پاکستان اور اس کی معشیت آخر ماجرا کیا ہے؟

(Afzal Razvi, Australia)
سال 2019 ء کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان کے منظر پر طرح طرح کی تصویریں ابھرنا شروع ہو گئیں تھیں۔ جہاں تک مجھے یاد ہے میں نے اپنے تجربے اور حالات و واقعات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے حلقہ احباب میں جو پشین گوئی کی تھی وہ اس وقت ایک حقیقت بن کر پاکستان کے عوام کی زندگی اجیرن کر رہی ہے۔
۔۔۔۔۔
ردی جاتی ہے اور پھر مشیران کا ٹولہ اس کے دفاع میں اور حزب اختلاف کے ترجمان ان کی تذلیل میں مصروف کار ہو جاتے ہیں۔ ملک کہاں جارہا ہے اورآخر کار اس کا کیا ہو گا؟ کیا ہم ایک بار پھر خدا ناخواستہ کسی غیر جمہوری سمت میں تو نہیں جارہے؟

سال 2019 ء کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان کے منظر پر طرح طرح کی تصویریں ابھرنا شروع ہو گئیں تھیں۔ جہاں تک مجھے یاد ہے میں نے اپنے تجربے اور حالات و واقعات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے حلقہ احباب میں جو پشین گوئی کی تھی وہ اس وقت ایک حقیقت بن کر پاکستان کے عوام کی زندگی اجیرن کر رہی ہے۔ حکمران طبقے نے ہمیشہ غربت کے خاتمے کی بات کرکے اقتدار حاصل کیا لیکن غریب کا چولہا کیسے چلے گا اقتدار میں آنے کےبعد نہ کبھی اس کا سوچااور نہ کبھی غریب کی حالت زار کو سمجھا۔ بیرون ملک ہونے کے باعث اگرچہ مجھے ذاتی طور پر اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ مہنگائی کا یہ طوفان آخر کب اور کہاں جا کر رکے گا لیکن پاکستان سے نسبی اور روحانی تعلق ہونے کی وجہ سے دل و دماغ پاکستان کی سلامتی اوراور اس کے باسیوں کی خیروآفیت کے لیے بے چین رہتے ہیں ۔

جس طرح پاکستان کی مسلح افواج کے افسروں اور جوانوں نے دہشت گردی سے نپٹنے کے لیے اور اس کا قلع قمع کرنے کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں انہیں آنے والے زمانے میں کتب تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا اور وقت اس بات کی دلیل بن کر ابھرے گا کہ وطن عزیز کے فرزندوں کی جانوں کے نذرانے رائیگاں نہیں گئے نیز پاکستان ایک روز اپنے اندرونی مسائل پر قابو پا کر ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو جائے گا۔ ان شاء اللہ۔

تو خیر ہم بات کر رہےتھے پاکستان کے معاشی حالات کی تو قارئین ! پاکستان میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت معاشی بحران پیدا کیا گیا تاکہ کچھ لوگوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا کر سیاسی اور مالی فوائد حاصل کئے جا سکیں ۔موجودہ حکومت کی یہ دلیل کہ یہ سب کچھ گذشتہ حکومت کا کیا دھرا ہے، اس لیے ناقابل قبول ہے کہ یہ پانچ سال تک نہ صرف حزب اختلاف میں رہے بلکہ اس بات کا اعلان بھی کرتے رہے کہ ہمارے پاس ملک کو آگے لی جانے کا پلان موجود ہے اس لیے جب ہماری حکومت آئے گی تواسد عمرملک کی معشیت کو درست سمت میں ڈال دیں گے لیکن اقدامات اور ماحصل یہ بتاتا ہے کہ ایسا کحھ نہیں تھا اسی لیے اسد عمر کو گھر جانا پڑا اور ان کی جگہ پپیپلز پارٹی دور کے وزیر خزانہ کو مستعار لے کر مشیر بنایا گیا اور انہوں نے آئی ایم ایف سے تمام شرائط طے کیں جس کے نتیجے میں ڈالر مضبوط سے مضبوط ہوتا گیا اور ہوتا جارہا ہے جب کہ روپے کی قدر کم ہوتی جارہی ہے جس کا منطقی نتیجہ مہنگائی کا یہ طوفان ہے جس سے پاکستانی عام شہری اس وقت نبرد آزما ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ حکومت اب بھی ہر روزبچگانہ اعلانات کررہی ہے ایک بات کا اعلان کیا جاتا ہے تو چند گھنٹوں بعد اس کی تردید کردی جاتی ہے اور پھر مشیران کا ٹولہ اس کے دفاع میں اور حزب اختلاف کے ترجمان ان کی تذلیل میں مصروف کار ہو جاتے ہیں۔ ملک کہاں جارہا ہے اورآخر کار اس کا کیا ہو گا؟ کیا ہم ایک بار پھر خدا ناخواستہ کسی غیر جمہوری سمت میں تو نہیں جارہے؟
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Afzal Razvi

Read More Articles by Afzal Razvi: 111 Articles with 46397 views »
Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allama
.. View More
15 Jul, 2019 Views: 346

Comments

آپ کی رائے