اسٹیٹس اپڈیٹ

(Fatima Qureshi, Hyderabad)

صباح نے سیل فون پر چھ ماہ بعد اپنے شوہر سے علیحدگی کے بعد فیس بک آن کی تھی وہ بہت سے تفکرات رنج و غم میں گھرے ہوئے نیوز فیڈ پر اپنی انگلی گھماتے ہوئے اسکرولنگ ہی کر رہی تھی کہ اس کی نظر اپنی سہیلی کے اپلوڈ کیے ہوئے اسٹیٹس Eating '' Pizza and having Coffee '' پر پڑی جس نے اسے ایک لمحے کے لیے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ وہ اپنے شوہر سے علیحدگی کے بعد بچوں کے ساتھ ایک بار بھی آؤٹنگ کرنے نہیں گئی اور نہ ہی ہوٹلنگ کی،

یہ سب سوچتے ہو وہ خود سے ہم کلام ہویی،

'' ایک زمانہ تھا جب میں اور بچے بھی اسی طرح اسد کے ساتھ سیر سپاٹے کرتے تھے بڑے بڑے فائیو اسٹار ہوٹلز اور ریستوران میں طرح طرح کے نت نئے مزیدار کھانے کھاتے تھے،
اور آج یہ حال ہے کے میں اور میرے بچے بغیر بھگار کی دال کھانے پر مجبور ہیں ''(پھر بھی اللہ تیرا شکر ہے)

ابھی صباح یہ سب سوچ ہی رہی تھی کہ نیوز فیڈ پر شو ہو تے ہوئے اگلے اسٹیٹس نے اس کے غم میں مزید اضافہ کردیا جب اس نے اپنی سہیلی اور اس کے خاوند کی کھلکھلاتی سیلفی دیکھی جو انہوں نے امریکی میں ہالیڈیز پر مناتے ہوئے لی تھی، یہ دیکھ کر وہ بے ساختہ خود کلام ہوئ،

'' آہ یہ دونوں ماشاءاللہ سے کتنے خوش ہیں کاش میں بھی اسی طرح خوش رہ سکتی اور پھر یہ سب سوچ کر صباح دکھ، تکلیف اور غموں کے سمندر میں ڈوبتی چلی گئی........

صباح ہر گز کسی حسد یا جلن جیسے منفی جذبات کا شکار نہیں تھی، پر تھی تو وہ گوشت پوست کی انسان، غم کی جیتی جاگتی تصویر،

ہمارے معاشرے کا یہ ہی المیہ ہے کہ ہم سوشل میڈیا پر کوئی کوئی بھی اسٹیٹس اپلوڈ کر دیتے ہیں یہ سوچے بغیر کے ہمارے ارد گرد بسنے والے لوگ کن حالات اور کیفیات کا شکار ہیں اور کن تلخ تجربات سے گزر رہے ہیں، آخر ہمارا بظاہر چھوٹے سے نظر آنے والا فعل کے کیا ثمرات ہو سکتے ہیں اور وہ کس کس کی راتوں کی نیند حرام کر دینے کا باعث بن سکتے ہیں،

اسٹیٹس اپلوڈ کر نا کوی معیوب بات نہیں لیکن بات وہی کہ زندگی کے ہر معاملے میں اعتدال پسندی کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے،کم از کم اسٹیٹس اپلوڈ کرنے سے پہلے اس بات کا خاص خیال رکھا اور تعین کیا جائے کہ آپ کے سوشل سرکل میں ایڈ فرینڈز کے معاشی اور گھریلو حالات کیسے ہیں،(بے جا ریا کاری سے پرہیز کیا تو ہی بہتر ہے)

تاکہ ہمارا کوئی اسٹیٹس یا کوئی اپڈیٹ کسی کی دل آزاری کا باعث نہیں بنے،

اللہ ہم سب پر رحم فرمائے آمین!
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fatima Qureshi

Read More Articles by Fatima Qureshi: 3 Articles with 2604 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Jul, 2019 Views: 726

Comments

آپ کی رائے