سچ تو یہ ہے (چھٹا حصہ)

(Muhammad Siddique Prihar, Layyah)

 منظر ۵۶
مولوی صاحب مسجدمیں بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کے ساتھ چارافرادبھی بیٹھے ہیں ۔مولوی صاحب کے ہاتھ میں تسبیح ہے مولوی صاحب سرجھکائے ہوئے تسبیح پڑھ رہے ہیں۔ احمدبخش مسجدمیں داخل ہوتاہے اورخاموشی سے ایک طرف بیٹھ جاتاہے مولوی صاحب کے پاس بیٹھے ہوئے افراداٹھ کرچلے جاتے ہیں۔احمدبخش سرجھکائے بیٹھاہے مولوی صاحب اس کی طرف دیکھتے ہیں پھرسرجھکائے تسبیح پڑھنے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ احمدبخش آنکھ اٹھاکردیکھتاہے تومولوی صاحب تنہابیٹھے ہوئے ہیں۔وہ اپنی جگہ سے اٹھ کرمولوی صاحب کے پاس آکرکھڑاہوجاتاہے ۔مولوی صاحب چندسیکنڈ کے وقفے کے بعداس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔احمدبخش دونوں گھٹنے مسجدکے فرش پررکھتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے مولوی صاحب کوسلام کرتاہے۔مولوی صاحب سلام کاجواب دینے کے بعدکہتے ہیں احمدبخش کیسے آناہوا
احمدبخش۔۔۔۔مولوی صاحب پیغام ملاتھا آپ مجھے بلارہے ہیں
مولوی صاحب۔۔۔احمدبخش۔۔مجھے تم سمجھ دارلڑکے لگتے ہو۔میری بات غورسے سنو۔جوانسان ہم سے عمرمیں بڑاہوتاہے اس کاتجربہ بھی ہم سے زیادہ ہوتاہے والدین کاتجربہ ہم سے بہت زیادہ ہوتاہے والدین ایسی باتوں کوبھی سمجھتے ہیں جن باتوں کااولادکوگمان بھی نہیں ہوتا ۔اس لیے ہمیں والدین کااحترام کرناچاہیے ان کاحکم مانناچاہیے والدین کی نافرمانی نہیں کرنی چاہیے والدین کی نافرمانی سخت گناہ ہے۔جانتے ہومیں تمہیں یہ باتیں کیوں سمجھارہاہوں
احمدبخش۔۔۔میری عمرکے لڑکوں کویہ باتیں اس لیے سمجھائی جاتی ہیں تاکہ وہ والدین کی نافرمانی نہ کریں
مولوی صاحب ۔شاباش
احمدبخش۔۔۔سکول میں بھی والدین کااحترام سکھایاجاتاہے
مولوی صاحب۔۔۔پھرتیرے والدتیری وجہ سے پریشان کیوں ہیں
احمدبخش۔۔۔مجھے توایسی کوئی بات نظرنہیں آتی کہ میری وجہ سے ابوپریشان ہیں
مولوی صاحب۔۔۔تیرے والدصاحب میرے پاس آئے تھے کہ دعاکرو۔میرابیٹا میراکہانہیں مانتا بات بات پربحث کرنے لگ جاتا ہے تم باپ سے بحث کیوں کرتے ہو وہ جوبات کہیں تم اس پرعمل کیاکرو
احمدبخش۔۔۔مولوی صاحب۔۔۔یہ تواوربھی عجیب بات ہے
مولوی صاحب۔۔وہ کیسے
احمدبخش۔۔۔مولوی صاحب۔۔میں صبح اٹھ کرنمازفجراداکرتاہوں۔اس کے بعدقرآن پاک کی تلاوت کرتاہوں،اس کے بعددودھ لینے چلاجاتاہوں ،واپس آکرسکول کی تیاری کرکے سکول چلاجاتاہوں،سکول سے واپس آتے ہی ابوکے ساتھ کھیتوں میں کام کرتاہوں ۔سورج غروب ہونے کے بعدگھرآتاہوں،اس کے بعدسکول کاکام کرتاہوں
مولوی صاحب۔۔۔اس کے علاوہ کیاکرتے ہو
احمدبخش۔۔۔اورکچھ نہیں کرسکتا
مولوی صاحب۔۔۔کون ساکھیل کھیلتے ہو
احمدبخش۔۔۔مجھے کھیلنے کاوقت ہی نہیں ملتا،اگرمہینہ میں ایک دوبارکھیلنے چلاجاؤں توابوڈنڈااٹھاکرپہنچ جاتے ہیں اورایک دوڈنڈاضرورمارتے ہیں اورڈانٹتے ہوئے مجھے لے آتے ہیں
مولوی صاحب۔۔۔والدصاحب سے بحث کیوں کرتے ہو
