فلسطینیوں پر اسرائیلی درندگی ۰۰۰ سوپر پاور طاقتیں خاموش تماشائی۰۰۰؟

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)

فلسطینی عوام پر ظالم اسرائیلیوں کی جانب سے جو ظلم و زیادتی ڈھائی جارہی ہے اس سے کون واقف نہیں۔مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا جاتا ہے یہی نہیں بلکہ معصوم بچوں کو جو ابھی کھیل کود اور پڑھائی کے قابل ہوتے ہیں کہ انہیں ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہیں پر ان معصوموں کے سامنے انکے والدین کو حراست میں لیا جاتاہے ، ان کی آنکھوں کے سامنے انکے والدین کو زدوکوب کیا جاتا ہے تو کہیں ان معصوموں کو ہی گرفتار کرلیا جاتا ہے ان کا قصور یہ ہوتا ہے کہ وہ ان درندہ صفت اسرائیلی سیکیوریٹی عہدیدار جوہتھیار سے لیس ہوتے ہیں ان کا پتھروں کے ذریعہ یہ معصوم بچے اپنے بڑوں کو دیکھ کر اپنا خود کا اور اپنے والدین پر ظلم کرنے والوں کا دفاع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان معصوم بچوں کے پاس نہ کوئی خطرناک ہتھیار ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی معمولی سا ہتھیار۔ ان کے پاس تو صرف اور صرف پتھر ہوتے ہیں جو اپنے معصوم ہاتھوں سے درندہ صفت اسرائیلی سیکیوریٹی جوانوں کو مارنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان ہی پتھروں سے بچنے کے لئے اسرائیلی فوج اور سیکیوریٹی جوان عصری ٹکنالوجی سے لیس ہتھیاروں سے اپنے بچاؤ کی کوشش کرتے ہیں ۔ اسرائیلی فوج اور سیکیوریٹی جوان ان ہی پتھروں سے ڈرتے ہیں او ریہی وجہ ہے کہ ہزاروں فلسطینیوں کو قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑتی ہے۔ گذشتہ دنو ں ذرائع ابلاغ کے مطابق عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابوالغیط نے کہا ہے کہ اسرائیلی مظالم سے متاثر ہونے والے افرادمیں سب سے زیادہ تعداد بچوں پرمشتمل ہے۔ پورا عرب خطہ اس وقت مسلح لڑائیوں کی لپیٹ میں ہے مگر انسانی حقوق کی پامالیوں کے معاملے میں اسرائیل سب سے آگے ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق قاہرہ میں علاقائی کانفرنس برائے تحفظ انسانی حقوق کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب میں عرب لیگ کے معاون خصوصی ھیفاء ابو غزالہ نے کہا کہ اسرائیلی ریاست کے جرائم اور مظالم سے متاثر ہونیوالوں میں سب سے زیادہ خواتین اور بچے ہیں۔احمد ابو الغیط نے کہا کہ اسرائیلی ریاست کے مظالم اور انتقامی حربوں کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اسرائیلی ریاست اپنے ہی مظالم کا ہرروز ایک نیا ریکارڈ قائم کررہی ہے۔ بنیادی انسانی حق زندگی کے حقوق کا آغاز ہے مگر اسرائیل فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کی بھی کھلے عام خلاف ورزیاں کررہا ہے۔ اس کے بعد فلسطینی عوام کے تعلیمی، رہائشی اور بنیادی سروسز کے حصول کے حقوق کی توہین کی جا رہی ہے۔انہوں نے بیت المقدس میں فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری کے جرائم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صور باھر کے مقام پر فلسطینیوں کے 100 گھروں کی مسماری ناقابل قبول جرم ہے۔ یہ مکانات اسرائیل کی دیوار فاصل کے قریب مسمار کیے گئے ہیں۔عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نے کہاکہ اسرائیلی مظالم کا سب سے زیادہ شکار ہونے والوں میں کم سن فلسطینی بچے ہیں۔ اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ غزہ میں جاری حق واپسی ریلیوں پر اسرائیلی فوج نے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس کے نتیجے میں 20 فی صد کم سن بچے ہیں۔کبھی اسرائیلی فوج اور سیکیوریٹی ایجنسیاں بیت المقدس میں مسلمانوں خاص طور پر نوجوانوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے انہیں روکتے ہیں تو کبھی مسجد قدس کی پامالی کی جاتی ہے۔ کئی بستیوں سے فلسطینیوں کو نکال باہر کردیا گیا، انہیں دانے دانے کا محتاج بنایا گیا اور انکی املاک کو تباہ و تاراج کرکے یہودی بستیاں بسائیں گئیں اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔عالمی سطح پر فلسطینی عوام کی مدد کی جاتی ہے مگر نہیں معلوم اسرائیلی حکومت کتنی امداد ان مظلوموں میں تقسیم کرتی ہیں اور کتنی اپنے گوداموں میں رکھ لیتی ہے اس کا کوئی حساب کتاب نہیں۔خیر فلسطینی بچے جو ابھی پڑھنے لکھنے اور کھیل کود کی امنگوں کے ساتھ گھر سے باہر قدم نکالتے ہیں لیکن ان کے قدم وہیں پر جم جاتے ہیں۔جب انکے سامنے اسرائیلی فوج اور سیکیوریٹی عہدیدار ہتھیار لئے کھڑے ہوتے ہیں ۔ ان معصوم بچوں کو کیا معلوم کے انکے دشمن انکی آنکھوں کے سامنے ان کے والدین کو نشانہ بنانے کے لئے کھڑے ہیں ۔ گذشتہ دنوں پھر سے ایک مرتبہ فلسطینی شہریوں کے گھروں کو مسمار کیا گیا دنیا خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ کہیں ایک دو جگہ سے اخباری بیانات جاری ہوتے ہیں لیکن اسرائیل کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا جاتا اور اس کی وجہ عالمی طاقتوں کا اسرائیل پر شفقت بھرا ہاتھ ہے۔ خیر آج فلسطینی عوام بشمول معصوم بچے اور خواتین اسرائیلی بربریت کا شکار ہورہے ہیں لیکن مستقبل قریب میں ان فلسطینیوں کو انشاء اﷲ عظیم کامیاباں عطا ہوں گی اور بیت المقدس پھر سے ایک مرتبہ مسلمانوں کے پاس ہوگا۔مسلمان چاہے وہ کسی بھی ملک کا ہو آج انہیں دشمن کی نگاہ سے دیکھا جارہاہے لیکن بہت جلد پھر سے ایک مرتبہ اسلام کا بول بالا ہوگا اور ہر طرف مسلمان ہی مسلمان نظر آئیں گے۔

یوسف علیہ السلام کے مزار کی بے حرمتی
یہہودیوں کی جانب سے مسجد اقصیٰ اور دیگر انبیاء کرام کی مزارات کی بے حرمتی کا سلسلہ جاری ہے ۔31؍ جولائی کو حضرت یوسف علیہ السلام کی مزار مقدس کی بے حرمتی کی گئی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہودی آباد کاروں کی بڑی تعداد نے غرب اردن کے شمالی شہر نابلس میں سینکڑوں یہودی آباد کاروں نے حضرت یوسف علیہ السلام کے مزار مقدس پردھاوا بولا اور مقدس مقام کی بے حرمتی کی۔ اس موقع پرمزاحمت کرنے والے12فلسطینی شہری اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی بتائے جاتے ہیں۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے چار فلسطینی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ قابض فوجیوں نے فلسطینی شہریوں پر آنسوگیس کی شیلنگ بھی کی۔ادھر اسرائیلی فوج کی بھاری نفری کی فول پروف سیکیورٹی میں یہودی آباد کاروں کی بڑی تعداد نے حضرت یوسف علیہ السلام کے مزار پردھاوا بولا۔ یہودی آباد کاروں نے مذہبی رسومات کی ادائی کی آڑ میں مقدس مقام کی بے حرمتی کی۔

عازمین حج کے لئے شاہی حکومت کی جانب سے سہولیات
یوں تو عازمین حج کے لئے سعودی شاہی حکومت گذشتہ کئی برسوں سے حرمین شریفین اور دیگر مقامات مقدسہ کے بہترین انتظامات کرنے کی سعی کرتی رہی ہے اور اس سال بھی مزید بہتر سے بہتر انتظام اور سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔صفائی ستھرائی کا جو نظام ان مقامات مقدسہ میں دیکھنے میں آتا ہے دنیا میں شاید ہی کوئی جگہ ہو۔لاکھوں حجاج کرام کی ہر سہولت کا خیال رکھنا یہ معمولی بات نہیں اس میں بے شک اﷲ رب العزت کا فضل و کرم ہی ہے کیونکہ حجاج کرام اﷲ کے مہمان ہوتے ہیں اور ان مہمانوں کی مہمان نواز جس طرح اﷲ رب العزت فرماتے ہیں یہ ایک حاجی ہی بیان کرسکتا ہے ۔ اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں سے بھی دوسرے بندوں کیلئے کام لیتے ہیں اور سعودی شاہی حکومت بھی اﷲ کے فضل و کرم سے دنیا کے کونے کونے سے آنے والے مسلمانوں کیلئے وسیع تر انتظامات کرکے اہم فریضہ انجام دے رہی ہے۔ سب سے اہم مسئلہ کسی بھی ملک میں وہاں کی زبان جاننے کا ہوتا ہے اور اگر کوئی مسافر اس ملک کی زبان سے واقف نہیں ہے تو اسے کئی ایک پریشانیاں لاحق ہوتی ہیں لیکن سعودی شاہی حکومت ان باتوں کا لحاظ کرتے ہوئے ملک میں دنیا بھر سے آنے والے عازمین حج و عمرہ اور زیارات مقامات مقدسہ کی سہولت کے لئے مختلف زبانوں میں مترجمین کا انتظام کرتی ہے ۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اس سال سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر عازمین حج کی رہنمائی کیلئے ایسے رضاکار اور مختلف زبانوں کے ماہر طلباء کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جو دیگر ممالک سے آنے والے عازمین حج کو ان کی زبان میں رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔پاسپورٹ ڈائریکٹوریٹ جنرل سعودی عرب کی طرف سے ہوائی اڈوں پر 10 سے زائد زبانوں کے ماہر تعینات کیے گئے ہیں جو دوسرے ممالک سے آنے والے عازمین کی رہنمائی کرتے ہیں۔جن زبانوں میں رہبری کی جارہی ہے ان میں عربی کے علاوہ انگریزی،اردو،فارسی، ہسپانوی، انڈونیشی، جاپانی اور ترکی کے ترجمان مقرر کیے گئے ہیں۔ یہ ترجمان ہوائی اڈوں کے مسافر خانوں میں عازمین حج کا استقبال کرتے اور ان کی زبان میں ان کی رہنمائی کرتے ہیں۔اس کے علاوہ راستوں اور دیگر سائن بورڈس پر بھی مختلف زبانوں میں رہبری کی جاتی ہے۔ خصوصی طور پر حج کے موقع پر مناسک حج و عمرہ کی لاکھوں کتابیں مختلف زبانوں میں تقسیم کی جاتی ہیں اور قرآن مجید کے لاکھوں ترجمے بھی مختلف زبانوں میں کرکے مفت تحفتاً دیئے جاتے ہیں۔

مسجد نبوی ﷺ میں وسیع تر انتظامات
حرم مکی اور مشاہیر مقدسہ کی طرح مسجد نبوی صلی اﷲ علیہ و سلم میں بھی حجاج کرام کی خدمت کیلئے بڑی تعدادمیں عملہ ہمہ تن مصروف رہتا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق حرمین شریفین پریزیڈنسی کی طرف سے رواں سال مسجد نبوی میں حجاج کرام کی خدمت کیلئے 7720 افراد پر مشتمل عملہ تعینات کیا گیا ہے۔ مسجد نبوی میں آنے والے عازمین حج کی خدمت پر نہ صرف مرد حضرات پرمشتمل خدام موجود ہیں بلکہ خواتین حاجیوں کیلئے خواتین مامور کی گئی ہیں۔مسجد نبوی میں تعینات عملہ کئی طرح کے فرائض انجام دیتا ہے۔ ان میں انجینئرنگ ، تکنیکی امور کے ماہرین، ثقافتی،ابلاغی، سماجی امور میں رہنمائی فراہم کرنے والے افراد کیساتھ مانیٹرنگ، نمازیوں کی رضاکارانہ رہنمائی اور مناسک اور عبادت کے بارے میں انتظامی اور شرعی رہنمائی فراہم کرنے کیلئے بھی عملہ تعینات ہے۔مسجد حرم نبوی صلی اﷲ علیہ و سلم اور اس کے بیرونی احاطوں کی صفائی کا خصوصی انتظام ہمیشہ جاری رہتا ہے اور حج کے موقع پر اس میں مزید اضافہ کردیا جاتا ہے۔ مسجد کے قالینوں کی دیکھ بحال، زائرین کو زمزم اور کھجوروں کی فراہمی، صفائی کیلئے تیارکردہ آلات کو تیار حالت میں رکھنا، معمر اورمعذور زائرین کی مدد اور روضہ رسول صلی اﷲ علیہ وسلم پرحاضری کا شرف حاصل کرنے والوں کی رہبری کرنے کے لئے بھی عملہ موجود رہتا ہے۔

ایرانی تیل کی درآمدات پر پابندی ۰۰۰ سعودی عرب کا اقدام
سعودی عرب نے امریکہ کی جانب سے ایرانی تیل کی درآمدات پر پابندی عائد کرنے کی وجہ سے چین کو متبادل طور پر تیل کی درآمد کا اپنا وعدہ پورا کرنے کا آغاز کیا ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے بعد ایرانی تیل کی درآمدات سنہ 2010ء کے بعد کم ترین سطح پرآ گئیں۔بتایا جاتا ہیکہ امریکہ کی جانب سے ایرانی تیل کی درآمدات پرپابندیوں کے بعد سعودی عرب نے چین کو تیل کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا۔ سعودی عرب نے بیجنگ کے ساتھ کیا گیا وعدہ پورا کردیا ہے اور اس وقت چین سعودی عرب سے یومیہ ایک ملین بیرل کے قریب تیل خرید رہا ہے۔ چین کی جانب سے سعودی عرب سے تیل کی خریداری کو ایک نئے ریکارڈ کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔چینی کسٹمز کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ ماہ بیجنگ ایشیائی ملکوں میں سعودیہ عرب کا خام تیل خریدنے والا سب سے بڑاملک بن گیا۔ گذشتہ ماہ چین نے 7 لاکھ 72 ہزار میٹرک ٹن تیل سعودی عرب سے خریدا جو کہ ایک اعشاریہ 89 ملین بیرل کے برابر ہے۔جون میں چین کی جانب سے سعودی عرب کی تیل کی خریداری کے حجم میں 64 فیصد اضافہ بتایا جارہا ہے جب۔اس طرح رپورٹس کے مطابق سنہ 2010ء کے بعد چین کی جانب سے ایرانی تیل کی خریداری کم ترین سطح پرآ گئی ہے۔ ایرانی تیل کی درآمدات پرپابندی کے بعد چین نے انگولا اور روس سے بھی تیل کی خریداری بڑھا دی ہے۔

یمن کی تباہی کا سلسلہ ابھی جاری ۰۰۰
یمن میں حوثی باغیوں کی کارروائیاں ابھی جاری ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق یمن کے وزیر برائے اطلاعات معمر الاریانی نے اقوام متحدہ کی جانب سے الحدیدہ میں جنگ بندی کی نگرانی کیلئے قائم کمیٹی پر حوثیوں کے دہشت گردانہ حملوں کو نظرانداز کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ یمنی وزیر اطلاعات معمرالاریانی نے ٹویٹر پر ایک فوٹیج پوسٹ کی جس میں الحدیدہ میں اخوان ثابت صنعتی و تجارتی مرکزمیں دودھ کی فیکٹری پر حوثی باغیوں کے حملے میں ہونے والی تباہی کے مناظر دکھائے ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ حوثیوں کی جانب سے فیکٹری پر گولہ باری کے نتیجے میں وہاں پرکام کرنیوالا ایک ملازم جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے جب کہ فیکٹری کو غیرمعمولی نقصان پہنچا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حوثی باغیوں کی طرف سے الحدیدہ میں روزانہ کی بنیاد پر فیکٹریوں کو حملوں کا نشانہ بنا کر سویڈن میں طے پائے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حوثی شدت پسند شہری آبادی اور شہری املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ دودھ فیکٹری پرحملے کے بعد اقوام متحدہ کی جنگ بندی ٹیم کو واضح موقف اختیارکرنا چاہیے تھا تاکہ حوثیوں کی طرف سے بے گناہ شہریوں کی جانوں سے کھیلنے کا سلسلہ بند کیا جا سکے۔
***

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 260 Articles with 100425 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Aug, 2019 Views: 401

Comments

آپ کی رائے