لمبڑ سے نمبر ایک

(Dilpazir Ahmed, Rawalpindi)
ایک بیانیہ امریکہ کا ہے جو چاہے تو دس دن میں ایک کروڑ افراد کو ہلاک کر کے دنیا میں فتح کا جشن منا سکتا ہے۔ ایک بیانیہ بھارت کا ہے کہ بابر اور شیر شاہ سوری کی حکمرانی کا بدلہ کشمیریوں کو نہتاکر کے اور ان کو خون میں نہلا کر لینا ہے

پانچ اگست ۲۰۱۹ کو بھارت کے صدر نے ایک فرمان کے ذریعے لداخ اور جمون و کشمیر کے جغرافیے کی ترتیب نو کی ہے۔

اس فرمان کے جاری ہونے سے پہلے کشمیرمیں سیکورٹی فورسز کی تعداد اس حد تک بڑہائی جا چکی تھی کہ ہر گھر کے باہر آٹھ سے دس فوجی یا پولیس والے موجود تھے۔ محلوں کا آپس میں رابطہ کاٹنے کے لیے کانٹے دار تار بچھ چکے تھے۔ تعلیمی ادارے اور بازار بند ہوچکے تھے۔کشمیریوں کو قتل اور زخمی کرنے کا کام شروع ہو چکا تھا۔لینڈ لائن اور سیل فون کام چھوڑ چکے تھے۔ انٹر نیٹ معطل ہو چکا تھا۔ لوگوں کے پاس نقدی ختم ہو چکی ہے۔ اے ٹی ایم خالی پڑے ہیں۔ ہوائی سفر کے لیے کارڈ قبول نہیں کیے جا رہے۔ کرفیو نافذ کر کے عملی طور پر کشمیریوں کو اپنے ہی گھروں میں قید کر دیا گیاالبتہ دودھ، دہی، سبزیوں اور کھانے پینے کی اشیاء نایاب ہو چکی ہیں۔اس کا سبب آرتیکل ۳۷۰ اور اے ۳۵ بتائے جاتے ہیں۔
بھارت کے ان اقدامات پر اگر دنیا خاموش ہے تو یقینااس کے اسباب بھی ہیں۔ بھارت اور پاکستان میں عوام کا مسٗلہ یہ ہے کہ حکمرانوں کی نظر میں عوام جاہل ہے اس لیے وہ سچ جاننے کا حق نہیں رکھتے اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ حکمران غلط بیانی کرتے ہیں۔ مگر بعض حکومتی اقدامات عوام کو ان ہونی پر یقین کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔جیسے بھارت اور پاکستان میں کشمیریوں کے حق میں اٹھنے والی ہر آواز کو پابند سلاسل کیا جا رہا ہے۔ کوئی تہاڑ میں بیمار پڑا ہے تو کوئی کوٹ لکھپت میں۔ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہے اور ٓزاد کشمیر میں اجتماع کرنے والوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔اسلام کا نام لینے والوں پر وہاں بھی زمین تنگ ہے تو یہاں بھی حافظ سعید کے بعد توپوں کا رخ طاہر اشرفی کی طرف پھر چکا ہے۔

پچھلے تین ماہ کے حالات اور واقعات تینوں کو ایک پیچ پر بتاتے ہیں۔ امریکہ درمیان میں بیٹھتا ہے۔ جاپان میں مودی کو بائیں طرف بٹھاتا ہے تو واشنگٹن میں کپتان کو دائیں ہاتھ رکھتاہے۔

بھارتی اعلان کے بعد پاکستان کی جان کو آئے ایف تیایفتی کے رویے میں نرمی آ چکی ہے ۔ایشیائی بنک نے پاکستان کو ۵۰۰ ملین ڈالر جاری کر دیے ہیں حالانکہ دو سال ہونے کو ہیں کہ پاکستان کے لیے بجٹ سپورٹ فنڈ بند تھا۔امریکہ نے پاکستانی سفارت کاروں کے نقل و حرکت پر عائد پابندیاں اٹھا لی ہیں۔کہا جاتا ہے سی پیک کے پہیے کو پنکچر کر کے ٹائر واپس چین بجھوا دیا گیا ہے البتہ جو کچھ پاکستان میں رہ گیا ہے زنگ کی نظر ہو گا۔ اورنج ٹرین واٹر پروف نہیں ہے۔ پیسہ مگر ان غریبوں کاہے جو ا۸ فیصد گی ایس ٹی ادا کر کے بھی تیکس نا دہندہ ٹھہرائے گئے ہیں۔ عوام سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر خود پر ماتم نہ کریں تو کیا کریں۔

مودی کے الیکشن جیتنے کے بعدان اقدامات کے برپا کر دیے جانے کی بازگشت بھارتی، پاکستانی اور انٹرنیشنل میڈیا میں سنائی دیتی رہی۔مگر منتقم مزاج دانش کو معلوم ہی نہ ہوا اور سیلاب ان پلوں کو بہا کر لے گیا جوسات دہائیوں سے سیلابوں کا راہ روکے ہوئے تھا۔

پاکستان کے اندر اسلام کے نام پر کام کرنے والی ۷۹تنظیموں پر کو یا تو خلاف قانوں قرار دیا جا چکا ہے یا ان کو مانیٹر کیا جا رہا ہے۔آشا کے نام پر کشمیر میں عائشہ کا دوپٹہ بھارتی فوجیوں کے قدموں میں گر چکا ہے۔بھارت آئینی طور پر ایک سیکولر ملک ہو کر ہندو توا کو آگے بڑہا رہا ہے اور پاکستان اسلامی جمہوری ہو کر بھی مذہبی لوگوں کے خیالات اور اعمال پر شرمندہ ہے۔

قومی اسمبلی میں سوال اٹھا یا جاتاہے کہ ہر دس سال بعد ہم فسطائیت کی طرف کیوں لوٹ آتے ہیں۔ لوگوں کو گلہ ہے کہ ادارے اپنا اپنا کام نہیں کر رہے ۔کرپشن کی حالت یہ ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت میں چیف جسٹس کے سامنے ایک شہری ان پر رشوت لینے کا الزام لگاتا ہے مگر شنوائی نہیں ہوتی۔ہمیں فیصلہ کرنا ہو گا کون سا مطالبہ دین کا کافر یاملک کا غدار بناتا ہے۔

ہمارے سامنے عدالت کی مثالیں ہیں ساٹھ کی دہائی میں غلط طور پر سنائی گئی پھانسی کی سزاوں پر عمل درامد نہ ہو سکا۔بھارت کا ایجنٹ اور غدار ہونے کا بیانیہ اسی کی دہائی میں پٹ چکا ہے۔ ایک دوسرے کو کافر کہنے اور کلاشنکوف کی گولی مار کر گرانے کے تجربات بھی بہتری نہ لا سکے۔ موجودہ دور میں جھوٹ اور غلط پروپیگنڈے کے غبارے سے بھی ہوا نکل چکی ہے۔

سب سے بڑا سچ اداروں کا ایک پیچ پر ہونا ہے مگر اس پیج کی ہر سطر کی داستان البتہ لرزہ خیز ہے۔

ہمارے سامنے پاکستان ٹوٹا۔ ہم نے سبق حاصل نہ کیا۔ ہمارے سامنے سویت یونین کا شیرازہ بکھرا مگر ہم اپنے ہی بیانئے کے اسیر رہے۔ ایک بیانیہ امریکہ کا ہے جو چاہے تو دس دن میں ایک کروڑ افراد کو ہلاک کر کے دنیا میں فتح کا جشن منا سکتا ہے۔ ایک بیانیہ بھارت کا ہے کہ بابر اور شیر شاہ سوری کی حکمرانی کا بدلہ کشمیریوں کو نہتاکر کے اور ان کو خون میں نہلا کر لینا ہے۔ البتہ ہم نے پچھلی تین دہائیوں سے ایک ہمسائے کے بیانئے کو قریب سے دیکھا اور بھگتا بھی ہے۔ افغانیوں کا یہ بیانیہ دعوت فکر دیتا ہے۔اس بیانئے نے روس کا شیرازہ بکھیرا، امریکہ اپنے دعووں کے برعکس نا مراد لوٹنے کا ارادہ باندھ رہا ہے۔ راز یہ کھلا کہ ان کے حوصلے اور ہمت نے انھیں لمبڑ سے نمبر ایک بنا دیا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dilpazir Ahmed

Read More Articles by Dilpazir Ahmed: 104 Articles with 58869 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Aug, 2019 Views: 342

Comments

آپ کی رائے