احمدبخش۔۔۔ایسی بات نہیں ہے۔ایک واقعہ بتاتاہوں ۔اس کے بعدآپ خودفیصلہ کریں،ایک دن ابونے کہادکان سے تیل لے آؤ،تیل ادھارپرلیناتھا،میں نے کہاپچھلی مرتبہ بھی تیل ادھارلیاتھا،دکاندارتیل نہیں دے رہاتھا،ابونے کہادکاندارسے کہہ دیناابوپیسے دے دیں گے،میں نے کہادکاندارنے کہاتھاجب تک سابقہ ادھارواپس نہیں کروگے مزیدادھارنہیں ملے گا،میں نے ابوکوکہاتھا میں نہیں جاسکتا،کیوں کہ مجھے معلوم تھا اس بارتیل ادھارپرنہیں ملے گا،ابونے مجھے اس بات پربہت مارااورگھرسے نکال دیا
مولوی صاحب۔۔۔ٹھیک ہے تم جاؤ ابوکونہ بتاناتم مجھ سے مل چکے ہومیں تمہارے والدسے بات کروں گا
منظر۵۷
بشیراحمدریڑھی کی طرف جارہاہے۔ریڑھی کاپچھلاحصہ نیچے اوراگلاحصہ اوپرکی طرف ہے۔بشیراحمدکپڑے سے ریڑھی کی صفائی کررہاہے۔سمیراچارپائی سے یہ کہہ کرکھڑی ہوجاتی ہے کہ ابوکوگدھاکھول کردے آؤں
فیاض۔۔۔یہ سن کر۔۔۔تم بیٹھو،گدھامیں کھول کرلے آتاہوں
بشیراحمدریڑھی کی صفائی کررہاہے
اریبہ۔۔سمیراسے۔۔۔ابوکوپانی دے آؤ
سمیراگلاس میں پانی لے کرباپ کی طرف جارہی ہے ۔فیاض گدھاکھول کرلے آتاہے ۔سمیرابشیراحمدکودونوں ہاتھوں سے پانی کاگلاس دیتی ہے۔
بشیراحمد۔۔۔۔پانی کاگلاس پکڑتے ہوئے۔۔۔اﷲ تیرے نصیب اچھے کرے
فیاض ریڑھی اورگدھے کوآپس میں سیٹ کرنے لگ جاتاہے
سمیرا۔۔۔ابوواپس آتے ہوئے گھی ،صابن اورگڑلے آنا
بشیراحمد۔۔۔اچھابیٹی،میں یہ چیزیں واپس آتے ہوئے لے آؤں گا اورتوکچھ نہیں لینا
سمیرا۔۔۔نہیں ابو بس یہ چیزیں لے آئیں
سمیرایہ کہہ کرچلی جاتی ہے
بشیراحمد۔۔۔فیاض سے۔۔۔بتاؤ تمہاراکام کیساجارہاہے ۔استادصاحب کیسے ہیں
فیاض۔۔۔کام اچھاجارہاہے استادصاحب اﷲ کے کرم سے ٹھیک ہیں
بشیراحمد۔۔۔کام پرتوجہ دیاکرو۔جب استادصاحب کوئی کام بتائیں توجلدی جلدی کردیاکرو
فیاض۔۔۔جی ابو میری یہی کوشش ہوتی ہے
بشیراحمد۔۔۔شاباش۔۔۔تم کام پرجتنی زیادہ توجہ دوگے اتناجلدی سیکھ جاؤگے
بشیراحمدریڑھی لے کرگھرسے باہرچلاجاتاہے فیاض گھرآتاہے
فیاض۔۔۔اپنی ماں سے۔۔۔امی جوکپڑے مرمت کرنے ہیں وہ اٹھادومیں دکان پرلے جاتاہوں
اریبہ ۔۔سمیراسے۔۔۔میں نے رات کوتجھے کپڑوں کاتھیلادیاتھا وہ لے آ
سمیراکپڑوں کاتھیلالینے چلی جاتی ہے
اریبہ۔۔۔فیاض سے۔۔۔کپڑے مرمت کرکے جلدی لے آنا ۔پچھلی مرتبہ توڈیڑھ ماہ بعدلے آیاتھا
فیاض۔۔۔امی دکان پرنئے کپڑے اتنے ہوتے ہیں کہ پرانے کپڑوں کے لیے مشکل سے وقت ملتاہے استادصاحب گاہکوں کے کپڑوں کوترجیح دیتے ہیں تاکہ گاہکوں کوزیادہ انتظارنہ کرناپڑے
سمیراکپڑوں کاتھیلالے آتی ہے فیاض کپڑوں کاتھیلا سائیکل پررکھ کرچلاجاتاہے
منظر ۵۸
صابراں آٹے میں پانی ڈال رہی ہے۔اس کی ایک بہن چولھے میں آگ جلارہی ہے،کھاناپکانے کاسامان اوربرتن بھی ساتھ رکھے ہوئے ہیں۔اسی دوران باہرکے دروازے پردستک ہوتی ہے۔
رحمتاں۔۔۔آوازدے کر۔۔۔دروازے پردیکھوکون آیاہے
صابراں کی ایک اوربہن دروازہ کھول کروآپس آکرکہتی ہے امی دیکھیں کون آیاہے رحمتاں کمرے سے باہرنکلتی ہے اورکہتی ہے شمشادبہن یوں اچانک ۔صابراں آٹاگوندھتے ہوئے ہاتھوں کوآٹالگاہواہے اٹھ کربازؤں سے خالہ شمشادکوسلام کرتی ہے ،صابراں کی ایک بہن پیازکاٹ رہی ہے خالہ شمشاداس کے ساتھ آکرکھڑی ہوجاتی ہے اوراسے پیازکاٹتے ہوئے خاموشی سے دیکھنے لگ جاتی ہے۔صابراں کی بہن دوپٹے آنکھیں صاف کرتی ہے۔ایک طرف دیکھتی ہے توخالہ شمشادکھڑی ہوئی ہے۔صابراں کی بہن کھڑی ہوجاتی ہے اورخالہ شمشادکوسلام کرتی ہے اورکہتی ہے خالہ آپ کس وقت آئیں
خالہ شمشاد۔۔۔ابھی آئی ہوں تھوڑی دیرہوئی ہے
صابراں آٹاگوندھ چکی ہے
اسی دوران رحمتاں آجاتی ہے اورکہتی ہے شمشادبہن آؤہم باتیں کرتی ہیں بچیوں کوکھاناتیارکرنے دو
خالہ شمشاد۔۔۔ایک بات توبتاؤ
رحمتاں۔۔۔ہاں پوچھو۔شمشادبہن جوپوچھناہے
خالہ شمشاد۔۔۔میں یہ کیادیکھ رہی ہوں۔۔آج سے پہلے میں جب بھی تمہارے گھرآتی ہوں توصابراں بھانجی کوہی گھرکے کام کرتے دیکھتی ہوں آج صابراں کے ساتھ ساتھ اس کی بہن بھی اس کاہاتھ بٹارہی ہے۔
رحمتاں۔۔۔ہاں شمشادبہن یہ گھرصرف ہمارانہیں تمہارابھی ہے دوسری بات یہ ہے کہ مجھے اورتمہاری بھانجیوں کے والدکوبہت خوشی ہے کہ تمہاری اوردوبھانجیوں نے گھرکے کاموں میں دل چسپی لیناشروع کردی ہے
صابراں کی بہن۔۔۔دیگچی میں سبزی ڈالتے ہوئے۔۔۔گھرکے کام کرتے ہوئے ہمیں بھی خوشی ہوتی ہے
رحمتاں اپنی بہن شمشادکاہاتھ پکڑکرکمرے میں چلی جاتی ہے
صابراں کی بہن۔۔۔صابراں سے۔۔۔چولھے میں آگ درست کرتے ہوئے۔۔۔خالہ مجھے کام کرتے ہوئے دیکھ کرتعریف کررہی تھیں یاتنقیدکررہی تھیں
صابراں۔۔۔یہ تم کیسی بات کررہی ہو خالہ تنقیدکیوں کریں گی وہ تمہیں یوں کام کرتاہوادیکھ کرواقعی خوش ہورہی تھیں
خالہ شمشاد۔۔۔رحمتاں سے۔۔۔میری بھانجیوں کی شادی کی بات چل رہی تھی کہاں تک پہنچی
رحمتان۔۔۔ہاں بات ابھی چل رہی ہے آئندہ سوموارکوگھرمیں میلادہے تمام قریبی رشتہ داروں کوبلارہے ہیں دن کومیلادکریں گے اوررات کوشادیوں پربات کریں گے
منظر۵۹
فیاض درزی کی دکان میں سلے ہوئے کپڑے استری کررہاہے۔اس کے ایک طرف استری کیے ہوئے کپڑے رکھے ہوئے ہیں۔ اوردوسری طرف بغیراستری کیے ہوئے کپڑے رکھے ہوئے ہیں ۔سجاداحمدخاموشی سے فیاض کوکپڑے استری کرتے ہوئے دیکھ رہاہے
سجاداحمد۔۔۔فیاض سے ۔۔۔نعیم آج کل زیادہ وقت لگانے لگ گیاہے اسے کاج بٹن والے کے پاس گئے ہوئے ایک گھنٹہ ہوگیاہے پہلے اس نے اتنی دیرنہیں لگائی
فیاض۔۔۔استادجی۔۔۔پہلے وہ کپڑے دے کرآجایاکرتاتھا پھردوبارہ جاکراٹھالے آتاتھا اب اسے کاج بٹن کراکے ہی آناہوتاہے اس لیے وقت تولگے گا
سجاداحمد۔۔۔اس روٹین کوبھی ایک ماہ ہوگیاہے
فیاض۔۔۔ہوسکتاہے آج کاج کرانے والے زیادہ آگئے ہوں
سجاداحمد۔۔۔نعیم کاپیچھاکرناچاہیے
فیاض۔۔۔پہلے اس سے بات کرنی چاہیے اسے سمجھاناچاہیے
سجاداحمد۔۔۔ہاں یہ ٹھیک رہے گا
اسی دوران کاندھے پرکپڑے اٹھائے ہوئے نعیم دکان میں داخل ہوتے ہی کہتاہے السلام علیکم
سجاداحمد۔۔۔وعلیکم السلام ٹائم دیکھا ہے کتناوقت لگاکرآیاہے
نعیم خاموشی سے سرجھکائے کھڑاہے
سجاداحمد۔۔اتنی دیرکہاں رہ گیاتھا ایک گھنٹے سے زیادہ وقت ہوچکاہے
نعیم رونے لگ جاتاہے
سجاداحمد۔۔۔روکیوں رہاہے بیٹھ جا آئندہ کاج کراکے جلدی آیاکر
نعیم اپنی جگہ پربیٹھ جاتاہے قینچی اٹھاکراوولاک کے دھاگے کاٹنے لگ جاتاہے۔فیاض نے سوٹ استری کرلیے ہیں اب وہ ان کپڑوں کوشاپروں میں پیک کررہاہے سجاداحمددکان سے باہرچلاجاتاہے
فیاض ۔۔۔نعیم سے۔۔۔مجھے بتاؤ آج کاج والے کے پاس اتنی دیرکیسے ہوگئی
نعیم خاموشی سے دھاگے کاٹ رہاہے
فیاض۔۔۔ڈرونہیں جوبات بھی ہے مجھے بتاؤ
نعیم۔۔۔آج کاج کرانے والے بھی زیادہ تھے اورسب کپڑے بھی زیادہ لائے تھے میں باربارکہتارہا میرے کپڑے کاج اوورلاک کردو مجھے دیرہورہی ہے میری کسی نے نہیں سنی جب سب چلے گئے تومیرے کپڑے جاج اوورلاک کیے
فیاض۔۔ اس میں ڈرنے والی کوئی بات نہیں ہے تجھے استادصاحب کوبتادیناچاہیے تھا
نعیم۔۔۔استادصاحب میری بات کایقین نہیں کریں گے
فیاض۔۔۔میں بات کروں گا استاد صاحب سے
نعیم۔۔۔اس سے کیاہوگا
فیاض۔۔۔استاد صاحب کاج والے کے پاس خودجائیں گے یامجھے بھیجیں گے کاج والے سے بات کرنے
نعیم۔۔۔کاج والے تویہی کہیں گے کہ وہ کوئی دیرنہیں لگاتے لڑکاجھوٹ بول رہاہے
فیاض۔۔۔آئندہ جلدی آنے کی کوشش کرنا کوئی بات ہوتومجھے بتانا
نعیم۔۔۔ٹھیک ہے
منظر ۶۰
جاویدایک کھلے میدان میں جس میں گھاس اورجھاڑیاں ہیں بکریاں چرارہاہے اس کے ساتھ بکریاں چرانے والے دوافراداوربھی ہیں جاویداپنی جگہ سے اٹھ کربکریوں کے چاروں طرف چکرلگاتاہے اورکہتاہے اب شام ہونے جارہی ہے میراخیال ہے اب ہمیں گھرچلناچاہیے یہ کہہ کروہ گھرکی طرف بکریوں کولے کرچل پڑتاہے ابھی وہ میدان سے نکلنے ہی والاتھا کہ ایک شخص جاویدکوآکرسلام کرتا ہے اورکہتاہے میرانام عمیرہے میرے ساتھ دوساتھی اوربھی ہیں ہم آپ سے ملنے آئے ہیں
جاوید۔۔۔خیریت توہے
عمیرنواز۔۔۔ہاں خیریت ہے
جاویداورعمیربکریوں کولے کرجاویدکے گھرکی طرف جارہے ہیں جاویدکاگھرآجاتاہے جاویددیکھتاہے دورکشے کھڑے ہیں ایک رکشے میں سامان ہے عمیراپنے ساتھیوں کاتعارف کراتاہے یہ رشیداحمدہیں اوریہ ناصراقبال ہیں جاوید باری باری دونوں مہمانوں کوسلام کرتاہے رشیداحمدکہتاہے بکریوں کوگھرمیں باندھ آؤ جاویدبکریاں لے کرگھرمیں چلاجاتاہے عمیر،رشیداوفرناصراس کے گھرکے باہرکھڑے ہیں۔جاویدایک چارپائی لے آتاہے اس کے بعدگھرمیں چلاجاتاہے ایک اورچارپائی اورپانی لے آتاہے دودوافرادایک ایک چارپائی پربیٹھ جاتے ہیں
جاوید۔۔۔جی کہیے کیسے آناہوا
رشیداحمد۔۔۔ہم نے مشکل آسان فنڈقائم کیاہے اس سے ہم ضرورت مندوں کی مددکرتے ہیں
جاوید۔۔۔میں کیاخدمت کرسکتاہوں
عمیر۔۔۔یہ سامان ہم تمہارے لیے لائے ہیں اس میں آٹا،کھاناپکانے کاسامان اورکپڑے ہیں
جاوید۔۔۔یہ سامان آپ کسی ضرورت مندکودے دیں
ناصراقبال۔۔۔آپ بھی ضرورت مندہیں یہ سامان ہم آپ کے لیے لائے ہیں
جاوید۔۔۔میں اس سامان کاحق دارنہیں ہوں یہ آپ کسی حق دارکودے دیں
رشیداحمد۔۔۔ہم نے پہلے تحقیقات کی ہیں آپ بھی اس کے حق دارہیں
جاویدگھرمیں چلاجاتاہے گھرسے کھانالے آتاہے کھانامہمانوں کے سامنے رکھنے کے بعدکہتاہے میں یہ سامان نہیں لے سکتا
ناصراقبال ہم سامان دینے آئے ہیں کھاناکھانے نہیں
جاوید۔۔۔کھاناکھانے کوئی نہیں آتا مہمان نوازی ہم سعادت سمجھتے ہیں
رشیداحمد۔۔۔ہم آپ کوچاربکریاں بھی دے جائیں گے
جاوید۔۔۔نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے
جاویدیہ کہہ کرگھرمیں جانے لگتاہے کہ میں چائے لے آتاہوں
ناصراقبال۔۔۔چائے رہنے دو آپ نے اتنااچھاکھانابنوایاہے
جاوید ۔۔۔چائے تیارہے یہ کہتے ہی جاویدگھرمیں چلاجاتاہے
منظر ۶۱
بشریٰ،سعیداحمد،عارف، عبدالحق ،عارف کی خالہ اورپھوپھو ایک کمرے میں کھاناکھارہے ہیں ۔
عارف کی پھوپھی۔۔۔عبدالحق کی ماں مجھے یہ کہہ کربلایاگیاتھا کہ آج کوئی خاص بات کرنی ہے
عارف کی خالہ۔۔۔مجھے بھی یہی کہہ کربلایاگیاہے کہ کوئی خاص بات کرنی ہے وہ خاص بات ہے کیا
سعیداحمد۔۔۔آج ہم سب نے مل کرواقعی ایک خاص بات کرنی ہے
عارف کی خالہ۔۔۔وہ کیاخاص بات ہے
سعیداحمد۔۔۔وہ خاص بات بھی بتاتے ہیں ۔عارف کے چچاابھی نہیں آئے ۔وہ آجائیں
اسی دوران دروازے پردستک ہوتی ہے
بشریٰ۔۔۔لگتاہے عارف کے چچاآگئے ہیں۔
عبدالحق دروازہ کھولنے چلاجاتاہے
عارف کی پھوپھی۔۔۔کیابات کرنی ہے جس کے لیے اتنے رشتہ داروں کوبلایاگیاہے
اسی دوران کریم بخش کمرے میں داخل ہوتاہے السلام علیکم کہنے کے بعدبیٹھ جاتاہے۔ سب گھروالے وعلیکم السلام کہتے ہیں
سعیداحمد۔۔۔کریم بخش بھائی بھی آگئے ہیں
عارف کی خالہ۔۔۔جس کاانتظارتھاوہ آگئے ہیں ۔اب بات کیاکرنی ہے وہ بھی بتادیں
بشریٰ۔۔۔ہم عارف کی شادی کرناچاہتے ہیں۔
عارف کی پھوپھی۔۔۔کیا عارف شادی نہیں کرناچاہتا
سعیداحمد۔۔۔ایسی بات نہیں ہے عارف نے شادی سے انکارنہیں کیا
کریم بخش۔۔۔میں بھی یہی سمجھاتھا کہ عارف شادی نہیں کرناچاہتا۔اسے شادی کرنے پرآمادہ کرناہے
عارف کی پھوپھی۔۔۔عارف نے شادی سے انکارنہیں کیاتوپھرکیابات ہے جس کے لیے ہمیں بلایاگیاہے
سعیداحمد۔۔۔آپ سب یہ بات توجانتے ہیں کہ رشتہ طے کرتے وقت دولہاکی آمدنی اوراس کے روزگارکوکتنی ترجیح دی جاتی ہے
سعیداحمدکی بہن۔۔۔۔ہاں۔۔موجودہ دورمیں جس کاروزگاراچھاہواورآمدنی زیادہ ہواسی رشتہ کوترجیح دی جاتی ہے
بشریٰ۔۔۔۔ہم دونوں میاں بیوی عارف کویہ بات باربارسمجھاتے رہے اسے ہماری بات سمجھ نہیں آتی
کریم بخش۔۔۔وہ کیسے
بشریٰ۔۔۔ہم نے اسے کہا ہے کہ اپنے روزگارکاانتظام کرے
عارف کی خالہ ۔۔۔عارف سے۔۔۔عارف ۔تمام والدین اپنے بیٹوں کوکہتے ہیں کہ روزگارکاانتظام کرو
عارف۔۔۔۔خالہ ۔روزگارتومیرے پاس ہے۔میں رکشہ چلاتاہوں
سعیداحمد۔۔۔رکشہ چلانے کوروزگارنہیں کہتے
عارف کی پھوپھی۔۔۔یہ بات تودرست ہے
بشریٰ۔۔۔ہم جب بھی عارف سے روزگاراورشادی کی بات کرتے ہیں تویہ ایک ہی جواب دیتاہے کہ مسئلہ روزگارکانہیں یقین کاہے
کریم بخش۔۔۔عارف سے۔۔۔کیایہ سچ ہے
عارف۔۔۔جی چچاجان۔مسئلہ روزگارکانہیں یقین کاہے ۔مجھے توامی ابوکی بات سمجھ آگئی ہے ۔امی ابوکومیری بات سمجھ نہیں آتی
سعیداحمدکی بہن۔۔۔۔ہم کس کوسمجھائیں کس کونہیں اس کے لیے ہمیں کسی اوردن اکٹھاہوناہوگا۔ہم اس پرغورکریں گی کہ کس کوسمجھانے کی ضرورت ہے
بشریٰ۔۔۔میں نے مشورہ دیاتھا کہ مولوی صاحب سے بات کرنی چاہیے
کریم بخش۔۔۔ہاں۔مولوی صاحب ہی یہ مسئلہ حل کراسکتے ہیں
منظر۶۲
کریمم بخش اورمحمدطارق سڑک کنارے کھڑے ہیں۔اسی دوران ایک رکشہ ان کے پاس آکررک جاتاہے
رکشے والا۔۔۔دونوں باپ بیٹاسے۔۔۔کہاں جاناہے
کریم بخش اسے بتاتاہے کہ کہاں جاناہے ۔رکشے والااورکریم بخش آپس میں کرایہ طے کرتے ہیں ۔دونوں باپ بیٹارکشے میں بیٹھ جاتے ہیں ۔تھوڑی دورجانے کے بعدرکشہ رک جاتاہے ۔دوافرادرکشہ میں بیٹھ جاتے ہیں
کریم بخش۔۔۔طارق سے۔۔۔طارق بیٹا۔۔۔میری بات غورسے سنو۔میں جوباتیں تجھ سے کہوں گا ان باتوں کوغورسے سننے اوران باتوں پرعمل کرنے میں ہی تیرافائدہ ہے
طارق۔۔جی ابو آپ نے جوباتیں کہنی ہیں کہیں میں غورسے سن رہاہوں
کریم بخش۔۔۔طارق بیٹا۔یہ بات تواچھی طرح جانتاہے ۔میں نے آج تک تم پراپنی مرضی مسلط نہیں کی
طارق۔۔۔جی ابومیں یہ بات اچھی طرح جانتاہوں۔لیکن والدین کاحکم ماننااوران کے حکم اورفیصلوں پرعمل کرناسعادت منداولادکی خوبی ہوتاہے
کریم بخش۔۔۔ہاں ۔سعادت منداولادوالدین کی نافرمانی نہیں کرتی ۔اس لیے مجھے پوری امیدہے تومیری بات غورسے سنے گااورعملبھی کرے گا
طارق۔۔۔جی ابو آپ حکم کریں میں سن رہاہوں
کریم بخش۔۔۔اپنے کام پرتوجہ دینا دکانداراوروہاں کام کرنے والے مزدوروں کی بات غورسے سننا وہ جوکام کہیں اس سے انکارنہ کرنا وہ کام کردینا چوری کرنے اورڈنڈی مارنے کے بارے سوچنابھی مت وقت کی پابندی کرنا جومل جائے کھالینا اورپی لینا کھانے پینے میں پہل نہ کرنا سب سے اچھے اخلاق سے بات کرنا ان باتوں پرعمل کرے گاتوبہت جلدکامیاب ہوجائے گا
طارق ۔۔۔جی ابومیں ایساہی کروں گا میں پوری کوشش کروں گا میرے بارے میں آپ کو شکایت نہ ملے
کریم بخش۔۔۔۔مجھے بھی تجھ سے ایسی ہی خوبی کی امیدہے
طارق۔۔۔ابوآپ میرے لیے اورتمام گھروالوں کے لیے دعاکیاکریں
کریم بخش۔۔۔میں توہرنمازکے بعددعاکرتاہوں اﷲ تجھے زندگی کے ہر میدان میں کامیابی دے
طارق ۔۔۔آمین آمین
اسی دوران کریانہ کی دکان آجاتی ہے۔کریم بخش رکشہ رکواتاہے اورطارق سے کہتاہے طارق دکان آگئی ہے جا اﷲ تیری حفاظت کرے۔
طارق۔۔۔۔ابو آپ بھی آئیں
کریم بخش ۔۔۔۔مجھے ایک کام ہے۔میں وہ کام کرکے گھرچلاجاؤں گا
طارق رکشہ سے اترجاتاہے
منظر۶۳
راشدہ چولھے کے ساتھ رکھی ہوئی لکڑیاں درست کررہی ہے۔سالن پکانے کاسامان اوربرتن ساتھ پڑے ہوئے ہیں۔ایک تھال میں خشک آٹارکھاہواہے۔سلطانہ آتی ہے وہ بھی لکڑیاں درست کرنے لگ جاتی ہے
راشدہ۔۔۔۔سلطانہ بیٹی۔۔۔یہ توکیاکررہی ہے
سلطانہ۔۔۔۔امی لکڑیاں درست کررہی ہوں
راشدہ۔۔۔تواپناسبق یادکر۔یہ تیراکام نہیں ہے
سلطانہ۔۔۔۔میں نے سبق یادکرلیاہے
راشدہ۔۔۔۔سبق یادکرلیاہے توجاکے کھیل میں کھاناتیارکرلوں
سلطانہ۔۔۔امی ۔میں بھی کھاناتیارکروں گی
راشدہ چولھے میں آگ جلاتی ہے۔سلطانہ ایک لکڑی اٹھاکرچولھے میں ڈال دیتی ہے۔ایک اورلکڑی اٹھانے لگتی ہے توراشدہ سلطانہکاہاتھ پکڑکرروک دیتی ہے اورکہتی ہے جاکرکھیل مجھے سالن تیارکرنے دے
سلطانہ۔۔۔امی میں بھی سالن تیارکروں گی
اسی دوران عبدالرحیم آجاتاہے
راشدہ۔۔۔سلطانہ سے۔۔۔بھائی کے ساتھ جا
راشدہ۔۔۔۔عبدالرحیم سے۔۔۔۔بہن کولے جا
عبدالرحیم ۔۔۔سلطانہ سے۔۔۔ادھرمیرے پاس آ امی کوکھاناتیارکرنے دے
سلطانہ۔۔۔۔نہیں میں بھی آج سالن تیارکروں گی
عبدالرحیم ۔۔۔راشدہ سے۔۔۔امی سلطانہ کوسالن تیارکرنے کاشوق ہے۔آج یہ آپ کے ساتھ سالن تیارکرائے گی۔
راشدہ۔۔۔یہ اس کاکام نہیں ہے
سلطانہ۔۔۔عبدالرحیم سے۔۔۔بھیا توبھی بیٹھ ہم مل کرسالن تیارکریں گے
راشدہ۔۔۔۔کھاناتیارکرنالڑکیوں کاکام ہوتاہے لڑکوں کانہیں
سلطانہ۔۔۔امی لڑکے کھاناکیوں نہیں بناتے
عبدالرحیم سالن والی دیگچی میں چمچ پھیرتاہے اورپوچھتاہے امی سالن سفیدکیوں ہے
راشدہ۔۔۔ابھی نمک مرچ ڈالناہے
اس کے ساتھ ہی راشدہ سالن میں نمک اورمرچ ڈال دیتی ہے عبدالرحیم سے چمچ لے کردیگچی میں پھیرنے لگ جاتی ہے
سلطانہ۔۔۔امی سالن میں پہلے نمک اورمرچ ڈالتے ہیں
راشدہ۔۔۔نہیں
عبدالرحیم۔۔۔۔امی سالن تیارکرتے ہوئے پہلے سبزی یادال ڈالتے ہیں نا
راشدہ۔۔۔نہیں پہلے دیگچی میں گھی ڈال کراسے گرم کرتے ہیں
سلطانہ۔۔۔اس کے بعدنمک مرچ ڈالتے ہیں
راشدہ۔۔۔۔نہیں اس کے بعدپیازاورسبزمرچ ڈالتے ہیں
منظر۶۴
بشیراحمدناشتہ کرچکاہے۔ناشتہ کے برتن ساتھ پڑے ہوئے ہیں
بشیراحمد۔۔۔اریبہ سے۔۔۔میں مزدوری کرنے جارہاہوں کوئی چیزمنگوانی ہے توبتادو
اریبہ۔۔۔سامان توکوئی نہیں منگوانا
اریبہ۔۔۔فیاض اورسمیراسے۔۔۔۔تمہیں کچھ منگواناہے توابوکوبتادو
فیاض، سمیرا۔۔۔نہیں ہمیں بھی کچھ نہیں منگوانا
اس کے ساتھ ہی بشیراحمدچلاجاتاہے
اریبہ۔۔۔فیاض سے۔۔۔گدھا کھول کرلے آؤ ریڑھی سیٹ کرنے میں باپ کی مددکرو
سمیراناشتہ کے برتن اٹھاتی ہے، فیاض گدھاکھولنے چلاجاتاہے ۔بشیراحمدریڑھی کی صفائی کرنے لگتاہے توسمیراآجاتی ہے بشیراحمدسے صفائی کاکپڑالے کرکہتی ہے ابوریڑھی کی صفائی میں کردیتی ہوں
سمیرا۔۔۔بشیراحمدسے۔۔۔ابوایک بات پوچھوں ناراض تونہیں ہوجاؤگے
بشیراحمد۔۔۔پوچھو جوبات پوچھنی ہے میں ناراض نہیں ہوں گا
سمیرا۔۔۔ابو آپ سارادن مزدوری کرتے ہیں کیاآپ تھکتے نہیں ہیں
بشیراحمد۔۔۔جب مقصدنیک اوراچھاہوتوایسی معمولی باتوں پرتوجہ نہیں دینی چاہیے
سمیرا۔۔۔ابو میں آپ کی بات سمجھی نہیں
بشیراحمد۔۔۔میں یہ محنت مزدوری رزق حلال کمانے کے لیے کرتا ہوں رزق حلال کمانابھی عبادت ہے
سمیرا۔۔۔ابو یہ توہم سب کی خوش قسمتی ہے کہ آپ ہمیں رزق حلال کھلانے کے لیے سارادن محنت مزدوری کرتے ہیں۔
اسی دوران فیاضن گدھالے کرآجاتاہے
بشیراحمد۔۔۔آج گدھاکھول کرلانے میں دیرکردی ہے تونے
فیاض۔۔۔۔جی ابودیرہوگئی
اسی دوران دروازے پردستک ہوتی ہے فیاض کہتاہے میں دیکھ کرآتاہوں ۔بشیراحمدکہتاہے تم ٹھہرومیں خوددروازے پرجاتاہوں یہ کہتے ہی بشیراحمددروازے کی طرف چلاجاتاہے ۔دروازہ کھولتاہے توایک شخص کھڑاہے۔ سلام دعاکے بعد
بشیراحمد۔۔۔کیاخدمت کرسکتاہوں آپ کی
وہ شخص۔۔۔۔آپ نے مزدوری کے لیے کسی کووقت دے رکھاہے یاابھی تلاش کرنے جاؤگے
بشیراحمد۔۔۔وعدہ توکسی سے نہیں کیاہوا
وہ شخص۔۔۔میرے گھرکافرنیچرشہرتک لے جاناہے
بشیراحمد۔۔۔ٹھیک ہے میں ابھی ریڑھی لے کرآتاہوں
یہ کہتے ہی بشیراحمداپنے گھرمیں چلاجاتاہے
منظر۶۵
جاویداوررحمتاں الگ الگ چارپائیوں پربیٹھ کرچائے پی رہے ہیں
جاوید۔۔۔گھرمیں میلادکرانے کااعلان توکردیاہے
رحمتاں۔۔۔۔کیاآپ نہیں چاہتے تھے
جاوید۔۔۔ایسی کوئی بات نہیں گھرمیں میلادکرانے سے اﷲ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں
رحمتاں۔۔۔توپھرآپ نے ایساکیوں کہا
جاوید۔۔۔میں کہہ رہاتھا کہ انتظامات کے سلسلہ میں کیاکرناچاہیے کس کس کوبلاناچاہیے
رحمتاں۔۔۔آپ کیاچاہتے ہیں کیاکرناچاہیے
جاوید۔۔۔میں توچاہتاہوں میلادسے پہلے قرآن خوانی بھی کرالیں مولوی صاحب توآئیں گے مدرسہ سے طلباء بھی ساتھ لے آئیں گے
رحمتاں۔۔۔مولوی صاحب کیوں آئیں گے
جاوید۔۔۔میلاداورقرآن خوانی جوکرانی ہے مولوی صاحب نہیں آئیں گے توکون آئے گا
رحمتاں۔۔۔میں توچاہتی ہوں کہ خواتین کی محفل میلادکرائیں
جاوید۔۔۔۔میں توسمجھ رہاتھا کہ مردوں کی محفل میلادکراناچاہتی ہو
رحمتاں۔۔۔میلادبھی کرائیں گے اورقرآن خوانی بھی عورتیں قرآن خوانی بھی کریں گی
جاوید۔۔۔کس کس کوبلاؤگی
رحمتاں۔۔۔تمام قریبی رشتہ داروں کوبلائیں گے پڑوسیوں کوبھی بلالیں گے لنگرمیں کیاپکائیں
جاوید۔۔۔۔گوشت روٹی تیارکرلیں
اسی دوران صابراں آجاتی ہے
صابراں۔۔۔۔کیاباتیں ہورہی ہیں میں بھی سن سکتی ہوں یانہیں
رحمتاں۔۔۔۔گھرمیں میلاداورقرآن خوانی کرانی ہے اسی سلسلہ میں مشورہ کررہے ہیں
جاوید۔۔۔۔ہاں ہاں تم بھی سن سکتی ہو اوراپنامشورہ بھی دے سکتی ہو۔
صابراں۔۔۔لنگرمیں کیاپکارئیں گے
رحمتاں۔۔۔تیرے ابوکہتے ہیں گوشت روٹی تیارکرلیں
جاوید۔۔۔میں نے صرف مشورہ دیاہے تم چاہوتوکچھ اوربھی بناسکتی ہو
صابراں۔۔۔گوشت روٹی کے ساتھ حلوہ اورفروٹ بھی ہونے چاہییں
رحمتاں۔۔۔ٹھیک ہے ایساہی کرلیتے ہیں
جاوید۔۔۔ماں بیٹی میں اتفاق ہوگیاہے تو ہم بھی اعتراض نہیں کرتے
رحمتاں۔۔۔میں نے توکوئی مشورہ نہیں دیا یہ اتفاق ماں اوربیٹی میں نہیں باپ اوربیٹی کے درمیان ہواہے
جاوید۔۔۔وہ کیسے
رحمتاں۔۔۔۔ایک مشورہ آپ نے دیا اورایک مشورہ آپ کی بیٹی نے دیا
جاوید۔۔۔کیاصابراں صرف میری بیٹی ہے
رحمتاں۔۔۔۔یہ میری بھی بیٹی ہے یہ ہم دونوں کی بیٹی ہے
منظر۶۶
ایک بڑے ہال نماکمرے میں کرسیاں رکھی ہوئی ہیں ۔اسٹیج پرپندرہ کرسیاں رکھی ہوئی ہیں ۔سب کرسیوں پرمہمان اورمعززین بیٹھے ہیں ۔اجلاس کاآغازقرآن پاک کی تلاوت سے ہوتاہے۔ اس کے بعدعلامہ ریاض الدین سہروردی کانعتیہ کلام سنایاجاتاہے۔
اخترحسین۔۔۔اپنی کرسی سے کھڑے ہوکر۔۔۔۔ہم نے ضرورت مندوں کی مددکے لیے مشکل آسان فنڈزقائم کیاتھااس فنڈزسے ہم نے روزہ مرہ کی ضروریات زندگی ضرورت مندوں تک پہنچانے کاپروگرام بنایاتھا ۔ہمارے ممبران یہ سامان لے کرضرورت مندوں کے گھروں تک گئے ۔ اس سلسلے میں ہماری کارکردگی آپ سابقہ اجلاس میں سن چکے ہیں ۔یہ سلسلہ جاری رکھنے کافیصلہ ہواتھا ۔اس دوران ہمارے ممبران مزیدضرورت مندگھروں میں گئے ۔اس بارے صورت احوال ہمارے ممبران ہی بتائیں گے ۔
ناصراقبال۔۔۔ہم روزمرہ ضروریات زندگی پرمشتمل سامان لے کرتین گھروں میں گئے۔سب نے بہترین مہمان نوازی کی ہم نے مشکل آسان فنڈکے بارے میں بتایا توانہوں نے خوشی کااظہارکیا
عبدالغفور۔۔۔۔ہم چارگھروں تک گئے انہوں نے پوچھا کہ وہ اس فنڈمیں کیاجمع کراسکتے ہیں
ارشدجمال۔۔۔۔ہم دوگھروں میں گئے ہم باربارکہتے رہے یہ سامان لے لیں آپ اس کے حق دارہیں سب نے سامان لینے سے یہ کہہ کرانکارکردیا کہ یہ سامان کسی حق دارکودے دیں وہ اس کے حق دارنہیں ہیں
اخترحسین۔۔۔اب مشورہ دیں اس سامان کاکیاکرناچاہیے اب اس سامان کو ہرحال میں تقسیم کرناہے
رشیداحمد۔۔۔دو تین چوراہوں میں یہ سامان رکھ دیتے ہیں جوبھی غریب آئے گا اسے دیتے رہیں گے
ظفراقبال۔۔۔ہمیں یہ سامان مدرسوں اورہسپتالوں میں دے دیناچاہیے
عمیرنوازمیں ظفراقبال سے اتفاق کرتاہوں
اخترحسین ووٹنگ کراتاہے تو ظفراقبال کے مشورہ کے حق میں زیادہ شرکاء نے ہاتھ کھڑے کیے ،دوکمیٹیاں بنادی گئیں ایک کمیٹی مدرسوں میں جب کہ دوسری کمیٹی ہسپتالوں میں سامان تقسیم کرے گی
اخترحسین۔۔۔مشکل آسان فنڈکاپہلامرحلہ ختم ہوا۔آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں آئندہ اجلاس میں مشاورت کریں گے۔کھاناتیارہے۔سب لوگ کھاناکھاکرجائیں

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 204 Print Article Print
About the Author: Muhammad Siddique Prihar

Read More Articles by Muhammad Siddique Prihar: 295 Articles with 109198 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: