کرکٹ ورلڈ کپ 2019 میں امپائروں کے چند غلط فیصلے

کرکٹ میچ کے بعد اگر خبروں کی زینت کھلاڑی کے بجائے کوئی امپائر بن جائے تو تصور کر لینا چاہیے کہ امپائرنگ یا تو بہت عمدہ رہی یا بے حد ناقص۔
 


کرکٹ ورلڈ کپ 2019 انگلینڈ کی فائنل میچ میں ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد انگلینڈ کی فتح کے علاوہ بدقسمتی سے ٹورنامنٹ کے دوران ناقص امپائرنگ کی وجہ سے بھی یاد رہے گا۔

اس ٹورنامنٹ میں کئی ایسے میچ تھے جہاں امپائروں کے متنازع فیصلے دیکھنے کو ملے۔

چاہے وہ سیمی فائنل میں دھرماسینا کا جیسن رائے کو غلط آؤٹ دینا ہو یا فائنل مقابلے میں ایریزمس کا راس ٹیلر کے خلاف فیصلہ، سابق کھلاڑی اور عام مداح ورلڈ کپ میں امپائرنگ کے معیار پر تنقید کرتے نظر آئے۔

سابق انڈین کرکٹر محمد کیف نے اس سلسلے میں ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ اس ورلڈ کپ میں امپائرنگ کا معیار اچھا نہیں رہا۔ انھوں نے ٹیم ریویو پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ٹیم بُرا ریویو لیتی ہے تو اس سے ساری نظریں ٹیم کے بُرے ریویو پر مرکوز ہو جاتی ہیں نا کہ ناقص امپائرنگ پر۔‘
 


کرکٹ ورلڈ کپ 2019 میں امپائروں کے چند بُرے فیصلے
آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ورلڈ کپ کا 10واں میچ امپائرنگ کے فیصلوں کے باعث خاصا متنازع رہا۔ امپائر کرس گیفنی نے کرس گیل کو دو مرتبہ آؤٹ دیا مگر ویسٹ انڈیز کے بلے باز نے دونوں مرتبہ ریویو لیا جس سے یہ فیصلے تبدیل ہوئے۔

البتہ جس گیند پر کرس گیل بالآخر آؤٹ ہوئے اس سے پہلی والی گیند ’نو بال` تھی جسے کرس گیفنی نے نظر انداز کر دیا تھا۔ مچل سٹارک کی اگر اُس گیند کو نو بال قرار دیا جاتا تو جس گیند پر گیل آؤٹ ہوئے وہ دراصل ایک فری ہٹ ہوتی۔
 


سابق ویسٹ انڈین کھلاڑی ڈیرن گنگا نے میچ میں موجود دونوں امپائروں ایرازمس اور گیفنی کو بھرپور تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امپائرنگ کا معیار بین الاقوامی کرکٹ کے تقاضوں کے مطابق نہیں تھا۔

پاکستان اور افغانستان کے مابین ہونے والے میچ میں افغانستان نے اپنی بولنگ کے دوران اپنا ریویو ضائع کردیا تھا جس کے بعد عماد وسیم کے خلاف دیے جانے والے غلط فیصلے کو وہ تبدیل نہ کروا سکے۔

عماد وسیم ایک رن پر بیٹنگ کر رہے تھے جب راشد خان نے ایل بی ڈبلیو کی اپیل کی مگر امپائر نے ناٹ آؤٹ دیا۔ عماد وسیم نے اس فیصلے کے بعد پاکستان کے لیے اُس میچ میں شاندار اننگز کھیلی اور ٹیم کو فتح سے ہمکنار کیا۔

انڈین شائقین تھرڈ امپائر علیم ڈار کے فیصلے پر سراپا احتجاج نظر آئے جب بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں امپائر نے یقینی شواہد نہ ہونے کی بنیاد پر ایک ایل بی ڈبلیو کی اپیل پر ’ٹریکر‘ کا استعمال کرنے سے اجتناب کیا۔

علیم ڈار کے اس فیصلے کی بدولت انڈیا اپنا اکلوتا ریویو کھو بیٹھی۔ ویرات کوہلی میچ کے دوران امپائروں سے اس فیصلے پر بحث کرتے نظر آئے۔ اُن کے خیال میں ٹریکر کا اگر استعمال کیا جاتا تو انڈین ٹیم اپنا ریویو بچانے میں کامیاب ہو جاتی۔
 


'دھرماسینا امپائر ہو تو لامحدود ریویو ملنے چاہیں'
کمار دھرماسینا کا سیمی فائنل میں جیسن رائے کو کیچ آؤٹ قرار دینا جبکہ ری پلے سے واضح تھا کہ بلے اور بال میں ایک نمایاں خلیج پایا جاتا ہے۔ جیسن رائے نے اپنی برہمی کا اظہار بھی کیا جس کے باعث انھیں جرمانے کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

جیسن رائے اس میچ میں اپنی سنچری مکمل نہ کر پائے اور کرکٹ شائقین نے اس پر امپائر دھرماسینا کو خوب تنقید کا نشانہ بنایا۔ دلچسپ بات تو مگر یہ ہے کہ آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان کھیلے گئے اس سیمی فائنل میں امپائرنگ کرنے والے جنوبی افریقہ کے ایریزمس اور سری لنکا کے دھرمینا کو ہی فائنل کے لیے بھی آن فیلڈ امپائرز مقرر کر دیا گیا۔

کمار دھرماسینا نے فائنل میں بھی تین غلط فیصلے دیے جس سے ٹوئٹر پر صارفین کے ذہنوں میں یہ سوال بھی پیدا ہوا کہ آخر کس پیمانے پر امپائروں کا انتخاب کیا جاتا ہے؟

جوش نامی صارف نے تو ایک مزاحیہ ٹویٹ میں کہا کہ 'دھرماسینا امپائر ہوں تو لامحدود ریویو ملنے چاہیں۔'
 


کرکٹ تجزیہ کار ناگراج گولاپوڑی نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ اس متنازعے فیصلے کے بعد دھرماسینا کا انتخاب کیسے کیا گیا۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ دھرماسینا کا انتخاب یقیناً پوائنٹس کے کسی نظام پر کیا گیا ہو گا جس میں ان کی ورلڈ کپ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا ہو گا۔

ناگراج گولا پوڑی کے مطابق اس ورلڈ کپ میں امپائرنگ کا معیار اتنا اچھا نہیں رہا اور اس کی ذمہ داری کسی ایک امپائر پر نہیں بلکہ تمام امپائروں پر عائد ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایلیٹ امپائروں پر ایک بہت اچھا معیار رکھنے کا دباؤ ہوتا ہے اور عین ممکن ہے کہ وہ ایسے فیصلوں کا سبب بنا ہو۔ انھوں نے اس بات کو رد کیا کہ ڈی آر ایس اور ٹیکنالوجی کے باعث امپائر اب اتنی محنت نہیں کرتے یا اس سنجیدگی سے فیصلے نہیں دیتے۔

ناگراج گولاپوڑی نے کہا کہ ’امپائر بیشتر اوقات اچھے فیصلے دیتے ہیں اور غلطی تو آخر انسان سے ہی ہوتی ہے اور اُس غلطی کو آپ مکمل طور پر کھیل سے نہیں نکال سکتے۔‘
 


نیوٹرل امپائر تک کا سفر۔۔۔۔۔۔۔۔
کرکٹ کی تاریخ بُرے امپائرنگ فیصلوں سے بھری پڑی ہے خاص کر کے اگر 80 کی دہائی اور اس سے قبل دیکھا جائے تو میزبان ملک کے امپائر میچ میں فرائض انجام دیتے تھے۔ اس کے باعث عموماً یہی دیکھا گیا کہ مہمان ٹیم ہارنے کے بعد امپائر کو میزبان ٹیم کا 12واں کھلاڑی تصور کرتی تھی۔

سنہ 1986 میں نیوٹرل امپائر کو کرکٹ میں متعارف کروایا گیا جن کا تعلق نہ تو میزبان ملک سے تھا نہ ہی ان کی حریف ٹیم کے ملک سے۔

ناٹنگھم بزنس سکول سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ابھینو اور پروفیسر ڈیوڈ کی ایک تحقیق کے مطابق میزبان ملک کے امپائروں کی موجودگی میں 16 فیصد جانبدار فیصلے میزبان ٹیم کے حق میں دیکھنے میں آئے۔

اس تحقیق میں ایل بی ڈبلیو فیصلوں پر بالخصوص غور کیا گیا تھا۔ ایک نیوٹرل امپائر کی موجودگی سے یہی شرح 10 فیصد پر آ گئی جبکہ سنہ 2002 میں جب آئی سی سی نے دونوں امپائر نیوٹرل کرنے کا قانون رکھا تو یہ شرح صفر ہو گئی۔

یہ اعداد و شمار اسں لیے بہت دلچسپ ہیں کیونکہ کرکٹ ایک ایسے ارتقائی عمل سے گزر کر آئی ہے جس میں ابتدا میں نہ صرف جانبداری سے جنگ لڑنا ضروری تھا بلکہ اُس دور میں ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی بھی ناقص امپائرنگ کا سبب بنی۔
 

ڈسیژن ریویو سسٹم
ڈسیژن ریویو سسٹم یعنی ڈی آر ایس کو ایک روزہ میچوں میں سنہ 2011 میں متعارف کروایا گیا جس سے ٹیموں کو امپائر کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا موقع ملا۔ اس نظام کو متعارف کروانے کا مقصد میچ کے نتیجے پر اثر انداز ہونے والے غلظ فیصلوں کی تعداد میں نمایاں کمی لانا تھا۔

کرکٹ مبصرین جو اس کھیل میں ’پیورسٹس‘ تصور کیے جاتے ہیں یعنی وہ افراد جو کرکٹ کے روایتی اقدار کو برقرار رکھنے کے حامی ہیں، اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس نظام کو کرکٹ میں کم سے کم استعمال کرنا چاہیے۔

اس سسٹم کے تحت جو سب سے متنازعے چیز رہی ہے وہ ’امپائرز کال‘ ہے جس کی بنیاد پر کسی بھی فیصلے کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا جب تک یقینی طور پر اس فیصلے کو تبدیل کرنے کے شواہد موجود نہ ہوں۔

ٹوئٹر پر ایک انڈین صارف نے تجویز دی کہ آئی سی سی کو بولنگ ٹیم کو ایک کے بجائے دو ریویو لینے کی اجازت دینی چاہیے اور ہر وکٹ کا جائزہ لینے کے لیے فیصلہ تھرڈ امپائر کو بھیجنا چاہیے۔ انھوں نے طنزیہ طور پر اس تجویز پر آئی سی سی کو انھیں چیک بھیجنے کا بھی کہا۔
 

کرکٹ تجزیہ کار ناگراج گولاپوڑی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی رائے میں ٹیم کے پاس ایک ہی ریویو ہونا چاہیے کیونکہ ٹیم پر بھی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس ریویو کو صحیح انداز میں استعمال کریں جس سے میچ میں توازن برقرار رہتا ہے۔

ناگاراج گولاپوڑی نے فائنل میچ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ کے کھلاڑی مارٹن گپٹل ریویو لینے کے حق میں نہیں تھے مگر اپنے ساتھی ہینری نکلوز کے کہنے پر انھوں نے ریویو لیا۔ اس فیصلے کا نتیجہ یہ نکلا کہ نیوزی لینڈ اپنا اکلوتا ریویو گںواں بیٹھی اور راس ٹیلر کو ایریزمس کے غلط فیصلے سے نہ بچا پائی۔
 

Partner Content: BBC

Reviews & Comments

Language: