حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا آخری حج

(Syed Muhammad Irfan Pasha, India)

 دسویں ہجری میں حضور ؐ نے جو حج فرمایا ہے،وہ آپؐکا آخری حج ہے،جب ذیقعدہ ۱۰ھ میں آپؐمدینہ منورہ سے حج کی ادائیگی کی غرض سے بیت اﷲشریف کے لئے روانہ ہوئے،تو آپؐ کے ساتھ عازمین حج کا جم غفیر تھا۔مورخین کا بیان ہے کہ آپؐ کے ساتھ اس سال جوعازمین حج روانہ ہوئے ان کی تعداد کسی طرح بھی لاکھ،سوا لاکھ سے کم نہیں تھی۔حضوراکرمؐ نے اس تاریخی حج کے موقعہ پرخطبہ فرمایا۔وہ آپؐ کا آخری خطبہ تھا۔اس کا خلاصہ یہ ہے۔

’’اے لوگو!میری باتوں کو غور سے سنو۔مجھے پورا یقین ہے کہ میں آئندہ سال اس موقع پر تم سے پھر نہیں مل سکوں گا۔جیسا کہ اس دن اور اس مہینہ میں میں خونریزی حرام ہے،اسی طرح تمہارا خون تمہارا مال اور تمہاری آبرو ایک دوسرے پر حرام ہے۔تم کو چاہئے کہ امانتیں ا ن کے مالکوں کے سپرد کردیا کرو۔دوسروں پر ظلم نہ کرو،تا کہ تم پربھی ظلم نہ کیا جائے۔سود حرام ہے۔اب شیطان کی پرستش اس زمین پر نہیں ہوگی،مگر چھوٹے چھوٹے امور میں اس کی اطاعت کی جائے گی۔لہٰذا تم شیطان کی اطاعت سے بچے رہنا۔عورتوں کے حقوق ادا کرو اور ان کے ساتھ بھلائی کرو۔میں تم میں دو چیزیں چھوڑتا ہوں۔ایک اﷲکی کتاب،دوسرے اس کے نبی ؐ کی سنت،جب تک تم کتاب اور سنت پر عمل کروگے،گمراہ نہ ہوگے۔تمام مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔کوئی مسلمان،کسی مسلمان کے مال میں تصرف نہ کرے،تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو.......اس خطبہ کے دوران آپؐ نے لوگوں سے پوچھا کہ بتاؤمیں نے احکام الٰہی تم تک پہنچادئیے۔حضورؐ نے ارشاد فرمایا۔تم سب گواہ رہنا۔نیز حضور ؐ نے ارشاد فرمایا کہ جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ دوسروں تک میری نصیحت پہنچادیں۔اس موقعہ پر یہ آیت شریفہ نازل ہوئی۔الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا۔

آج کے دن تمہارے لئے تمہارے دین کو میں نے کامل کردیا،اور میں نے تم پر اپنا انعام تمام کردیا اور میں نے اسلام کو تمہارے دین (بننے کے لئے) پسند کرلیا۔اس آیت ِشریفہ کے نزول پر بہت سے مسلمان خوش ہوئے کہ دین اسلام کی آج تکمیل ہوگئی۔‘‘لیکن رمزشناس صحابہ ؓ سمجھ گئے کہ رسول اکرمؐ کی جدائی کا زمانہ قریب آگیا ہے۔کیونکہ جس مقصد کے لئے حضورؐ تشریف لائے تھے وہ پورا ہوچکا ہے۔حضرت علیؓ جو یمن میں تبلیغ اسلام کے لئے گئے ہوئے تھے وہ بھی یمن سے آکررسول اﷲؐکے ساتھ اس آخری حج میں شریک ہوگئے تھے۔اس موقعہ پربعض غلط فہمیوں کی بنا پر جب رسول اﷲؐ سے دبے الفاظ میں حضرت علیؓ کی شکایت کی گئیں توآپ ؐنے فرمایاکہ’’جو شخص میرا دوست ہے وہ علی کا دوست ہے اورجو علی کا دشمن ہے وہ میرا دشمن ہے۔آپؐ کی یہ بات سن کر معترضین خاموش ہوگئے۔اور حضورؐحج کی ادائیگی کے بعد مدینہ منورہ واپس چلے گئے۔یہ آپؐ کا آخری حج اور مکہ آخری سفر تھا۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Muhammad Irfan Pasha

Read More Articles by Syed Muhammad Irfan Pasha: 26 Articles with 18638 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Aug, 2019 Views: 327

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