پاکستان کا قومی ترا نہ اس کا پسِ منظر، معنی ومفہوم اور وضاحت: دوسری قسط

(Syeda F GILANI, Australia)

21/اگست1949ء کو حکومتِ پاکستان نے قومی ترانہ کمیٹی کے زیرِ اہتمام احمد جی چھاگلہ کی تیار کردہ دھن کو منظو رکرلیا۔ یہ دھن پاکستان نیوی بینڈ کے پی۔این۔ایس دلاور نے بنائی۔وارنٹ آفسر عبدالغفور اس بینڈ کے ماسٹر تھے۔ اس طرح پاکستان کی کلاسیکی موسیقی کا وجود عمل میں آیا۔اور راگ”جے جے ونتی“ اور ”آسا دری“ تشکیل کیے گئے۔

اس دھن کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حفیظ جالندھری نے پاکستان کا قومی ترانہ لکھا؛ جسے حکومتِ پاکستان نے جنوری 1954ء کو منظور کرلیا۔14/اگست1954ء کو اسے پہلی بار حفیظ جالندھری کی آواز میں ریڈیو پاکستان سے نشر کیا گیا۔

حفیظ جالندھری نے قومی ترانہ لکھنے میں چھ ماہ صرف کیے اور تین ماہ تک اس کے ایک ایک لفظ پر غور و خوض کیا۔ قومی ترانہ شاعری کی مخمس شکل میں ہے اور اس میں کل پندرہ مصرعے ہیں۔ اس ترانے کوملک کے ممتاز گلوکاروں؛ شمیم بانو، کوکب جہاں، رشیدہ بیگم، نجم آرا، نسیمہ شاہین، احمد رشدی، زوار حسین، اختر عباس، غلام دستگیر، انور ظہیر اور اختر وصی علی کی آوازوں میں ریکارڈ کیا گیا۔

قومی ترانہ مرتب کرنے میں 21آلات اور 38ساز استعمال کیے گئے۔ پورا قومی ترانہ بجنے میں ایک منت اور بیس سیکنڈ صرف ہوتے ہیں۔پورے قومی ترانے میں ”کا“ کے سوا کوئی اردو لفظ استعمال نہیں کیا گیا اور دیگر تمام الفاظ فارسی کے ہیں تاہم یہ الفاظ اردو میں مستعمل ہیں۔14/اگست 1955ء میں حکومتِ پاکستان نے حفیظ جالندھری سے قومی ترانے کے حقوق خرید لیے تاکہ اسے غلط صورت میں پیش کرنے کا امکان باقی نہ رہے۔
قومی ترانہ
پاک سرزمین شاد باد کشورِ حسین شاد باد
تو نشانِ عزمِ عالیشان ارضِ پاکستان!
مرکزِ یقین شاد باد
پاک سرزمین کا نظام قوتِ اخوتِ عوام
قوم، ملک،سلطنت پائندہ تابندہ باد
شادباد منزلِ مراد
پرچمِ ستارہ و ہلال رہبرِ ترقی و کمال
ترجمانِ ماضی، شانِ حال جانِ استقبال!
سایہ خدائے ذولجلال

قومی ترانے کے کچھ آداب بھی ہیں۔مثلاً: اگر کسی جگہ قومی ترانہ بجایا جارہا ہو تو ہر پاکستانی پر لازم ہے کہ اگر چل رہاہو تو وہیں رک جائے، اگر سیگریٹ پی رہاہے تو پینا بند کردے۔27/اپریل1964ء کو حکومتِ پاکستان نے فیصلہ کیا کہ سینما گھروں میں یہ لازم ہو گا کہ کسی بھی فلم کے چلائے جانے سے پہلے قومی ترانہ بجایا جائے اور یہ اعلان کیا جائے کہ اب قومی ترانہ بجایا جائے گا اس لیے اس کے احترام میں کھڑے ہو جائیں۔14/اگست1981ء کو پہلی بار ملک بھر میں نو بجے قومی ترانہ گایا گیا۔
قومی ترانے کے پہلے بند میں حفیظ جالندھری اپنے پیارے وطن پاکستان کی خوشحالی اور ترقی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہتے ہیں، اے پاکستان کی سرزمین! تجھ پر خوشحالی کا سایہ رہے یعنی اے ارضِ پاک تو خوشحال رہے۔اے ہمارے خوابوں کی تعبیر! خوبصورت ملک کبھی تجھ پر کھٹن وقت نہ آئے۔تیرے اندر بسنے والے لوگ ہمیشہ خوش وخرم رہیں۔ ان کا ہر قدم ملک کی ترقی، بقا اور خوشحالی کے لیے اٹھے۔
حفیظ کہتے ہیں کہ اے میرے وطن!تو مسلمانوں کے بلند ارادوں کی یادگار ہے، تو ہمارے اسلاف کی مقدس امانت ہے۔ اے پاک وطن! اے پاک زمیں! کبھی تیرا تقدس پامال نہ ہو۔ تو اہلیانِ پاکستان کے اعتماد کا مرکز بنا رہے۔ میری یہ دلی دعا ہے کہ تو دنیا کے نقشے پر تا قیامت رہے۔

پاک سرزمین کے معنی پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ کے ہیں اور پاک سر زمین سے شاعر کی مرادمحض زمین کا ٹکڑا کے نہیں بلکہ وہ خطہ پاک ہے جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا اور یہ اس لیے حاصل کیا گیا کہ مسلمان اس خطہ ارض پر رہ کر نعرہ حق بلند کرسکیں اور اپنی زندگیاں اسوہئ رسول ﷺ کے مطابق ڈھال سکیں نیز دنیا کو یہ بتا سکیں کہ اسلام صرف عقائد و عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے؛جو ہر دور میں ہر ملک کے مناسبِ حال ہے۔ یہ ایک ایسا ضابطہ حیات ہے جو بنی نوعِ انسان کو ترقی کی ان راہوں پر چلنے کے قابل بناتا ہے جو انسان کے شایانِ شان ہیں۔ اسلام کا بنی نوعِ انسان پرایک بہت بڑااحسان یہ بھی ہے کہ اس نے تمام انسانوں کو حقیقی مساوات کا نظریہ دیا ہے۔یہ مذہب نسل، رنگ یا پیدائش کی بنیاد پر کسی برتری یا فوقیت کو تسلیم نہیں کرتا۔

3/جون 1945ء کو قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے اس خطہ پاک کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:
پاکستان کا منشاصرف آزادی اور خودمختاری نہیں بلکہ اسلامی نظریہ ہے؛جو بیش بہا عطیے اور خزانے کی حیثیت سے ہم تک پہنچا ہے اور جسے ہمیں برقرار رکھنا ہے جس کے بارے میں ہمیں امید ہے کہ دوسرے بھی اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔

ہم جس اہم جدوجہد میں مصروف ہیں وہ صرف مادی فوائد کے لیے نہیں بلکہ یہ جد و جہد در حقیقت مسلم قوم کی روح کی بقا ہے۔ہم نے پاکستان اس لیے حاصل کیا تھا کہ اسے اسلام کی تجربہ گاہ بنا سکیں۔ہمارا آئین چودہ سو سال سے بنا ہوا موجود ہے یعنی قرآن مجید۔میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات اس اسوہ حسنہ پر چلنے میں ہے جو ہمیں قانون عطا کرنے والے پیغمبراسلامﷺنے ہمارے لیے بنایا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی جمہوریت کی بنیادیں صحیح معنوں میں اسلامی تصورات و اصولوں پر رکھیں۔

گویا مسلمان اپنے مخصوص فلسفہ زندگی کی نشو ونما،ارتقا، بقااور استحکام کے لیے ایک الگ خطہ زمین چاہتے تھے جو پاکستان کی صورت میں انہیں حاصل ہوا۔جس کے لیے ہمیں بانی پاکستان کا احسان مند رہنا چاہیے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syeda F GILANI

Read More Articles by Syeda F GILANI: 35 Articles with 21483 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Aug, 2019 Views: 1139

Comments

آپ کی رائے