عوام کا احساس

(Haq Nawaz Jillani, Islamabad)

تحریک انصاف کی حکومت کو آئے ہوئے اب سال ہونے والا ہے ۔ اس ایک سال میں حکومت نے کون کون سے کام کیے جس کا براہ راست فائدہ غریب عوام کو ہو تا ہو ان پر ان شاء اﷲ زندگی رہی تو کالم لکھتا رہوں گا لیکن آج صرف بالکل غریب لوگوں کیلئے شروع کیے جانے والے پروگرامز پر بات کروں گا کہ ایک تو پناگا ہیں پنڈی اسلام آباد، لاہور ،پشاورمیں بنائے گئے ہیں تو دوسرا سب سے بڑا کام یا پروگرام ’’ احساس پروگرام‘‘ ہے جسکی وجہ سے عام غریب لوگوں کو جہاں پر اس پروگرام کے تحت تحفظ، مالی معاونت یعنی کفالت،معذوروں ، یتیموں ،بوڑھوں اور مزدوروں کیلئے مختلف قسم کی امداد اور تعاؤن کیا جائے گا وہاں پر اس پر وگرام کے ذریعے معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے ملک میں غربت کی سطح کیا ہے ، عام آدمی کو کیا کیا پر یشانی یا مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کیلئے حکومت کو اس مدمیں زیادہ سے زیادہ تعاون کی ضرور ت ہے ۔’ احساس پروگرام ‘جس طرح نام سے ظاہر ہے کہ اہمیت کا حامل ہے اس سے پہلے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام بھی کا فی اہمیت کا حامل پروگرام شروع ہے جس میں جہاں غریب لوگوں کو براہ راست مالی مدد ملی وہاں آج بھی ضرورت ہے کہ بالکل نئی سروے سے اس پر وگرام کی رجسٹریشن کی جائے تا کہ زیادہ سے زیادہ غریب اور حقدار لو گوں تک اس پروگرام کا فائدہ یعنی مالی امداد پہنچے۔ مشاہدہ میں آیا ہے کہ بی آئی ایس پی پر وگرام چونکہ ایک سیاسی مقصد کیلئے بھی شروع ہوا تھا جس میں زیادہ تر پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے ممبران کو اس وقت فارم ایشو ہوئے تھے جن میں زیادہ تر ان لوگوں نے رشتہ داروں میں تقسیم کیے تھے اور یہ بھی حقائق موجود ہے کہ اس میں غریبوں سے زیادہ تر مالدار یاوسائل رکھنے والے لوگ مستفید ہورہے ہیں لیکن غریبوں کی تعداد کم ہونے کے باوجود یہ ایک اچھا پروگرام عالمی سطح پر گن جاتا ہے ۔ جس پر پہلے میں کئی دفعہ لکھ چکا ہوں کہ اس پروگرام کو کس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے یا عالمی سطح پر اس کی پذیرائی کس طرح ممکن ہے کہ عالمی امدادی ادارے اس میں پاکستان کی مدد کریں لیکن آج سوچ یہ تھی کہ تحریک انصاف کی حکومت نے نیا پروگرام جس کو وزیراعظم عمران خان بھی بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں اس پروگرام کا مقصد جو بتایا جا تا ہے اس کو پورا کرنے کیلئے جہا ں حکومتی فیصلوں کی اہمیت ہے وہاں پر اس پروگرام کو چلانے والے افراد پر بھی فرض ہے کہ اس پروگرام کے تحت ہونے والے اقدامات جس طرح تحفظ، کفالت ، بوڑھوں ، یتیموں ، معذروں،بے کسوں ، اور مزدورں کی امداد اور رہنمائی بھی کرنی ہے اس پروگرام پر مکمل عمل ہو نا چاہیے تاکہ عام غریبوں لوگوں کی مدد یقینی طور پر ممکن بنا یا جاسکیں۔

ہماری ملک کی بدقسمتی یہ بھی رہی ہے کہ حکومت اس طرح پروگرام شروع کر دیتی ہے لیکن اس پر عمل اس طرح نہیں کیا جاتا جس طر ح پروگرام کا مقصد یا جس کے لئے بنا یا کیا ہوان کو فائدہ دیا جائے۔ جس کی براہ راست ذمہ داری اگر حکومت یا چلانے والے اداروں کی بنتی ہے وہاں پر عام لوگوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ حکومتی اداروں کو غلط معلومات نہ دی جائے ۔صرف حقدار لوگوں کو آگے لائے جائے تاکہ غریبوں کی حقیقی معنوں میں مدد ہوسکیں ۔ حکومتی اداروں کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ ڈسٹرکٹ ، تحصیل سطح پر عوام کی رہنمائی کی جائے جس کیلئے میڈیا کا سہار ا بھی لیا جاسکتا ہے کہ مختلف علاقوں میں آگاہی پروگرام منعقد کریں کہ عام غریب لوگ کس طرح اس پروگرام سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔

پی ٹی آئی حکومت خاص کر وزیراعظم عمران خان نے ہمیشہ اپنے تقریروں میں یہ کہا تھا کہ جب تک غریب عوام کی حالت تبدیل نہیں کی جاتی یعنی ان کا سٹینڈر آف لائف تبدیل نہیں کیا جاتا اس وقت کوئی بھی ملک ترقی نہیں کرسکتا ۔ غریب کی زندگی بہتر ہوگی تو ملک ترقی یافتہ ہو گا جس کیلئے وہ ہمیشہ مختلف طریقے بھی بتا تا رہتا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان کو لوگو ں نے ملک کو بہتر کرنے یا تبدیلی کیلئے اسلئے بھی ووٹ دیا ہے کہ وہ عام آدمی کی بات کرتا رہا ہے کہ عام لوگوں کی زندگی بہتر ہو لیکن آج ایک سال کی حکومت میں بعض ایسے فیصلے کیے گئے ہیں جس کی وجہ سے مہنگائی بہت زیادہ ہوئی ہے عام آدمی پریشان ہے جس کا حکومت کو بھی علم ہے اس پر ان شاء اﷲ آئندہ تفصیل سے کالم لکھوں گا ۔ آج حکومت کا شروع کردہ ’احسا س پروگرام‘ پر لکھنا ضروری اسلئے سمجھا کہ اب تک حکومت نے اس کے بارے میں آگاہی شروع نہیں کی کہ عام آدمی کس طرح اس پروگرام سے فائدہ اٹھا سکتا ہے جس کیلئے ایک خطیر رقم یعنی 193 بلین روپے بجٹ میں رکھے گئے ہیں ۔اس کو جلد از جلد شروع کرنا چاہیے لیکن میرٹ کو ملحوظ رکھنا بھی بہت ضروری ہے جس میں بغیر پارٹی تفریق کے عمل ہونا چاہیے ۔ماضی میں ہم نے دیکھا کہ سیاسی لوگ صرف اپنی اپنی پارٹیوں کو نوازتے رہے ہیں۔ کوئی بھی پروگرام اس وقت تک صحیح طور پر کامیا ب نہیں ہوتا ہے جب تک اس میں رنگ نسل ، پارٹی بازی اور سیاست بازی سے ہٹا کر میرٹ پر فیصلے نہ ہو ۔

پی ٹی آئی حکومت کا الیکشن میں وعدے یا منشور ہی عام لوگوں کی بہتری کیلئے تھا جس پر ایک سال میں عمل ہمیں صرف بڑ ے شہروں میں غریب مزدورں کے لئے پنا گاہیں بنانا نظر آئی ہے جس میں رات گزارنے کے ساتھ ساتھ کھانے اور دواکی بھی سہولت موجود ہے ۔ اس کو تمام شہروں میں پھیلانا چاہیے ۔ یہ غریب لوگوں کو کتنی سہولت ہے اس کا انداز ہ وہ آدمی لگا سکتا ہے جو خود مزدور اور غریب ہو ، وہاں پر مسافر یا مزدور سے پوچھیں تو کچھ انداز ہ ہوجا تا ہے کہ بڑے شہروں میں اس کو جلد ازجلد وسعت دینا چاہیے تا کہ دن بھر مزدوری کرنیوالے لوگ سڑ کوں پر سونے کی بجائے ان پناگا ہوں میں مقیم ہو ۔

احساس پر وگرام کو جس طرح نام سے ظاہر ہے اس کو تمام متعلق لوگ غریبوں ،بے کسوں اور لاچاروں کا احسا س رکھا کر کام کریں تو یہ ملک میں غریبوں کی بہتری کیلئے بہت بڑا گیم چینجر ثابت ہوسکتا ہے لیکن بات وہی ہے کہ اس پر وگرام کو سیاست سے ہٹا کر دیکھنا چاہیے جس میں غریبوں کیلئے بہت کچھ ہوسکتا ہے ۔ اس پر وگرام میں بہت سے ادارے بھی شامل ہوسکتے ہیں جو غریب بے روزگار، مرد ،خواتین، نوجوانوں کو جاب ،انٹرنشپ سمیت فائدہ دے سکتی ہے۔ حکومت کو اس پر وگرام کو کامیا ب بنانے کیلئے ضلعی سطح پر کام کرنے کی بھی ضرورت ہے جہاں ہر ضلع میں اس کا دفتر موجود ہوتاکہ عام لوگوں کی رہنمائی اور مدد ممکن ہو جائیں۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 165 Print Article Print
About the Author: Haq Nawaz Jillani

Read More Articles by Haq Nawaz Jillani: 265 Articles with 102088 views »
I am a Journalist, writer, broadcaster,alsoWrite a book.
Kia Pakistan dot Jia ka . Great game k pase parda haqeaq. Available all major book shop.
.. View More

Reviews & Comments

Language: