ٹیکس کا جال

(Tanvir Sadiq, Lahore)

ٹیکس کے جال میں پھنسے دو بندوں سے پچھلے دنوں بات ہوئی۔ امجد ایک دہائی سے میرا واقف ہے ۔وہ میرے ایک دوست کی ٹیکسٹائل فیکٹری میں کام کرتا تھا۔ کوئی چار سال پہلے وہ فیکٹری بنک سے کسی جھگڑے کے باعث بند ہو گئی اور امجد بے روزگار۔ روزگار کی تلاش میں کافی دوڑ دھوپ کے باوجود اسے معقول ٹھکانہ نہ ملا۔ نئے سرے سے نوکری کی ابتدا کی جائے تو تنخواہ بہت معمولی ملتی ہے۔ امجد سینئر آدمی تھا۔ اسے کافی تگ ودو کے باوجود سینیئر پوزیشن نہ ملی۔ سوئے اتفاق ایک شخص ٹیکسٹائل کی دو مشینیں بیچ رہا تھا۔ اسے معقول گاہک نہیں مل رہا تھا جو مشینوں کی صحیح قیمت دے دے۔ اس نے امجد کو مدد کے لئے کہا مگر کوئی صورت نہ بنی۔ایک دن اس نے امجد کو کہا کہ اگر میں یہ مشینیں تم کو خود چلانے کے لئے دے دوں تو مجھے اتنی رقم کتنے عرصے میں دے د و گے۔ امجد نے تھوڑا سوچا اور کچھ لے دے کے بعد یہ سودا طے ہو گیا۔ اسے دو سال میں ماہانہ قسطوں کی صورت وہ رقم ادا کرنا تھا۔

امجد مشینوں کو چلانا، مرمت کرنا، خام مال حاصل کرنا اور مال کی مارکیٹ میں کھپت وغیرہ پوری طرح جانتا تھا۔ وہ اس کی بیوی اور دو بیٹے چاروں اسی ہال میں جس میں مشینیں لگی تھیں منتقل ہو گئے۔ وہ بہت کم گھر جاتے ۔ مزدور کا مشینوں کا مالک ہو جانا بہت بڑی بات تھی مگر انہیں احساس تھا کہ ملکیت کے لئے قرضے سے نجات بہت لازمی تھی۔انہوں نے دن رات ایک کر دئیے۔مارکیٹ کے لوگوں نے بھی ان کی محنت اور لگن دیکھ کر مکمل تعاون کیا۔وہ کپڑوں پر کڑھائی کا کام کرتا تھا۔ مارکیٹ والے مہربانی کرتے اور اسے کپڑا دے دیتے اور وہ ان کی حسب منشا کڑھائی کرکے انہیں کپڑا واپس بھیج دیتا۔ یوں اسے معقول مزدوری مل جاتی۔جلد ہی وہ ان مشینوں پر ماہانہ سوا، ڈیڑھ لاکھ تک منافع حاصل کرنے لگا۔گو گھر کے چار آدمی کام کر رہے تھے اور عملاً تیس چالیس ہزارماہانہ فی کس آمدن کوئی بڑی بات نہیں تھی مگر ایک گھر، وہ بھی ایک مزدور کا ، میں اتنے پیسے یک مشت آنا بڑی بات تھی۔ مگرمشینیں ذاتی ہو جانے کا تصور اس قدر خوبصورت تھا کہ وہ دنیا جہان کو بھول کر قرض سے نجات میں پوری جان لڑا رہے تھے۔

دو سال سے کم عرصے میں امجد نے تمام پیسے ادا کر دئیے۔ اب وہ خوش تھا کہ وہ صحیح معنوں میں ایک چھوٹا سا صنعت کار تھا۔اس کا اگلا ٹارگٹ پرانی مشینوں کو بدل کر نئی مشینوں کا حصول تھا۔اس کا خیال تھا کہ اگلے دو سالوں میں وہ سو فیصد نئی نہ سہی نئی جیسی چلتی ہوئی مشینیں ضرور لے لے گا۔ اس کی چھوٹی سی فیکٹری میرے گھر کے قریب ہی تھی۔ میں پیدل چلتے ہوئے کبھی کبھی اس کی فیکٹری میں گھس جاتا۔ مجھے فیکٹریوں کو دیکھنے کا شوق ہے۔دو ہفتے پہلے اس کی فیکٹری بند تھی۔ مجھے بڑا عجیب لگا۔ وہ تو کسی حادثے کی صورت میں بھی چھٹی نہیں کرتا تھا۔ دو دن بعد میں خصوصی طور پر دوبارہ گیا تو فیکٹری پھر بند پا کر باہر اس کے ہمسایوں کو پیام دے آیا کہ وہ مجھے ملے۔اس دن وہ میرے پیغام کے جواب میں میرے پاس موجود تھا۔ بتانے لگا کہ فیکٹری تو کافی دنوں سے بند ہے۔اس لئے کہ موجودہ حالات میں فیکٹری نہ چلائی جا سکتی ہے اور نہ ہی چل سکتی ہے۔ مگر کیوں؟ کہنے لگا ، میں مزدوری کرتا ہوں۔ مشینیں میرے پاس ہیں۔ مگر کوئی خام مال ہے اور نہ ہی کوئی سرمایہ۔ کچھ دکاندار ہیں جو کپڑا بھیج دیتے ہیں، میں کڑھائی کر دیتا ہوں وہ بخیوں (Stitches) کے حساب سے معاوضہ دے دیتے ہیں۔دھاگہ بازار سے میں خود لاتا ہوں، اس کے لئے وہ ایڈوانس دیتے ہیں۔ میں کچھ نہیں بیچتا مگر اب مجھے پورا حساب رکھنا اور سیلز ٹیکس بھی دینا ہے۔ حساب تو پہلے بھی رکھتا ہوں مگر اب اس میں سے سیلز ٹیکس زبردستی نکالا جا رہا ہے۔

مجھے یاد آیا، چند دن پہلے میں اپنی بیگم کے ہمراہ ایک شاپنگ مال میں موجود تھا۔ ایک دکان پر میری بیگم نے ایک سوٹ پسند کیا غالباً تین ہزار کے لگ بھگ تھا۔ ادائیگی کے وقت دکاندار نے قیمت کے علاوہ پانچ چھ سو کے قریب سیلز ٹیکس بھی مانگا۔ میری بیگم نے سوٹ واپس کر دیا۔ دکاندار نے ہاتھ گھما کر پہلے خود سے کچھ گفتگو کی پھر مجھے کہنے لگا، جناب اس سیلز ٹیکس کا کمال ہے کہ اسی فیصد سے زیادہ گاہک خریدنے سے انکار کرکے واپس چلے جاتے ہیں۔میں نے امجد کو اس بارے بتایا تو بولا ، آپ نے نہ خرید کر غلطی کی۔ وہ پرانا مال تھا جو تین ہزار میں دستیاب تھا۔فیکٹریاں توبند ہو گئی ہیں۔ اگرکسی طرح فیکٹریاں چل پڑیں تو یہ سوٹ آپ کو آٹھ ہزار سے کم میں نہیں ملے گا۔ مگر کیوں؟ کہنے لگا، ریشمی دھاگہ جو میں استعمال کرتا ہوں ۔ کوئی شخص امپورٹ کرتا ہے وہ سترہ فیصد سیلز ٹیکس دیتا ہے۔ میرے جیسا ایک شخص کسی دکاندار کے حوالے سے اس امپورٹر سے دھاگے کی پانچ کلو کی کون لے کر اسے ڈیرھ دو سو گرام کی کون میں تبدیل کرتا اور اس پر دو روپے کے قریب اپنی مزدوری لے کر اس دکاندارکو دے دیتا ہے جو بڑی کون لے کر دیتا ہے۔ اب وہ چھوٹی کون بنانے والامزدورنما صنعت کار بھی سیلز ٹیکس دے گا ۔ پھر دکاندار بھی سیلز ٹیکس دے گا۔ میں وہ کون استعمال کروں گا اورسیلز ٹیکس میں بھی دوں گا۔وہ ہول سیلر جو مجھ سے مال بنواتا ہے وہ بھی دے گا اور آخر میں ریٹیلر بھی ۔ سو روپے والی چیز تین سو پر پہنچ جائے گی۔ اگر حساب کتاب رکھیں تو کچھ واپس بھی ہو جاتا ہے، مگر میرے جیسے لوگ کیا کریں۔ میں زیادہ پڑھا لکھا نہیں۔ اکاؤنٹنٹ کو پچاس ہزار کیسے دیں۔ خود کچھ کریں تو غلطی کا احتمال ہے ، جرمانہ کون دے گا۔یہ پرانی مشینیں صرف میں ہی چلا سکتا ہوں اس لئے کہ مرمت بھی جانتا ہوں۔ ہم چار گھر والے مل کر سوا ڈیڑھ لاکھ کما لیتے ہیں جو فی کس تیس پنتیس ہزار بنتا ہے۔ یہ عام مزدور کی تنخواہ ہے جس پر ٹیکس نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود میں نے دو سال بہت معقول ٹیکس دیا ہے۔ اب مزید میرے بس کی بات نہیں۔ دیکھیں حالات اگر بہتر ہوگئے تو فیکٹری کا سوچیں گے۔ فی الحال مزدوری سے گزارہ کریں گے۔

چوہدری میرا کلاس فیلو اور ایک بڑا صنعت کار ہے۔ میں نے اس سے بات کی ۔ کہنے لگا پروڈکشن کم کی ہے اور حالات دیکھ رہا ہوں مگر مجھے پریشانی نہیں۔ سرکاری اہلکار ہر ماہ آتے اور میرے اکاؤنٹنٹ کے ساتھ بیٹھ کر سارا حساب ٹھیک کراتے اور اپنا ماہانہ لے جاتے ہیں۔ کوئی ابتلا آئی تو پہلے بتا دیں گے، اسی لئے تو پیسے لیتے ہیں۔زیادہ سختی ہوئی تو کینڈا چلا جاؤں گا۔ بچے وہاں پڑھ رہے ہیں وہ تو پہلے ہی بضد ہیں کہ میں وہاں آ جاؤں۔ میں سوچنے لگا کہ جن کے پاس پیسے ہیں انہیں اس ملک سے کوئی لگاؤ نہیں اور جن کا جینا مرنا اس ملک سے وابستہ ہے ان کا جینا معاشی مشیروں نے تلخ کر دیا ہے۔ میں نے زندگی میں ایک چیز ہمیشہ محسوس کی ہے کہ وہ لوگ جو اپنے بال بڑھا کر رکھتے ہیں چاہے وہ زلفوں کے ہوں یا مونچھوں کے ، بہت سی عادتوں میں عام لوگوں سے مختلف ہوتے ہیں بلکہ معذرت کے ساتھ کہ ابنارمل ہوتے ہیں۔ موجودہ حکومت FBR میں ایک چیرمین بمعہ شاندار مونچھوں کے کہیں سے ڈھونڈھ لائی ہے جن کی ابنارمل سختی نے معاشی پہیہ جام کر دیا ہے ۔ دو نقصان ہوئے ہیں۔ ایک ان کی سخت اور غلط پالیسی حکومت کی نیک نامی تباہ کر رہی ہے ۔ دوسرا وہ کسی حقدار کی حق تلفی کرکے وہاں متعین ہوئے ہیں۔ FBR کے ملازمین حکومت کی تمام تر کوشش کے باوجود کبھی بھی ان سے دل کے ساتھ تعاون نہیں کریں گے۔

میرے خیال میں اپوزیشن جو بھی کرے موجودہ حکومت کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔موجودہ حکومت کو جس بگاڑ کا سامنا ہے وہ اس کے اپنے معاشی مشیروں کا پیدا کردہ ہے۔ انہیں اس بات کی سمجھ ہی نہیں کہ ٹیکس ریکوری کے قوانین جتنے سخت کریں گے ٹیکس اتنا کم حاصل ہو گا۔بد امنی زیادہ پھیلے گی اوریہ چند دن میں نظر آ جائے گا۔میں نجومی تو نہیں مگر ایسے حالات میں لگتا ہے کہ بہت جلد یا تو یہ معاشی مشیر نہیں ہونگے یا ان کے پروردہ۔ دونوں رہیں یہ ممکن نہیں۔ مشہور چینی مذہبی سکالر، فلاسفر اورتاؤ مت کا بانی تاؤ کہتا ہے کہ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ نرم اور لچکدار ہوتا ہے مگر جب مرتا ہے تو سخت اور اکڑا ہوا ہوتا ہے۔ نرم اور لچکدار ہونا زندگی کی علامت ہے جب کہ سخت اور اکڑا ہونا موت کی نشانی ہے۔ زوال کی علامت ہے۔ وقت آخر کی نوید ہے۔ حکومت نے جس انداز میں لوگوں کی آسوں اور امیدوں کو تباہ کیا ہے اس سے لوگ بہت بد دل ہیں۔ حکومت کو اگر اپنی زندگی عزیز ہے تو لوگوں کے اعتماد کی بحالی کے لئے اسے اپنے رویے کو نرم اور لچکدارکرنا بہت ضروری ہے۔ ورنہ بہت سی چیزیں فطری ہوتی ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 440 Articles with 227407 views »
Teaching for the last 46 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More
04 Aug, 2019 Views: 302

Comments

آپ کی رائے