی- مریم ایک عورت تھی اور عورت ہونے کے ناطے اسے یقین تھا کہ ندیم کی بیوی کبھی بھی اسے دوسری شادی کی اجازت نہیں دے گی- اس خدشے کا اظہار اس نے ندیم سے بھی کردیا تھا- ندیم کو انیلا کے بارے میں سب پتہ تھا- اس کا میکے میں کوئی نہیں تھا، اس کے دو بچے تھے جن کی پڑھائی چل رہی تھی- اس ظالم معاشرے میں زندگی بسر کرنے کے لیے اس کے پاس ندیم کی شکل میں ایک واحد آسرا تھا- ندیم کے اندر بیٹھے ہوۓ شیطان کو اندازہ تھا کہ ان تمام باتوں کو مد نظر رکھتے ہوۓ وہ کبھی بھی اسے دوسری شادی کی اجازت دینے سے انکار نہیں کرے گی- انکار کرے گی بھی تو اسے علحیدگی کی جان لیوا پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا- مریم کا خدشہ سن کر وہ پر غرور انداز میں مسکرا کر رہ گیا تھا-
مریم نے غور سے اس کا یہ انداز دیکھا، وہ مسکرائی اور بولی- "آج کل کے زمانے میں اتنی محبّت کرنے والے کم ہی ہونگے- تم نے تو ندیم مجھے ایک آزمائش میں ڈال دیا ہے- پتہ نہیں میں تمھاری اس محبّت کا بدلہ دے بھی سکوں گی یا نہیں-"
"تمھاری امی تو راضی ہوجائیں گی نا-" ندیم نے فکرمندی سے کہا-
"میں نے ان سے ابھی بات تو نہیں کی ہے- اب کروں گی-" اس نے کہا-
"میں بھی بیوی سے بات کروں گا- مجھے تو امید ہے کہ معاملات بخیر و خوبی طے پاجائیں گے-"
ندیم نے اس بارے میں انیلا سے بات کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا- آج چھٹی تھی اور وہ گھر پر ہی تھا- دونوں بچے حسب معمول اس کے پاس نہیں پھٹکے تھے- انیلا بھی خاموشی سے کھانا پکانے میں لگی ہوئی تھی- اس کی ماں کھڑکی کے پاس کرسی ڈالے باہر دیکھ رہی تھی- اس کا باپ ٹی وی دیکھ رہا تھا-
گھر میں حالانکہ اتنے بہت سے لوگ تھے مگر وہاں گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی- ندیم کچن میں آیا- خلاف توقع اسے وہاں دیکھ کر انیلا کو حیرت ہوئی- "کیا بھوک لگ رہی ہے- تھوڑی دیر میں کھانا پک جائے گا-" اس نے مسکرا کر کہا- وہ ندیم کے اس طرح کچن میں آنے پر خوش ہوگئی تھی-
"کیسی عورت ہے- ہر وقت کھانا، دھلے ہوۓ کپڑے، استری، صفائی ستھرائی اور بچوں کی باتیں ہی اس کے دماغ پر سوار رہتی ہیں-" ندیم نے تلخی سے سوچا- پھر بے رخی سے بولا- "یہاں سے فارغ ہو کر میرے کمرے میں آنا- تم سے ایک ضروری بات کرنا ہے-" یہ کہہ کر وہ وہاں سے چلا آیا-
یہ آٹھ بجے رات کی بات تھی- ندیم اپنے کمرے میں بڑی بے چینی سے اس کی آمد کا انتظار کر رہا تھا- انیلا کو کھانا پکاتے پکاتے ساڑھے نو بج گئے تھے- اس نے ٹیبل صاف کرکے کھانا لگایا- ندیم چھٹی والے روز بھی ان لوگوں کے ساتھ کھانا نہیں کھاتا تھا- اس وقت بھی وہ وہاں موجود نہیں تھا- اس کے ساس سسر اور دونوں بچے ٹیبل پر موجود تھے- اسے بھوک نہیں تھی مگر وہ ان کے پاس ہی بیٹھی تھی- اسے رہ رہ کر ندیم کا سرد رویہ اور اس کا یہ کہنا کہ میرے کمرے میں آنا، تم سے ایک ضروری بات کرنا ہے، رہ رہ کر یاد آ رہا تھا- وہ ضروری بات کیا ہوسکتی ہے، اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا- وہ بے صبری سے ان کے کھانا ختم کرنے کا انتظار کر رہی تھی، تاکہ فارغ ہو کر ندیم کی بات سنے-
اس سے زیادہ ندیم کو اس کی آمد کا انتظار تھا- وہ گود میں موبائل رکھے ان جملوں کو ذہن میں ترتیب دینے کی کوششوں میں مصروف تھا جو انیلا سے گفتگو کے دوران اس نے ادا کرنے تھے- اس کے کمرے کا دروازہ تھوڑا سا کھلا ہوا تھا جہاں سے وہ اپنی امی، ابّا اور بچوں کو کھانا کھاتے ہوۓ دیکھ سکتا تھا- اسے انیلا بھی نظر آ رہی تھی جو میزبانی کے فرائض انجام دے رہی تھی اور اسے بار بار اپنی جگہ سے اٹھنا پڑ رہا تھا-
تھوڑی دیر میں وہ لوگ کھانے سے فارغ ہوگئے اور اٹھ گئے- انیلا ٹیبل صاف کرنے میں لگ گئی-
اچانک موبائل کی بیل بجنے لگی- اس نے امید بھری نظروں سے اسکرین پر نظر ڈالی اور خوش ہوگیا- مریم نے کال کی تھی- اس نے بیٹھے بیٹھے پاؤں سے دروازے کو دھکا دے کر بند کیا اور کال اٹینڈ کرنے کا بٹن دبا دیا-
"ندیم- میں مریم بول رہی ہوں-"
"کیسی ہو- میں دن بھر تمہارے فون کا انتظار کرتا رہا ہوں- کچھ پتہ بھی ہے تمہیں؟" اس نے شکایتی انداز میں کہا-
مریم نے اس کی بات نظر انداز کردی اور بولی "ندیم میں معافی چاہتی ہوں- میں نے اپنی اور تمھاری شادی کی امی سے بات کی تھی- وہ بالکل بھی نہیں مان رہی ہیں- انہوں نے مجھے سمجھایا ہے کہ ایسی شادیوں کا انجام بہت برا ہوتا ہے- بعد میں بہت سارے جھگڑے پیدا ہوجاتے ہیں- وراثت کے مسلے ہوتے ہیں- ان کی خواہش ہے کہ میں اسی لڑکے سے شادی کروں جس سے وہ کہہ رہی ہیں- اس کے پاس انگلینڈ کی نیشنلٹی ہے- شادی کے بعد وہ مجھے وہیں لے جائے گا- میں نے بھی تمام باتوں پر غور کیا اور اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ اپنی امی کی بات مان لوں- اسی میں میری بھلائی ہے-"
ندیم کو محسوس ہوا کہ وہ ایک بلند و بالا عمارت کی لفٹ میں بیٹھا ہے اور وہ لفٹ انتہائی تیز رفتاری سے نیچے کی جانب جا رہی ہے- اس کے کانوں میں سائیں سائیں سی ہونے لگی تھی اور دماغ جیسے سن ہو کر رہ گیا تھا- اسے احساس ہوگیا تھا کہ وہ ایک خود غرض آدمی بن گیا تھا مگر مریم تو اس سے بھی دو ہاتھ آگے نکل گئی تھی- اس نے موبائل بند کر کے ایک طرف ڈال دیا اور کھڑکی کے پاس کھڑا ہو کر باہر گھورنے لگا-
اسے اپنی ایک ایک کر کےساری زیادتیاں یاد آنے لگیں- ان زیادتیوں کا احساس ہوا تو اس کا دل موم ہوگیا- اسے یاد آگیا تھا کہ پیسے کے لیے وہ کتنی بے غیرتی سے لوگوں سے رشوت لیتا تھا- گھر والوں اور خاص طور سے انیلا کے ساتھ برا رویہ اسے یاد آیا تو اس کی آنکھیں نم ہوگئیں- اس نے عہد کرلیا کہ اب وہ عام انسانوں کی طرح ایک صاف ستھری زندگی گزارے گا- ایک ایسا عام آدمی جس کی وجہ سے گھر ٹھیک ٹھاک چلتے ہیں اور ان گھروں میں محبّت، خوشیاں اور خلوص ہوتا ہے- اب اسے شدت سے انیلا کا انتظار تھا-
کچھ وقت اور گزر گیا- انیلا اب تک نہیں آئ تھی- اس کی سوچ کا دھارا ایک مرتبہ پھر مریم کی طرف مڑ گیا- اس کا دل یہ سوچ کر لرز کر رہ گیا تھا کہ مریم کی کال آنے سے پہلے اگر وہ انیلا سے بات کرچکا ہوتا تو کیا ہوتا؟ اس کی نظروں کے سامنے دھوبی اور اس کا کتا گھوم گیا اور پریشانی اور شرمساری سے اس کے چہرے پر پسینہ پھوٹ پڑا-
تھوڑی دیر ہی گزری تھی- انیلا کمرے میں داخل ہوئی- دروازہ کھلنے کی آواز پر ندیم نے گھوم کر دیکھا- انیلا اس کا پسینے میں تر چہرہ دیکھ کر پریشان ہوگئی- اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر اپنے دوپٹے سے اس کا منہ پونچھا اور بولی- "ندیم- مجھے آنے میں کچھ دیر ہوگئی- بچوں کو لٹا کر آئ ہوں- دونوں آنے ہی نہیں دے رہے تھے-"
" شکر ہے تم دیر سے آئ ہو-" ندیم نے مسکرا کر کہا اور آگے بڑھ کر بہت ہی خلوص اور محبّت سے انیلا کو اپنے گلے سے لگا لیا-

(ختم شد)

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 696 Print Article Print
About the Author: Mukhtar Ahmed

Read More Articles by Mukhtar Ahmed: 54 Articles with 27629 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: