دلِ نادان

(Ayesha Malik Gulzar, Karachi)

ایک چُلبُلی سی لڑکی جو گھنٹوں اکیلےبیٹھی رہے تو اُسے کسی کے ہونے یا نہ ہونے سے فرق ہی نہیں پڑتا۔۔وہ اپنی ہی دنیا میں مگن اس قدر رہتی تھی کہ اُسے یہ احساس کبھی نہیں ہوتا تھا کہ وہ اکیلی ہے۔۔وہ اکثر لوگوں کی بھیڑ سے گھبرا جاتی تھی اس لئے وہ اکیلا رہنا ہی پسند کرتی تھی۔۔وہ اپنے خاندان کی اکلوتی بیٹی تھی۔۔۔ اس کے ناز نخرے سب اٹھایا کرتے تھے وہ بہت زیادہ ضدی تھی جو چیز اُسے پسند آجاتی وہ ہر حال میں اس کو حاصل کرتی۔اُسے مختلف قسم کے ملبوسات زیب تن کرنے کا بہت شوق تھا۔۔بعض بچے تو اکلوتے ہونے پر خوش ہوتے اگر اسے کوئی یہ کہہ دیتا کہ تم اکلوتی ہو اپنے خاندان کی تو وہ احساس کمتری کا شکار ہو جایا کرتی تھی۔۔اس کی کوئی اور بہن نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس غم میں اکثر نڈھال رہتی تھی۔۔اس کا مزاج ایسا تھا کہ اس کے لبوں سے نکلے الفاظ کبھی کسی کے لیے غم کے باعث نہ بنے تھے۔۔وہ جتنی شوخ چنچل تھی اتنی ہی وہ نازک مزاج بھی تھی۔اور وہ اکیلی بیٹھی اکثر خود سے باتیں کرتی رہتی تھی۔اور اسے شعر و شاعری اقوال اور ڈائری لکھنے کا بہت ہی شوق تھا۔اکثر وہ تنہا بیٹھی شاعری لکھتی رہتی تھی۔۔مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھنے والی لڑکی جٍسے یونیورسٹی جانے کا بے حد شوق تھا۔۔مگر وہ پڑھائی میں کمزور ہونے کی وجہ سے تین سال سے اس موقع کو حاصل کرنے میں ناکام ہو رہی تھی۔۔اور دوسری جانب اُس کے گھر والوں کو اُس کی شادی کی فکر لاحق ہو رہی تھی۔۔اکثر اس کے گھر والے اس کو سمجھا رہے ہوتے تھے کہ وقت پر شادی کر لینی چاہیے لڑکیوں کے لئے یہی صحیح ہوتا ہے اور آج کا دور ایسا ہے کہ لڑکے والوں میں لڑکا چاہے چالیس سال کا ہو پر لڑکی ان کو سولہ سے بیس سال کی چاہیے ہوتی ہے۔۔اور اس کا شرارتی انداز میں جواب یہ ہوتا کہ اچھا اب آپ چالیس سال کے انکل کو لڑکا بتا رہی ہیں اب ایسا بھی تو نہیں ہوتا ہوگا اور پتہ نہیں وہ کون سے ماں باپ ہو نگے جو اتنی بڑی عمر کے آدمی کو اپنی 15 سے 20 سالہ لڑکی دے دیتے ہو نگے۔
امی:-تم کو کیا پتا نایاب آج کے دور میں ایک اچھا اور مخلص رشتہ ڈھونڈنا کتنا مشکل ہو چکا ہے۔نایاب تم سے بات کرنا بالکل ایسا ہے جیسے پتھر پہ سر کو پٹخنا۔۔
چچی:-کیونکہ اس نے کبھی کسی کی سنی نہیں ہمیشہ اپنی ہی منواتی آئی ہے تو اب اس کی عادتیں پکی ہو چکی ہیں کہ اس کی عادتوں کو ختم کرنا ناممکن ہو گیا ہوا ہے۔۔
نایاب:-تو چچی آپ کا کہنا یہ ہے کہ میری عادتیں اچھی نہیں ہیں یہ بات کہہ کر تو آپ نے میرا دل ہی توڑ دیا۔
چچی:-ارے نہیں میں نے یہ کب کہا ہے اب تم خود سے باتیں مت بنایا کرو الٹی سیدھی تم تو ہماری جان کا ٹوٹا ہو۔۔تمہارے لئے کوئی پیارا سا شہزادہ ہم ڈھونڈکے رکھ لیں گے۔۔
نایاب:-شرارتی انداز میں ویسےچچی اس کی ضرورت کبھی پیش نہ آتی اگر آپ وقت پر شادی کر لیتی تو آج میرے لیے شوہر گھر پہ ہی ہوتا۔۔ آپ لوگوں کو باہر ڈھونڈنا نہ پڑتی۔اب آپ لوگوں کو ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ہے میں خود ہی دیکھ لوں گی۔۔
چچی:- ہلکی سی مسکراہٹ دیتے ہوئے۔روک جاؤ ذرا بتاتی ہوں تمہیں میں پاگل لڑکی۔۔
نایاب:-اچھا خیر آج سب لوگ میرے لیے دعا کرنا آج میرے امتحان کا رزلٹ آنا ہے تو اللہ کرے میں اس دفعہ ضرور کامیاب ہو جاؤ تاکہ میں یونیورسٹی جا سکوں اپنے شوق کو پورا کروں۔۔سب کا نعرہ میرے لیے دعا میں ایک ساتھ ہونا چاہیے۔اللہ مجھے کامیاب کرے۔۔سب بولیں آمین۔
سب:-آمین...ھمیشہ خوش رھو آباد رہو..
نایاب:-میں آپ سب کی بہت تہے دل سے مشکور ہوں میں جب بھی آپ کو دعا کے لیے بولتی ہوں آپ لوگ مجھے خوش اور آباد کی دعا دیتے ہیں میں آپ کی بہت شکر گزار ہوں۔۔یہ کہتے ہوئے نایاب اپنی جگہ پر چلی گٸی جہاں وہ اکثر بیٹھا کرتی تھی ان کے گھر میں ایک کونے پر بہت بڑا درخت تھا۔۔جس کے ساتھ میں ایک کمرہ بنا ہوا تھا اور اس کی چھت پر ایک جگہ کونے میں چھاؤں کے نیچے ہوا لیتےہوئے اکیلی بیٹھی شاعری لکھتی رہتی تھی۔۔اور یہی جگہ اس کی پڑھنے کی تھی یہی وہ کھیلتی تھی۔۔آج میں کوئی چند اشعار لکھ لوں پھر کل سے میں ایک نئی امید کے ساتھ یونیورسٹی میں داخلے کے لئے جاؤں گی۔۔مجھے اللہ پر پورا بھروسہ ہے اس دفعہ مجھے ضرور کامیابی ملے گی۔۔
شاعری:-
میری نظریں تلاشتی ہیں اسکی ایک جھلک کو
اور وہ بے خبر ہے جانتا ہی نہیں میرے درد کو۔۔
صبح سے شام کرتی ہوں اس کی جستجو کہ
کیا کرتا ہوگا وہ بھی اپنے لبوں سے میری گفتگو
شاعری:-
پھر بھی کرنا پڑے گا مجھے انتظار
ہم کیسے بتائیں کہ کتنا ہے ہمیں پیار

چپ ہےلب مگر کرنا چاہتی ہیں نگاہیں دیدار
ہمیں یاد ہے وہ لمحے کہ کیسے ہوا تھا اظہار

اب دل میں شوربرپا ہے کہ لوٹ آئے وہ بہار
ہم تمنا ہے ان کی اور وہ ہیں ہمارے طلبگار

قول:-
عشق کیا ہے
اس کو سمجھنے کے لیے پہلے انسان عشق کے عین کو سمجھے پھر شین اور قاف کو سمجھیں،
عین سے مراد عزت دینا جو ہر کسی کے ظرف کی بات نہیں ہوتی،
اور شین سے مراد شک کے زہر سے بچنا،
جبکہ قاف سے مراد قیامت تک عشق کی قسم نبھانا ہوتا ہے۔۔
جیسے ہی میں نے اپنے اس قول کو پورا کیا مجھے چچی کی آواز آئی نا یاب نیچے آؤ تمہارا امتحان کا رزلٹ آگیا ہے ہمیں دیکھ کر بتاؤ کہ تمہارا کیا رزلٹ آیا ہےکامیابی ہوئی کہ نہیں۔میں وہاں سے بے ساختہ بھاگتی ہوئی دوسری چھت پر گئی اور کمرے سے ہوتے ہوئے سیڑھیوں سے بھاگتے ہوئے نیچے اتری اور کمرے میں جاکر ہی سانس لیا۔۔میں نے جلدی سے کمپیوٹر چلایا۔۔چاچی پھوپھی امی اور آنٹی سب میرے ارد گرد جمع ہو گئے اور میرے ہاتھ کپکپاتے ہوئے کمپیوٹر کے کی بورڈ اور ماؤس کو چلا رہے تھے۔چچی مجھے کہنے لگی جلدی کرو کہیں لائٹ نہ چلی جائے یہ وقت لائٹ جانے کا تھا۔۔
چچی کا یہ کہنا تھا کہ چلا ہوا کمپیوٹر بھی بند ہوگیا کیونکہ بجلی چلی گئی تھی۔۔اور میں بے اختیار رونے لگ گئی۔۔سب مجھے سمجھائیں کہ تھوڑا صبر کر لو جہاں اتنا صبر کیا ہے مگر میرا دل کہاں سمجھنے والا تھا اب تو مجھے ہر حال میں اپنے امتحان کا رزلٹ دیکھنا تھا اور ان میں نے رو رو کے اپنا برا حال کر لیا تھا چچی نے چاچو کو فون کرکے سب بتایا توچاچو اپنا کام وغیرہ چھوڑ کر گھر آئے اور انہوں نے اپنے موبائل کے ذریعے سے میرے رزلٹ کو کھولا اور جب میں نے اپنا ریزلٹ دیکھا تو میرے دل کو جیسے سکون آیا کیونکہ اس دفعہ میں کامیاب ہوگئی تھی اور مجھے اس بات کی بے انتہا خوشی تھی۔۔اور میں نے شکرانے کے دو نفل ادا کیے۔۔میں بہت خوش تھی کیوں کہ کل مجھے ابو نے یونیورسٹی لے کر جانا تھا میں نے اپنا داخلہ کروانا تھا ۔۔اور اس لیے بھی خوش تھی کیوں کے میں نے پہلی دفعہ جانا تھا مجھے یونیورسٹی جانے کا بہت شوق تھا۔۔۔اب سوچنے والی بات ہے یہ آتی ہے کہ بنا دیکھے یونیورسٹی سے اتنا لگاؤ ۔۔
میں ٹی وی ڈراموں کے ذریعے سے یونیورسٹی کی زندگی کو دیکھا تھا اس لئے میرے دل میں یونیورسٹی جانے کا بے انتہا شوق پیدا ہو چکا تھا۔۔اور یہ شوق اس حد تک تھا کہ میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ میں اسی وقت اُڑ کر یونیورسٹی چلی جاؤں۔۔خوشی میں۔۔میں اپنے گھر کے آنگن میں جھوم رہی تھی.
پھر میں اپنی جگہ پر چلی گئی اپنی ڈائری لے کرجہاں میں ہمیشہ بیٹھتی ہوں۔میں آج اپنی ڈائری میں ایک سچ لکھنے جا رہی ہوں میرےدل کی اصل خواہش کیا ہے اُس کو بیان کر رہی ہوں۔دراصل مجھے یونیورسٹی جانے کی خواہش اتنی شدت سے کیوں ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسا کہ مجھے فلموں ڈراموں کا بہت شوق ہے خاص طور پر وہ فلمیں اور ڈرامے جو محبت پر مبنی ہوتے ہیں۔۔میری خواہش ہے کہ کسی فلم کی طرح میں بھی جب یونیورسٹی جاؤں تو میری زندگی میں بھی کوئی شخص ایسا آئےجو مجھے بے انتہا چاہتا ہو اور میرا ساتھ نبھائے۔۔میرے دل کا حال میں کسی کو بھی نہیں بتا سکتی کیونکہ نہ تو کوئی سننے والا ہے اور اگر ہوتا بھی تو میں کسی کو نہ بتاتی۔۔ڈائری میں لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ جب وہ میری زندگی میں آجائے اور اس کے بعد میں اس کو اپنی یہ ڈائری پڑھ کر سناؤں۔
بے تاب لمحوں کی اذیتیں کچھ یوں ہیں دلِ نادان
رات کی سرگوشی میں اک پرندہ دربدر ہو جیسے
آج تو جیسے میرا وقت ہی نہیں گزر رہا انتظار ہے تو بس کل کے آنے کے وقت کا کے کب یہ وقت گزرے اور کل کا دن آئے اور میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش پوری ہو۔۔اتنے میں ابو مٹھائی لے کر آگئے اور مجھے آواز لگائی میں چھت سے دوبارہ نیچے آئی۔میں نے ابو کو گلے لگایا پھر میں نے اور ابو نے ایک دوسرے کو مٹھائی کھلائی ابو بھی بہت خوش تھے اور میں بھی بہت خوش تھی۔۔
ابو نے جب میرے ہاتھ میں ڈائری دیکھی تو مجھ سے پوچھا کہ میری پیاری بیٹی کو بھی ڈائری کا شوق ہے مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا۔۔۔جی ابو جان مجھے ڈائری کا شوق ہے اور یہی میری ہم راز بھی ہے۔۔
ابو:- شام ہوگئی ہے،میری بیٹی نے کچھ خریدنا تو نہیں ہے کل ویسے بھی میری بیٹی نے یونیورسٹی جانا ہے میرے ساتھ اپنا داخلہ لینے۔۔
نایاب:- تو ابو کیوں نہ ہم بازار سے ہو کر آتے ہیں اگر کچھ مجھے پسند آئے گا تو میں خرید لوں گی۔۔
ابو نے میری ہاں میں ہاں ملائی اور میں اور ابو بازار کے لیے نکل گئے۔۔
بازار میں داخل ہوتے ہی میری نظر چوڑیوں پر پڑی تو میں نے ابو سے کہا وہ دیکھیں چوڑیاں مجھے رنگ برنگی چوڑیاں خریدنی ہے۔۔چوڑیاں خرید نے کے بعد وہ چوڑیاں آدمی میرے ہاتھوں میں ڈالنے لگا مگر پھرابو نے اپنے ہاتھوں سے میرے ہاتھوں میں چوڑیاں پہنائیں۔۔۔پھر ابو نے کہا میری لاڈو بیٹی کے ہاتھوں میں تو یہ چوڑیاں بہت ہی جج رہی ہیں بہت ہی پیاری لگ رہی ہیں۔۔میں نے مسکراتے ہوئے ابو کا ہاتھ پکڑا اور اشارے سے کہا کہ وہاں گول گپے بہت مزے کے لگتے ہیں چلے ابو وہاں جا کرگول گپے کھاتے ہیں۔۔ابو نے سر ہلایا ہم کول کپےوالے کے پاس جا کر بیٹھ گئے اس نے ہمیں ایک پلیٹ گول گپے دیےجو میں نے ابو کے ساتھ مل کر کھائےاور اس کے بعد میں نے ایک اور پلیٹ کھائی۔۔پھر میں نے ابو سے کہا کہ ہم ایک نظر سوٹ کی دکانوں پر مار لیتے ہیں اگر مجھے کوئی سوٹ پسند آیا تو میں ایک سوٹ خریدلوجو میں کل پہن کر جاؤں گی۔۔ابو نے جواب دیا اور کہا کہ ہماری خوشیاں تو تم سے وابستہ ہیں تمہیں جو خریدنا ہے میری لاڈلی بیٹی خرید لو اسی لئے تو ہم یہاں آئے ہیں۔۔گھومتے پھرتے سوٹ پسندکرتے بہت ہی اندھیرا ہو چکا تھا اور آخر کار مجھے ایک سوٹ پسند آ ہی گیا۔۔ اور میں نے وہ خریدا پھر میں اور ابو گھر کو واپس چلے گئے اور گھر پہنچے تو گھر میں سب پریشان بیٹھے ہوئے تھے۔۔اس لئے کیونکہ کافی اندھیرا ہو چکا تھا اور گھر والے گھبرا گئے تھے کہ ابھی تک نہیں آئے پتا نہیں کیا مسئلہ ہوگیا ہے۔۔
نایاب :-سب سن لیں گھبرانے کی ضرورت کیا تھی جب پتا تھا۔میں اور ابو بازار گئے ہیں تو اس میں پریشانی والی کیا بات تھی..اب چلیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ہم لوگ آ گئے ہیں نہ گھر میں اب سونے جا رہی ہوں کیونکہ میں نے تو گول گپے کھا لیے۔اس لیے میرا پیٹ بھرا ہوا ہے اور مجھے اب بھوک نہیں ہے۔۔یہ کہہ کر میں اپنے کمرے میں چلی گئی اور اپنا سامان رکھا اور شیشے میں خود کو دیکھ کر مسکرارہی تھی۔۔پہلے سے موجود میرے پاس جُھمکے میں نے اٹھا کر کانوں پر لگائیں اور پھر میں نے خیال کیا کہ میں بہت پیاری لگوں گی۔۔ کل بس جلدی سے آ جائے اور یہ سب سامان ایک جگہ پر رکھ کر میں سونے کے لئے چلی گئ۔

صبح نماز کے وقت اٹھی اور نماز ادا کری اور قرآن مجید کی تلاوت کر کے پھر سو گئ۔۔اور جب آنکھ کھلی تو دس بج چکے تھے۔۔میں نے جب ٹائم دیکھا تو اپنی اوڑی ہوئی چادر کو سائیڈ پر پھینکتے ہوئے باہر کی طرف گٸی۔اور چِلاتے ہوئے کہا چچی امی پھپھوآپ لوگوں نے مجھے اٹھایا کیوں نہیں آپ لوگوں کو پتہ ہے نہ میں نے یونیورسٹی جانا تھا۔میں جب صبح اٹھی تھی تو آپ لوگ مجھے سونے نہیں دیتے بلکہ ڈانٹ کر بٹھاتے کہ آج تم نے جانا ہے۔تم نے اب سونا نہیں ہے اپنی پہلے کی روٹین کو تمہیں بدلنا ہوگا۔مگر مجال ہے کسی نے ایسا کچھ کیا ہو۔
پھپھو:-بھابھی اس بات پر مجھے ایک محاورہ یاد آ رہا ہے الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ۔
نایاب:-پھوپھو میرا نہ صبح صبح موڈ خراب کرنے کی ضرورت نہیں ہیں۔۔آپ اپنے گھر کیوں نہیں چلی جاتی۔۔آ کر پتہ نہیں کیوں ہمارے گھر میں ڈیرہ جمایا ہوا ہے۔۔۔
امی:- نایاب تم لاڈپیار میں بِگڑ گئی ہو بڑوں سے ایسے بات کرتے ہیں۔۔
نایاب:- امی آپ تو چپ ہی ر ہے آپ سے تو میں نے اس بارے میں کوئی بات ہی نہیں کی۔میرا موڈ خراب کرنے کی ضرورت نہیں ہے میرا موڈ پہلے سے بہت خراب ہے۔
ابو :- کیا ہوگیا ہے میری گڑیا رانی کے موڈ کو کس نے خراب کردیا ہے صبح صبح میری لاڈو کا موڈ۔۔
نایاب:-دیکھے ابو میں کمرے سوٹ کر اب سب سے پوچھ رہی تھی کہ مجھے کیوں نہیں اٹھایا تو پھوپھو مجھے اُلٹی سیدھی باتیں کہہ رہی ہیں۔۔
ابو:- باجی میری بیٹی کو کچھ مت کہا کرو گھر میں کوئی بھی اس کو کچھ نہیں کہہ سکتا اس بات کو یاد رکھیں۔۔ سب اب ٹھیک ہے لاڈو خوش ہو اب چلو اب تیار ہو جاؤ یونیورسٹی نہیں جانا۔۔
نایاب :-جی ابو میں پندرہ بیس منٹ میں تیار ہو کر آئی۔۔
پھر میں اندر گئی اور تیار ہوئی جو بھی سامان تھا وہ اپنے پاس رکھ لیا اور باہر آئی۔۔تو ابو نے سوال کیا کہ میری لاڈو بیٹی نے ناشتہ بھی کیا ہے کہ بس ایسے ہی جارہی ہے بیٹی گھر سے کچھ کھا کر جاتے ہیں۔۔اگر نہیں کھایا تو چلو آجاؤ میرے پاس میں بھی ناشتہ ہی کرنے والا ہوں۔مل کر ناشتہ کرتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں۔۔میں نےاور ابو نے ناشتہ کیا اور یونیورسٹی کے لیے نکل گئے میرا دل زور سے دھڑک رہا تھا۔۔ ایک مجھے بہت خوشی تھی کہ آج میرا خواب پورا ہونے جارہا ہے اور دوسرا مجھے تھوڑی گھبراہٹ ہو رہی تھی کیونکہ سب نئے لوگ اور نئی دنیا پتہ نہیں سب کیسا ہوگا۔۔
کراچی یونیورسٹی کا بڑا سا بورڈدیکھ کر میرے دل کو بڑی تسلی ہوئی۔۔جب اُدھر کی بھیڑ دیکھی تو ایسا محسوس ہوا جیسے سارے کالجوں کے بچے اِدھر ہی آکر کھڑے ہوگئے ہوں۔۔ابو نے موٹر بائیک پارک کرنے کے لیے گئے۔ جبکہ مجھے انہوں نے کہا کہ تم چلو اندر جب میں اندر یونیورسٹی کے داخل ہوئی تو ایک گروپ لڑکوں کا جن کی نظر مجھ پر پڑی ان میں سے ایک لڑکا بولا کہ دیکھو بھائی یونیورسٹی میں اب گوار لوگ بھی آئیں گے۔۔میں نے جب اپنے اردگرد غور کیا تو صرف چند ایک لڑکی نے اپنا قومی لباس پہنا ہو گا۔البتہ کوئی چینز شرٹ پہن کر آیا ہے کوئی جینز اور کمیز پہن کے آیا ہے گلے میں دوپٹہ سر پر کسی ایک کا بھی دوپٹہ نہ تھا۔۔
کچھ دیر غور و فکر کرنے کے بعد میں اُن لڑکوں کے گروپ کے پاس گٸ اور جس لڑکے نے مجھے گوار کہا تھا میں نے ڑیڈ شرٹ والے بھائی سے اُسے مخاطب کرتے ہوئے کہا، مجھے ایک بات بتائیں ہم یہاں تعلیم حاصل کرنے آئے ہیں کسی فیشن شو میں نہیں آئے۔ آپ اپنے اِردگرد گِرد نظر دوڑائیں ان میں سے ایک بھی لڑکی اگر آپ کی بہن ہوتی تو کیا آپ چاہتے کہ وہ ایسے ملبوسات زیب تن کرکے یونیورسٹی میں پڑھنے کے لئے آتی۔۔آپ تو یہ سوچنا بھی گوارا نہیں کریں گے۔۔ٹھیک کہہ رہی ہوں نا ۔ویسے میں ایک اور بات یہ کہنا چاہتی ہوں کہ آپ کو آج میں گوار تو لگ رہی ہوں لیکن کل کو جو آپ نے شادی کرنی ہے نہ تو آپ کو پردہ کرنے والی لڑکی چاہیے ہوگی نہ کہ جینز شرٹ پہننے والی۔۔اُس لڑکے کے ساتھ جو لڑکے کھڑے تھے انہوں نے میرے لیے تالیاں بجائیں اور میں وہاں سے گُزر کر آگے چلی گئی۔
جب میں ایڈمیشن ایریا کی طرف پہنچیں تو ابووہاں پہلے ہی بینچ پر بیٹھے ہوئے تھے ابو دوسرے رستے سے وہاں آکر بیٹھ گئے تھے۔میں نے ابو کو ہاتھ ہلاتے ہوئے ہائے کا اشارہ کیا۔۔اور اشارے سے انہیں کہا کہ میں اس طرف جا رہی ہوں۔پھر آپ کے پاس آتی ہوں۔۔
دو کاؤنٹر سے چکر لگانے کے بعد مجھے پتہ چلا کے آج میشن کا کاؤنٹر کس سائیڈ ہے تو پھر میں ایڈمیشن کے کاؤنٹر پر گئی تو وہاں سے فارم لیا۔۔فارم لینے کے بعد میں اپنے ابو کے پاس گئی۔۔پھر میں نے ابو کو بتایا کہ ابھی مجھے یہ فارم فِل کرنا ہوگا۔۔ اس کے بعد آپ مجھے پیسے دے دیجئے گا تاکہ میں نا فارم کے ساتھ فیس جمع کروا دو اور میرا آج کے آج کا کام ختم ہو جائے۔۔ابو نے گردن ہلا کر ہاں کہا اور میں نے اپنا فارم فِل کیا اور اس کے ساتھ ساتھ دوسرے ڈاکومنٹس ہونے تھے وہ ساتھ میں لے کر ابو سے پیسے لیے اور کاؤنٹر پر جاکر لائن میں کھڑی ہو گئی۔۔ابھی میں تیسرے نمبر پر تھی کہ کچھ ہی لمحوں میں وہ لائن اتنی لمبی ہو گئی کہ پیچھے مڑ کر دیکھو تو دیکھتے ہی جاؤ کے پیچھے تک اتنی قطار میں بچے کھڑے تھے۔۔میں نے اپنے دل کو تسلی دی اللہ کا شکر ادا کیا کہ میرا نمبر تیسرا ہے کیونکہ جس کا آخری ہوگا۔اس کا بھی بڑا ہی حوصلہ ہوگا جو اتنی لمبی قطار میں سب سے آخر میں کھڑا ہوا ہے۔۔اتنی لمبی قطار میں کھڑے ہوکر تو ویسے انسان کی ٹانگوں کا کباڑا ہو جائے۔۔پہلی والی کے جب ڈاکومنٹس چیک ہوئے تو اُس میں پِرینٹنگ ہلکی ہونے کی وجہ سے سر نے اس کے فارم کو واپس کر دیا اور کہا جاؤ دوسری فوٹو کاپی کروا کے لے کے آؤ ڈاکومنٹس میں ٹھیک پرینٹنگ نہ ہونےکی وجہ سے داخلے میں مسئلہ بن سکتا ہے۔۔وہ بیچاری منہ بنا کر فوٹوکاپی کی دکان کی طرف چل دی۔۔دوسری لڑکی کے ساتھ کچھ ایسا ہوا کہ اس کے ڈاکومنٹس میں ایک شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی موجود نہیں تھی اِس وجہ سے اُس کے بھی فارم اُس کو واپس مل گئے۔۔ اور جب میری باری آئی تو سر کو کسی کا فون آگیا تو وہ فون میں مصروف ہوگئے۔۔جبکہ میں بھی گھبرا گئی تھی کہ اگر میرے بھی فارم مجھے واپس مل گئے تو دوبارہ سے لائن میں لگنا پڑے گا اور لائن اتنی لمبی ہے کہ اتنا کھڑا ہونے کا میرے پاس حوصلہ نہیں۔۔۔فون کے دورانیہ میں ہی سرنے میرے فورم لئے اور بے دھیانی میں فارم کوٹِک لگاتے ہوئے سر نے مجھے میرے ہاتھ میں ایک چِیٹ دی۔ اور مجھے جانے کا اشارہ کردیا۔۔میرے دل میں خیال آیا کہ اس سے پہلے کے سر کا فون بند ہو میں یہاں سے جلدی چلی جاتی ہوں۔اور میں وہاں سے جلدی سے نکلی تو مجھے پیچھے سے کسی نے آواز دی ایکسکیوز می مس تو میں نے کہا لو کوئی نہ کوئی میرے فارم میں بھی خرابی نکل ہی آۓ ہے۔۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ کوئی اور لڑکا تھا جس کے پاس میرا ایک پیپر گِرگیا تھا اور اس نے مجھے وہ پیپر اٹھا کر دیامیں نے جلدی سے وہ پیپر لیا اور وہاں سے جانے کی۔۔میں ابو کے پاس گئی اور ابو نے مجھ سے پوچھا ہوگیا کام تو میں نے کہا ہوگیا ہے چلے اب گھر چلتے ہیں۔۔اچھا لاڈو تو تم ایک دن میں تھک گئی ہویونیورسٹی میں،میں نے کہا نہیں ایسی کوئی بات نہیں ابو۔۔میں تو ایسے ہی کہہ رہی تھی کہ ابو نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے باہر لے کر جارہے تھے۔۔تو جب ان لڑکوں کے قریب سے گزری تو پھر وہی لڑکا بولا دوسروں کو بھاشن دینا آسان ہے اور خود عمل کرنا بہت مشکل۔۔میں نے اُن کی بات کو اِگنور کرتے ہوئے ابو کے ساتھ آگے نکل گئی اور ابو نے مجھے اَشارے سے کہا بیٹی وہ تمہارا بس اسٹاپ یہاں سے بس تمہیں گھر پر چھوڑے گی اور گھر کے پاس جوروڈ ہے تمہیں وہاں سے بیٹھنا ہوگا اور یہاں پر آکر تمہیں بس اُتار دے گی۔۔میں نے مسکرا کر جواب دیا ابویہ تو بہت آسان ہے۔۔۔چلو بیٹی میں ایسا کرتا ہوں آج تمہیں یہی چھوڑ دیتا ہوں اور تم یونیورسٹی کے اندر گھوم لو دیکھ لو سمجھ لو اور پھر یہی سے گاڑی میں بیٹھ کر گھر آ جانا۔۔میں نے کہا چلیں یہ ٹھیک رہے گا میں یونیورسٹی دیکھ لیتی ہوں کہ میری جماعت کس سائیڈ پر ہے اور آگے پیچھے گھوم پِھیر لیتی ہوں۔ آپ گھر جائیں میں پھر یہیں سے بس میں بیٹھ کر آجاؤں گی۔ تاکہ مجھے اندازہ ہو جائے۔۔میں نے ابو کو خدا حافظ کہا اور یونیورسٹی کے اندر دوبارہ داخل ہوگٸی۔۔چلتےچلتے نہ جانے کب میں پارکنگ ایریا کی طرف چلی گئی۔اور جب اور جب مجھے اس چیز کا اندازہ ہوا تو میں پیچھے مڑ نے ہی والی تھی کہ میں نے دیکھا ایک بلی کا بچہ روڈ کے بیچ میں کھڑا ہے یہ پارکنگ کی جگہ ہے تو میں نے خیال کیا کہ کسی گاڑی کے نیچے نہ آ جائے ۔ا اسی لئے میں نے اُس بلی کے بچے کو سائیڈ پر کرنے کا فیصلہ کیا تو میں فوراً آگے بڑھی اور اس بلی کے بچے کو زمین سے اُٹھا ہی رہی تھی کہ پیچھے ایک زوردار گاڑی کاھارن بجا جو میرے کانوں کے پردوں کو چیرتے ہوئے دور تک سناٹا کر گیا۔۔ایک دم مجھے سمجھ میں نہ آیا کہ یہ ہوا کیا ہے ۔گاڑی کی ہلکی سی ٹکر نے میرے ہوش اُڑا کر رکھ دیئے اور چند ہی منٹوں میں زمین پر گِری ہوئی تھی۔اور وہ شخص جو گاڑی چلا رہا تھا اس نے گاڑی کے شیشے کو نیچے کیا باہر منہ نکال کر کہنے لگا کہ آپ کو دکھائی نہیں دیتا اندھی ہوگئی ہیں۔۔اتنے میں چند ہی منٹوں میں ہی لوگوں کی کتنی بھیڑ جمع ہو گئی۔بھیڑ والے بھی مدد کرنے کی بجائے اپنے فون کھول کر کوئی تو تصویریں بنانے لگا ہوا تھا۔۔ اور کوئی ویڈیو بنانے لگا ہوا تھا مگر میں نے اپنا منہ ڈھانپ رکھا تھا۔۔اور حد یہ ہوئی کے ایک بھائی نے تو یہاں تک کہہ دیا باجی آپ اپنا کپڑا منہ سے تھوڑی دیر کے لئے ہٹائیں گی۔۔تاکہ آپ کی تصویر ٹھیک سے آئے۔۔پھر میں نے منہ سے کپڑا ہٹایا بلکہ دوپٹے کو ایک سائیڈ پر سیٹ کرتے ہوئے میں نے کمر پہ ہاتھ رکھا اور سٹائل سے تصویریں بنوانے لگ گئی۔۔دو پوس دینے کے بعد میں نے ایک آدمی کو کہا کہ ابھی اور پوس بدلو کیا اگر آپ چاہتے تو کوئی اور دوسرے شخص سے کہا میں مسکراتی ہوں ساتھ میں یہ پیر کی بھی ذرا تصویر لیجئے گا۔۔وہ دو تو شرمندہ ہوکر چلے گۓالبتہ تصویریں دوسرے لوگ پابندی سے بناتے رہے پھر میں نے وہاں کھڑے تمام لوگوں کو مخاطب کرکے بولا کیا آپ لوگ چاہتے ہیں کہ میں کھڑے ہو کے بھی تصویروں کے لیے پوس دو تو میں کھڑے ہو جاتی ہوں
گاڑی والا لڑکا ڈر کے مارے ہی گاڑی سے نکل آیا کہیں اور کوئی مسئلہ نہ بن جائے۔۔
گاڑی سے اُترا اور میرے پاس آکر ہاتھ آگے بڑھایا۔لڑکے کے میرے پاس آنے تک سب لوگوں کی بھیڑ ختم ہوچکی تھی کیونکہ میں نے ان کی اچھے سے کلاس لے لی تھی۔اور لڑکا میرے پاس آکرکہنے لگا ۔لگتا ہے آپ اکیلی ہیں اس لئےچلیں میں آپ کی پٹی کروا دیتا ہوں جو بھی چوٹ آپ کو آئی ہے۔
اور میں اُس لڑکے کو دیکھ رہی تھی۔اور مجھے یوں لگا کہ جیسے میں چاہتی تھی ویسا ہی ہو رہا ایک خوبصورت لڑکا جو کہ میرے آگے ہاتھ کیے مجھے اپنے ساتھ چلنے کے لئے کہہ رہا ہے۔اور یہ سوچتے ہی میں بے وقوفانہ انداز میں مسکرانے لگی۔لڑکے نے مجھے ایک دم کہا میڈم آپ ہوش میں تو ہیں۔اُٹھنا پسند کریں گی ۔بہت بے باک انداز میں گردن ہلائی اور کہا کیوں نہیں اُٹھنا یہاں تھوڑی نہ بیٹھے رہنا ہے اب یہ کہتے ہوئے میں نے اُس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا اوراُس نے میرے دوسرے ہاتھ کو بھی تھاما اورمجھے بیلنس کرنے کے لیے کہا میں نے جب اپنے دونوں پیر زمین پر لگائیں تو اُن میں سےایک پیر کا کباڑا ہو گیا تھا یعنی وہ پیر نیچے نہیں لگ رہا تھا۔دائیں طرف کے پیر میں کافی حد تک درد محسوس ہو رہا تھا۔ایسے لگ رہا تھا جیسے پیر مُر گیا ہو۔اُس نے مجھے پیر کو نیچے لگانے کے لئے کہا جبکہ میں نے اُسے منع کیا کیونکہ میرے پیر میں بہت تکلیف ہو رہی تھی۔اس نے مجھے سنبھالتے ہوئے کسی طرح گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بٹھایا اور گاڑی کا دروازہ بند کر دیا دوسری طرف سے وہ خود آ کر گاڑی کو چلانے لگا۔اُس نے گاڑی کو ریورس گیئر میں ڈال کر گاڑی کا رُخ بدلا۔میں اُسے مسکرا کر دیکھ رہی تھی جبکہ اس کے ماتھے کے بَل صاف بتا رہے تھے۔ کہ وہ بےحد غصے میں ہے لیکن بھیڑ کی وجہ سے اُس نے مجھے اپنی گاڑی میں بٹھایا ہے۔پھر بھی مجھے سب اس لیے اچھا لگ رہا تھا کیونکہ پہلے ہی دن یونیورسٹی کے میرے مطابق ایک لڑکے سے ٹکراؤ ہوگیا ہے۔جس کا خواب میں ایک عرصے سے دیکھ رہی تھی وہ اتنی اچاناک پورا ہوگیا۔۔میں دل ہی دل میں پھولے نہیں سما رہی تھی۔اتنے میں اُس لڑکے نے کہا ۔۔
جی میڈم ہوسپٹل آگیا ہے چلے میں آپ کو پٹی کروا دیتا ہوں پھر آپ اپنے رستے اور میں اپنے راستے۔میں اترتی کہ مجھے ایک آئیڈیا آیا میں نے فورن لاک کے بٹن کو ذرا سا موڑ کر اوپر سے توڑ لیا اور فورا اپنے بیگ میں ڈال دیا۔ لڑکے نے کہا کیا بیٹھی رہیں گی جلدی سے کھولیں اور اترکر وہاں سائیڈ پر بیٹھ جائیے میں گاڑی کو پارک کرلیتا ہوں۔۔میں نے کہا کہ بھئی میں کیسے اُترو یہ تو لوک ہی خراب ہے اور کھل بھی نہیں رہا کار کا دروازہ,اُس نے اپنی طرف سے ہاتھ بڑھایا اور تھوڑا سا آگے ہوتے ہوئے دروازے کو اندر سے کھولنے کی کوشش کی مگر دروازہ نہیں کھل رہا۔اور میں بس اُس کو ہی دیکھنے میں لگی ہوئی تھی۔۔اور جب وہ لاک کھولنے کے چکر میں لگا ہوا تھا اس کی نظر بھی اچانک مجھ پر پڑی تو ہم دونوں بڑے ہی قریب سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔۔میں مسکرا کر اُس کی طرف دیکھ رہی تھی کہ اُس کے لبوں سے کچھ اچھی بات نکلے۔اُس نےاپنے لب ہلائے اور کہنے لگا پتا نہیں کس کام مَانُوس چہرہ دیکھا تھا صبح صبح جو مجھے یہ سب جھیلنا پڑ رہا ہے۔۔میرے مسکراتے لب اس کی یہ بات سن کر جھنجلا سے گئے اور میں نے فوراً اس کو اپنے ہاتھوں سے پیچھے کی جانب دھکیلا اور کہا کہ آپ کی غلطی کی وجہ سے میں یہاں پھنس گئی ہوں۔۔وہ اُٹھا اُس نے اپنی گاڑی سے چابی نکالی اور دوسری جانب سے چابی لگاکرتالا کھولنے لگا اور میں یہ سوچنے لگی جسے میں نے اپنے لئے روشنی کی کِرن سمجھا وہ تو فیوز بَاکس نکلا۔
ڈاکٹر سے پٹی کروانے کے بعد اس نے دوبارہ مجھے یونیورسٹی چھوڑا۔۔اور وہ چلا گیا اس کے بعد میں یونیورسٹی کے واش روم میں گئی چوٹ پٹی کو اتارادراصل مجھے کوئی چوٹ نہیں آئی تھیمیں سب ڈرامہ کر رہی تھی۔
۔۔اُس نے میرا وقت ضائع کیا تو میں نے بھی اس کے پیسے ضائع کروا دیے۔۔اور پھرمیں گھر آ گئی۔۔امی نے مجھ سے پوچھا کہ کیا سب کام ہو گیا ابو کہاں ہیں تمہارے تو میں نے امی کو بتایا وہ تو اسی وقت مجھے چھوڑ کر چلے گئے تھے اور میں خود آئے ہو اب میں بہت تھک گئی ہو تو محدود کر میں تھوڑا لیٹنے کے لئے جا رہی ہوں۔۔اب کل سے میں یونیورسٹی جایا کروں گی مجھے وقت پر اٹھا دیجئے گا اور اگر سو بھی جاؤں تو بھی مجھے سونے مت دیجئے بلکہ مجھے پابندی سے اٹھنے کی عادت دلوا دیں اب یہ آپ کو ہی امی جان کرنا ہوگا۔۔تقریبا نہ میرے سونے تک نماز کا وقت ہو گیا تھا تو سوچا چلو نمازی ادا کر لیتی ہوں اس اس لیے پھر میں نے پہلے تو وضو کیا اور پھر نماز ادا کی اور نماز ادا کرنے کے بعد مجھے شدت سے نیند آ رہی تھی تو میں سونے کے لئے لیٹ گئی۔۔تقریبا دو بجے میں سوگئی اور میری آنکھ چار بج کے تیس منٹ پر کھلی۔۔سستی اور کاہلی کی وجہ سے اٹھنے کا بالکل من نہیں کر رہا تھا۔۔پھر میں نے چچی کو آواز لگائی۔۔ مجھے کھانے کے لئے کچھ دے دیں مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے میں منہ دھوتی ہوں۔۔پھر چچی میرے لیے کھانا لے کر آئی اور میں واش روم میں جاکر منہ دھونے کے بعد دوبارہ اپنی جگہ پر آ کر بیٹھ گئی۔۔ چچی نے بات شروع کرتے ہوئے کہا کہ بیٹی تم نے اپنی پھوپھی کا دل دکھایا ہے تم کو اس طرح سے نہیں کرنا چاہیے تھا میں نے چچی سے کہا کہ بھئی چچی دیکھے نا وہ مجھے اپنی باتوں سے اُکساتی نہ میں اُن کو جواب دیتی۔۔۔ویسے بیٹی میرا کام ہیں تمہیں سمجھانا میں تمہاری چچی ہوں۔۔اچھا ٹھیک ہے جی میں نے آپ کی بات کو سمجھ لیا اب میں جا رہی ہوں اپنے اڈے پر جہاں میں بیٹھتی ہوں۔۔یہ کہہ کر میں پھر درخت کی چھاؤں پر چھت والی جگہ میں اپنی ڈائری لے کر چلی گئی۔۔میں اُدھر جا کر بیٹھی ہوں۔پھر میں نے ڈائری کھولی اور لکھنا شروع کیا۔۔جس میں، میں نے آج کے دن کے بارے میں جو بھی گزرا اس کا لکھا اور خاص طور پر اُس بارے میں لکھا جب میں گاڑی سے ٹکراٸی۔۔ٹکرانے کے بعد جو میں نے ناٹک کیا میں نے کچھ اِس طرح سے لکھتی ہوں۔۔میں جان بوجھ کر کے اُس لڑکےکی گاڑی میں اس لیے بیٹھی مجھے ایسا لگا۔جب وہ میرے آگے ہاتھ کرکے کھڑا ہوا تو یوں محسوس ہوا جیسے مجھے اِسی کا انتظار تھا تو میں نے پیر میں چوٹ لگنے کا ناٹک کیا لیکن جب میں گاڑی میں بیٹھی تو مجھے محسوس ہوا کہ اُس نے مجھے اِس لیے گاڑی میں بٹھایا کیونکہ بہت ہی بھیڑ جمع ہو گئی تھی۔ اور وہ شاید اس چیز سے ڈر گیا تھا کہ کہیں اُسے کچھ پریشانی نہ دیکھنی پڑے۔۔تو اِسی وجہ سے اُس نے مجھے اپنی کار میں بٹھایاوہ مجھے روشنی کی کِرن لگا ۔۔مگر نکلا وہ فیوز باکس تھا۔۔البتہ مجھے ہنسی آ رہی تھی اس بارے میں سوچ کر کہ جن لوگوں سے وہ ڈر رہا تھا۔۔اُسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ لوگ میری تصویریں بنانے لگے ہوئے تھے اور پھر میں نے ان کی اچھی خاصی کلاس لے لی اور لڑکے کے آنے تک وہ لوگ چلے گئے۔۔
ویسے یہ سوچ کر بھی بہت زیادہ حیرت ہوتی ہے۔۔کہ آج ہمارے معاشرے کو دِن بَادن کیا ہوتا چلا جا رہا ہے اگر خدا نہ خواستہ کوئی سنگین حادثہ پیش آتا تو مجھے یہ لگتا ہے کہ لوگ مدد کرنے کی جگہ تصویریں بنا رہے ہوتے اور جو حادثے کا شکار ہوتا وہ بیچارہ وہیں اپنی سِسَک سِسَک کر جان دے دیتا۔۔
شعر :-
کیاسناؤگی میں حال اپنےدیس کا
اِدھرتوسکہ چلتا ہےصرف ریس کا
یہاں حادثہ ہو اگر کسی انسان کا
تصویرکےلیے سودا ہوجاتا ایمان کا
نَادان لوگ رونا صرف کامیابی کا
پیسہ ہونہیں غم کسی کی جان کا
پھر مجھے امی نے آواز لگائی کے بیٹی نیچے آ جاؤں شام کا وقت ہونے والا ہے شام کے وقت درخت کے نیچے نہیں بیٹھتے یہ بات مناسب نہیں ہے کتنی دفعہ تمہیں سمجھا چکے ہیں مگر تم سنتی نہیں ہو۔۔۔اچھا میں میں آرہی ہوں پھر میں نے جو تھوڑا باقی رہ گیا تھا اس کے بارے میں لکھا ۔ اپنا سامان اٹھایا اور نیچے آگئی۔۔
نیچے آنےکے بعد میں اپنے کمرے میں چلی گئی اور جو باقی ڈائری لکھنے والی رہ گئی تھی اُس کو مکمل کرنے کے بعد ڈائری کو سائیڈ پر رکھا۔۔اتنے میں ابو آ گئے اور ابو امی سے پوچھ رہے تھے میرے بارے میں تو میں نے ابو کو آواز لگا کر کہا ابو امی کو چھوڑیں آپ اندر آجائے میں بتاتی ہوں آپ کو جو پوچھنا ہے مجھ سے پوچھ لیں اور پھر میرے پاس بیٹھ جائے گا کچھ دیر کے لیے،ابو نے جب میری آواز سنی تو ابّو اندر آگئے۔۔ابو: کیسا رہا آج کا تمہارا دن یونیورسٹی میں!
نایاب: جی ابو آج کا دن بہت اچھا رہا آپ کے جانے کے بعد میں نے پوری یونیورسٹی میں گھوما اور اپنی کلاس جہاں میں نے بیٹھنا وہ پوشن بھی دیکھا۔۔اور آپ کے بتائے ہوئے راستے کے مطابق میں خیریت سے گھر بھی آ گئی۔۔
ابو-: ہاں لاڈو بیٹی مجھے پتا ہے کہ تم اکیلی آ جا سکتی ہو۔۔میری پیاری بیٹی تو میرا غرور ہے میری جان ہیں۔
نایاب: مسکراتے ہوئے وہ تو میں ہوں۔۔خیر ابو آج اگر آپ تھکے نہیں ہیں تو لُوڈو کھلیں ابھی۔۔
ابو: کیوں نہیں چلو لے کے آؤ ذرا آج ایک باری لگاتے ہیں کافی وقت ہوگیا ہم دونوں نے مل کے لُوڈو نہیں کھیلی ہے۔
میں لُوڈو لے کر آئی توپھر میں نے اور ابو نے لُوڈو کھیلی اور کھیل میں ہم دونوں میں سے کسی ایک نے بھی ایک دوسرے کی کوٹھی نا ماری۔۔ جس کی وجہ سے نہ کوئی جیتا نہ کوئی ہارا۔۔
اور پھر امی بھی باہر سے آواز دینے لگ گئی تھی کہ شام کے کھانے کا وقت ہوگیا ہے تم باپ بیٹی جلدی کرو۔۔کھانے کے وقت میں کھیل مستی کر رہے ہے یہ کوئی بات ہے سب بیٹھ کر دونوں کا انتظار کر رہے ہیں۔۔اس کے بعد میں اور باہر گۓ ابو نے منہ ہاتھ دھویا اور ہم سب نے مل کر کھانا کھایا اور ہمارے گھر میں سب کو وقت پر سونے کی عادت ہے اس لئے ہم سب سو گئے اور صبح سب وقت پراٹھے اور امی نے مجھے بھی آج وقت پر اٹھا دیا تھا۔۔ اس لیے میں نماز سبق پڑھ کر چھت پر چلی گٸی کیونکہ مجھے صبح کا منظر بہت پسند ہے صبح چڑیا چہچہاتی ہوئی ہر طرف اُڑ رہی تھی ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی دُون گارہی ہواور کوئل کی سُوریلی آواز مانو جیسےکانوں میں رَس گھولتی ہو۔۔ٹھنڈی اور تیز ہوا سے پتے بِکھرتے ہوئے بہت خوبصورت لگ رہے تھے۔۔ ہمیشہ مجھے سب سے اچھا تب لگتا ہے جب میں اپنے درخت کے نیچے میں بیٹھی۔۔ اس درخت کو پکڑ کر زور سے ہلایا تو وہ پتوں پر گری ہوئی اوس کسی برسات کی ہلکی سی بونداباندی کی طرح میرے اوپر آ کر گِرتی ہے اور مجھے بہت ہی اچھا محسوس ہوتا ہے۔۔۔
کچھ دیر موسم کا مزا لینے کے بعد میں نیچے آئی اور میرا ناشتہ تیار ہو چکا تھا میں نے ناشتہ کیا۔۔اور رات میں جو ڈرامہ آیا تھا وہ میرا پسندیدہ تھا۔۔ اس لئے میں ٹی وی لگا کر بیٹھ گئی۔۔ڈرامے کو تھوڑا سا دیکھا تو جب مجھے دیکھا کہ میں ڈرامہ لگا کر بیٹھی ہوئی ہوں تو امی:بھلا تمہاری اتنی عبادت کرنے کا کیا فائدہ ہوا ایک طرف تم نے نماز پڑھی ہے اور قرآن مجید کی تلاوت کی ہے اور دوسری طرف تم ٹی وی لگا کر بیٹھ گئی ہو یہ کونسا تم نے نیا طریقہ پکڑا ہے۔۔پتہ نہیں تمہیں کب عقل آئے گی صبح صبح ناچ گانےسے کیا ملتا ہے۔۔
اللہ ہدایت دے امی یہ کہہ کر باہر چلی گئی۔جب کہ میں نے تب تک ٹی وی دیکھا جب تک میری گاڑی کے آنے کا وقت نہ ہو گیا اور جب مجھے احساس ہوا کہ اب میری گاڑی آنے کا وقت ہو گیا ہے تو میں فوراً اپنا سامان لیا اور کمرے سے باہر نکل کر امی سے کہا کہ مجھے پیسے بھی دے دیں اور مجھے اسٹاپ پر بھی چھوڑ آئیں پھر امی نے مجھے پیسے دیے اور ہم دونوں اسٹاف کے لئے نکل گٸیں سٹاپ پر پہنچنے کے پانچ منٹ بعد ہی میری گاڑی آگٸی میں گاڑی پر بیٹھی اور امی گھر چلی گئی۔۔ ہاتھ کو ہلاتےہوئے میں نے امی کو الحافظ کیا۔۔میں ایسی سیٹ پر بیٹھ گئی جہاں سے شیشہ کھلا ہوا تھا اور باہر کی ٹھنڈی ہوا آرہی تھی۔۔جبکہ میرے علاوہ بس میں سات لڑکیاں تھیں۔جن میں سے دو تو آپس میں ایسے باتیں کر رہی تھیں جیسے بہت ہی پرانی دوست ہو اور باقی سب اپنے آپ میں بیٹھی ہوئی تھیں۔۔
پھر آہستہ آہستہ بس میں لڑکیوں اور لڑکوں کا اضافہ کب ہجوم میں بدل گیا پتا ہی نہ چلا۔بس کی یہ حالت تھی کہ لڑکیاں اپنے حصے میں بس کے باہر کے دروازے تک لٹکی ہوئی تھی اور لڑکے تو اوپر آگے پیچھے کوئی جگہ نہ بچی بس کے اندر سانس لینے کی یہ کیفیت ہوچکی تھی کہ دل میرا گھبرانے لگ گیا تھا۔۔مجھے یہ کہ بس کسی طرح میں یہاں سے نکلو میری حالت بہت بری ہو چکی تھی میرا بی پی بالکل لو ہوچکا تھا ایسا لگ رہا تھا کہ بس اب مجھے پتا نہیں کیا ہو جائے گا۔۔میں اپنے آگے والی سیٹ پر سر رکھ کر بیہوشوں کی طرح بیٹھی ہوئی تھی۔۔جب لڑکوں نے شور کیا بس آگیا سٹاپ آ گیا تو میں نے سر کو اٹھایا اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ ہم پہنچ گئے تھے لیکن اتنی بھیڑ میں سے جلدی اترنا بھی بہت مشکل تھا کیونکہ لڑکیاں لڑکے پاگلوں کی طرح اُترنے لگے ہوئے تھے اس لیے میں چپ چاپ بیٹھی رہی کہ سب اُتر جائیں گے تو میں اُتر جاؤں گی۔۔اترتے وقت ایک لڑکی کا پیگ کھینچ رہا تھا تو وہ شور مچا رئی تھی اور کسی لڑکی کی چپل گِررہی تھی۔۔اور میں یہ سوچ رہی ہوں کہ اگر یہی سب طریقے سے اترے تو ایک تو آرام سے اتر جائیں گے دوسرا کسی کا کوئی نقصان بھی نہیں ہوگا اور نہ اتنا شور مچھےگا۔۔پھر میں سب کے اُترنے کے بعد بھی نا اُتری کیونکہ مجھے پتا ہی نہیں چلا کہ سب اُتر چکے ہیں میں سر جھکائے بیٹھی ہوئی تھی اور آخر ڈرائیور نے کہا باجی آپ کے اُترنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔یا واپس چھوڑ کے آ جاؤں۔۔
پھر میں گاڑی سے ہمت کر کے نیچے اتری آہستہ آہستہ چل کر ایک بینچ کے قریب پہنچ گئی اور وہاں میں جاکر بیٹھ گئی جب تک میرا دماغ صحیح نہیں ہوا تب تک میں اُس بینچ پر بیٹھی رہی۔۔اب مجھے بہتر محسوس ہو رہا تھا اس لئے میں اُٹھ کر اپنی کلاس کی جانب گئی۔ اور جب میں اپنی کلاس کے باہر پہنچ گئی تو میں نے دیکھا کہ ٹیچر پہلے ہی آ چکے تھے اور تمام طالبات اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے۔۔میں نے ٹیچر سے اندر آنے کی پرمیشن لی۔۔ٹیچر نے جب میری طرف دیکھا تو ٹیچر آگ بگولہ ہو گئی اور مجھے کہنے لگی یہ کون سا تمہارا وقت ہے آنے کا یہ کوئی طریقہ ہوتا ہے ۔پتہ نہیں بچے کیوں وقت کی اہمیت کو نہیں جانتے۔۔۔ جو وقت ہے اُس مقررہ وقت پر پتہ نہیں کیوں نہیں آتے اچھی خاصی کھری کھوٹی سنائی دی تھی ٹیچر نے مجھے مگر میں چپ چاپ سنتی رہی اور بچے ہنستے رہے۔۔مگر میں نے سب کو نظرانداز کیا اور جب اندر آنے کی اجازت ملی تو ٹیچر نے مجھے بٹھایا اپنے سامنے۔۔اس کے کچھ وقت بعد ٹیچر نے بورڈ پر کام سمجھانا شروع کیا۔۔تو جب میں نے پیچھے مڑ کر پوری کلاس کو دیکھا تو یہ میری بدقسمتی نکلی وہ اس لئے کہ جو لڑکے کل الٹی سیدھی باتیں کر رہے تھے وہ میرے کلاس کے طالبعلم نکلے۔میں نے سر پہ ہاتھ مارا آئے ہائے یہ عجوبے میری کلاس میں آنے تھے۔۔ٹیچر کا پیریڈ ختم ہوگیا تھا اور ہم سب دوسری ٹیچر کے آنے کا انتظار کر رہے تھے۔۔اتنے میں کسی نے باہر سے آکر کہا کہ اب کا پیریڈ کینسل ہو گیا ہے کیونکہ جس ٹیچر نے پیریڈ لینا تھا ان کی طبیعت خراب ہوگئی ہے۔۔اس کے بعد کلاس میں کہا شور تھمنے والا تھا ۔۔ لڑکیاں کچھ آپس میں باتیں کرنے لگ گئی اور لڑکے بھی آپس میں باتیں کرنے لگ گئے جب کہ میں جن کی ٹارگٹ تھےانہوں نے مجھے ضرور نشانہ بنایا۔۔جس لڑکے کی کل میں نے بےعزتی کی وہ کھڑا ہوا۔۔اُس نے پوری کلاس کو مخاطب کیا۔۔اور کہنے لگا میں حسن ہوں۔۔اور میں آپ سب کو بہت زیادہ ویلکم کرتا ہوں ہمارے اس نئے سال کی شروعات کیلئے ہم سب ایک دوسرے سے انجان ہے لیکن جب ہماری ڈگری مکمل ہو جائے گی تو ہم سب ایک دوسرے سے اچھی طرح واقف ہوجائیں گے۔ اس لیے ہم سب ایک دوسرے کے محسن بن کر رہیں گے۔۔اور کسی قسم کا کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ہوگا اور نہ ہی باہر کی کلاسوں میں سے کوئی ہماری کلاس کے طالب علموں کو پریشان کر سکے گا ہم سب ایک ہیں۔اگر آپ سب ایسا سوچتے ہیں تو یہ آپ غلط سوچ رہے ہیں۔میرے ہاتھوں سے آپ سب کا بچنا ناممکن ہے اتنا تنگ کروں گا کہ آپ لوگوں کا گزارہ کرنا مشکل ہوجائے گا یہاں پر۔۔مجھے پہلے تو اس کی باتوں سے لگا کے وہ ایک اچھا لڑکا ہے لیکن جب آخر میں اس کے الفاظ آئے تو مجھے اُس کی اوقات کا پتہ چل گیا۔۔وہ اُس کے دوست پوری کلاس میں چکر لگارہے تھے اور گھومتے پھرتے اُس کا چکر مجھ پر آکر ختم ہوا اور وہ کہنے لگا۔اچھا تو تم ہو نا وہ گوار جو مجھ پر بھاشن جھاڑ کر گٸ تھی اور خود کسی آدمی کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر گھوم رہی تھی۔۔تم کو تو میں یونیورسٹی سے نکلنے پر مجبور کر دوں گا۔۔باقی سب بیٹھے تھے بس یہ گروپ بہت تماشہ کرنے لگا ہوا تھا۔۔اور میں حیرت میں تھی کہ کوئی کچھ بول کیوں نہیں رہا۔۔پھر میں کھڑی ہوئی اور اُس کی طرف اُنگلی کرتے ہوئے میں نے کہا تمہیں جو کرنا ہے کر لو۔۔میں تم سے نہیں ڈرتی۔۔یہ کہہ کر میں نے اپنا بیگ اٹھایا اور آگے کو بڑھنے لگی اور اُس نے میرا بیگ پیچھے سے کھینچا اور میرے سامان نیچے گِرا دیا۔۔میں جب اپنا سامان اٹھا نے نیچے بیٹھی تو اوپر سے اُس نے پانی کی بوتل سے مجھ پر پانی گِرا دیا۔۔مجھے اب بہت زیادہ غصہ آگیا تھا سامان اٹھاتےوقت میرے ہاتھ میں سیاہی آگئی تو میں نے وہ سیاہی کا ڈبہ کھول کر کھڑی ہوئی اور اس کے اوپر پھینکی۔۔وہ اس چیز سے بہت غصہ ہو گیا اور وہ مجھے مارنے کے لئے آگے بڑھا جبکہ اس کے دوستوں نے اس کو آگے پیچھے سے پکڑا اور اس نے مجھے کہا کہ تم نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیااور پھر میں نے اسے کہا کہ تم جس طرح سے میرے ساتھ پیش آؤ گے میں ویسے ہی تمہارے ساتھ پیش آؤ گی عزت چاہیے تو عزت کرو اور اگر بےعزتی کروگے تو بےعزتی پاؤگے عزت نہیں ملے گی۔۔اس کے بعد میں اپنی سیٹ پر بیٹھ گٸ اور جو ٹیچر نے کام کروایا تھا اس کو نوٹ کرنے لگ گئی۔۔میں اپنے دھیان کام کرنے لگی ہوئی تھی کہ پھر سے ان پانچ لڑکوں میں ایک جس کے منہ پر میں سیاہی پھینکی تھی اس کےبیسٹ دوست نے غبارہ لیا اور اس میں مٹی بھر کر میرے سر پر اس کو کو پھاڑ دیا جس سے میرے بال کپڑے سب مٹی مٹی ہو گیا۔۔اور خود وہ پانچوں باہر بھاگ گئے۔۔۔اب میں بھی کم نہیں تھی اس لیے میں نے اپنے آپ کو پہلے صاف کیا۔۔کلاس میں زیادہ طالبہ موجود نہیں تھے۔۔کیونکہ پیریڈ کینسل ہونے کی وجہ سے سب ہی باہر نکل چکے تھے بس چند ہی اندر تھے۔۔پھر میں نے سب سے پوچھا کہ یہاں کوئی ان پانچوں کا دوست موجود ہے۔۔تو سب نے کہا نہیں ہم ان پانچوں کو بالکل بھی نہیں جانتے پھر اپنے بیگ میں سے ایلفی نکالی اور ان کے بیٹھنے والی جگہ پر پوری ایلفی لگا دی۔۔اور سب کو منع کردیا کہ کوئی بھی نہیں بتائے گا۔۔سب کافی دیر تک اپنے اپنےکاموں میں مصروف رہے مگر جو باہر تھے آہستہ آہستہ سب اپنی کلاس میں آنے لگ گئے۔۔اور مجھے جن کا انتظار تھا آخر وہ بھی آگئے۔۔اور جب وہ لوگ اپنی سیٹوں پر بیٹھے تو میں اٹھ کر ان کے پاس گئی اور میں نے کہا اب تو تم لوگ یہاں پہ بیٹھے ہو مجھے تو چاہیے تھا تم لوگوں پر مٹی پھینکنا لیکن تم لوگوں کے لیے یہی سزا کافی ہے۔۔کہ میں نے تم لوگوں کو اٹھنے کے قابل بھی نہیں چھوڑا۔۔اور ان میں سے ایک لڑکا جب اٹھنے لگا تو پھر سب کو احساس ہوا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے میں نے پھر میں نے حسن کے آگے کھڑی ہو کر کہا کہ میں نے کہا تھا نا جس طرح سے میرے ساتھ پیش آؤ گے اس طرح سے ہی تم لوگوں کو جواب ملے گا۔۔وہاں بیٹھے لڑکے نے زوردار سٹی ماری۔
میں نے اپنا بیگ لیا اور کلاس سے باہر نکل کر واش روم کی جانب چلی گئی۔۔پھر میں نے ٹِیشو نکالا اور شیشے کے سامنےکھڑی ہوکر خود کو صاف کرنے لگی۔میں نے دیکھا کہ بال بھی خراب ہوگئے ہیں اس سے لیے میں نے اپنے بالوں کو دوبارہ سیٹ کیا۔دوسرے واش روم کا دروازہ بجا رہا تھا۔۔شاید کسی کو کوئی باہر سے لاک کر گیا تھا۔۔اور جو اندر تھا وہ اندر مسلسل دروازہ بجا رہا تھا اور سب سے کھولنے کے لیے مدد مانگ رہا تھا مگر کوئی بھی کھول نہیں رہا تھا۔۔پہلے تو میں واش روم سے باہر آ گئی مگر پھر میں نے خیال کیا کہ پتہ نہیں کب سے اندر ہے اور کوئی بھی دروازہ نہیں کھولا رہا۔۔ حٰتکہ وہاں پر لڑکے بھی موجود ہیں مگر کسی کو یہ گوارہ نہیں کر رہا کہ باہر سے لوگ بولتے پھر میں نے سوچا چلو میں ہی کھول دیتی ہوں تو میں باتھ روم کے اندر دوبارہ داخل ہوئی۔۔تو میرے بند دروازے کو باہر سےکھول دیا اور جیسے ہی اُس واش روم کا دروازہ کھولا تو ایک شخص میرے سامنے نمودار ہوا اور وہ شخص کوئی اور نہیں بلکہ جس کی کار کے ساتھ میں کل ٹکرائی تھی وہ تھا۔۔ اس نے مجھے دیکھتے ہی کہا تم نے کیا ہوگا نہ میرا دروازہ بند تو میں نے اسے جواب دیا جی نہیں فیوز باکس مجھے کیا ضرورت ہے تمہارا دروازہ بند کرنے کی میں نے تمہاری مدد کی ہے الٹا تمہیں مجھے سنا رہے ہو۔۔او ہیلو میڈم میرا نام فیوز باکس نہیں مجھے منیب کہتے ہیں۔ واٹ ایور کہہ کرجب میں واپس آگے کو ہوئی تو اس نے مجھے کہا روکو ذرا مجھے دیکھنے دو واہ اب تو تمہارا پیر بھی ایک دن میں ٹھیک ہو گیا ہے۔جھوٹی لڑکی۔۔
میں نے اس سے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا بس ہوگیا ہے آپ کا آپ مجھے پریشان مت کریں میں بہت غصے میں ہوں۔۔اور اگر آپ کو یہ لگ رہا ہے کہ باہر سے بند دروازہ کا لاک میں نے لگایا ہے تو یہاں کھڑے لوگوں سے پوچھ لیں۔۔اس بات کا جواب آپ مل جائے گا۔۔
اگر تب ہوئی جہاں کھڑے لڑکوں نے یہ جواب دیا کہ بھائی اسی لڑکی نے لوک لگایا جان بوجھ کر اب جھوٹ بول رہی ہے۔۔
منیب بولا مجھے تو یقین تھا کہ یہ حرکت یہی کر سکتی ہے اور کسی نے نہیں کی۔
مگر وہاں ایک لڑکی جو بہت پہلے سے ہی کھڑی تھی اس نے کہا نہیں یہ لڑکی تو ابھی آئی ہے۔۔جبکہ ان لڑکوں میں سے جس نے کالے رنگ کی شرٹ پہنی ہے اس میں دروازے کو باہر سے لوگ لگایا تھا۔۔
میں نے کہا سن لیجئے کون جھوٹ بول رہا ہے اور کون سچ۔
یہ کہہ کر میں وہاں سے باہر نکل آئی اور ایک بینچ پر بیٹھ گٸ۔۔
بیٹھ کر اِدھر اُدھر کا جائزہ لینے لگی اور مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ یونیورسٹی یہ کم لگ رہی ہے پارک زیادہ لگ رہی ہے۔ کیونکہ لڑکیوں نے جینز شرٹ زیب تن کیا ہوا ہے اس کے علاوہ موبائل بھی ہاتھ میں پکڑے کوئی تو فون میں لگا ہوا ہے۔۔اور کوئی کپل بن کر بیٹھا ہوا ہے۔۔ اور میرے تو لڑائی جھگڑے ہی ختم نہیں ہو رہے۔۔۔
میں اپنے مَن میں سوچ ہی رہی تھی کہ وہ لڑکی جس نے میری حمایت کی تھی وہ میرے پاس آکر بیٹھ گئی.. اور کہا کہ آپ پہلے دن آئی ہے یونیورسٹی تو میں نے کہا جی ہاں میں پہلے دن آئی ہوں۔۔ پھر اُس لڑکی نےہاتھ بڑھایا اور کہنے لگی میں بھی پہلا دن ہے۔۔تو آج سے ہم دوست۔۔میں نے مسکرا کر بولا ٹھیک ہے۔میں نے اسے کہا میرا نام نایاب ہے تو اس نے مجھے بتایا ہے کہ اس کا نام مہوش ہے۔پھر آہستہ آہستہ ہم دونوں نے بات کرنا شروع کی آپس میں۔۔اس نے بتایا کہ وہ گریجویشن کرنے آئی ہے اور میں نے بتایا کہ میں بھی گریجویٹ کر رہی ہوں اور اس طرح ہم دونوں نے ایک دوسرے کے بارے میں جب معلومات کی تو ہم دونوں ایک ہی کلاس کی لڑکیاں نکلی۔۔اور وہ کہنے لگی کہ یہ بڑی خوش نصیبی کی بات ہوتی ہے کہ پہلے دن ہی جب کہیں داخلہ ہوا ہو تو وہاں ایک اچھی دوست مل جائے۔۔مہوش مجھ سے دیکھنے میں زیادہ ماڈرن تھی.. ہم دونوں میں یہ فرق تھا کہ وہ جینز اور کُرتے کے ساتھ اِسکاف کو لیے ہوئے تھی جبکہ میں نے سادہ لباس پہنا ہوا تھا۔۔۔
مہوش: میں جب سے آئی ہوں تب سے ایک دفعہ بھی جماعت میں نہیں گئی کیا ہم چلیں کلاس میں۔۔
نایاب اچھا اگر تم اتنا کہہ رہی ہو تو ہاں چلو چلتے ہیں۔۔
پھر میں اور مہوش کلاس میں جب گئے تو دل میں میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ وہ پانچ لڑکوں کا گروپ کلاس میں نہیں تھے۔کیونکہ میرا ابھی ان کے منہ لگنے کا بلکل موڈ نہیں تھا۔۔پھر مہوش نے اپنی کلاس کے تمام لڑکیوں سے ہاتھ ملایا اور سب لڑکوں کو ہائے کیا۔۔اُن میں سے ایک لڑکا جس کا نام جمشید تھا وہ کھڑا ہو کر بولا کہ آپ نایاب اُن پانچ لڑکوں سے بچ کر رہنا وہ لوگ بہت بدتمیز ہیں۔میں نے کہا آپ وہی لڑکے ہونا جس نےسیٹی ماری تھی تو جمشید نے کہا ہاں میں وہی لڑکا ہوں۔ دراصل میں یہ بتانا چاہ رہا تھا کہ وہ جس لڑکے پر آپ نے سیاہی پھینکی وہ یہ کلاس میں پہلے سے ہی تھا یعنی وہ اس کلاس میں ایک دفعہ فیل ہو چکا ہے تو دوبارہ اس کو پڑھ رہا ہے وہ انتہائی بدتمیز ترین لڑکا ہے تو اپنا خیال رکھنا۔میں نے کہا میں آپ کی بہت شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے اِس طرح سے کہا۔۔مہوش:اچھا تو ہم کینٹین جا رہے ہیں آپ کا نام جمشید ہے نا تو چلے آپ بھی ہمارے ساتھ چلے۔
پھر میں مہوش اور جمشید ہم تینوں کینٹین گئے اور وہاں جاکر ایک چارٹ کی پلیٹ میں نے لی۔ اور باقی ان دونوں نے اپنی مرضی کی چیز لے لیں اور پھر ہم نے ساتھ میں کھایا اور ایک دوسرے کے ساتھ باتیں بھی کرتے رہے۔۔
آج کا دن ہمارا جان پہچان میں گزر گیا اور ہم تینوں ہی ایک دوسرے کے اچھے دوست بن گئے تھے۔۔۔اس کے بعد ہم لوگ اپنی اپنی گھر کو روانہ ہو گئے۔۔میں اور جمشید ایک ہی بس میں بیٹھے ۔جبکے مہوش کو اس کے گھر والے لینے آتے تھے۔۔۔ہم دس منٹ پہلے پہنچ گئے تھے بس اسٹاپ پر اس لئے ہمیں بس میں بیٹھنے کی جگہ بھی مل گئی۔۔لیکن اس کے بعد جو بس چلنے پر بھیڑ ہوئی کہ حالات بتانے کے قابل ہی نہیں کیونکہ اس بارے میں کچھ بیاں نہیں کرسکتی۔۔رش کی وجہ سے ایسی کیفیت ہوجاتی ہے۔۔۔پھر میں گھر پہنچ گئی۔۔سب سے سلام کرنے کے بعد میں لیٹ گئی کیونکہ میں بہت تھک بھی چکی تھی اور راش کی وجہ سے میرا دماغ بالکل سُن ہو چکا تھا۔
میں سامان وغیرہ اپنا رکھ کر کے اپنے کمرے میں جا کر کے لیٹ گئی اور امی میرے پاس آئیں میرے پاس بیٹھی میرے سر پر ہاتھ مارا اور کہا میری بیٹی آج لگتا ہے بہت تھک گئی ہے۔ تو میں نے امی کو جواب دیا جی امی میں آج بہت تھک گئی ہوں دراصل ہمارے بس میں بہت زیادہ رش ہوتا ہے اتنا کہ سانس لینا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔۔امی جان میں تھوڑا سونے لگی ہوں میرے سر میں بہت درد ہے۔۔
۔امی۔ جی بیٹی آپ سو جاؤ اور جب لگے طبیعت ٹھیک ہے تو باہر آ جانا پھر میں تمہارے لیے کھانا گرم کردوں گی اور تم کھانا کھا لینا میں نے امی کو کہاجی ٹھیک ہے کہاامی چلی گئی اور میں رات تک تقریبا آٹھ بجے تک سوئی ہی رہی مجھے ہوش ہی نہ رہا کیوں کہ میرا یونیورسٹی کا پہلا دن تھا جس کی وجہ سے مجھے بہت زیادہ تھکان ہوگئی تھی۔۔مجھ سے بلکل بھی اٹھا نہیں جا رہا تھا ایسا لگ رہا تھا جیسے بخار ہوگیا ہے۔۔سب میرے ہی کمرے میں جمع ہوگئے تھے۔۔ابو نے گھر پر ڈاکٹر بلا لیا اور اور جب میرا چیکپ ہوا تو مجھے بخار ہو گیا تھا۔۔۔ڈاکٹر نے دوائیاں لکھ کر دی جو چاچو لے کرآئے اس کے بعد ابو نے مجھے کھانا کھلایا اور ڈاکٹر کے بتائے ہوئے طریقے سے امی نے کچھ دیر کے لیے ٹھنڈے پانی میں پٹیاں ڈبو ڈبو کر میرے سر پر رکھی۔۔اور پھر سب اپنے اپنے کمرے میں سونے کے لیے چلے گئے اور میں بھی سو گئی۔۔صبح جب اٹھی تو اتنا تیز بخار ہو چکا تھا کہ گھر میں سب پریشان ہوگئے تھے۔۔ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق مجھے ناشتہ ملا اور اس کے بعد میں نے دوائی کھائی۔۔اور پھر سو گئی کیونکہ مجھے اس قدر بخار تھا کہ میں دو تین دن تک بخار کی وجہ سے ہوش میں نہ آئی۔۔آخر تیسرے دن بہتری کی وجہ سے میں تھوڑا گھر میں گھومی پھری اور گھر والوں کو تسلی ہوئی کیونکہ میں لڑکی ایک جگہ ٹِک کر بیٹھنے والی نہیں تو گھر والے اس چیز سے بہت پریشان ہوگئے تھے۔۔
اور جب میں پوری طرح ٹھیک ہوئی تو یونیورسٹی میں گزرا پہلا دن اور اس کے بعد بخار سب کے بارے میں ڈائری میں لکھا۔۔اور اس کے بعد میں نے اپنی کل یونیورسٹی جانے کی تیاری کی۔
اور اپنی پسندیدہ فلم لگا کر دیکھنے لگ گئی۔
اتنے میں پھوپھو کی ساس آگئی اور سب نے انہیں بٹھایا اور انہوں نے کہا کہ میں اپنی بہو کو لینے آئی ہوں۔۔
صلح صفائی سے کام مکمل ہونے کے بعد کھانا منگوایا گیا اور ہم سب نے کھانا کھایا تو۔۔پھوپھو نے اپنی ساس سے کہا کہ آپ نایاب کو مبارکباد دیں اب یہ یونیورسٹی جانے لگ گئی ہے۔۔
تو پھوپھو کی ساس جواب دیتے ہوئے کہا ہاں بھائی یہ کونسی بڑی بات ہے اور میرے ساتھ ایسی باتیں مت کیا کرو یہ حرکتیں گاؤں والے لوگ کرتے ہیں۔۔جیسے وہ رکشا خریدے تو مبارکباد دے گے ۔۔ گدھاخریدیں گے تو مبارکباد یہ کونسی بات ہوتی ہے۔۔
ہمارے گھر والے سب انہیں دیکھتے ہی ر ہے کہ یہ کیا بول رہی ہے مگر سب نے بات کو نظر انداز کر دیا پھر میری چچی سے رہا نہ گیا تو بولی اچھا آپ اپنے بیٹے کا تو بتائیں۔۔اس کے امتحان کا کیا رزلٹ بنا ہے وہ بارہویں کلاس میں پاس ہوا ہے کہ نہیں ہوا۔ابو نے چچی کو منع کیا اشارےسے۔
پھوپھو کی ساس: نہیں وہ پاس ہو جاتا اس دفعہ اس نے پڑھا ہی نہیں۔۔دراصل گھر میں بہت کام ہونے کی وجہ سےہم نے اس کو پڑھنے کا وقت ہی نہیں دیا اس وجہ سے اس نے امتحان دیا ہی نہیں۔۔
پھر میں نے بولا چلو کوئی بات نہیں ہے تو پھر دے لے گا چلے سب کھانا کھائیں اور اس طرح بات ختم ہوئی۔۔
پھر میری پھوپھو کی ساس کو فون آگیا اور انہوں نے فون کو اٹھایا اور جب انہوں نے بات کی تو پتہ چلا کہ ان کی بیٹی کے گھر میں بیٹھی ہوئی ہے تو اس نے بھی مبارکباد دی اور اس کے بعد میری پھوپھو سے بھی کہا کہ تم بھی مبارکباد دے دو اور جب یہ بات مکمل ہوگئی اور فون بند ہوگیا تو
امی بولی کہ میری طرف سے بھی بہت مبارکباد دے دیجئے گا کیونکہ اس طرح سے کسی اپنے کو اس کی خوشی میں مبارک باد دینا اس کی خوشی میں اور اضافہ کر دینا ہوتا ہے۔چچی نے کہا ہم سب کی طرف سے مبارکباد دے دیجئے گا کیونکہ ان لمحات میں پتہ چلتا ہے کہ ہماری خوشی میں اپنوں میں کون خوش ہوتا ہے اور کون حسد کا شکار ہوتا ہے۔۔۔
پھوپھی ساس بولی۔۔ہاں میں دے دو گی پھر وہ بولی اللہ معاف کرے ہاں بھئی حسد کرنے والوں سے اللہ بچائے۔۔
جب انہوں نے یہ کہا تو میرے چاچو بولے ہاں بالکل اللہ حسد کرنے والوں سے بچائے کیونکہ حسد کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ نے جو اپنی مرضی سے کسی انسان کو دیا ہے۔۔تو حسد کرنے والا دراصل اللہ کی پسند کی ہوئی چیز کو ناپسند کرتا ہے۔ ایسے شخص کی دنیاوآخرت میں کوئی عزت نہیں۔۔
پھر وہ کچھ دیر بیٹھیں اور اس کے بعد پھپھوکو لے کر چلی گئیں۔۔۔
صبح کا سورج نکلتے ہی میں بھی جلدی اٹھ گئی اور پھر تیاری کرکے ناشتہ کیا اور ابو کہنے لگے کیا اگر تم کہو تو میں آج اپنی لاڈلی بیٹی کو خود چھوڑ کے آ جاؤں۔تو میں نے جواب دیا چلیں ۔ جیسے آپ کو بہتر لگے ۔۔۔ابو کے ناشتے اور تیاری ہونے تک میں چھت پر چلی گئی اور ٹہلنے لگی۔۔پھر ابو جب فارغ ہوگئے تو مجھے ابو نے آواز لگائی۔۔
ابو نے کہا آ جاؤ میں تیار ہو گیا ہوں چلو چلو میں تمہیں چھوڑ کر آجاؤں۔میں بھی جلدی سے نیچے آئی اور ابو کے ساتھ بیٹھ کر یونیورسٹی کے لیے نکل گئے۔۔ابو نے مجھے یونیورسٹی کے دروازے کے آگے چھوڑا اور خود واپس چلے گئے میں اندر داخل ہوئی۔۔میرا پیریڈ لینے کا بلکل بھی موڈ نہیں تھا اس لئے میں جاکر پینچ پر تھوڑی دیر کے لیے بیٹھی۔۔ توسوچا کہ یہاں بیٹھے رہنے سے اچھا ہے کچھ کلاس میں جا کر سیکھ لونگی۔۔تو میں کلاس میں چلی گئی۔۔میں نے کلاس اٹینڈ کی پوری کلاس میں سب تھے۔5 لڑکوں میں سے ایک لڑکا موجود تھا ۔باقی چار لڑکے کلاس میں موجود نہیں تھے۔دو پیریڈ کے بعد مجھے نیند آنے لگ گٸ تو میں نے سوچامنہ دھو کر آ جاتی ہوں میں نے اپنا بیگ اٹھایا اور منہ دھونے کے لئے ریسٹ روم جانے لگٸ۔۔جب میں کلاس سے نکل رہی تھی تو مجھ سے پہلے ہی وہ پانچواں لڑکا بھی کلاس سے نکل کر چلا گیا۔۔جب میں ریسٹ روم کی طرف جا رہی تھی تو میں ایک سٹور روم کے پاس پہنچی تو اچانک کسی نے میرا ہاتھ کھینچا اور مجھے اندر کی طرف کھینچ لیا۔۔میں نے آنکھیں بند کر رکھی تھی اور جب میں نے آنکھیں کھولی تو میرے سامنے منیب کھڑا تھا۔۔میں کچھ بولتی کہ اس نے اپنی انگلی کو میرے منہ کے آگے کرتے ہوئے کہا جب تک میں نہ کہوں تب تک بولنا مت۔۔پھر اس نے مجھے کھڑکی سے جھانکنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تمہاری کلاس کے لڑکے ہیں نہ جس سے تمہارے کوئی جھگڑا وغیرہ چل رہا ہے۔میں نے گردن ہلائی اور کہا کہ وہ ہی ہے مگر آپ کو کس نے بتایا۔۔پھر اس نے آنکھوں پر اشارہ کرتے ہوئے کہا دیکھتی رہیں۔۔پانچوں کے پانچوں لڑکے وہ سٹور کے تھوڑے سے آگے والی سائیڈ پر جمع ہوکر کھڑے ہوگئےاور اِدھر اُدھر دیکھنے لگے۔۔
پانچ منٹ گزرنے کے بعد وہ لوگ وہاں چلے گئے اور پھر منیب نے کہا چلو اب باہر جا رہا ہوں اور پھر تم اپنی کلاس میں چلی جانا۔۔میں نے اسے روکنے کی کوشش کی رک جاؤ او مجھے بتاؤ تو سہی ہوا کیا ہے۔۔مگر منیب نے میری بات کو نظر انداز کرتے ہوئے اسٹور کا دروازہ کھولا مگر وہ نہ کھلا۔۔پھر وہ بولا لگتا ہے اور کا دروازہ جام ہوگیا ہے تو میں نے کہا نہیں جام نہیں ہوا بلکہ جب ہم اُن لڑکوں کی جانب دیکھ رہے تھے تو ایسا لگ رہا تھا جیسے دروازے کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ کر رہا ہے مجھے لگتا ہے کسی نے باہر سے دروازہ لاک کردیا ہے۔۔میں تو کھڑے کھڑے تھک گئی ہوں میں نیچے بیٹھنے لگی ہوں۔۔اب کھلواؤ دروازہ۔۔منیب نے کہا میں تو کوئی جادوگر ہے نہیں اور ویسے بھی اندر سے باہر آواز تو جاتی نہیں ہے۔۔اب بھلا میں کیا کرسکتا ہوں۔۔اچھا ابھی دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے پہلے نیچے بیٹھو مجھے بتاؤ کہ آخر کیا ہوا تھا کہ تمہیں یہ سب کرنا پڑا۔۔
منیب: دراصل میں یہاں سے گزر رہا تھا کہ تمہاری کلاس میں کوئی لڑکی مہوش پڑتی ہے۔۔جس نے تمہارے حق میں گواہی بھی دی تھی اگر تمہیں یاد ہو تو۔۔
نایاب ۔ہاں مجھے یاد ہے آگے بتائیں تو کیا ہوا۔۔منیب: اس کو میں راستے میں جاتے ہوئے ملا تو وہ بہت گھبرائی ہوئی تھی اس نے مجھے کہا کے آخری دن جس لڑکی نے تمہارے دروازے کا تالا کھولا تھا۔۔وہ آج مشکل میں ہے تمہیں اس کی مدد کرنی ہوگی تو میں نے اس سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے تو اس نے مجھے بتایا کہ یہ پانچ لڑکے تمہارے ساتھ کوئی گھٹیا مذاق کرنے والے ہیں۔۔۔اس نے بتایا کہ وہ سب طالبوں کو واش روم سے نکال کر تمہیں واش روم میں بند کرنے والے ہیں اور ساتھ میں کوئی حسن لڑکا پہلے سے واش روم کے اندر چھپا ہوگا جو شاید تمہاری الٹی سیدھی تصویریں کھینچتا یا پتا نہیں کیا کرتا انہوں نے کیا سوچا ہوا تھا یہ تو زیادہ ان کو ہی پتا تھا ۔۔
بس مہوش نے ان کو یہ باتیں کرتے سنا تو اسکو کچھ سمجھ میں نہ آیا ۔ اسے جلدی میں نظر آیا تو اس نے مجھ سے یہ کہا کہ تم نے اس کے احسان کا بدلہ احسان میں دینا ہوگا تو اس لیے میں نے تمہیں یہاں اس طریقے سے بچایا۔۔اب آپ خاموش کیوں ہو گئی ہو شکر ادا کرو کہ بچ گئی ہو آپ۔۔
نایاب:سب باتیں ٹھیک ہے پر ایک بات کہوں میں آپ کو۔۔
منیب :ہاں کہیں آپ مجھے کیا کہنا چاہ رہی ہیں۔۔
نایاب: دراصل نہ میں آپ کو فیوز باکس سمجھتی تھی مگر آپ تو ہیرو نکلے۔۔
منیب: حیرت ہے میں آپ کو کیا بول رہا ہوں اور آپ مجھے کیا بولنے لگی ہوئی ہیں۔۔آپ کو ڈر نہیں لگتا اگر خدانخواستہ کچھ ہوجاتا تو۔۔
نایاب: نہیں مجھے کچھ نہیں ہوتا جب تک میرا ایمان مضبوط ہے مجھے کوئی بھی کچھ نہیں کر سکتا میری زندگی میں جو بھی ہونا ہے وہ اللہ کا پہلے ہی تہ ُشدہ ہے تو میں کس لیے گھبراوں اور کس سے انسانوں سے تو میں نہیں گھبراتی۔۔
اب آپ میرے ساتھ باتیں کرتے رہیں گے کہ کس سے دروازہ بھی کھلوائیں گے آپ کے پاس فون نہیں ہے کسی کو فون کر دیں کہ بھائی ادھر آ کر دروازہ کھول دے تاکہ ہم باہر نکلے۔۔
منیب :ہاں میں کرتا ہوں۔۔منیب نے دیکھا کہ سگنل وہاں بیٹھے نہیں آرہے تو وہ کھڑے ہو کر گھوم پھر لانےکی کوشش میں لگ گیا۔۔
جبکہ میں کھڑے ہونے کے لئے جب اٹھنے لگی تو کبڈ کے ایک سائیڈ پر سہارا لیااور کھڑی ہوئی تو کبڈ سے کچھ کتابیں گِر کر میرے سر پر لگنے والی تھی کہ منیب نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنی طرف کھینچ لیا۔ہم دونوں کی آنکھیں ایک دوسرے کو دیکھنے میں اتنی مگن تھی کہ منیب نے اپنے دوسرے ہاتھ سے موبائل کان کو لگایا ہوا تھا۔اور موبائل سے ہیلو ہیلو کی آوازیں آ رہی تھیں۔مگر اس منیب مجھےدیکھنے سے نہیں ہٹ رہا تھا۔۔اور میں بھی نہ چاہتے ہوئے خود کو قابو نہیں کر پا رہی تھی۔۔آخر میں نے اپنی کپکپاتی آواز سے منیب کو کہا آپ کا فون بات تو کریں۔۔جب منیب کو احساس ہوا تو میں نے جلدی سے اپنا منہ دوسری سائیڈ پر کر لیا۔۔منیب نے کسی دوست کو بلوایااور دروازہ کھلوایا۔۔منیب نے اپنے دوست کو کہا کہ جب ادھر ادھرکوئی نہ ہو تو اوکے کہنا جیسے ہی منیب کے دوست نے اوکے کہا میں فورا نکل کر باہرآگے کو بھاگ گئی۔۔اور کچھ فاصلے پر جا کر کھڑی ہو گئی۔۔ایسے ہی منیب باہر آیا۔۔ منیب اور اُسکا دوست جب میرے پاس سے گزرے تو منیب کا دوست مجھے کہنے لگا چلے ہمیں بھی بھابھی مل گئی اور اس بات پر منیب بھی مسکرا رہا تھا اور میں بھی مسکرا رہی تھی وہ دونوں سامنے کی طرف چلے گئے اور میں ان کے پیچھے کی جانب چلے گٸی۔۔
اس کے کچھ وقت بعد میں لائبریری میں چلی گئی اور وہاں بیٹھ کر اپنی ڈائری لکھنے لگی۔۔
ڈائری کے صفحات میں آج میں کیا لکھوں میں ۔۔
میری خواہش کے مطابق جو شخص پہلی بار مجھے ٹکرایا مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ میرے اتنے قریب آجائے گا۔۔جسے میں فیوز باکس بول رہی تھی۔۔دراصل مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ وہ فیوز بوکس ہی ہے جس کی مجھے تلاش ہے۔۔میں نہیں جانتی کہ میں آج کتنی خوشی محسوس کر رہی ہوں۔۔۔
کیونکہ مجھے یہی تو چاہیے تھا جیسے کسی فلم میں کوئی ہیرو ایک لڑکی کی زندگی میں آتا ہےاچانک۔۔
اس طرح سے میری زندگی میں منیب داخل ہوا ہے آج۔۔۔اور مجھے یقین ہے کہ جو کیفیت میری ہے وہ کیفیت اس کی بھی ہے۔۔اب میں لائبریری سے باہر بالکل نہیں جاؤں گی جب تک وہ ڈھونڈتا ہوا میرے تک نہ پہنچ جائے میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ جو آج مجھے محسوس ہوا ہے وہ اسے محسوس ہوا ہے کہ نہیں ہوا۔
مجھے بیٹھے ہوئے تقریبا 45 منٹ ہوگئے ہیں۔۔مگر منیب کا کوئی پتا نہیں تو اس کا مطلب جو مجھے محسوس ہوا ہے اسے نہیں ہوا اس لیے م