زکی کیفی اور ان کی شعری کیفیات

(Moulana Nadeem Ansari, India)

کیفی کے کلام میں عرفان و آگہی،سنجیدگی و شایستگی،دل کشی و رعنائی اور نرمی و لطافت سبھی کچھ موجود ہے ،اس کے باوجود نہ جانے کیوں ان کے شعر و فن پر اس طرح توجہ نہیں دی گئی، جس کا وہ بجا طور پر استحقاق رکھتے تھے ۔اس کی ایک وجہ شاید خود ان کی تواضع و کسر نفسی بھی ہے ۔حال یہ تھا کہ سالہا سال کے گہرے روابط کے باوجود ماہر القادری نے 1955 ء میں انھیں شعر کہتے ہوئے سنا، اس سے قبل وہ خاموش سامع بنے رہے ، جب کہ ان کے مکان پر مشاعرے ہوا کرتے تھے ۔اس حساب سے ان کی شعر گوئی کی عمر ان کی وفات یعنی سن 1975 ء تک تقریباً 20 سال ہوتی ہے ۔
اب تو زکی کیفی کا کلیات بنام ’کیفیات‘ شایع ہو آچکا ہے ، جو تین حصوں پر مشتمل ہے ۔پہلے حصّے میں ایک حمد، تیس نعتیں اور دو قصیدے ، دوسرے حصے میں ڈیڑھ سو سے زائد غزلیںاور تیسرے حصے میں جذبۂ حب الوطنی سے پُر اٹھائیس ملّی نظمیں ہیں۔ برسوں روزانہ ان کا قطعہ روزنامہ ’وفاق‘(لاہور) میں شایع ہوتا تھا، جس سے ان کی قدرتِ کلام، مشّاقی اور طبیعت میں ہمہ گیری و جودت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔
خاندان و ولادت
کیفی کا سلسلۂ نسب اس طرح ہے : محمد زکی، بن محمد شفیع، بن محمد یاسین، ابن خلیفہ تحسین علی، بن میاں جی امام علی،بن میاں جی حافظ کریم اللہ، ابن میاں جی خیر اللہ، بن میاں جی شکر اللہ۔(دیکھیے حیاتِ مفتیِ اعظم،ص:15)جو آگے حضرت عثمان ذی النورین رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ، جس کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت تو دستیاب نہیں، لیکن بڑے بزرگوں کا یہی کہناہے ۔ جیسا کہ ان کے والد صاحب کا بیان ہے :
مجھے اپنے خاندان کا کوئی موثر اور مستند نسب نامہ ہاتھ نہیں آیا، جس سے خاندان کے صحیح اور مستند حالات معلوم ہوتے ، مگر اپنے خاندان کے بزرگوں سے بتواتر یہ بات سنی ہے کہ ہمارا خاندان حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی اولاد میں ہے ۔ ان کا اصل وطن قصبہ جوراسی ہے ، جو قصبہ منگلور کے پاس دیوبند سے تقریباً تیس میل کے فاصلے پر ہے ۔(میرے والد ماجد اور ان کے مجرب عملیات، ملخصاً)
کیفی کی ولادت ہندستان کے مشہور شہر دیوبند میں 7مارچ 1926 ء کو سابق مفتیِ اعظم ہند ثم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ کے ہاں ہوئی ۔حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی نے ان کا نام محمد زکی تجویز فرمایا اور تاریخی نام سعید اختر( 1345ھ) رکھا گیا (جس میں آٹھ دن حذف کرنے پڑتے ہیں)۔ بعد میں جب انھوں نے شعر و سخن کا سلسلہ شروع کیا تو کیفی تخلص اختیار کر لیا۔ ان کی ذہانت و ذکاوت اور حاضر جوابی بچپن سے ہی حیرت انگیز تھی۔(دیکھیے نقوشِ رفتگاں)
تعلیم و ابتداے سخن
کیفی کی ابتدائی تعلیم دارالعلوم دیوبند میں ہوئی۔ فارسی و ریاضی کی تکمیل کے بعد درسِ نظامی شروع کیا مگر بعض حالات کی بنا پر چوتھے سال کے بعد درسِ نظامی کی تعلیم جاری نہ رہ سکی، البتہ حضرت تھانوی کے علاوہ دیوبند میں مولانا سید اصغر حسین جیسے بزرگوں کی صحبت سے فیض یاب ہوتے رہے ۔اسی کا اثر تھا کہ کبھی کسی ماحول سے مغلوب و مرعوب نہیں ہوئے ۔ اُنھیں کا شعر ہے؎
رنگیں ہے ہم سے قصۂ مہر و وفا کہ ہم
اپنی وفا کا رنگ ترے رخ پر مل گئے
مطالعے کا ذو ق و شوق تھا۔ دین و مذہب، شعر و ادب اور تاریخ و سیاست تمام ہی موضوعات ان کے مطالعے میں رہتے تھے ، البتہ تاریخ و تصوف سے خصوصی دل چسپی تھی۔فارسی اور اردو شاعری کا وسیع و عمیق مطالعہ کیا تھا، اور ہر دو زبانوں کے ہزارہا اشعار انھیں یاد تھے ۔ فارسی میں حافظ اور سعدیؔ کے علاوہ نظیریؔ اور عرفیؔ کے مداح اور اردو کے قدیم شعرا میں میرؔ، غالبؔ و داغؔاور زمانۂ ما بعد کے شعرا میں فانیؔ، حسرتؔ ، اصغرؔ اور جگرؔ سے متاثر تھے ۔
کیفی کے خاندان کے تقریباً ہر مرد و خاتون کو قدرت نے سخن وری کے زیور سے آراستہ کیا۔آپ کے والد مفتیِ اعظم ، مفسرِ قرآن اور کثیر التصانیف عالمِ دین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک قادر الکلام اور صاحبِ مجموعہ شاعر تھے ، برادرِ اصغر جسٹس مفتی تقی عثمانی بھی گو نا گو عظیم علمی و دینی خدمات کے ساتھ ساتھ شعر و سخن میں بھی داد و تحسین حاصل کر چکے ہیںاور خود کیفی کے صاحب زادے سعود عثمانی کے بھی کئی مجموعۂ کلام شایع ہو چکے ہیں۔ اس پورے گھرانے کو عربی، اردو، فارسی اور اب انگریزی میں بھی یدِ طولیٰ حاصل ہے ۔
کیفی نے نہ صرف اردو میں بلکہ فارسی میں بھی طبع آزمائی کی ہے ۔ خاندانی اثرات کہیے یا زورِمطالعہ کہ انھوں نے 1945ء یعنی فقط انیس سال کی عمر میں باقاعدہ شعر کہنا شروع کر دیا تھا، جو کہ ناپختہ اور ناتجربے کاری کا زمانہ ہوتاہے ، مگر اس دور میں بھی کیفی کی شعری کیفیات اس درجے کی تھیں کہ جنھیں پڑھ کر ان کی عمر کا صحیح اندازہ لگانا مشکل ہوتاہے ۔ ملاحظہ ہو؎
تیرے خمارِ عشقِ ستم میں کمی نہ کر
اتنے تو داغ ہوں کہ گلستاں کہیں جسے
٭
اف تصوّر کی تیرے رعنائی
تجھ سے بھی کچھ سوا حسیں نکلا
معاصرین ادبا و شعرا
جگر مرادآبادی، احسان دانش، ماہر القادر اور احمد ندیم قاسمی کیفی کے وہ معاصرین ہیں، جن سے ان کے اچھے تعلقات بھی رہے ہیں۔ من جملہ ان کے جگرؔکافی سینیر ہیں۔ کیفی نے ابتداے سخن میں جب انھیں اپنی ایک غزل کا یہ مطلع سنایا ؎
ہم ہیں قتیل اک بتِ نازک خیال کے
آلامِ روزگار ذرا دیکھ بھال کے
تو جگرؔ مرحوم چونک اٹھے ، بڑی داد دی اور مشورہ دیا کہ مشقِ سخن ضرور جاری رکھیں۔کیفی نے اس مشورے کو احترام کے ساتھ قبول کیا اور اس پر عمل بھی کیا۔
کیفی نے بہت سی زمینوں اور بحروں میں فقید المثال شاعری کی ہے ۔چھوٹی چھوٹی بحروں میں بھی انھیں سلاست کے ساتھ اپنا مافی الضمیر ادا کرناآتا ہے ۔ ایک شعر ملاحظہ ہو؎
دنیا ہے اک رین بسیرا
آج مِرا کل تیرا ڈیرا
دیگر شعرا کی طرح کیفی نے اسلاف کا تتبع بھی کیاہے ، لیکن اس میں بھی اپنی انفرادیت کو گُم ہونے سے بچائے رکھا۔ وہ اسلاف کی استادی کا اعتراف تو کرتے ہیں، لیکن اپنی انفرادیت نہیں چھوڑتے ۔کہتے ہیں ؎
خون جگر پلائیے کیفی ابھی کچھ اور
آساں نہیں ہے کہنا غزل میر کی طرح
پھر ایمائی انداز میں گویا ہوتے ہیں ؎
یا دل میں اترتی ہیںکسی شوخ کی باتیں
یا میر کا اندازِ سخن رام کرے ہے
وفات
کیفی تقسیم ہند کے دوران 1948ء میں پاکستان چلے گئے تھے ۔ کراچی پہنچ کر کچھ عرصے کے بعد انھوں نے والدین کے مشورے سے لاہور میں مستقل سکونت اختیار کر لی، اور وہاں انارکلی میں مال روڈ کے قریب ایک وسیع دکان کرائے پر لی اور ادارۂ اسلامیات کے نام سے دینی کتابوں کا ایک کتب خانہ قائم کیا، جو اب تک قائم ہے ۔ 1370ھ مطابق 1951ء میں والدین کے ہمراہ پہلا حج کیا اور اس کے بعد بھی متعدد بار انھیں حج کی سعادت نصیب ہوئی۔ والدین سے انھیں مثالی تعلق تھا۔ ان سے دور رہنے کے باجود وہ ان کے چھوٹے چھوٹے مسائل اور تمام جزئیات سے پوری طرح باخبر رہتے اور ادا ادا سے انھیں راحت پہنانے کی فکر کرتے ۔لیکن عظیم باپ کا یہ لائق فرزند اتقریباً ڑتالیس سالوں کی قلیل عمر پوری کر کے دنیاے فانی سے کوچ کر گیا۔
کیفی کی شاعری اہلِ نقد و نظر کی نگاہ میں
کیفی کی شعری کائنات پر بعض مشاہیر اہلِ نقد و نظر کے مختصر مگر جامع تبصرے ملاحظہ ہوں، جو شعر و ادب میں ان کا مقام و مرتبہ معلوم کرنے میں معاون ہیں۔
معروف شاعر و ادیب اور متعدد ادبی رسائل کے مدیر ماہر القادر ی اردو ادب میں کسی تعارف کے محتاج نہیں۔انھوں نے اپنی آنکھوں سے کیفی کو مشاعروں کے سامع سے شاعر بنتے ہوئے دیکھاہے ۔ وہ کیفی کے فن پر گفتگو کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
(ایک عرصے کے بعد)وہ ایک سکّہ بند شاعر(Full Fledged Poet)کی حیثیت سے منظرِ عام پر آگئے۔ غزل کا ہر نقشِ ثانی نقشِ اول سے بہتر، خوب سے خوب تر کی تلاش و جستجو۔ ایسا محسوس ہوا کہ آغازِ شباب ہی سے شعر گوئی ان کے اندر بالقوت موجود تھی۔ پاکستان آکر یہ بالفعل بن گئی، لاہور کی ادبی نشستوں میں اب مولانا زکی کیفی کو اصرار کرکے بلایا جانے لگا۔ نظم کے میدان میں بھی زکی کیفی کے توسنِ فکر و خیال نے جولانیاں کی ہیں۔غزل زکی کیفی کا اصل میدان ہے ۔ غزل ان کی محبوب ترین صنف ہے ۔ اُن کی غزلوں میں زبان کا رچاؤ، اظہارِ بیان کا رکھ رکھاؤ اور تغزل کا بناؤ سنگھار ملتا ہے ۔ان کی شاعری میں رنگینی اور سنجیدگی کا خوش گوار امتزاج و توازن پایا جاتا ہے ۔(ملخصاًازکیفیات)
ڈاکٹر سید عبد اللہ اردو تنقید میں مسلّمہ مقام کے حامل ہیں۔ انھوں نے کیفی کے غزلوں بلکہ پوری شاعری پر نگاہ ڈالنے کے بعد بڑی ذمے داری کے ساتھ تحریر فرمایا ہے :
میں بلا تردّد کہہ سکتا ہوں کہ ان کی غزل جملہ روایتی آدابِ غزل گوئی کے باجود بعض خاص انفرادی نقوش کی حامل ہے ۔کیفی کی غزل میں عشق کی باتیں،وقار اور تمکین کے لہجوں میں نمودار ہوتی ہیں، مگر ہر قاری گواہی دے گا کہ اس سے اس تاثیر اور خلوص و صداقت میں سرِ مو فرق نہیں آیا جو ایک حقیقی غزل کے لوازم میں شامل ہے ۔کیفیات میں پیرایہ ہاے خاص بھی ہیں اور نکتہ ہاے دانش بھی، اور وہ سچائیاں تو ہر حال میں موجود ہیں جن کے بغیر کوئی شاعری شاعری کہلانے کی مستحق نہیں۔(دیکھیے کیفیات)
معروف شاعر و ادیب اور انشا پرداز احسان دانشؔکا بیان ہے کہ کیفی کے کلام میں سہلِ ممتنع کے باوجود محض دادو تحسین حاصل کرنے والی عمومیت نہیں پائی جاتی، بلکہ اس میں سادگی کے ساتھ معانی کی رنگا رنگی بھی موجود ہے ۔ وہ کیفی کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
زکی کیفی کے کلام میں سہلِ ممتنع زیادہ ہے ، لیکن اس میں وہ عمومیت نہیں جسے اِدھر اُدھر کی داد و تحسین کے ڈونگڑے گھٹیا شہرت دیتے ہیں۔ اُن کے اشعار کی سادگی اپنے معانی کی کیاریوں میں رنگا رنگ گل بوٹے رکھتی ہے ، جو اپنے رنگ و بو سے حُسن کی توانائی اور قوت میں اضافہ کر تے ہیں اور شاعر کو جہانِ جاوداں کی داغ بیل سے رخ نہیں بدلنے دیتے ۔(کیفیات)
معروف شاعراحمد ندیم قاسمی نے بھی کیفی کے فن کی انفرادیت کا اعتراف کیا اور انھیں سلاست و سادگی اور پُرکاری میں جگر و حسرت کی روایت کا بلیغ نمایندہ قرار دیا ہے ۔ وہ رقم طراز ہیں:
زکی کیفی کی غزل میں جو سلاست اور سادگی ہے ، وہ روز مرہ اور پُر کاری کا دوسرا نام ہے ۔ جگرؔ اور حسرتؔ کی غزل اس پُر کاری کی عمدہ مثال ہے اور زکی کیفی اس روایت کے ایک بلیغ نمایندے ہیں۔ ۔۔ان کے ہاں جذبے کی جو شایستگی ہے ، وہ غزل کہنے والے کم ہی شعرا کے حصے میں آئی ہے۔(کیفیات)
نمونۂ کلام
آخر میں ہم باذوق قارئین کی خدمت میں اس امید کے ساتھ کہ آیندہ ضرور اردو کے اس باکمال شاعر کو اس کا واجبی حق دیا جائے گا،بہ طور نمونہ ان کے شعری سرمایے سے بعض منتخبہ اشعار درج کرتے ہیں۔ مشتے نمونے از خروارے :
خزاں کے بعد دورِ فصلِ گُل آتا ہے گلشن میں
چمن والو خزاں میں پھول مرجھایا ہی کرتے ہیں
٭
شبنم تجھے اجازتِ اظہارِ غم تو ہے
تو خوش نصیب ہے کہ تِری آنکھ نم تو ہے
٭
زندگی کی داستاں ہے ایک دیوانے کا خواب
مدتوں سے کہہ رہا ہوں اور کہا کچھ بھی نہیں
٭
جس قدر تسخیرِ خورشید و قمر ہوتی گئی
زندگی تاریک سے تاریک تر ہوتی گئی
٭
آجاؤ اس طرح بھی مثالِ نسیمِ صبح
بیٹھے ہیں ہم بھی غنچۂ دل گیر کی طرح
٭
دعویٰ وفا کا اور تمنّاے قربِ دوست
یہ عشق ہے اگر تو ہوس کس کا نام ہے ؟
٭
ہوں گی کسی کو تیری جفا سے شکایتیں
میری تباہیوں کا مگر یہ سبب نہ تھا
٭
پاسِ ادب سے عشق نے اپنی وفا کا ذکر
اُن سے اگر کیا بھی تو تقصیر کی طرح
٭
اب ہُوا معلوم کیا ہے لذتِ احساسِ غم
دل کی قیمت بڑھ گئی کیفی شکستِ دل کے بعد
٭
دل کا جو حال ہے لفظوں میں بیاں کیسے ہو؟
سانس لینا مجھے مشکل ہے ، فغاں کیسے ہو؟
٭
اچھا ہے رہے دل یوں ہی ناکامِ تمنّا
بنتے ہوئے دیکھا ہے محبت کو ہوس بھی
٭
جب عرضِ غم کی کوئی بھی صورت نہ بن سکی
ہم اُن کی بزمِ ناز میں لے کر غزل گئے
٭
کہنے کو ایک ذرۂ ناچیز ہیں مگر
تعمیرِ کائنات کے کام آرہے ہیں
٭
میں ہوں کہ مرے دم سے ہے مے خانے کی رونق
میرا ہی بھری بزم میں اک جام تہی ہے
٭
تیرے دیوانوں کو خوفِ دار کیا؟
پھول چننے ہیں تو خوفِ خار کیا؟
٭
پھر مری گرد کو بھی پا نہ سکے گی دنیا
جس کو دل سے مرا بننا ہو وہ اب بن جائے
٭
تمنائیں ہیں لاکھوں کم ہے لیکن فرصتِ ہستی
اقامت کے ارادے ہیں مگر حالت سفر کی ہے
٭
ابھی سے کس لیے ہے عارجِ گلنار پر شبنم
ابھی تو بات محفل میں حدیثِ دیگراں تک تھی
٭
ستارے ڈوبنا شبنم کا رونا شمع کا بجھنا
ہزاروں مرحلے ہیں صبح کے ہنگام سے پہلے
٭
قدم بوسی کی دولت مل گئی تھی چند ذرّوں کو
ابھی تک وہ چمکتے ہیں ستاروں کی جبیں ہو کر
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 187 Print Article Print
About the Author: Maulana Nadeem Ahmed Ansari

Read More Articles by Maulana Nadeem Ahmed Ansari: 177 Articles with 87048 views »
(M.A., Journalist).. View More

Reviews & Comments

Language: