آخر کس معجزے کا انتظار ہے

(Afsheen Rai, )

اپنی یاداشت کے جھروکوں میں جھانک کر اگر ہم اپنے گزرے ہوئے ماضی پر نظر دوڑائیں یا پھر اپنی آنکھوں کے سامنے سے گزرتےہوے اس حال پر تو معلوم ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی اور انڈیکس پوائنٹ میں اضافہ کے بعد بھی ایک چیز میں تبدیلی نہیں آ سکی اور وہ ہے "سوچ"۔ اس لفظ "سوچ" کو اگر محدود دائرے میں دیکھا جاۓ تو یہ جانکاری ملتی ہےکہ " صنف نازک" کے بارے جو ماضی میں سوچا جاتا تھا آج بھی اس ترقی یافتہ دور میں بھی اس خیال میں کچھ خاص فرق نہیں آیا۔

حوا کے دنیا میں آنے سے لیکر آج تک عورت کو ایک "چیز یا نشانہ" کے علاوہ کچھ نہیں سمجھا گیا۔ جسکی خاطر ہابیل اور قابیل کہ زمانہ سے لیکر آج تک لوگ ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے ،چھینتے،اور قتل تک کرتے چلے آ رہے ہیں۔

"حقوق نسواں کی پیہلی تحریک 1848 میں "Seneca Falls Convention” میں شروع ہوی۔ جس میں 300 مرد اور خواتین شامل ہوۓ۔ اس تحریک کا بنیادی مقصد خواتین کے برابر حقوق کے لیےآواز اٹھانا تھا۔ اس پہلی تحریک بعد دو اور تحریکیں بھی چلائی گئیں۔لیکن یہاں ایک سوال ذہن کےنقش پہ ابھرتا ہے کہ کیا تحریک چلانے سے حقوق کا ملنا لازمی ہو جاتا ہے؟

زندگی گزارنے کی آزادی، تعلیم کی آزادی، بولنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی آزادی، یہ سب حقوق دونوں جنسوں کے لیے برابر کی اہمیت رکھتے ہیں۔لیکن کیا دونوں واقعی برابر کے حقوق سے لطف اندوز ہو رہے ہیں؟

اگر ہم اپنی آنکھوں سےتاریکی اور جہالت کے پردےاور دولت نشہ اتار کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ، ہر چند گز کے فاصلے پر بنتِ حوا کو کس بے دردی شے کچل دیا جاتا ہے۔ وہ معصوم کلیاں جو ابھی کھل کر پھول کی صورت بھی اختیار بھی نہیں کرتیں انکی خوشبو کو مسخ کر دیا جاتا ہے۔

ایسے دل دہلا دینے والے واقعات کے پیچھے اگر نقطہ نظر دیکھا جاۓ تو یہ معلوم ہوتاہے کہ حوا کی بیٹی کو اِس روۓ زمین پر شاید سب سے آسان شکار سمجھا جاتا ہے۔لمحہ فکریہ تو یہ ہے کہ یہ دلدوز واقعات آۓ روز بڑھتےہی جا رہے ہیں۔ اس وقت شاید ہمیں یہ سوال اٹھانے کی اشد ضرورت ہےکہ کیا انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اس وقت خوابِ خرگوش کے مزے لے رہی ہیں؟ آخر کس چیز کا انتظار کیا جا رہا ہے؟۔ کیا ہم ایک ایسے معاشرے سے توقعات رکھ رہے ہیں جہاں لوگ عورت ذات کو محض لطف اندوزی کے لیے ہراساں کرتے ہیں۔ جہاں بنتِ حوا کے چہرے پر کرب کی ابھرتی لکیریں صنفِ مخالف کو تسکین بخشتی ہیں۔ کیا ایسا زنگ آلود معاشرہ ایک علمی، معاشرتی، میدان میں کوئی کردار ادا کر سکتا ہے؟۔ آخر ان سوالوں کا جواب کون دے گا؟۔ آخر ہم کس معجزے کے واقعہ پزیر ہونے کا انتظار کر رہے ہیں؟۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 131 Print Article Print
About the Author: Afsheen Rai
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: