انسان کو عزت دو

(Shahzad Khan Rind, Multan)

"اگر عظمت کی بلندیوں کو چھونا چاہتےہو تو اپنے دل میں انسانیت کیلئے نفرت نہیں محبت پیدا کرو. اسلام میں انسانیت کا درس دیا گیا ہے اور اپنے اندر دوسروں کیلئے احساس اور ہمدردی پیدا کرنے کا حکم دیا ہے. آج ہمارا معاشرہ جس نہج پر پر ٹھہرا ہے اسے بربادی کی طرف جانے سے کوئی نہیں روک سکتا. ہمیں آدم سے انسان بننے میں بہت وقت لگے گا. ہمارا معاشرہ اس المیہ سے گزر رہا ہے جہاں کسی کو پرواہ نہیں کوئی بھوک سے مر جائے کوئی سردی میں سڑک کےکنارے بیٹھا مر جائے. ہمارے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی آخر کیوں؟ ہم ایسے تو نا تھے ہمارا دین اس کے بر عکس تعلیماتِ دیتا ہے. ہجرت مدینہ جیسی مثالیں پیش کرتاہے. جب انصار نے اپنے مہاجر بھائیوں کو جائیدادوں میں حصہ دار بنایا. اس مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا اور دکھ درد بانٹے. ہم اس مقام پر کیوں ہیں؟ یہ ہمارے اخلاقی اقدار کی پستگی کی واضح دلیل ہے. ہم نے دین اسلام کو چھوڑ کر دنیا کو ترجیح دی. جس معاشرے میں غریب کو اسکا حق نہ ملے وہ فرعون کا معاشرہ ہوتاہے. آج غریب کو وقت پر اجرت نہیں دی جاتی جو سراسر زیادتی ہے اس انسان کے ساتھ جو اپنے بچوں سے وعدہ کر کے آتا ہے شام کو کھانا لاؤ گا. جب خالی ہاتھ جاتا ہوگا کبھی سوچا اس کے دل پر کیا گزرتی ہوگی. وہ بچوں کو کیا منہ دیکھاتا ہوگا؟ نہیں ہمیں تو مل جاتی نا وقت پر روٹی ہم کسی کی خبر کیوں لیں. مجھے اس وقت ایک پلیٹ سالن کی اہمیت کا پتہ چلا جب اخبار میں لکھا ہوا آنکھوں سے گزرا جس میں باپ نے ہی اپنے اولاد کو بھوک لگنے پر یہ کہہ کر زہر پلائی کہ آئندہ بھوک نہیں لگے گی. سوچیں وہ باپ کتنا بے بس ہوگیا ہوگا؟ کاش جو دیگیں جو ہم ختم کل پر دیتے ان لوگوں کی وہ ہی خوراک وہی کھانے جیتے جی ان کو کو دے آتے شاید وہ بھوک سے نا مرتے.
عجب رسم ہے چارہ گروں کی محفل میں"
لگا کے زخم نمک سے مساج کرتے ہیں
غریب شہر ترستا ہے اک نوالے کو
"امیر شہر کے کتے بھی راج کرتے ہیں
. .
سردی کی رات میں کسی سڑک کے کنارے مرنے والے بزرگ کو مہنگے کفن تو پہنادیتے ہیں. کاش ہم نے اس کو پہلے ہی آسرا دیا ہوتا اس کیلئے کوئی اچھا سا بندوبست کیا ہوتا وہ کیوں مرتا؟ ہم ہر انسان کی قدر اس کے مرنے کے بعدہی کیوں کرتے ہیں. اشاروں پر پانچ روپےکے عوض کوئی چیز بچنے والے بچے کو دیکھنا اس کا دل بھی چاہتا ہوگا وہ کھیلنے جائے سکول جائے؟ لیکن اس بےحس معاشرے کی بےحسی نےاس سے جینے کا حق چھین لیا ہے.

کسی مفکر نے کیا خوب کہا تھا "غریب کی جوانی، جنگل کا پھول اور سردیوں کی چاندنی یوں ہی بیکار جاتی ہے.
جس کا ایک ہی بیٹا ہو بھوکا آٹھ پہروں سے"
" بتاؤ اہلِ دانش تم وہ گندم لے یا تختی لے۔؛

جو پانچ روپے کے عوض ایک پنسل خریدنے پر ہماری منتیں کرتا پھرتا ہے.جسے ہم بچے سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں وہ اکثر گھروں کے بڑے ہوتے ہیں.اشاروں پر ٹھہرے بزرگ خواتین یا مردوں سے جب پھول یا. کچھ بھی جو بیچ رہے ہوتے ہیں نا خریدیں تو ان کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟ کبھی سوچا ہے وہ یہ کام بنگلے بنانے یا آسائشوں کیلئے نہیں کررہے ہوتے بلکہ وہ اپنے بھوک سے بلبلاتے بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے کررہے ہو تے ہیں. . خدارا ان لوگوں سے بغیر ضرورت کے بھی خرید لیا کریں کچھ کیونکہ یہ لوگ بھیک مانگنے کی بجائے حلال رزق کو ترجیح دیتے ہیں. حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ" تمھارے نفس کی تسکین کیلئے اتنا کافی نہیں کہ رب نے تمھیں دینے والا بنایا ہے مانگنے والا نہیں
اگر کسی کی بھی مدد کرنی ہے تو چپکے سے کر دیں.. ان کی عزت نفس کا خیال رکھا کریں.ہمارے معاشرے میں زکوۃ کا نظام ختم ہو کر رہ گیا ہے. اگر معاشرے میں دولت کی غیر مساوی تقسیم ہوگی تو واضح ہے کہ کئی برائیاں جنم لیں لیتی ہیں. اگر مزدور کو وقت پر اجرت نہیں ملے گی یا اتنا نہیں دی جائے گی کہ زندگی کا پہیہ چل سکے تو وہ اس کے پاس دو ہی چیزیں ہیں یا وہ بچوں سمیت خودکشی کر لے گا پا پھر ناجائز طریقے سے پیٹ پالنے کی کوشش کرتے ہیں. ان یتیم بچوں پر جن کا باپ ان کو کم عمری میں چھوڑ کر چلا گیا ان کے سر پر دست شفقت نہیں رکھیں گے تو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا. ہمیں چاہیے ہم اپنے ہمسایوں کا خیال رکھیں. اگر کوئی بھوکا رہ گیا ہو تو کھانا مہیا کریں. حق العباد کا ہم سے سوال ہونا ہے.

"اگر کوئی شیعہ سنی بریلوی یا دیوبندی ہے حتی کہ وہ" غیرمسلم ہےوہ اسکا خود جوابدہ ہے. اگر آپ کا ہمسایہ بھوکا رہ گیا تو آپکو حساب دینا ہوگا . نوکروں سے ملازموں سے انس سے کام لینا چاہیے. اگر ان سے کوئی غلطی سرزد ہو بھی جائے تو درگزر کردینا چاہیے تاکہ اسکی عزت نفس مجروح نہ ہو. ان کے ساتھ اخلاق سے پیش آئیں ان کو انسان ہونے کا پورا حق دیں جس طرح اسلام نے دیا ہے. ہمارے معاشرے کا یہی مقصد ہونا چاہیے ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں. مشکلات میں ایک دوسرے کا ساتھ نہ چھوڑیں. ضرورت مند لوگوں کا خیال رکھا جائےان کی ضرورت وقت پر پوری کی جائے. غریبوں کیلئے ہمدردانہ رویہ اپنایا جائے..ہمیشہ ان کی مدد کی جائے. اپنے اندر انسانیت کا درد پیدا کیا جائے. تب جاکر معاشرہ سیدھی ڈگر پر رواں دواں ہو سکے گا. تب جاکر اس معاشرے کی تکمیل ہوگی جس کا حکم دیا گیا ہے. ہمارا اس پیغام کو سمجھیں تاکہ کچھ بہتری اسکےاور ہم بہتری کی طرف گامزن ہو سکیں. انسان کو عزت دو ان کے ساتھ براری کا رویہ اپناؤ".


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahzad Khan Rind
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Jul, 2019 Views: 438

Comments

آپ کی رائے