مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی حصہ دوم۔

(Malak gohar iqbal khan ramakhel, )

گزشتہ سے پیوستہ
مجدد صاحب نے امراء اور حکام کو جو تلقین و ارشاد، تزکیہ اور اصلاح یا دیگر علمی مباحث سے متعلق جتنی بھی خطوط بھیجے وہ "مکتوبات" میں موجود ہے ان مکاتیب میں انہی امراؤں کے اعمال پر محاسبہ بھی ہے اور تنبیہات بھی اور عقائد باطلہ یا فاسد خیالات کی تردید قوت اور صفائی کے ساتھ کی گئی ہے۔ اسی طرح مجدد صاحب نے حکومت جہانگیری کے اکثر ارکان، امراء اور جرنیلوں کو حلقہ بگوش کرکے ایک مضبوط بلاک بنالیا جس میں اہل سنت کے علاوہ حکومت کے اکثر و بیشتر منصب دار بھی شاملتھے۔ اور اس بلاک کا سررشتہ مجدد صاحب کے ہاتھ میں تھا جسے آپ موقع بہ موقع حرکت دے رہے تھے۔ لیکن مجدد صاحب کی یہ کامیابی" نور جہاں" اور اس کی پارٹی کے لیے خطرناک تھی۔ چونکہ نور جہاں اپنے داماد" شہریار" کو تخت جہانگیری پر جاگزیں دیکھنا چاہتی تھی ۔ اس کے برخلاف مذہب پرستی اور سنی مسلک ہونے مجدد صاحب کے پورے گروپ کو قدرتی طور پر " شاجہان" سے وابستہ کر رکھا تھا۔ اور رد روافض کے متعلق مجدد صاحب کی جدوجہد اور بیباکانہ جرأت نے اس پارٹی کو اور بھی زیادہ نور جہاں کی نظروں میں مقہور و معتوب کردیا تھا۔ اسی طرح ایک ناکارہ سازش کے تحت مجدد صاحب کی کتابوں میں تحریف کرکے کفریہ عبارتوں کا اضافہ کیا گیا اور کئی نقلیں مرتب کرکے ملک کے بڑے علماء کے پاس سے فتاوے طلب کیے گئے اور " شیخ عبد الحق محدث دہلوی" جیسے علماء سے بھی مجدد صاحب کے خلاف رسالے تحریر کیے گئے۔ لہذا فرصت وقت کو غنیمت جان کر یہ مکتوب اور فتاوے بادشاہ جہانگیر کے سامنے پیش کر دیے گئے۔ بادشاہ رنجیدہ ہوا اور مجدد صاحب کو اپنے پاس طلب کرکے ان مکتوبات کے بارے میں استفسار کیا۔ لیکن مجدد تو مجدد زمان تھے انہوں نے ایسے جوابات دیئے کہ بادشاہ مطمئن ہوگئے۔ ان رافضیوں کے لیے یہ شکست ناقابلِ برداشت تھی اب انہوں نے دوسری صورت اختیار کی اور بادشاہ سے کہا کہ مجدد نے ہزاروں جانثار مرید اپنے گرد جمع کیے ہوئے ہیں خطرہ ہے کہ ملک میں کوئی فتنہ کھڑا کردے۔ ان کی نیت بھی خراب ہے اور سجدہ تحیت جو بادشاہ کے لیے جائز مانا جاتاہے اس کا بھی منکر ہے۔ اس سے پہلے بھی شاہی احترام سے کنارہ کیا اور آپ آئندہ بھی امتحان فرما لیجیۓ وہ دربار میں حاضر ہو کر سر نہیں جھکائے گا۔ اسی طرح کے چند عبارتیں توڑ مروڑ کر پیش کیں اور کچھ فتاوے نظر سلطان سے گزارے جن میں عبد الحق محدث دہلوی کے تردیدی مضامین بھی تھے۔مجدد صاحب جب دوسری مرتبہ دربار پہنچے تو درباری ادب آموزوں نے شاہی آداب بجا لانے کی ہدایت کی۔ جب تخت بوسی یا سجدہ کی فرمائش کی گئی تو مجدد صاحب نے سختی سے انکار کیا ۔ بلآخر طویل بحث و مباحثہ کے بعد اور چونکہ بادشاہ کو تو پہلے ہی سے سبق پڑھایا گیا تھا مجدد صاحب کو قید کرنے کا حکم دیا گیا۔ اور جہانگیر نے قید و بند پر بس نہیں کی بلکہ دولت کدۂ مجددی کو بھی لوٹنے کا حکم دیا۔ جب مجدد صاحب قلعہ گوالیار پہنچے تو وہاں ہزاروں قیدی اور بھی تھے جن کی حالت نہایت ابتر تھی۔ مجدد صاحب نے جاتے ہی اصلاح کا کام ہاتھ میں لیا، غیر مسلم قیدیوں کو اسلام کی دعوت دی اور مسلمان قیدیوں کو نماز اور عبادات پر ثابت قدم کرکے انہیں تسبیح و استغفار پر لگایا اور ان کی عقائد کی اصلاح کی۔ مجدد صاحب نے زمانہ قید میں کھبی بھی بادشاہ کے لیے بددعا نہیں کی۔ بلکہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر بادشاہ مجھ کو جیل خانے نہ بھیجتے تو اتنے ہزار لوگ دینی فوائد سے کیسے بہرہ اندوز ہوتے۔ اور خان خاناں، خان جہاں،صدر جہاں وغیرہ، جو مجدد صاحب سے عقیدت مندی اور ارادت مندی کے ساتھ حکومت کے سر اور خان بہادر بھی تھے، ان کے لیے مجدد کا یہ ابتلاء و امتحان کس قدر پیچیدہ مسلہ تھا مگر مجدد کی مجددانہ درس و تعلیم نے اس کو کس قدر آسانی سے حل کیا اور ان کے خلوصِ ارادت مندی اور جوش عمل میں اور اضافہ کردیا۔ جہانگیر نے مکر و فریب غرور وغیرہ کا جو الزام لگایا تھا اس کا عملی جواب دیا اور مجدد صاحب نے کہا کہ صبر اور نماز کے ذریعے سے مدد حاصل کرو بےشک نماز خدا کا بتایا ہوا وہ طریقہ ہے جس سے اللّٰہ تعالیٰ کی توجہ حاصل ہوتی ہے۔ اور پرچہ نویس جو عموماً ہر ایک چیز کو بادشاہ تک پہنچا دیا کرتے تھے انہوں نے مجدد صاحب کے حالات،خیالات، عزائم اور ارادوں کو بھی جہانگیر تک پہنچایا۔ اب جہانگیر یقیناً حیران ہو گیا کہ جس شخص کو مکار، مغرور، خود پسند، کافر اور مرتد بنایا گیا تھا خود اس کے پرچہ نویس اس کے پیکر صدق و صفا، مجسمۂ اخلاق اور اسلامی کمالات کی جیتی جاگتی تصویر قرار دے رہے ہیں۔ اور جس کی قوت ایمانی نے جیل خانے میں پہنچ کر ازلی ڈاکوؤں، چوروں اور بدمعاشوں کو بھی صداقت و ہدایت کے رنگ میں رنگ دیا۔ وہ کافر بے دین جن کی زندگی ظلم و جفا، ایذاء خلق اللّٰہ اور امن عامہ کی تباہی و بربادی میں گزری تھی۔ جن کو جیل خانے کی سخت سے سخت تکلیف بھی رام نہ کرسکی تھی صرف ایک سال کے عرصے میں وہ سب حلقہ بگوش اسلام اور راستی و راست بازی کے حریص نظر آرہے ہیں۔ ان حالات کو دیکھ کر بادشاہ جہانگیر اپنے فعل پر نادم ہوا۔ بادشاہ کی آدھی پارلیمنٹ تو پہلے ہی سے مجدد کے حلقہ بگوش ہوچکی تھی اب بادشاہ نورالدین سلیم جہانگیر بھی شیخ احمد سرہندی کے گرویدہ ہوئے اور شیخ کو اپنے پاس طلب کرکے بہت زیادہ اکرام و احترام سے پیش آیا ۔ بہت کچھ معذرت کی اور مجدد صاحب سے اس قدر محبت کرنے لگا کہ کسی وقت بھی مجدد کی جدائی گوارا نہ کرتا تھا۔ اور اپنے بیٹے" شہزادہ خرم" یعنی شاجہان کو مجدد کے حلقہ مریداں میں داخل کردیا۔ چنانچہ شاہجہان اور" عالمگیر" کے زمانے تک بادشاہ اور جملہ وزراء سلسلۂ مجددیہ کے حلقہ بگوش ہوتے رہے۔ مجدد نے اپنے صاحبزادوں کو بھی اپنے پاس بلا لیا اب یہ پورا علمی گھرانہ پورے لشکر کی تبلیغ و تلقین میں مشغول ہوگیا۔ مجدد کی بادشاہ کے ساتھ خاص صحبت رہتی تھی اور بادشاہ سے اصول اسلامیہ کے متعلق باتیں کرتے اور قرآن وسنت کی تعلیم دیتے تھے۔ مجدد صاحب کی برکت سےاسی سال" قلعہ کانگڑہ" کی فتح میسر ہوئی۔ جس پر جہانگیر نے بہت زیادہ مسرت کا اظہار کیا اور سجدات شکر ادا کیے۔ کیوں کہ یہ ایسی فتح تھی جو گزشتہ 1000 سال کی طویل مدت میں کسی بادشاہ اسلام کو میسر نہ آئی تھی اور ہر ایک بادشاہ اس کی فتح کی تمنا کرتا تھا۔ مجدد صاحب کے شاگردوں اور دیگر علمائے اسلام کو لیکر جہانگیر نے قلعہ کانگڑہ کو فتح کیا اور وہاں آذان، نماز، خطبہ وغیرہ شعائر اسلام جاری کرائے، مسجد بنوائی اور شعائر اسلام کے اجراء پر بہت زیادہ خوشی کا اظہار کیا۔ عزیزانِ من۔ مجدد صاحب نے آئین اکبری پامال کرکے ایسی فضا پیدا کر دی کہ جہانگیر کے بعد شاجہان اور عالمگیر اپنی کامل دینداری کے ساتھ تقریباً ایک صدی تک حکومت کرتے رہے۔ اور اکبری دور حکومت کا وہ داہنا بازو جو تقریباً 70 سال برسرِ اقتدار رہ کر حکومت کے رگ و ریشہ میں اپنا تسلط جما چکا تھا۔ آج اس نے اس طرح شکست کھائی کہ نہ شاہجہان کا بال بیکا کرسکی اور نہ عالمگیر کا۔ نہ حکومت میں ہندؤوں کا حصہ ختم کیا گیا تھا، نہ شیعوں کو حکومت سے خارج کردیا گیا تھا اور نہ عیسائیوں کی آمد بند ہوگئی تھی۔ بلکہ اکبری فتنہ کا ہر عنصر موجود تھا مگر صرف ایک تریاق نے تمام زہریلے جراثیم کو ختم کردیا تھا۔ درحقیقت یہ ہے وہ کامیابی جو مجدد کی مجددیت کی روشن دلیل ہے۔ بادشاہ اکبر کے عہد کے اختتام اور عہد جہانگیری کے اوائل میں کیا ہندوستان علما و مشائخ سے بلکل خالی ہوگیا تھا؟ کیسے کیسے اکابر موجود تھے لیکن مفاسد وقت کی اصلاح و تجدید کا معاملہ کسی سے بھی نہ بن پایا۔ صرف مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی ہی تن تنہا اس کاروبار کا کفیل ہوا۔ مجدد نے لا مذہب اکبر کے بیٹے جہانگیر کو مذہبیت میں متوسط، شاجہان کو مذہبیت میں پختہ اور عالمگیر کو مذہبیت میں پختہ اور خالص مجددی بنادیا۔ اور یوں ایک صدی تک مجددی طرزِ حکومت ہندوستان پر قائم رہی۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 219 Print Article Print
About the Author: Malak gohar iqbal khan ramakhel

Read More Articles by Malak gohar iqbal khan ramakhel: 27 Articles with 7765 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: