میرا انتظار

(Ujala, Karachi)
کبھی کبھی ایسا وقت بھی زندگی میں آتا ہے کی جب انسان کو اپنے پیاروں کی خاطر اپنے کسی پیارے کو چھوڑنا پڑتا ہے لیکن یہ بھی ایک آزمائش ہی ہوتی ہے ایک بار آپ اس پر پورا اتر گئے تو پھر وقت کوئی پیارا آپکو لوٹا بھی دیتا ہے اور یہی ہوتا ہے آپکے انتظار اور صبر کا تحفہ۔

میرا انتظار

گھر میں مہمانوں کا رش بڑھ رہا تھا اور وہ ساری ذمہ داریاں اچھے سے نبھا رہی تھی۔ آج علینہ کی مہندی تھی اسکا آج سارا دن
مہندی کے انتظامات میں لگ گیا تھا اپنے لئے تو اس نے کوئی تیاری ہی نہیں کی تھی نا اسے ہوش تھا کہ فنکشن شروع ہونے
میں کچھ ہی وقت ہے اور اسے تیار بھی ہونا ہے
فارحہ ! فارحہ ! نگین خالہ اسے پکارتی ہوئی آرہی تھی
“جی آنٹی کوئی کام تھا کیا ؟ “اس نے مصروف انداز میں جواب دیا
“بھئ تم نے تو کام کو سر پر سوار کر دیا ہے اچھا خاصا انتظام ہو چکا ہے مہمان بھی آگئے ہیں اور اپنی حالت دیکھو زرا ! “ انہوں نے تنقدی نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا
“بس آنٹی میں تیار ہونے جارہی تھی سوچا یہ پھول رکھوا دوں ۔
علینہ تیار ہوگئ نا ؟ “ اسے اب علینہ کا خیال آیا
“ہاں بھئ وہ بھی تیار ہے اب تم بھی جاو مہمان بڑھتے جارہے ہیں “ مزید مہمانوں کی آمد دیکھ کر انہوں نے اسے جانے کا کہا
“جی آنٹی میں آتی ہوں تیار ہوکر “
وہ سیدھا علینہ کے کمرے میں آئی جہاں وہ تیار کھڑی شیشے میں اپنا عکس دیکھ رہی تھی
“ماشااللہ ! تم تو آج ہی بجلیاں گرا رہی ہو کل تو لگتا ہے قیامت آنے والی ہے “ اس نے اسے پیار سے گلے لگاتے ہوئے کہا
“میری بجلیوں کو چھوڑے اور اپنا حلیہ دیکھیں لگ ہی نہیں رہا کہ آپکی اکلوتی بہن کی مہندی ہے “ علینہ نے اسکے حلیے پر اعتراز کیا
“ہاں بس ان کاموں سے ابھی ہی فری ہوئی ہوں سوچا تمہیں دیکھتی ہوئي جاؤ”
“آپی ! آپنے بہت کام کر لئے ہیں ماما پاپا کے جانے کے بعد سے اب تک آپنے کام ہی تو کئے ہیں اپنے سارے فرائض پورے کیے ہیں اور آج اپنے اس سب سےبڑے فرض سے آزاد ہونے والی ہیں جس کے لئے اپنی محبت بھی قربان کردی تھی” اس نے فارحہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا فارحہ کے چہرے غم اور خوشی کے رنگ آکر گزر گئے
“پلیز آپی مجھے بھی اپنے ارمان پورے کرنے دیں کل میں یہاں سے چلی جاونگی اور ہر وقت آپکے بارے میں سوچتی رہونگی آپ اکیلی کیسے رہینگی ؟ آپی ؟ “ اس نے اسے پکارا جو ناجانے کہا کھو گئ تھی
“ہوں ؟ “ فارحہ نے سوالیاں نظروں سے اسے دیکھا
“آپ شادی کرلیں آپی اگر آپ چاہتی ہیں کہ میں باقی زندگی پرُسکون ، بنا کسی پریشانی کے گزاروں تو پلیز آپی آپ شادی کر لیں میری آخری خواہش سمجھ کر مان جائیں آپی “ علینہ کی آنکھوں سے بے تہاشہ آنسوں نکل پڑے تھے فارحہ اسے روتا دیکھ کر تڑپ گئ تھی
“خبردار جو تم نے کوئی آنسوں نکالے خود کے پر کٹنے والے ہیں تو میرے بھی کاٹنا چاہتی ہو ؟ تو میڈم فلحال تو صرف آپکے ہی کٹیںگے ہاں اسکے بعد میں آپکے لئے خوشی خوشی کٹوا لونگی مگر آج نہیں پلیز میرا حلیہ تو دیکھو” اس نے اسکی توجہ اپنے حلیے کی طرف لاتے ہوئے اسے مطمئن کرنے کی کوشش کی
“او کھینکیوسومچ آپی مجھے معلوم تھا آپ اپنا وعدہ ضرور نبھائیں گیں میں آج سے ہی آپکے لئے ہینڈسم سابندہ ڈھونڈنا شروع کردیتی ہو” اس نے خوشی سے اسے گلے لگاتے ہوئے کہا
فارحہ اسکی خوشی اور ایکسائنٹمنٹ پر مسکراتے ہوئے بولی”ڈھونڈ لینا بھئ پر اب تیار تو ہونے دو”۔
علینہ نے ہنستے ہوئے اسے جانے کی اجازت دی ۔ وہ کمرے سے نکلی تو اسکے کانو کے گرد ایک جانی پہچانی آواز گونجھی “ وعدہ کرو تم شادی صرف مجھ سے ہی کروگی؟ اگلی آواز اسکی اپنی تھی “میرا انتظار مت کرنا صالح میں کبھی شادی نہیں کرونگی” تمہارا نہ سہی فارحہ پر تمہاری پکار کا انتظار آخری وقت تک کرونگا ! وہ اس پر آخری نگاہ ڈال کر جا چکا تھا
مہمانوں کی آوازوں نے ہر آواز روک دی وہ اک گہری سانس لے کر اپنے کمرے میں چلی گئ
علینہ کی مہندی کا فنکشن شروع ہوچکا تھا وہ تمام مہمانوں کے بیچ چلتی پھرتی انتظامات سمبھالتی مہمانوں کو خوش آمدید کہتی ہرے اور پیلے رنگ کی قمیض اس پر ہرے رنگ کا دوپٹہ پیلے رنگ کا چوڑی دار پاجامہ پہنے ، ہلکے سے میک اپ اور سلیقے سے بندھے بالوں میں وہ سب میں نمایاں اور بے نیاز تھی
وہ سٹیج کےپاس پہنچی اب علینہ کو مہندی لگا نے کے لئے اس کے پاس بیٹھی ہی تھی کہ ایک لڑکا جلدی سے سٹیج پر پہنچ کر اس کے سامنے پاوں کے بل بیٹھ گیاقدرے بڑھی ہوئی داڑھی گھنی مونچھیں ،نیلی گہری آنکھیں ،کُرتا پاجامہ پہنے ،ہونٹوں میں گہری مسکراہٹ لئےوہ ایک پرکشش مرد تھا اور اسی کی طرف دیکھ رہا تھا اور وہ اجنبی نگاہوں سے اسے دیکھتی ہوئ پوچھنے لگی
“آپ کون ہیں ؟ اور یہاں کیوں آۓ ہیں؟ وہ یونہی اسے دیکھتا رہا اس کا مسلسل دیکھنا اسے غصہ دلا رہا تھا علینہ اس کا غصہ بھانپ کر فوراً بولی تھی “ وہ آپی یہ میرے یونیورسٹی فیلو ہیں وہاب ! میں نے انہیں انوائٹ کیا ہے”
لیکن تم نے تو مجھ سے کبھی انکاذکر نہیں کیا ؟ اس نے علینہ کی طرف حیرانگی سے دیکھتے ہوے کہا
“ارے واہ علینہ میں نے کو سوچا تھا تم نے اپنی آپی سے میرا غائبانہ تعارف کروا دیا ہوگا مگر یہاں تو مجھے کوئی جانتا ہی نہیں شرمندہ کرنے کے لئے بلایا تھا کیا؟ “ وہاب نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
“ارے نہیں ایسی کوئی بات نہیں آپ علینہ کے دوست ہیں تو انجان تو بلکل نہیں ہیں مجھے خوشی ہوئی آپ سے مل کر “ علینہ نے اچھے میزبان کے فرائض ادا کئے تھے ورنہ وہاب کا اسے دیکھنا اُسے بلکل اچھا نہیں لگا تھا
“چلیں شکر ہے آپ مجھ سے خوش تو ہوئی” وہاب ذومعنی انداز میں بولا مگر اب فارحہ اسے اگنور کرتی مہندی کے رسم ادا کر رہی تھی اسی طرح باری باری سب نے رسم ادا کی اور نئ زندگی کی دعائیں دی ۔
مہندی کا فنکشن اختتام پر پہنچا تو مہمان بھی گھروں کو جانے لگے
وہ اب سب کچھ سمیٹنے میں مگن ہوگئ تھی کہنے کو تو اپنے بہت تھے مگر والدین کے انتقال کے بعد کسی نے اپنا ہونے کا ثبوت نہ دیا تھا وہ اور علینہ اس گھر میں اکیلی رہتی تھیں فارحہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں اچھی نوکری کر کے گھر سنبھال رہی تھی اور اپنی بہن کی تعلیم سے لے کر شادی تک ساری ذمہ داریاں نبھا رہی تھی علینہ کی شادی بھی اس کی پسند سے اسکے یونی فیلو سے کروا رہی تھی اب شادی کے دنوں میں تو نگین خالہ رہنے آگئ تھی مگر اسکے بعد اس نے اس گھر میں اکیلا ہوجانا تھا
میرج ہال میں شادی ہونے کی وجہ سے آج اسے زیادہ انتظامات نہیں دیکھنے پڑھ رہے تھے اس لئے آج وہ فرصت اور اہتمام سے تیار ہوئی تھی آخر اسکی بہن کی شادی تھی لال رنگ کی فراک پر گولڈن سے کیا گیا کام نہایت خوبصورت لگ رہا تھا اسکے کھلے ہوۓبال اور بہترین میک اپ نے اس کے حسن کو چار چاند لگا دئیے تھے اور اس چاند کو خراج پیش کرتی نگاہیں بار بار بھٹک کر اسکی طرف آرہی تھی جس سے وہ بے نیاز تھی
“کیسی ہیں آپ مس فارحہ ؟ “ اسے اپنے عقب سے آواز آئ اس آواز پر وہ ایسے پلٹی تھی جیسے اسکی ہی منتضر تھی مگر سامنے وہاب کو دیکھ کر اسکی خوش فہمی ختم ہو چکی تھی
“میں ٹھیک ہوں ۔آپ کیسے ہیں؟ “ اس نے مروتً جواب دیا
“ویسے تو میں بھی ٹھیک ہوں مگر آپکو دیکھ کر اور اچھا ہوگیا ہوں” وہ مسکراتے ہوئے گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوۓ کہہ رہا تھا
“خوشی ہوئی آپکے آنے کی آئیں میں آپکو علینہ سے ملوا لیتی ہوں “ اس کی مزید باتوں سے بچنے کے لئے وہ اسے علینہ کے پاس لے گئ اور خود مہمانوں میں مگن ہوچکی تھی
رخصتی کے وقت نا چاہتے ہوئے بھی اسکی آنکھوں سے آنسوں آگئے تھے وہ خوش تھی آج وہ اپنے سب سے بڑے فرض سے آزاد ہوگئ تھی آج اسے اس کی محنت کا صلہ ملا تھا آج وہ اپنے ماں باپ کے سامنے سرخرو ہوگئ تھی وہ اس کے گلے لگ کر روئی تھی اس نے علینہ کو چپ کروا کر الگ کیا پر الگ ہونے سے پہلے وہ اسکے کانوں کے پاس کچھ کہہ رہی تھی جسے سن کر وہ کچھ دیر کے لئے سکتے میں آگئ تھی اس نے اسے رخصت کیا اسکی آنکھوں میں اب بھی آنسو آرہے تھے ناجانے یہ آنسوں کس بات پر نکلے تھے علینہ کی رخصتی پر یا اسکی آخری بات پر؟
“اب اس برسات کو روک بھی دیں کہی کوئی ڈوب کر جان سے نا چلا جاۓ” آواز اسکے کان کے بے حدقریب سے آئی اس نے پلٹ کر دیکھا وہاب اسکے آنکھوں کو بغور دیکھ رہا تھا
“اگر جان سے جانے کا ڈر کسی کو ہوگا تو وہ ڈوبنے کی غلطی نہیں کرےگا”اس نے گاڑی کی طرف پلٹتے ہوۓ کہا
“جنہیں برسات سے محبت ہو وہ اس کے پانی میں بھیگنے اور ڈوبنے کے لۓ جان کی پرواہ نہیں کرتے “ وہ اسکے پیچھے آتے ہوۓ کہہ رہا تھا گاڑی کا دروازہ کھولتے اس نے ایک نظر اسکی طرف دیکھا : کاش تمہاری آواز کے ساتھ تم بھی وہی ہوتے! وہ سوچ کر رہ گئ “ آپ سے مل کر اچھا لگا وہاب صاحب اپنا خیال رکھئے گا اللہ حافظ “ وہ اسےالوداعی کلمات بول کر گاڑی آگے لے گئ پر کسی کی مسکراتی نظروں نے دور تک اسکا پیچھا کیا تھا۔
وہ سونے کے لئے لیٹی تھی مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی اسے علینہ کی طرف سے فکر نہیں تھی وہ اپنی پسند سے بیاں کر گئ تھی اسے تو رہ رہ کر اسکی آخری بات یاد آرہی تھی جب وہ اس سے الگ ہوتے ہوۓ کہہ رہی تھی
“ وہاب بہت اچھا لڑکا ہے آپی اور آپکوں پسند بھی کرتا ہے اسکے بارے میں سوچئے گا میں جلد آپکے پر کاٹنے والی ہوں”
وہ سکتے میں آگئ تھی کیا وہ سچ میں اتنا اچھا ہے جتنا اچھا وہ تھا ؟ کیا وہ سچ میں اسے پسند کرتا جتنا وہ کرتا تھا ؟ ہاں وہ میرے پر کاٹ ہی تو دیگا میرے پر لگانے والا تو مجھے اڑنے کے لۓ چھوڑ گیا ! نہیں وہ تو چھوڑ کر نہیں گیا اسے چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا ؟ اسکی سوچ اب 6 سال پہلے جاچکی تھی



وہ اپنی کلاس کے لۓ لیٹ ہورہی تھی عائشہ کے ساتھ باتوں میں اسے ٹائم کا پتا ہی نہیں لگا وہ تیزی سے بھاگتی ہوئی یونی کی سیڑھیاں چڑھتی ہوئی کلاس کی طرف جارہی تھی کہ اوپر سے اترتے ایک سٹوڈنٹ کے ساتھ اسکی ٹکر ہوگئ تھی اسنے خود کو گِرنے سے روکنے کے لۓ اسکا بازو پکڑ لیا تھا وہ فوراً خود کو سنبھالتی اسے دیکھے بنا معذرت کرتی وہاں سے چلی گئ
گھر آکر وہ آرام کی نیت سے لیٹی ہی تھی کہ علینہ اس کے کمرے میں آتے ساتھ فرمائشی پروگرام کھول کر بیٹھ گئ
“آپی آج باہر جاکر پیزا کھاتے ہیں میرا بہت دل کر رہا ہے “ وہ اسکے پاس آکر بولی
“ علینہ میں تھوڑا آرام کرلوں پھر چلتے ہیں تم بھی جاکر یونیفارم چینج کرو ابھی تک کالج کے کپڑوں میں بیٹھی ہو” اسے کالج کے کپڑوں میں دیکھ کر اس نے ہدایت دی
اوکِ آپی میں بس ابھی چینج کر کے آئی وہ تیزی سے وہاں سے گئ اور تھوڑی دیر میں چینج کر کے اس کے سامنے تھی وہ اسی حلیے میں اس کو لے کر پیزا پوائنٹ پہنچ چکی تھی پیزا آرڈر کر کے وہ اس سے پوچھ رہی تھی “ آپی پاپا کب تک آئنیگے ؟
“بس انکی ایک دو میٹنگس رہ گئ ہیں ان سے فری ہوکر ایک ویک میں آجائنیگے” اس نے اپنے موبائیل میں ایک میسج ٹائپ کرتے ہوۓ اسے جواب دیا تھا اتنے میں آرڈر آچکا تھا موبائیل رکھ کر وہ اور علینہ پیزا کھانے لگے کھانے سے فارغ ہوکر وہ بل پے کرتی ہوئی فوراً گھر کے لۓ نکلی تھیں کیونکہ فارحہ نے کچھ نوٹس ریڈی کرنے تھے اور علینہ نے اب آرام سے سونا تھا
وہ نوٹس بناتے ایک پوائنٹ پر کنفیوز تھی اس نے سوچا عائشہ سے کال کر کے پوچھ لے لیکن اسے موبائیل نظر نہیں آرہا تھا ہر جگہ دیکھنے کے بعد بھی اسے موبائیل نا ملا تو علینہ کہ نمبر سے کال کر کے چیک کرنے لگی دوسری بیل پر کال ریسیو ہوگئ تھی اور ایک مردانہ مگر دلکش آواز اسکی سماعت سے ٹکرائی :
“ ہیلو ! کون بات کر رہا ہے ؟ وہ اسکے سوال کو نظر انداز کرتی ہوئی بولی “ آپ کون ہیں ؟ اور میرا سیل آپکے پاس کیا کر رہا ہے ؟ “ او تو یہ آپ ہیں ! اسکی آواز میں ایک خوشگواری آچکی تھی “ ڈونٹ وری مس آپ اپنا سیل پیزا پوائنٹ میں بھول چکی تھیں کل آپ تک پہنچ جائیگا آپ بےفکر رہیں “ اس نے اسے مطمئن کیا تھا “ مگر آپ مجھ تک پہنچائیں گے کیسے؟ اسے ایک اور فکر لاحق ہوئی۔
“آپ فکر مت کریں مس یہ میرا کام ہے کل صبح موبائیل آپکے ہاتھ میں ہوگا”اس نے جس یقین سے کہا تھا فارحہ مطمئن ہوچکی تھی اور اس کا شکریہ ادا کرتی موبائیل رکھ چکی تھی



وہ کینٹین میں آکر بیٹھی تھی صبح ناشتہ نا کرنے کی وجہ سے اسے بھوک لگ رہی تھی ابھی وہ آرڈر دینے ہی لگی تھی کہ اسے اپنے پاس سے آواز آئی “ کیا میں آپکو جوائن کر سکتا ہوں “
اس نے نظر اُٹھا کر دیکھا بلیک شرٹ کے ساتھ جینس پہنے ہلکی سے بیئرڈ ،سکائلش بالوں کی کٹنگ، گہری براؤن آنکھیں، ہونٹوں پر مسکان سجاۓ وہ جواب کا منتظر تھا ناجانے اس میں ایسی کیا کشش تھی کہ اس نے بے خیالی میں اثبات میں سر ہلا دیا۔
شکریہ محترمہ ! وہ خوش باش سا اسکے سامنے والی کرسی میں بیٹھ گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے آرڈر بھی دے چکا تھا وہ اسے سوالیاں نگاہوں سے دیکھ رہی تھی
“ ویسے جس طرح آپ مجھے کل نظر انداز کرکے گئ تھی مجھے لگا تھا کہ آج بھی دیکھنا گوارا نہیں کریں گی” وہ مسکراتے ہوۓ اس سے بے تکلفی سے مخاطب ہوا
“ میں نظر انداز کر کے گئ تھی؟ نہیں میں آپکو فرسٹ ٹائم دیکھ رہی ہوں” اس نے یادکرتے ہوۓ کہا
“لیکن میں آپکو تیسری مرتبہ دیکھ رہا ہوں “ وہ تھوڑا جھک کر مخاطب ہوا
“ کب؟” وہ تجسس سے پوچھ رہی تھی
“ ایک بار تب جب آپ زور دار ٹکر مار کر مجھے دیکھنے کی توفیق کۓ بنا بھاگ گئ تھی” وہ ہاتھوں سے اشارے کرتے ہوۓ اسے بتارہا تھا۔
اسکے انداز پر اسے ہنسی آگئ تھی اور کل والا ٹکراؤ بھی یاد آگیا تھا
“جی نہیں میں دراصل جلدی میں تھی اسلۓ ایسا ہوگیا” اب وہ بھی مسکراتے ہوۓ بول رہی تھی اس میں کچھ تھا جو فارحہ کو اس سے باتیں کرنا اچھا لگ رہا تھا۔
“ جی جی آپکی شترمرغ کی رفتار سے اندازہ ہوگیا تھا مجھے” اس کے جواب پر وہ بھرپور انداز ہنستے ہوۓ اس سے پوچھنے لگی۔
“ اور دوسری ٹکر کب ماری میں نے؟” وہ اسکے سوال پر ہنسنے لگا تھا اتنے میں انکا آرڑر آچکا تھا وہ سینڈوچ لیتے ہوۓ بولا “ ایک شرط بر بتاونگا” وہ اسے سوالیاں نظروں سے ریکھنے لگی “ کیسی شرط؟؟”
“ آج سے آپ روز ٹکرائینگی “ وہ چاۓ کا کھونٹ لیتے ہوۓ بولا
“ کیا مطلب؟” وہ سمجھ نہیں پائ اسکی بات
“مطلب یہ کہ آپ تین بار ٹکرا چکی ہیں آج تو سینڈوچ بھی کھلا رہی ہیں تو ہم دوست تو بن چکے ہیں نا اسلۓ دوستوں کو روز ہی ٹکر مارنی چاہیے” وہ اس کی بات پر مسکرائی تھی کتنے الگ انداز میں وہ اسے دوستی کی دعوت دے رہا تھا روز ملنے کی خواہش کا اظہار کر رہا تھا نامحسوس طریقے سے اس کے یہاں آنے کا سبب بتارہاتھا۔ وہ اس کے اس انداز سے متاثر ہوچکی تھی اس لۓ اسے اعتراز بھی نہیں تھا ویسے بھی وہ اوپن مائنڈڈ فیلمی سے تعلق رکھی تھی دوستی عام سی بات تھی۔
“ ضرور مجھے اس شرط پر کوئ اعتراز نہیں “ اس نے اپنا کپ اُٹھاتے ہوۓ اسے جواب دیا
“ زبردست ! اسی خوشی میں آپکے لۓ ایک چھوٹا سا تحفہ لایا ہوں “ وہ اپنے بیگ سے اب کچھ نکال رہا تھا۔ جیسے اسے یقین تھا کہ وہ انکار نہیں کرے گی ایک پاوچ نکال کر اسنے اسکے سامنے رکھا تھا جسے وہ دیکھ کر سوچ رہی تھی کہ اسے کیا کہنا چاہیے اب
“ اتنا مت سوچیں ہماری دوستی کی شروعات کا اک عام سا تحفہ ہے مجھے خوشی ہوگی اور اسے لینے کے بعد آپکو مجھ سے زیادہ خوشی ہوگی” وہ نا سجھتے ہوۓ اسے دیکھ رہی تھی
“ مجھے کیوں خوشی ہوگی؟”
“ وہ اسے دیکھنے کے بعد آپکو پتا چل جائیگا”
اس نے شکریہ کہتے ہوۓ وہ پاوچ اٹھایا تھا اور اسے کھولتے ہی اس کے اندر سے جو چیز نکلی تھی وہ خوشی اور حیرانی سے اسے دیکھتے ہوۓ کہنے لگی “ یہ آپکے پاس کہا سے آیا ؟”
“ آپکی دوسری ٹکر پر “ اسکے جواب پر وہ ہنس پڑی تھی اور وہ اسکے ایک ایک ایکسپریشن کو غور سے دیکھ رہا تھا
“ آپکا بہت بہت شکریہ مسٹر آپنے آج صبح ہی موبائیل مجھ تک پہنچا دیا” وہ مسکراتے ہوۓ اسے شکریہ کہہ رہی تھی اور وہ اسکی مسکراہٹ پر قربان ہوگیا تھا
“ باۓداوۓ ! میرا نام مسٹر تو بلکل بھی نہیں ہے مس ...؟ وہ اسکا نام جاننے کے لۓ رکا تھا “فارحہ” اسنے اسکا جملہ مکمل کیا
“صالح” وہ گہری مسکراہٹ لۓ اسے دیکھ رہا تھا آخر فارحہ صالح ساتھ بولا گیا تھا۔
“ بہت اچھا لگا آپسے مل کر مسٹر صالح میری کلاس کا ٹائم ہوچکا ہے میں چلتی ہوں “ وہ اُٹھتے ہوۓ اسے الوداع کہنے لگی صالح بھی اُٹھ چکا تھا “پھر ملاقات ہوگی فارحہ “ وہ الوداع نہیں دوبارہ ملنے کا کہہ کر چلا گیا اور فارحہ اپنی کلاس کی طرف۔



اور پھر روزانہ ہی وہ کینٹین میں ملتے تھے دونوں میں اچھی خاصی دوستی ہوگئ تھی یونیورسٹی کے علاوہ بھی موبائیل میں انکا رابطہ رہتا تھا کہی نہ کہی وہ ایک دوسرے سے محبت بھی کرنے لگے تھے مگر ابھی اظہار نہیں ہوا تھا شاید دونوں ہی اپنی تعلیم ختم ہونے کا انتظار کر رہے تھے کیونکہ محبت تو اک دوسرے کی آنکھوں میں وہ دیکھ چکے تھے اسلۓ ایک دوسرے کو منانے والے مرحلے سے وہ مطمئن تھے۔ صالح کی فیملی میں اسکی ایک بہن سائرہ اور اس کے والدین تھے جنہیں وہ فارحہ کے بارے میں بتا چکا تھا تانکہ آگے کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہ آۓ اور فارحہ وہ علینہ سے صالح کے بارے میں اتنی باتیں کرتی تھی کہ علینہ اپنی بہن کے دل کی آرزو جان چکی تھی اور اس کے لۓ دعاگو تھی فارحہ سے اسنے صالح سے ملنے کی کئ بار خواہش کے تھی مگر وہ ہر بار ٹال دیتی تھی لیکن اب تو اسکے پاس ایک بہترین موقع آگیا تھا جسکا وہ فائدہ اٹھاتے ہوۓ صالح سے ملنا چاہتی تھی اور اسی سلسلے میں وہ فارحہ سے بات کرنے اسکے کمرے میں آئی تھی جہاں ہو اپنی کل کے پیپر کی تیاری میں مگن تھی۔
میں نے ڈسڑرب تو نہیں کیا آپی؟ وہ اسکے پاس بیٹھتی ہوئ کہہ رہی تھی
“ارے نہیں تم مجھے کبھی بھی ڈسٹرب نہیں کر سکتی میری پیاری بہنا” فارحہ نے اس کے گال تھپتھپاتے ہوۓکہا
“ کل آپکا آخری پیپر ہے آپی آپ آزاد ہو جائنگی میں سوچ رہی تھی اسی خوشی میں گھر میں اک چھوٹا فنکشن رکھ لیا جاۓ” فارحہ اسکی بات کا مطلب اچھے سے سمجھ چکی تھی کہ وہ فنکشن کس خوشی میں رکھنا چاہ رہی تھی
“ علینہ تم بھی عجیب ہو پیپرز ختم ہونے کی خوشی میں کون پاگل کرتا ہے فنکشن “
“ ہم کرینگے آپی فنکشن ایک نئ روایت ایجاد کرینگے پلیز آپی ہمارے کھر میں کونسا کوئ بڑا بھائ ہے جسکی شادی کا انتظار کریں گے فنکشن کے لۓ اسی بہانے کو یادگار بنا لیں نا؟” وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے منا رہی تھی
“ چلو ٹھیک ہے تمہاری خوشی کے لۓ میں یہ انوکھا کام بھی کر لیتی ہوں “ فارحہ نے مسکراتے ہوۓ رضامندی ظاہر کی آخر اپنی بہن کی خواہش رد کیسے کر سکتی تھی
“ او آپی یو آر دی گریٹ سسٹر ان دِس ولڈ” علینہ نے خوشی سے اسے گلے لگایا تھا
“اچھا اب جاؤ مجھے پڑھنا ہے “ علینہ اسے چھوڑ کر چلی گئ اور وہ اپنی بہن کی معصومیت پر مسکرا رہی تھی آخر وہ اسکے امتحان کے بہانے سے اپنی سالگرہ یادگار بناناچاہتی تھی
رات کے کھانے میں وہ علینہ اور منصور احمد ساتھ بیٹھے تھے ہلکی پھلکی بات چیت کے ساتھ ساتھ کھانا کھایا جارہا تھا جب منصور احمد نے پوچھا “ اور فارحہ پھر کل تمہارا آخری پیپر ہے ؟
“جی پاپابس آپ دعا کیجیۓ گا “ اس نے دعا کی درخواست کی
“میری تو ساری دعائیں اپنی بیٹیوں کے نام ہیں “ انھوں نے دونوں کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا
“ ویسے پیپرز کے بعد کیا کرنے کا ارادہ ہے؟” منصور احمد نے فارحہ سے پوچھا
“بس پاپا پیپرز کے بعد جاب کرونگی آپ تو جانتے ہیں صرف اچھی جاب کی لالچ میں میں نے اکاؤنٹس میں ڈگری لی ہے”
“ اور شادی کے بارے میں کیا خیال ہے” منصوراحمد نے بات کا رخ بدلہ تھا شادی کی بات پر فوراً ہی اسکا دل صالح کا نام پکارنے لگا تھا وہ اپنی اندرونی حالت سے الجھ رہی تھی اور علینہ اسکی کیفیت سمجھ کر مسکرا رہی تھی
“شادی تو پاپا جاب کے بعد ہی ہوگی” اس نے نظریں جھکاتے ہوۓ کہا دل اب بھی صالح کا نام لے رہا تھا
“ چلیں پھر ہم اپنی بیٹی کی اس خواہش کے پورے ہونے کا انتظار کر لیتے ہیں لیکن اسکے بعد ہماری خواہش پوری ہوگی” منصور احمدنے کوئی اعتراز نہیں کیا تھا ویسے بھی وہ بیٹیوں کی مرضی کو اہمیت دینے والے باپ تھے
“کونسی خواہش پاپا؟” علینہ نے سمجھتے ہوۓ بھی فارحہ کو چھیڑنے کے لۓ پوچھا
“اپنی بیٹی کو دلہن بنانے والی” منصور احمد بے پیار سے اسے دیکھتے ہوۓ کہا فارحہ کا دل زور سے دھڑکا تھا بات کا موضوع بدلنے کے لۓ اس نے علینہ کی طرف حملہ کیا تھا
“ پتا ہے پاپا علینہ کچھ دن میں اس گھر میں ایک فنکشن کرنا چاہتی ہے” اب سر جھکانے کی باری علینہ کی تھی
“ فنکشن ! مگر کس چیز کا ؟” منصور احمد نے سوالیاں نگاہوں سے علینہ کی طرف دیکھا لیکن جواب فارحہ کی طرف سے آیا تھا
“میرے پیپرز ختم ہونے کی خوشی کا” فارحہ کے جواب پر منصور احمد پہلے حیران پھر فارحہ کا اشارہ سمجھ کر ہنس پڑھے تھے
“اچھا تو ہماری بیٹی پیپرز ختم ہونے کی خوشی منانا چاہتی کے؟” انہوں نے مسکراتے ہوۓ علینہ سے پوچھا
“ پاپااب کوئ تو بہانہ ہونا چاہۓ نا فنکشن کا” علینہ نے معصومیت سے جواب دیا
“ضرور کیوں نہیں ہم ایک اعلیٰ سا فنکشن کریں گے جس میں تم دونوں کے سارے دوست آسکتے ہیں “ انہوں نے یہاں بھی بیٹی کی خواہش پوری کی تھی
“ تھینک یو سو مچ پاپا پھر کب رکھ رہے ہیں ہم فنکشن ؟” اسنے ایکسائنٹمنٹ سے پوچھا
“ اسی ویک اینڈ پر ٹھیک ہے” منصور احمد نے سوچھتے پوۓ راۓ لی
“ بلکل ٹھیک ہے میں کل ہی سب کو انوائٹ کرونگی اور آپی آپ بھی سب کو بلانا باقی تیاریاں تو آپ دونوں کر ہی لینگے” علینہ نے جیسے سب کچھ تہہ کر لیا تھا
“ بلکل جی تیاریاں ہم کریں گے آپ بس مزے لینا” فارحہ کے جواب پر تینوں کا قہقہہ بلند ہوا تھا



کیسا ہوا پھر تمہارا پیپر میڈم ؟ صالح نے کرسی پر بیٹھتے ہوۓ پوچھا آج آخری پیپر یعنی یونیورسٹی کا بھی آخری دن تھا تو صالح اسے لیکر ایک ریسٹورنٹ میں آیا تھا
“ بہت اچھا مجھے یقین ہے ریزلٹ بھی اچھا آئیگا” فارحہ نے یقین سے کہا تھا
“ یہ تو بہت اچھی بات ہے لیکن اب ہمارا کیا ہوگا؟” فارحہ اسکی بات سمجھ نہیں سکی تھی
“ کیا مطلب ہمارا کیا ہوگا؟” صالح کی پریشانی اسے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ غور سے اسے دیکھ رہا تھا
“ اب ہم کیسے روز ملیں گے فارحہ کیا روز تم مجھ سے باہر مل سکوگی؟” عجیب الجھن تھی اسکے انداز میں ۔کیا مجھ سے روز ملنا اسکے لۓ اتنا اہم تھا فارحہ اس کے سوال کا جواب ڈھونڈ رہی تھی روز ملنا تو ممکن نہیں تھا آخر
“ ہم مل روز نہیں سکیں گے صالح پر موبائیل پر بات ہوتی رہے گی پھر ہم کبھی کبھی مل بھی لینگے” اس نے جیسے اسے مطمئن کرنا چاہا تھا
“نہیں فارحہ مجھے عادت ہوگئ ہے تم سے روز ملنے کی اب میں نہیں چاہتا کہ یہ ہماری آخری ملاقات ہو کیا اسکا کوئی ایسا حل نہ نکال لیا جاۓ کہ ہم آرام سے مل سکیں “ اسکا انداز معنی خیز تھا فارحہ اسکی بات سمجھتے ہوۓ گھبرا گئ تھی کیا وہ اب اصل بات پر آنے والا ہے
“ویسے آخری ملاقات کو یہ نہیں ہے ہم دو دن بعد ہی دوبارہ ملیں گے” اسنے بات زخ بدلنا چاہا تھا
“ دو دن بعد وہ کیسے ؟”
“ دو دن بعدعلینہ کی سالگرہ ہے اسی لۓ ایک چھوٹا سا فنکشن رکھا ہے گھر میں اور مجھے اچھا لگےگا اگر تم بھی آوگے تو”
“ ضرور میں ضرور آونگا اسی بہانے تمہاری فیملی سے بھی ملاقات ہو جائیگی اور وہ بھی مجھے دیکھ لینگے” اس نے آگے کی طرف جھک کر معنی خیز انداز میں کہا فارحہ نے نظریں چُرا لی تھی اتنے میں انکا آرڈر آگیا تھا اور دونوں کھانے کی طرف متوجہ ہوگۓ تھے
ڈیکوریشن کی ساری تیاریاں تو فارحہ نے ہی کی تھی اسکا پسندیدہ کام تھا گھر سجانا اور اب تو بہانہ بھی تھا علینہ کے لۓ اس نے گفٹ صالح کے ساتھ کھانے کے بعد جاکر لے لیا تھا آج صالح کے آنے سے اسے عجیب سی خوشی تھی وہ خودبھی چاہتی تھی کہ اس کے پاپا صالح سے مل لیں اسے یقین تھا صالح انہیں بہت پسند آئیگا اور وہ آئیگا بھی تو خود کو پسند کروانے ہی ۔اسی سوچ کے ساتھ اسکے ہونٹوں میں ایک دلکش مسکراہٹ آئ تھی
“ اکیلے اکیلے مسکرایہ جارہا ہے خیریت تو ہے نا؟” علینہ نے اسکے سامنے کھڑے ہوتے ہوۓکہا تھا وہ اس کی سوچوں کو اسکی آنکھوں سے پڑھ رہی تھی
“ تم بھی مسکراؤ ساتھ کس نے روکا ہے آج تو تمہارا دن بھی ہے “فارحہ نے اسے چھیڑتے ہوۓ کہا
“ میں تو مسکراتی ہی رہوگی بلکہ آج تو زیادہ مسکراو گی۔ آپ اب تیار ہو جائیں آپکےبھی دوست آنے والے ہونگے” اس نے مسکراتے ہوۓ فارحہ سے کہا
“ دوست تمہارے بھی آنے والے ہیں تم بھی چلی جاو میڈم تم نے فرصت سے تیار ہونا ہے میں تو پانچ منٹ میں ہوجاونگی”فارحہ نے جیسے اسکے اوپر بات پلٹی تھی
“ چلیں دونوں ساتھ چلتے ہیں دیکھتے ہیں کون پہلےتیار ہوتا ہے” اس نے فارحہ کو اپنے ساتھ کھینچا تھا
“ اوکے ڈن” فارحہ بھی اپنے کمرے کی طرف چلی گئ



فارحہ اور علینہ کے سارے دوست آچکے تھے لیکن ایک وہی نہیں آیا تھا جس سے ملنے کے لۓعلینہ نے اس فنکشن کا بہانہ کیا تھا اور جس کے آنے کا انتظار فارحہ کو بھی تھا سارے مہمان آچکے تھے اور کیک کاٹنے کا وقت بھی ہوگیا تھا لیکن وہ اب تک نہیں آیا تھا علینہ اور فارحہ دونوں ہی اب مایوس ہوچکی تھی اس لۓ کیک کاٹنے کے لۓ مہمانوں کو جما کر دیا گیا تھا علینہ کے ایک طرف فارحہ اور ایک طرف منصوراحمد تھے علینہ اب کیک کاٹنے کے لۓ چھری اُٹھا چکی تھی کہ کسی کی آواز نے ہاتھ روک لۓ کوئی لڑکا بھاگتا ہوا آرہا تھا اسکے ہاتھ میں ایک گفٹ تھا بلیک سوٹ میں ہلکی داڑھی میں وہ ایک شاندار پرسنیلیٹی کا مالک تھا وہ فارحہ کے پاس آکر رکا تھا
“ سوری مس علینہ میں تھوڑا لیٹ ہوگیا سالگرہ بہت بہت مبارک ہو یہ آپکے لۓ” علینہ اس شاندار بندے کو سوالیاں نگاہوں سے دیکھ رہے تھی منصوراحمد بھی پہچان نہیں سکیں تھے فارحہ نے دونوں سے مخاطب ہوتے ہوۓ تعارف کروایا تھا
“ یہ میرے یونیورسٹی فیلو ہیں صالح ! اور صالح یہ میری بہن علینہ اور یہ میرے پاپا” علینہ نے فارحہ کی پسند کو آنکھوں ہی آنکھوں میں داد دی تھی اور اسکا گفٹ شکریہ کہتے ہوۓ لے لیا تھا
“ اسلام و علیکم انکل “صالح نے انکی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوۓ کہا تھا جسے منصور احمد نے تھام کر سلام کا جواب دیا تھا
پھر سالگرہ کے تقریب شروع ہوچکی تھی منصور احمد اور فارحہ کے ساتھ ساتھ تمام دوستوں نے علینہ کو بے شمار گفٹ دیۓ تھے اب کھانے کا دور چل رہا تھا جب فارحہ صالح کو خاموش کھڑا دیکھ کر اسکے پاس آئی تھی
“ تم کھانا کیوں نہیں کھا رہے” اس نے صالح کے سامنے آکر کہا
“کوئی لفٹ ہی نہیں کروارہا مجھے کیسے کھاو کھانا” صالح اسے نگاہوں کے گرفت میں لیتے ہوۓ بولا
“سوری وہ بس میں مہمانوں میں ہی لگی ہوی تھی تمہیں ٹائم نہیں دے سکی” اس نے شرمندہ ہوتے ہوۓکہا
“ کوئی بات نہیں اب دے دو میں کونسا چلا گیا ہو” صالح نے اسکی شرمندگی دور کی تھی
“لیکن کھانا تو کھا لو “
“کھانا میں تمہارے ساتھ کھاونگا ورنہ نہیں” فریحہ نےپلٹ کر۔ علینہ کی طرف دیکھا وہ اپنی دوستوں کےساتھ مگن تھی اور منصور صاحب اپنے
“ٹھیک ہے آو یہاں بیٹھ جاتے ہیں” فارحہ نے دو کرسیوں کی طرف اشارا کیا دونوں وہاں بیٹھ چکے تھے کھانا بھی رکھ دیا گیا تھا دونوں کھانا کھا کر فارغ ہوۓ تو صالح نے اس سے کہا
“ ویسے اس سمپل حلیے میں بھی تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو” فارحہ نے نظریں جھکا کر شکریہ کہا تھا وہ بہت غور سے اس کے ایک ایک نقش کو دیکھ رہا تھا
“ میں یہاں دوبارہ آنا چاہونگا فارحہ اپنی فیملی کے ساتھ ہمیں انوائٹ کروگی نا” یہ کیسا انداز تھا اسکا؟ کیا اظہار تھا یہ ؟ کیا وہ اسکا حالِ دل جاننا چاہتا تھا؟ کیا اتنی پاکیزہ محبت ہے کے الفاظ بھی بلکل پاک چنے تھے؟ کیا اس انداز میں بھی کوئی ایسا اظہار کرتا ہے ؟ فارحہ اپنی سوچوں میں گم اسے دیکھنے میں مگن تھی کہ کچھ دیر انتظار کے بعد صالح نے اسکے چہرے کے آگے چٹکی بجائی تھی وہ چونک گئ تھی آخر اسے ہوا کیا تھا وہ سر جھکا گئ تھی
“ اسکا مطلب میں آج بہت ہینڈسم لگ رہا ہو بلکل تمہاری ٹکر کا” صالح مسکراتے ہوۓ خود کو داد دے رہا تھا وہ بھی مسکرا دی تھی
“میرے سوال کا جواب نہیں دیا فارحہ؟” وہ دوبارہ سنجیدہ ہوگیا تھا فارحہ کے لۓ جواب دینا مشکل ہوگیا تھا
“ انویٹیشن کی کیا ضرورت ہے تمہاری دوست کا گھر ہے جب چاہے آجاو اور فیملی کو بھی لے آو” اس نے خود کو نارمل کرتے ہوۓ کہا تھا ۔ ایک جاندار مسکراہٹ صالح کے لبوں پر آئ تھی آنکھیں چمک رہی تھی اسکا چہرہ اسکی خوشی کا گواہ بن گیا تھا فارحہ دھیان بدلنے کے لۓ اٹھ گئ تھی
“شکریہ فارحہ میں اپنی دوست کے پاس جلد آؤنگا” اسنے اسکے تھوڑا قریب ہوکے کہا تھا فارحہ فوراً وہاں سے چلی کئ تھی دونوں کے ہونٹوں پر دلفریب مسکراہٹ تھی جس نے علینہ کو دور کھڑے ہی سب بتا دیا تھا اسنے اپنی بہن کے لۓ دعا کی تھی۔



وہ اخبار پکڑے ہوۓ اچھی جاب پر دائرہ بناتی جارہی تھی اب اسنے کل تین جگہ جانا تھا صالح کی طرف سے وہ مطمئن ہوگئ تھی ابھی دودن پہلے ہی تو وہ اسے کہہ کر گیا تھا کہ وہ اسی کے پاس آئیگا اس نے اب نوکری کا ارمان پورا کرنا تھا اس لۓ وہ دوپہرکے کھانے کےبعد اخبار لیکر بیٹھ گئ تھی علینہ کے امتحان قریب تھے اس لۓ وہ اپنے کمرے میں پڑھ رہی تھی اتنے میں فارحہ کا موبائیل بج اٹھا اس نے دیکھا کوئی انجان نمبر تھا
“ہیلو! کون بات کر رہا ہے؟” اس نے سیدھے ہوتے ہوۓپوچھا
“مس فارحہ بات کر رہی ہیں ؟” دوسری طرف کوی مردانہ آواز تھی
“ جی پر آپ کون؟”
“ میڈم میں ہاسپٹل سے بات کر رہا ہوں آپکے والد کا بہت خطرناک ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگۓتھے ہمیں آپکا نمبر.....!! وہ نجانے اور کیا کہہ رہا تھا فارحہ کے ہاتھوں سے موبائیل گرچکا تھا اور ایک دلخراش چیخ نکلی تھی جس نے تمام ملازمیں اور علینہ کو وہاں آنے پر مجبور کر دیا تھا۔
تین دن گزر چکے تھے اور اسے احساس تک نہیں ہورہا تھا لوگ اسکے پاس آرہے تھے گلے مل رہے تھے افسوس کر رہے تھے اور واپس جارہے تھے اور وہ ایک مشین کی سی کیفیت میں جواب دےرہی تھی علینہ کا روروکربرا حال ہوچکا تھا اور اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کے وہ اسے سنبھال سکتی سب رشتہ دار افسوس کر کےچلے گۓ تھے ان اکیلی دو لڑکیوں کا خیال کسی کو نا آیا تھا آخر جوان لڑکیوں کی ذمہ داری کون لیتا ہے ؟ وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھی جب صالح کی آواز اسکے کانوں تک پہنچی تھی
“بہت اچھا کر رہی ہو تم فارحہ تمہیں یقیناً ایسا ہی کرنا چاہیے آخر تمہارے والد کا انتقال ہواہےاب تمہیں انکا ہی سوچنا چاہیے اور جہاں تک بات علینہ کی ہے اس سے توتمہارا تعلق انکل کے ساتھ ختم ہوگیا نا؟” وہ اسکی بات پر تڑپ اٹھی تھی “یہ تم کیا کہہ رہے ہو صالح وہ میری بہن ہے میری زندگی ہے اس سے میرا تعلق موت بھی ختم نہیں کر سکتی” اس نے غم اور غصے کی کیفیت میں کہا تھا
“تو یہ کیسا تعلق ہے فارحہ کے تم اپنے غم میں اتنی گم ہوگئ کہ تمہیں اپنی بہن کا خیال نہیں رہا وہ رو روکر بری حالت کر چکی ہے اپنی اس نے ایک نوالہ ہلک سے نیچھےنہیں اتارا اورتم اسکی بہن ہونے کے داویدار اپنےآپ میں مگن ہو” صالح کی بات اسے چبھ رہی تھی وہ فوراً ہی اُٹھ کر علینہ کے کمرے میں گئ تھی اب اسے علینہ کو سنبھالنا تھا اسے اسکا غم بانٹنا تھا اب ان دونوں کو ہی ایک دوسرے کا سہارا بننا تھا



اسے اپنے پاپاہی کی کمپنی میں اچھی جاب مل گئ تھی علینہ اب اسکی ذمہ داری تھی وہ اپنےپاپاکے تمام خواب پورے کرنا چاہتی تھی وہ علینہ کو اچھی تعلیم دلوانا چاہتی تھی ایک اچھے گھر میں اسکی شادی کرنا چاہتی تھی قیامت والے دن اپنے ماماپاپا کے سامنے سرخرو ہونا چاہتی تھی اوران سب ارمانوں کو پورا کرنے کے لۓ اسے اب محنت کرنی تھی کھر سنبھالنا تھا اخراجات پورے کرنے تھے اور یہ سب سالوں میں مکمل ہونا تھا تو کیا وہ صالح کو سالوں انتظار کرواۓ گی کیا اب وہ شادی کریگی؟ نہیں وہ شادی نہیں کریگی وہ علینہ کے لۓ اسکے مستقبل کے لۓ جیۓ گی وہ صالح کو انکارکر دے گی ۔

فارحہ آفس سے آکر لاونچ میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی علینہ اپنے کمرے میں تھی اسکےامتحان چل رہے تھے اتنے میں ملازمہ نے آکر فارحہ کو صالح کی آمد کی اطلاح دی وہ ڈرائنگ روم میں گئ توصالح اسے سلام کرتے ہوۓاٹھ کھڑا ہوا تھا اس نےسلام کا جواب دیکر سامنے بیٹھنے کا اشارہ کیا تھا ایک دوسرے کا حال چال پوچھنے تک ملازمہ چاۓلے آئی تھی تو صالح نے اپنی بات کا آغاز کیاتھا
“ فارحہ میں تم سےاجازت لینے آیا ہوں” وہ صالح کے بات سمجھ چکی تھی پر آج اسکا دل دھڑکا نہیں تھا آج وہ فیصلہ کر کی بیٹھی تھی
“کس بات کی اجازت؟”اس نے صالح سے پوچھا
“ اپنی فیملی کو آپ سے ملوانے کی اجازت” صالح نے جیسے بہت مناسب الفاظ میں بات کی تھی مگر اپنی بات کا وہ ردِعمل اسے فارحہ کے چہرے پر نہیں دِکھ رہا تھا جو پہلے دکھتا تھا
“ میں معذرت چاہتی ہوں صالح مگر آپکی فیملی سے نہیں ملِ سکونگی کبھی” اس نے صالح کے اوپربم پھوڑا تھا وہ فوراً اُٹھ گیا تھا فارحہ بھی اسکے سامنے کھڑی ہوگئ تھی
“یہ تم کیا کہہ رہی ہوفارحہ تم ایسے کیسے اپنی بات سے پلٹ سکتی ہو” وہ دُکھ اور حیرانگی کی حدوں میں تھا
“ پہلے کی بات اور تھی صالح وہ میری زندگی تھی یہ میری بہن کی زندگی ہے اور میں اپنی زندگی اسکے نام کر چکی ہوں میں اپنے پاپا کی ساری امیدیں پوری کرونگی جو انہوں نے علینہ سے لگائیں تھیں میں اب علینہ کے لۓ جیونگی اپنے فرائض پورے کرونگی اور ان سب میں چاہے میری عمر لگ جاۓ مجھے پروا نہیں ہے میں اب اس سے آگے خود کے لۓ کچھ نہیں کرونگی” فارحہ کا لہجہ دو ٹوک تھا اسکے الفاظ اور اسکا یقین اس بات کا گواہ تھا کہ اب وہ اس بات سے پیچھے نہیں ہٹے گی کبھی
“ہم مل کر بھی تویہ کر سکتےہیں نا” صالح نےاک امید کی نگاہ سے دیکھا تھا
“ نہیں صالح یہ صرف میرےفرائض میری زندگی کا مقصد ہے اس میں کسی کی گنجائش نہیں “ اس نے صالح کو نا امیدکردیا تھا مگر وہ اسے کھونا نہیں چاہتا تھا وہ اسکی محبت تھی
“ٹھیک ہےتمہیں جتنا وقت لینا ہے لو سالوں لگا دو میں انتظار کرونگا” وہ اسکے قریب آیا تھا اسنے فارحہ کا ہاتھ تھاما تھا فارحہ اسے دیکھے جارہی تھی جیسے یہ آخری نظر ہو
“ وعدہ کرو تم شادی صرف مجھ سے ہی کرو گی” صالح نے وعدہ طلب نظروں سے اسے دیکھا تھا
“ میرا انتظار مت کرنا صالح میں کبھی شادی نہیں کرونگی” وہ اپنا ہاتھ اسکے ہاتھوں سے نکالتے ہوۓ بول رہی تھی اور پھر اس سے رخ پھیر چکی تھی جیسے مزید اسے دیکھے گی تو ہمت ہار جائیگی
“ تمہارا نہ صحیح فارحہ لیکن تمہاری پکار کا انتظار میں آخری وقت تک کرونگا” وہ اس پر آخری نگاہ ڈال کرجا چکا تھا اسکےجاتے ہے وہ گِرنے کےانداز میں زمین پر بیٹھ گئ تھی ساری ہمت آنسوں بن کر آنکھوں سے بہہ رہی تھی آج اسنے اپنے ہاتھوں سے اپنی محبت کو الوداع کہا تھا دروازے کے پیچھے کھڑی علینہ اپنی بہن کی قربانی پر آنسوں بہا رہی تھا صالح گھر سے نکل رہا تھا علینہ اسکے پیچھے دوڑی تھی اسے معافی مانگنی تھی اسے معافی چاہیے تھی صالح سے وہ ان دونوں کی محبت کے ادھورے رہ جانے کی ذمہ دار تھی۔
اور پھر وہ کبھی نہیں آیا تھا علینہ کی تعلیم اور اسکی اچھی زندگی کے لۓ فارحہ دن رات کی محنت کررہی تھی اور وقت کا پہیہ تیزی سے چل رہا تھا۔



صبح ہوچکی تھی اور اسے اندازہ ہی نہیں تھا کہ ماضی کے اس سفر میں اسنے پوری رات آنسوؤں میں کزاری تھی وہ نماز کے لۓ اٹھی تھی نماز سے فارغ ہوکر اب اسنے کچن کا رخ کیا تھا علینہ کے سسرال ناشتہ لے کر جانا تھا وہ ملازمہ کو ہدایت دےرہی تھی نگین خالہ بھی جاگ گئ تھی انکی ایک بیٹی اور بیٹا شادی کے بعد ہی گھر جاچکے تھے نگین خالہ بھی بس ولیمہ کا ہی انتظار کر رہی تھی ناشتہ تیار ہونے تک وہ بھی تیار ہوگئ تھی تب تک نگین خالہ نے ناشتہ گاڑی میں رکھوا دیا تھا وہ بھی گاڑی میں بیٹھ چکی تھیں فارحہ آکر ڈرائیونگ سیٹ سنبھال چکی تھی۔
علینہ کا ولیمہ ایک اچھے سے ہاٹیل میں رکھا گیا تھا آج علینہ پر ٹوٹ کر روپ آیا تھا اسکا چہرہ ہی اسکی خوشی کا گواہ تھا علینہ کو مطمئن اور خوش دیکھ کر فارحہ کے دل کو بھی سکون آگیا تھا
بلیک میکسی میں سلور کام ، کھلے ہوۓ بال اور میک اپ کے ساتھ وہ بے حد حسین لگ رہی تھی دور کھڑے وہاب کے نظریں اس پر سے ہٹنے کو انکاری تھیں فارحہ دور سے بھی اسکی نظریں خود پر محسوس کر رہی تھی اور مسلسل اگنور بھی کر رہی تھی وہ علینہ کے پاس آکر بیٹھی تھی
“ پھر کیا سوچا آپی آپنے؟” علینہ نے وہاب کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا جو اسی طرف آرہا تھا
“ کس بارے میں ؟” وہ جان بوج کر انجان بن رہی تھی
“اسی ہیرو کے بارے میں جسکی نگاہیں ہی نہیں ہٹ رہی آپ پر سے” علینہ نے کندھا مارتے ہوۓ اسے چھیڑا تھا فارحہ نے ایک نظر اسے دیکھا جو اب اسکے سامنے آکر کھڑا ہوگیا تھا
“ بہت لمبی عمر ہے وہاب بھائی ہم آپکے بارے میں ہی بات کر رہے تھے” علینہ نے خوش دلی سے کہا تھا فارحہ یہاں سے چلی جانا چاہتی تھی لیکن وہ راستے میں کھڑا تھا
“ یہ تو میری خوش نصیبی ہے کے اتنے خوبصورت لوگ میرا ذکر کر رہے تھے” وہاب نے معنی خیزی سے فارحہ کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا جو انجان بنی بیٹھی تھی
“آنٹی نہیں آئی وہاب بھائی” علینہ نے پوچھا تھا
“ نہیں انکی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی تم اپنے گھر آوگی تو وہ وہیں آکر آپ دونوں سے ملیں گی” فارحہ نے نظر اٹھا کر دیکھا اسکی آنکھیں وہی مفہوم دے رہی تھی جو وہ سمجھ رہی تھی
“ ایسی باتیں تو بس اسکے منہ سے ہی اچھی لگتی تھی”وہ سوچ کر رہ گئ تھی
“ ضرور ہم انتظار کریں گے” علینہ کے جواب میں فارحہ نےگھور کر اسے دیکھا تھا اور وہ مسکرا رہی تھی


اور پھر وہاب کی والدہ اور انکی بہن اسکے گھر آگئ تھی لیکن فارحہ کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ آج ہی اصل بات پر آجائنگی انہیں تو پہلی ہی نظر میں فارحہ پسند آگئ تھی اور انکا ارادہ تو جواب لیکر جانے کا تھا مگر فارحہ کے خیال سے علینہ اور ساحل (اسکا شوہر) نے سوچنے کا ٹائم مانگ لیا تھا اب علینہ فارحہ کومنانے اسکے کمرے میں گئ تھی جہاں وہ سوچوں میں گم تھی
“وہاب بھائی کے بارے میں سوچ رہی ہیں آپ؟” اس نے فارحہ کے پاس بیٹھتے ہوۓ پوچھا
“علینہ تمہیں جلدی کس بات کی ہے ؟” وہ افسردہ تھی اور علینہ وجہ جانتی تھی
“ جلدی نہیں آپی یہ تو بہت سال پہلے ہوجانا چاہئے تھا لیکن آپنے اپنے فرائض کے لۓ میری لۓ اپنے بارے میں نہیں سوچا لیکن اب وقت آگیا ہے کہ میں بھی اپنا فرض ادا کروں اور میں آپ ہی کی بہن ہوں آپی ہر حال میں کرونگی” علینہ کا لہجہ بہت پختہ تھا وہ جانتی تھی اب انکار کی وجہ نہیں ہے
“ لیکن وہاب کے معاملے میں تم جلدی نہیں کر رہی ؟” اسے اب یہی راستہ نظر آیا تھا
“ بلکل بھی نہیں میں اسے کئ سالوں سے جانتی ہوں اور سب سے بڑی بات وہ آپ سے محبت کرتا ہے اور محبت کرنے والے کو مایوس کرنا تو زیادتی ہے نا آپی؟” علینہ کے جملے پر اسکا دل ملامت پر آگیا تھا ایسی زیادتی تو وہ سالوں پہلے کر چکی ہے اسکی آنکھوں میں نمی آئی تھی علینہ اسکی وجہ جانتی تھی اس نے فارحہ کا ہاتھ تھاما تھا وہ علینہ کی طرف متوجہ ہوی تھی
“ محبت بار بار دستک نہیں دیتی آپی ایک بار چلی جاۓ تو لوٹ کر نہیں آتی اسے سمیٹ لیں آخر کسی کو اسکی محبت دلوا کر انسان پُرسکون ہوجاتا ہے” فارحہ اسے دیکھ رہی تھی پر سوچ کہی اور تھی “سچ ہی تو کہہ رہی ہے محبت ایک بار چلی جاۓ تو واپس نہیں آسکتی اسکی محبت بھی تو چلی گئ بلکہ اسے تو خود بھیجا تھا اس نے اور اب یہ محبت اسکا کیا؟ آخر کسی کو تو اسکی محبت ملنی چاہیۓ نا فارحہ کوئی تو خوش رہے” اسکے دل نے اسے جواب دیا تھا اور وہ مان گئ تھی
“ٹھیک ہے علینہ لیکن میں پہلے وہاب سے ایک بار ملنا چاہتی ہوں” اس نے سوچ لیا تھا وہ یہ محبت سچ بتا کر حاصل کرے گی
“ مجھے پتا تھا آپی آپ میری بات ٹال ہی نہیں سکتیں اور وہاب بھائ سے آپکی ملاقات آپکی مہندی والے دن ہوجائیگی” علینہ کی بات پراسے کرنٹ لگا تھا
“مہندی؟”وہ حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی
“ جی آپی تین دن بعد آپکی مہندی ہے مجھے معلوم تھا آپ مان جائنگی اور وہاب کی ماما کو بھی جلدی تھی تو ہم نے شادی کی ڈیٹ فکس کر لی تھی مہندی والے دن ہی آپ دونوں کا نکاح ہوگا اور اس سے پہلے میں آپکی ملاقات کروا دونگی” علینہ بہت مزے سے اسے بتا رہی تھی اور وہ حیرت کی انتہا پر تھی اتنا کچھ ہوگیا اور اسے خبر ہی نہیں” علینہ تم نے یہ...” اس سے پہلے کی وہ آگے کچھ کہتی علینہ کان میں انگلی ڈالتے ہوۓ کمرے سے جاچکی تھی اور وہ اب اپنے آنسوؤں کے ساتھ تنہا تھی

گھر پھولوں سے سج چکا تھا علینہ نے کمال کی ڈیکوریشن کی تھی مہمان بھی آنا شروع ہوگۓ تھے پر اسے ان سب چیزوں میں کوئ دلچسپی نہیں تھی اسے تیار کرنے بیوٹیشن کو گھر بلایا گیا تھا اور وہ غیر جذباتی انداز میں تیار بھی ہورہی تھی اس کے چہرے میں خوشی یا غم دونوں ہی جذبات نہیں تھے اور علینہ تیاریوں میں اتنی مگن تھی کہ اس نے فارحہ پر توجہ ہی نہیں دی تھی وہ بیوٹیشن کے جانے کے بعد خود کو آئینے میں دیکھ رہی تھی کہ علینہ اسکے کمرے میں داخل ہوئی
“ماشااللہ ! آپی آپ تو آج ہی اتنی حسین لگ رہی ہیں کل تو وہاب بھائی پر قیامت کا سماں ہوگا” اس کےچھیڑنے والے جملوں پر بھی اس کے چہرے پر کوئی چمک نہیں آئی تھی
“چلے آپکو کچھ دکھانا ہے” وہ اسے لیکر کمرے سے باہر نکلی تھی اب اسے وہ گھر کے پیچھے کے طرف والے حصے میں لے آئی تھی یہ حصہ خاص طور پر سجایا گیا تھا پھولوں اور لائٹس کی روشنی نے اسکے خوبصورتی مزید بڑھا دی تھی علینہ اسے چھوڑکر چلی گئ تھی اور اسے سمجھ نہیں آرہا تھاکہ وہ اسے یہاں کیوں لائی تھی وہ واپس جانے کے لۓ پلٹی تھی کہ کسی کے بازو سے ٹکرائی تھی اس نےنظر اٹھا کر دیکھا سامنے وہاب تھا جو گہری نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا وہ دو قدم پیچھے ہوئی تھی
“ علینہ نے بتایا آپ مجھ سے ملنا چاہتی ہیں “ وہ ہاتھ باندھے اسے دیکھتے ہوۓ پوچھ رہا تھا فارحہ نے اپنے تمام الفاظ جمع کۓ تھے
“جی میں شادی سے پہلے آپکو کچھ بتانا چاہتی ہوں” اس نےنظریں جھکاتے ہوۓ کہاتھا
“کہیں میں سن رہاہوں” وہ بہت اطمینان سے اسکی بات سننے کو تیار تھا فارحہ نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور پہلی ٹکر سے لے کر آخری ٹکر تک کی کہانی سنا دی تھی وہاب اسے ویسے ہی دیکھ رہا تھا دو قدم اسکے قریب آیا تھا
“ کیا آپ اس سے محبت کرتی تھیں؟” فارحہ نے نظر اٹھا کر دیکھا وہ بہت سنجیدہ تھا
“ ہاں” زندگی میں پہلی بار اپنی محبت کا اقرار زبان سے کیا تھا اس نے وہ بھی کس سے ؟ اسکی آنکھوں میں آنسوں آگۓ تھے
“ کیا آپ آج بھی اس سے محبت کرتی ہیں “ وہ ایک قدم اور قریب آیا تھا اب وہ اسکےبے حد قریب تھا وہ ایک قدم پیچھے ہوئی تھی
“ہاں اور آخری سانس تک کرونگی” اس نے نظر جھکا کر کہا
“ اور میں آخری سانس تک تمہاری ہر پکار سنونگا “ اسنے ایک قدم اور بڑھایا تھا فارحہ نے حیرت سے نظر اٹھائی تھی یہ لہجہ یہ آواز یہ جذبات وہ لاکھوں میں پہچان سکتی تھی کیا اسکے کانوں کو دھوکا ہوا تھا وہ بہت غور سے اسے دیکھ رہی تھی وہاب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی اس نے اس کے چہرے کے سامنے چُٹکی بجائی تھی وہ جیسے ہوش میں آئی تھی
“اسکا مطلب میں آج بہت ہینڈسم لگ رہا ہوں بلکل تمہارے ٹکر کا” وہ دلکش مسکراہٹ لئے تھوڑا جھک کر بو لا تھا
“صالح” اسکی حیرت نے زبان کو بس اتنا ہی بولنے کی اجازت دی تھی
“ شکر ہے تم نے پہچان لیا ورنہ مجھے تو لگا تھا مجھے اپنی شادی میں بھی یہ نکلی داڑھی ، یہ مونچھیں ،اور یہ لینس لگانے پڑینگے” اس نے ایک ایک چیز ہٹاتے ہوۓ کہا تھا اب اسکا اصل چہرہ سامنے آچکا تھا وہ بے اختیار اسکے سینے میں سر رکھ کر رورہی تھی اور اب اسے مُکے مارتے ہوۓکہہ رہی تھی
“ بہت بُرے ہو تم صالح اتنے دنوں سے ڈرامے کر رہے تھے ذرا خیال نہیں آیا میرا؟” صالح نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا اور اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بول رہا تھا
“تمہارا خیال نہیں تمہاری محبت نے کروایا سب۔تم نے سوچ کیسے لیا کہ میں اپنے علاوہ کسی اور کا ہونے دونگا تمہیں ؟ میں نے کہا تھا نا آخری سانس تک انتظار کرونگا تو دیکھوں میں آج آگیا میرا انتظار ختم ہوا تماری محبت مکمل ہوی” فارحہ اسکی سچائ اسکی محبت پر خود پر رشک کر رہی تھی
“آئی لو یو صالح” پہلا اظہار اپنی محبت سے
“ آئی لو یو ٹو فارحہ “ اس نے اسے اپنے قریب کیا اور اس کے ماتھے پر اپنے پیار کی مہر لگائ تھی
“ اگر سارے راز فاش ہوگۓ تو اب چلیں مولوی صاحب انتظار کر رہے ہیں” علینہ کے آواز پر دونوں ایک دوسرے سے دور ہوۓ تھے
“ایک تو تمہاری اس بہن نے اتنے سالوں تک میرا دماغ کھایا اور اب اتنے حسین وقت میں بھی آسیب بن کر نازل ہوگئ ہے” صالح نے علینہ کو چڑایا تھا
“ اور یہ حسین وقت بھی میری ہی بدولت آیا ہے ورنہ آپ دونوں تو قربانی کی بیل اور گاۓ بننے کے شوقین تھے” علینہ نے بھی حساب برابر کیا تھا
“ جی جی سالی صاحبہ آپکے احسان مند ہیں ہم” صالح نے سر جھکا کر سینے میں ہاتھ رکھ کر کہا اسکے انداز پر تینوں ہنسنے لگے تھے اور پھر اس طرف چلے گۓ جہاں نکاح خواہ انکا منتظر تھا ۔
ختم ‌‌شد!‏‌
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 737 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ujala

Read More Articles by Ujala: 2 Articles with 1546 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
good story .i enjoyed reading
By: Fouzia Malik, Gujrat on Sep, 19 2019
Reply Reply
0 Like
Language: