15 جولائی: عالمی یوم صلاحیت نوجواناں!

(Abid Hashmi, Azad Kashmir)

15جولائی کو عالمی یوم ِ صلاحیت نوجواناں منایا جاتا ہے۔ خداداد پاکستان میں قدرتی وسائل اور ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، ضرورت ان وسائل اور ٹیلنٹ کو اجاگر اورابھارنا بہت ضروری ہے۔اِس میں کوئی دو رائے نہیں کہ نوجوان کسی بھی ملک و قوم کا حقیقی سرمایہ اور اثاثہ ہوتے ہیں۔قوموں کی تاریخ میں نوجوان نسل کا کردار نہ صرف مثالی رہا ہے بلکہ ملکوں کی ترقی میں نوجوان ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر نوجوان کے ملکی تعمیرو ترقی میں کردار کے حوالے سے نگاہ دوڑائی جائے تو اس ضمن میں حکم الامت علامہ محمد اقبالؒ کے افکار اس کی بھر پور غماضی کرتے ہیں۔ علامہ محمد اقبالؒ جنہیں بجا طور پر اُمتِ مسلمہ کا معمار کہا جاسکتا ہے آپ کی فکر کا عمیق مطالعہ کرنے سے چند علمی گوشے ہماری رہنمائی کرتے ہیں۔ اقبال ؒنے مسلمان قوم کو ایک فکر سے آشناکیا۔ جب قوم اپنے بدترین اور ہمہ جہت دوِر زوال و انحطاط سے گزرہی تھی۔ قوم نے اپنی سو چ اور فکر کا مرکز و محور عیش و عشرت اور جاہ و منصب کو تصور کر لیاتھا۔ قوم تسائل پسندی، غربت و افلاس، یاس و قنوطیت، جہالت اور پسماندگی کی دلدل میں دھنسی جارہی تھی۔ نوجوان شباب وکباب کا دلدداہ اور قص و سرود کی محافل کی زینت بننے لگا تھا۔ قوموں کی تاریخ میں نوجواناں کا ذکر ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، نوجوان قوموں کی ڈوبتی ہوئی ناؤ کو ساحلِمراد تک لے جانے کے لئے ا س کو فکر کی ایک کشتی عطا کرتے ہیں جو وقت کی ہر آندھی اور موج سے ٹکرانے کے بعد باحفاظت اپنی منزل کو چھو لیتی ہے۔درحقیقت ملک کی تقدیر نوجوان نسل کے ہاتھ میں ہوتی۔ وطن ِ عزیز وہ خوش قسمت ملک ہے جس میں 60فیصد آبادی نوجوانوں کی ہے۔ اور پھر ٹیلنٹ کی بھی کوئی کمی نہیں۔ اگر کمی ہے تو صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی ہے اس حوالہ سے قیام پاکستان سے لے کر اب تک قائدؒ کے جتنے بھی فرمان اور خطابات سننے یا پڑھنے میں کو ملتے ہیں، ان میں ہر جگہ نوجوان نسل کو خواب غفلت سے بیدار ہونے کا درس دیا گیا ہے۔ قائدؒ کا فرمان یہی تھا کہ نوجوان ہی پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں۔

1948 کے ایک جلسے میں قائداعظمؒ نے جو امید نوجوان نسل سے باندھی تھی، اگر صرف اسی پر عمل کرلیا جائے تو نہ صرف نوجوان اپنی ترقی کی راہ بہ آسانی طے کرسکیں گے بلکہ ان کے ساتھ یہ ملک بھی ترقی کی منزلیں تیز رفتاری سے طے کرنے لگے گا۔

جوانوں کے نام اپنے پیغام میں قائداعظمؒ نے فرمایا کہ میں تم لوگوں کو اصل پاکستان بنانے والوں اور جدوجہد کرنے والوں کے ایک اتحاد کی حیثیت سے دیکھ رہا ہوں۔ گمراہی اختیار نہ کرنا، نہیں تو ڈوب جاؤ گے۔ اپنے آپ کو مکمل طور پر متحد رکھنا۔ لوگوں کیلیے ایسی مثال قائم کرنا کہ اس ملک کے نوجوان کیا کرسکتے ہیں اور یہ پوری دُنیا دیکھے۔ تمہاری بنیادی ذمہ داری اپنے اپ کو پاک کردار اور مستحکم رکھنا ہے۔ اپنے والدین کا سر فخر سے بلند کرنا ہے۔ ریاست کو ہر برائی سے بچانا ہے۔ اپنی تمام تر توجہ تعلیم کی طرف راغب کرو۔ اگر تم نے اس وقت اپنی تمام تر قوت کھو دی تو کچھ نہ پاؤ گے۔ قومی خدمت اور احساس ذمہ داری کے شعور کی نشوونما ہمارا فرض ہے، اس طرح کہ ہم آنے والی نسلوں کو پورے طور پر اس قابل بنا دیں کہ وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں پاکستان کیلیے باعث عزت ہوں۔قائدؒ کا مقصد نوجوان نسل کو بہتری، محنت، اتحاد، ایمان اور جدوجہد سمیت تمام اچھے کاموں میں ہمہ تن مصروف دیکھنا تھا۔

جب بھی آج کے اس دور میں اپنے ملک کی نوجوان نسل کی طرف نظر جاتی ہے تو سوائے افسوس اور غم کے کچھ ذہن میں نہیں آتا کہ کیا قائداعظمؒ نے پاکستان کی نوجوان نسل کو ایسا دیکھنا چاہا تھا؟ جس انڈین کلچر کو ہماری نوجوان نسل ساتھ لے کر چل رہی ہے، کیا ایسا قائد نے چاہا تھا؟ ہاتھ پاؤں کی سلامتی کے ساتھ سڑکوں پر بھیک مانگتا دیکھا تھا یا ہاسٹلز جہاں والدین تعلیم کی غرض سے اپنے بچوں کو بھیجتے ہیں وہاں بری صحبت اختیار کرنا اور نشہ آور مواد کو اپنا اثاثہ حیات زندگی بنانا، کیا ایسے بنے گا قائدؒ کا پاکستان؟قائداعظمؒ کے حقیقی پیغام کو پہچاننا، آج کی اہم ترین ضرورت ہے۔نوجوان نسل کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنا وقت کا تقاضا بھی ملک ترقی کا ضامن بھی۔افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیرہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ۔

آج ملکِ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں بھی نوجوان نسل کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اگر آبادی اور ترقی کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہر دو محازوں پر پاکستانی نوجوان نے ایک عزم اور جہدِمسلسل کا عملی تصور پیش کیا ہے۔ قیامِ پاکستان کی تحریک میں بھی نوجوان نے ہر اول ستے کا کردار ادا کیا ہے اور بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا عملی دست و بازو بن کر قوم کے ہرفرد کے شانہ بشانہ چل کر وطن عزیز کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا۔ قائداعظم محمد علی جناح نوجوانوں کو ملک کی حقیقی قیادت کے روپ میں دیکھے تھے جس کا تصور آپ کے کام، کام اور صرف کام کے نعرے سے ملتاہے۔ پاکستان میں نوجوان افرادی قوت کاایک خاصا بڑا حصہ موجود ہے، جس کے شعور کی بیداری، تعلیم کی ضرورت کی فراہمی، انصاف اور جدید تقاضوں سیہم آہنگی پیدا کرکے آبادی اور ترقی میں نوجوان نسل کے کردار کو مذید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ نوجوان نسل کو غربت کے خاتمے اور تعلیم کی افادیت کے حوالے سے خصوصی ٹاسک دے کر ملک کو ترقی اور خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے۔

پاکستان چونکہ بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے اس کے دیہی علاقے اور آبادی کا ملکی معیشت میں بڑا کلیدی کردار ہے۔ زراعت کا شعبہ معیشت کے حوالے سے سب سے بڑا جزو کہلاتا ہے۔ زرعی شعبہ ملک کے کل جی۔ڈی۔ پی کا 25فیصد حصہ دے رہا ہے اور برآمد ات کی کل قیمت کا 70فیصد بھی مہیا کرتا ہے۔ زرعی شعبہ میں17ملین افرادی قوت کا م کررہی ہے، جو کہ ملک کی افرادی قوت کا 44 فیصد بناتا ہے۔ پاکستان کی تقریباً 67فیصد آبادی دیہات میں آباد ہے اور اس آبادی میں بسنے والے نوجوان کا تناسب 42 فیصد ہے۔ نوجوان افرادی قوت کو جدید تعلیم کے خطوط پر اُستوار کرکے انہیں بہبود اور ترقی کے دھارے میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان چونکہ اس وقت انتہائی نازک اور بھیانک دور سے گزرہا ہے۔ انتہاپسندی اور دہشت گردی کا عفریت مسلسل زہر اُگلتا جارہا ہے۔ قدرت نے ہمیں چار مختلف موسم، زرعی زمین، کوئلے، گیس اور معدنی ذخائر کی دولت کی فروانی سے مزین کیا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان کے قومی ترقی اور بہود میں کردار کو مذید وسعت دی جائے تاکہ پاکستان ترقی یافتہ اور خوشحال ممالک کی صف میں نمایاں مقام حاصل کر سکے۔

ذہانت اور فطانت اﷲ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ وہ صلاحیتیں ہیں، جن کی بدولت انسان کے خوابیدہ افکار و خیالات اجاگر ہوتے ہیں اور معاشرتی و سماجی اعتبار سے انسان ترقی کی منازل طے کرتا چلا جاتا ہے۔ جہدِ مسلسل،عزمِ مصمم انسان کو عزم و ارادے کی پختگی عطا کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں اپنا نام اور مقام پیداکرنے والی شخصیات اپنی کم عمری میں کمالات کے جوہر بکھیرنا شروع کر دیتی ہیں۔ آج کے مادیت زدہ دور میں ملکِ پاکستان کو علم و تحقیق اور فکر و آگہی کے میدانوں کے شہسواروں کی ضرورت ہے جو اس ملک کی مستقبل کی قیادت سنبھال کر دنیائے تحقیق میں سطوتوں کے علم بلند کریں تاکہ یہ ملک خوبصورت عنوانات کا ایسا گلدستہ بن سکے جس کی خوشبو سے ہر فرد معطر ہو اور یہ خوشبو پاکستان کے کونے کونے میں پھیل جائے۔ ملک و قوم کے اصل دشمن جہالت، بے راہ روی، عدمِ برداشت اور انا ہیں جن کو جڑوں سے اکھاڑ کر شائستگی، تہذیب اور یگانگت کے بیج بونے ہوں گے، تب جا کر فصل میں عدل اور امن کا ذائقہ محسوس ہو گا۔

پاکستان میں ترقی ان افراد کی ہی مرہون منت ہے جنھوں نے بے سرو سامانی کے عالم میں بھی حب الوطنی کے جذبہ کے تحت بھرپور خدمات انجام دی۔نوجوانوں کی کا وشیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں آج بھی ہم نوجوان نسل ہمارا نہری نظام، توانائی منصوبے، زراعت میں جدید ٹیکنالوجی، مختلف شعبوں کو جدید دور کے تقاضو ں سے ہم آہنگ کرنے میں با صلاحیت افراد کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔

نوجوانوں نسل ہمارا قیمتی سرمایہ ٗ ہمیں ان کی صلاحیتوں کو اجاگرکریں تاکہ ترقی یافتہ ممالک کی طرح ہمارے نوجوان بھی اعلیٰ تعلیم ٗ ٹیلنٹ کا بہترین استعمال کر کے نہ صرف اپنی بلکہ ملک و قوم کا اقوام عالم میں نام روشن کریں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abid Hashmi

Read More Articles by Abid Hashmi: 126 Articles with 40063 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Jul, 2019 Views: 223

Comments

آپ کی رائے