خودنمائی اور اظہار ِذات کا بڑھتا رجحان!

(Muhammad Akram Awan, )

بے شک کتنے ہی امور و معاملات ایسے ہیں،جن میں انسان غلطی کربیٹھتا ہے،ٹھوکرکھاجاتا ہے،مگروہ یہ نہ جان سکے کہ کون ساراستہ درست اورکونسا غلط،ایسا ہرگزممکن نہیں۔اس دُنیا میں انسان کوخیروشرکے مکمل شعورکے ساتھ بھیجاگیاہے۔قرآن پاک میں ارشاد ِباری تعالیٰ ہے"ہم نے انسان کو(خیروشر) دونوں راہیں دکھا دیں"(سورۃ بلدآیت10)

انسان کواﷲ عزوجل نے سوچنے سمجھنے ،غوروفکراورعقل وبصیرت کی وہ نعمت واستعدادعطاء کی ہے،جسے قرآن اکثرکان،آنکھ اوردل کے اسلوب سے تعبیر کرتاہے۔"وہی ہے جس نے جوچیزبھی بنائی خوب بنائی اورانسان کی تخلیق کی ابتداگارے سے کی اوراس میں اپنی روح پھونکی اورتمہارے کان ، آنکھ اوردل بنائے۔تم کم ہی شکرکرتے ہو"(سورۃ السجدۃ: آیات 7-9)

انسان کے اندرخواہشات کا ایک ایسا طلاطم برپارہتاہے جواسے خوب سے خوب ترکی جستجوپرمجبوررکھتاہے۔اسے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ انسانی جذبوں میں ایک ایسا جذبہ ہے کہ وہ اپنی اہمیت،اپنی شخصیت اورزندگی میں اثرات اورنتائج کے اعتبارسے دوسروں سے منفردنظرآنا چاہتاہے۔انسان اظہار ِذات اور خودنمائی کے ذوق کی تسکین کے لئے مختلف طریقے اختیارکرتا ہے۔ایسا ہی ایک طریقہ سیلفیاں لے کرسوشل میڈیا پرشیئرکرنا ہے۔ شیئرکرنے کے بعداس بات پربے چین ہونا کہ اب دیکھیں اس پرکتنے لوگ اپنی پسندیدگی کااظہاراورکمنٹ کرتے ہیں۔پھرزیادہ سے زیادہ لائیکس اور کمنٹ کی خاطر لوگوں کی توجہ اور دھیان اپنی طرف کروانے ،دوسروں سے منفردنظرآنے کے لئے سیلفی کے مختلف اورانوکھے طریقے اختیارکرتاہے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیاآج کا انسان احساس کی دُنیا سے بالکل بے نیاز ہوگیا ہے؟کیاانسان کومعلوم نہیں ہے کہ اُس کے لیے کیا اچھا اورکیا برا ؟کیانیکی اورکیا بدی ہے؟کیا خیرہے اورکیا شر؟اسے کیا کرنا چاہیے اورکیانہیں کرنا چاہیے؟کسی جگہ حادثہ کی وجہ سے کوئی زخمی حالت میں تڑپ رہاہے ،تولوگ اُسے سمبھالنے اورابتدائی طبی امداددینے اورہسپتال پہنچانے کی بجائے وہاں کھڑے ہوکرسیلفی لینااورسٹیٹس اپ ڈیٹ کرنازیادہ ضروری سمجھتے ہیں اور تو اور نماز پڑھنے اور دُعا کرنے تک کی سیلفیاں سوشل میڈیاپردیکھنے میں آتی ہیں۔یہاں تک کہ حرمین شریفین جیسے مقامات مقدسہ اس تصویرکشی اورسیلفی کے عمل سے محفوظ نہیں۔ہرلمحہ ذکرو عبادت کی بجائے زیادہ وقت سیلفی اورسوشل میڈیا جیسی تفریح میں مصروف رہنے سے قیمتی وقت بربادہوجاتاہے۔بلاامتیازجنس وعمر عازمین ،خانہ کعبہ،مسجد نبوی اورروضہ رسول ﷺکے پاس سیلفیاں لے رہے ہوتے ہیں۔ساری توجہ اسی طرف رہنے سے خشوع وخصوع سے محرومی،نہ دعائیں،نہ چہرے پرحاضری کا تائثر۔

اسی لئے کہا جاتاہے کہ سوشل میڈیا کی بہت سی قباحتوں میں ایک برائی سیلفی ہے۔جس نے جنون کی شکل اختیار کرلی ہے۔منفرداوربہترین نظرآنے والی تصویرکے شوق میں بہت سے لوگ پاگل پن کی حدوں کوچھولیتے ہیں۔یہ بات درست ہے کہ موجودہ دور میں خودپسندی اورانفرادیت کی خواہش کا اظہار سیلفی کی صورت میں سامنے آیا ہے۔سیلفی کا مطلب ہے اپنی تصویرآپ لینا۔موجودہ حالات کے پیرائے میں سیلفی کسی شخص کی ایسی تصویرجواُس نے خودسے اپنے موبائیل سے لی اورپھراس کے متعلق رائے لینے کے لئے سوشل میڈیا پرشیئرکردیا۔بہت سے لوگ کچھ انوکھا ،جدید اوردوسروں سے منفرد کرنے کے لئے خطرناک مقامات، بلندعمارت، نہر،دریا،سمندر ،پہاڑکی چٹان کے آخری حصہ پرسیلفی لینے سے نہیں ہچکچاتے، یہاں تک کہ اپنی جان کی پرواہ نہیں کرتے اور یہ سب کچھ اس لئے کہ زیادہ لائیکس اورکمنٹس ملیں۔ایسی ہی وجوہات کے وجہ سے سیلفی نے خطرناک شکل اختیار کرلی ہے۔دُنیا میں لاکھوں لوگ سیلفی کی عادت میں مبتلاہیں۔ملک بھرسے ایسے واقعات رپورٹ ہونے کی تعدادبڑھتی جارہی ہے ،جس میں لوگ سیلفی لیتے ہوئے حادثات کا شکار ہوکرجان گنوا بیٹھے۔خود سے محبت میں اضافہ لوگوں کی زندگی کے لیے خطرہ بن گیاہے۔

سیلفی لیتے وقت انسان اپنے آپ میں اس قدر مگن اورمحوہوتا ہے کہ اسے اپنے اردگردہونے والے حالات و اقعات نظرہی نہیں آتے۔اگرچہ خودنمائی اوراظہار ِ ذات انسان کی جبلت میں ہے ،ہرانسان چاہتا ہے کہ اُس کی سماج میں منفرداور الگ سے پہچان ہو،مگرایسابھی کیا کہ اس جنون میں گرفتارنوجوان لڑکے یا لڑکی کے ٹرین کی زد میں آنے،ٹرین کی چھت سے سیلفی لیتے ہوئے برقی تاروں سے ٹکرانے،بندوق یا پستول اپنی کنپٹی پررکھ کرسیلفی لیتے ہوئے گولی لگنے،چڑیا گھرمیں حفاظتی جنگلے عبورکرکے جنگلی جانور کے پیٹ کا ایندھن بننے،سیلفی لیتے ہوئے پاؤں پھسلنے سے نہریادریا میں گرنے،سمندرکی موجوں کی نظرہوجانے،گلیشیئر،کچی مٹی کے تودے کے نیچے دبنے،شکستہ پُل، گہری کھائی،بلندپہاڑی چٹان سے گرکربے رحم موت کی وادی میں چلے جانے کی خبریں آئے روزسننے میں آتی ہیں۔

اظہار ِذات اورنمائش کی خاطرذرا سی بے احتیاطی خطرناک حادثے کاموجب بن جاتی ہے۔اگرہم ایسی پوسٹس پرپسندیدگی اورواہ واہ کرنے کی بجائے کمنٹس میں نصیحت اورایسی حرکت کوناموزوں قراردیں، تویقیناََ کسی حدتک بہتری اورکمنٹس پڑھنے والے ایسی کاوشش سے جسے پزیرائی نہیں ملی،شایدکسی حدتک باز رہیں اورایسی بے ہودہ خودنمائی کی لعنت سے اپنے آپ کومحفوظ رکھیں۔لہٰذامعاشرہ میں خودنمائی اوراظہارِ ذات کے خطرناک حدتک بڑھتے رجحان میں کمی لانے میں آپ اپنی حدتک کوشش ضرورکریں ۔
ذرا سوچیں صرف ایک سیلفی کی خاطرقیمتی جان چلی جاتی ہے اورپیچھے رہ جانے والے اپنے پیارے کی جدائی میں تاحیات دردکی آگ میں جلتے رہتے ہیں ۔ خودنمائی اوراظہار ِذات کی ایسی سیلفی جس میں آپ کے پیارے اورعزیز دوست ورشتہ دارکی جان کوخطرہ تھا،اُس نے ایسی پوسٹ شیئرکی توپلیزاُسے نصیحت کریں اورناپسندیدگی کااظہارکریں۔ایسے امرسے دوررہنے میں اُس کی مددکریں ،اُسے اس بری عادت میں مبتلاہونے سے بازرکھیں۔ اس منفردنظر آنے مگرجان لیوا شوق کا معیاراورترجیح کااندازبدلنے کے لئے سلیقہ اورقرینہ سے نوجوان نسل کی مثبت ذہنی تبدیلی،سماجی ارتقاء اورآدم گری کے لئے تربیت و راہنمائی فرمائیں۔خدارا، انہیں سمجھائیں کہ موت انسان کی تمام مہمات ختم کردیتی ہے،اس کی وجہ سے لذتیں تمام ہوجاتی ہیں، بدن کی حرکتیں ساکت، آرزوئیں اورخواہشات بھسم ، پیاروں سے مستقل دوریاں اورماں باپ جیتے جی مرجاتے ہیں!
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 230 Print Article Print
About the Author: MUHAMMAD AKRAM AWAN

Read More Articles by MUHAMMAD AKRAM AWAN: 83 Articles with 28351 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: