کشمیر بنے گا پاکستان

(جمیل قادر, Charsadda)
کشمیر میں آرٹیکل 370 کے خاتمہ مودی سرکار اور بھارت کی اخری چال ثابت ہوگی انشااللہ

کشمیر بنے گا پاکستان. خبر آئی ہے کہ انڈیا نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی ہے مودی سرکار نے کشمیر سے متعلق تقسیم ہند والی قانون ختم کردی اور کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کردیا جموں و کشمیر میں انتخابات ہونگے اسکی اپنی اسمبلی ہوگی لیکن اپنا کوئی پرچم اور آئین نہیں ہوگی جبکہ دوسری طرف لداخ کو دہلی یعنی مرکز کے زیر انتظام قرار دیا گیا ہے یہ فیصلہ یا بل پاس کرتے وقت کشمیر میں مکمل کرفیو کا نفاذ رہا اور تا دم تحریر برقرار ہے اور کشمیری حریت رہنماؤں سمیت بھارت نواز لیڈروں کو گھروں میں نظربند کیا گیا ان تمام حرکات وسکنات سے یہی بات ظاہر ہورہا ہے یہ سارے فیصلے کشمیر کے لوگوں کے ہواہشات کے برعکس صادر کیے گئے ہیں ان فیصلوں میں کشمیری عوام اور رہنماؤں کی رائے نہ شامل ہیں نا کوئی مشاورت لی گئ ہیں بلکہ نام نہاد جمہوریت نے آمریت کے طرح صرف فیصلہ صادر کیا اب کوئی بھی ہندو یا کشمیری شہریت نہ رکھنے والے کشمیر میں زمین خرید سکےگا اور وہاں زندگی گزار سکے گا اور کشمیریوں کو آسانی سے اقلیت میں تبدیل کرواسکے گا یہ اسرائیلی طرز کا ماڈل جو اسرائیل نے فلسطین کو اقلیت میں بدلنے کیلیے نافذ کیا تھا اب انڈیا نے بھی یہی راستہ اپنایا ہے لیکن ہندوستان ایک بات شاید بھول گیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کا معاملہ صرف دو ملکوں کے درمیان تھا لیکن یہاں معاملہ بالکل الٹ ہیں کشمیر کا تنازعہ صرف انڈیا اور کشمیر کا نہیں بلکہ اس میں پاکستان بھی ایک اہم فریق ہیں سیاسی طور پر اگر دیکھا جائے تو کشمیر بہت عرصے سے پاکستان کیلیے ایک ثانوی حیثیت اختیار کرگیا تھا جبکہ انڈیا نے اس مسئلہ کو بہت سنجیدہ لیا تھا یہاں تک کہ مودی نے اس کو اپنے منشور میں شامل کررکھا تھا چونکہ پاکستان کے داخلی مسائل بہت زیادہ تھے جس سے پاکستان کی توجہ کشمیر مسئلہ کے طرف تھوڑی سے کم ہوگئی تھی اور یوم کشمیر پر رسمی سا بیان جاری کیا جاتا رہا اور اگر تشدد میں اضافہ دیکھنے میں ملتا تو پاکستانی حکمران اور عوام مذمتی بیانات, جلسے جلوس اور فیس بک ٹوئٹر وغیرہ پر مذمتی پوسٹ کروالیتے تھے جبکہ انڈیا نے اس خاموشی کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور عملی اقدامات اٹھالیے چونکہ ابھی ٹرمپ نے عمران خان کے دورے امریکہ کے موقع پر ثالثی کی پیشکش کی اور ساتھ یہ بھی کہا کہ مودی نے بھی ثالثی کی درخواست کی ہے چونکہ مودی کو یقین تھا کہ ٹرمپ یہ مسئلہ حل کرسکتا ہے اور اس کے پاس بھی حل کرنے کیلیے واحد راستہ اقوام متحدہ کا فیصلہ یعنی انتخابات کروانےکا فیصلہ ہیں اور مودی کو یہ یقین محکم تھا کہ انتخابات میں کشمیر پاکستان کے ساتھ الحاق کریگا اور کشمیر انڈیا کے ہاتھوں ہمیشہ کیلیے نکل جائےگاجس کا توڑ ان ارٹیکلز کو ختم کرکے نکالا گیا اور وہ تمام روکاوٹیں اور قدغنیں ختم کردیے جس انکو خطرہ محسوس ہورہا تھا اب وہ یہاں بھارتی شہریوں اور ریٹائرڈ فوجیوں کو بسائےگا اور مسلم اکثریت کو تبدیل کرنے کی کوشش کرینگےاور جب اکثریت ہوجائے پھر انکو ٹرمپ کی ثالثی ہو یا اقوام متحدہ کے انتخابات سب کچھ انکو منظور ہوگا لیکن یہ فیصلہ انڈیا کے گلے بھی پڑ سکتا ہے اور یہ بات انکے پڑے لکھے وزرا نے بھی اٹھایا ہیں کہ یہ فیصلے غلط اور سراسر زیادتی ہیں دوسرا اس نے پاکستان کے شکل میں سویا ہوا شیر بیدار کیا ہے اور ہندوستان اقوام متحدہ کے فیصلے کے روشنی میں ان قوانین کو ختم نہیں کرسکتا اور اب اس نے یہ اقوام متحدہ کے قراردادوں کی خلاف ورزی کی ہیں اب پاکستان کو کشمیر کے معاملہ کو سنجیدہ لینا ہوگا اور اس کو ہر فورم پر اٹھانا ہوگا تمام سیاسی جماعتیں آپس کے تمام اختلافات ایک سائیڈ پر رکھ کر کشمیر کے مسئلہکو اجاگر اور حل کرنا ہوگا کیونکہ ہم پاکستانی قوم کشمیر کو اپنا حصہ سمجھتے ہیں یہ قوم سب کچھ برداشت کرسکتی ہیں لیکن کشمیر کو انڈیا کا ہوتے ہوئے کبھی برداشت نہیں کریگی اور نا ان لوگوں کو معاف کریگی جو یہ ظلم کریگا پاکستان کو یہ معاملہ اب عالمی عدالت اور اقوام متحدہ میں لے کر جانا چاہیے اور اس معاملے پر تمام اسلامی اور دوست ممالک اور اتحادیوں کو اعتماد میں لینا چاہیے امریکی صدر ٹرمپ کو اس معاملہ میں لانا ہوگا بلکہ انکو اس مسئلہ کو حل کرنے کا شرط لگانا چاہیے کیونکہ امریکہ کو افغانستان کے معاملہ پر پاکستان کی شدید ضرورت ہے اب ہمیں وہ تمام اپشن استعمال کرنا ہونگے جو ہمارے دسترس میں ہیں ہمیں انڈیا پر دباؤ بڑھانا ہوگا اور انکو مجبور کرنا ہوگا ہمیں معلوم ہیں کہ اس وقت انڈیا پر کسی قسم کا بیرونی اور اندرونی دباؤ موجود نہیں لیکن ہمیں اپنا تمام سفارتی تعلقات بروئے کار لاتے ہوئے یہ دباؤ لانا ہوگی اس کیلیے سب ہمیں ہندوستان سے تمام سفارتی تعلقات منقطع کرنا ہوگابرآمدات اور درآمدات ختم کرنا ہونگے اپنے دوست عرب ممالک پر زور دیکر تیل کی سپلائی بند کرسکتے ہیں ہمیں اب انڈیا کو عالمی سطح پر تنہا کرنا ہوگا حال ہی میں امریکہ نے اسکی امداد بند کردی ہیں اسطرح یہ سارے اقدامات اٹھانےسے انڈیا کی چیخیں نکلینگے لیکن اس کے سب سے ہمیں بحیثیت قوم متحد رہنا ہوگا ہمیں ان کو دکھانا ہوگا کہ ہم جتنے بھی اختلافات رکھے لیکن دشمن کے خلاف ہم سب ایک ہیں ہم سب کو سیاست ,مسلک اور عقائد سے بالاتر ہوکر اس مسئلہ بارے سوچنا ہوگا اس مسئلہ کو سیاست کے نظر نہیں کرینگے نا ان سے سیاسی فائدہ اٹھائینگے بلکہ ایک قوم ایک آواز بننا ہوگا کیونکہ کشمیر کے لوگوں نے اس مقصد کے حصول کے لیے اپنے 2لاکھ جانوں کا نذرانے پیش کیے ہزاروں ماؤں نے اپنے لال قربان کیے لاکھوں جوان لڑکیوں نے اپنے سہاگن اجاڑے برہان وانی اور اس جیسے ہزار نوجوانوں کے خون اتنے سستے میں نہیں دینگے بلکہ ہمیں ان کے خون کے ایک قطرے قطرے کا حساب لینا ہوگا تاکہ قیامت کے دن ان کے سامنے سرخرو ہوسکے وزیراعظم عمران خان صاحب سے پاکستان عوام نے بے پناہ امیدیں لگالی ہیں تو ساتھ کشمیری مسلمان بھی لگائے بیٹھے ہیں اورجس طرح عمران خان نے دورہ امریکہ میں کشمیر کے مسئلہ کو اجاگر کیا اور اس پر کشمیری رہنماؤں نے خوشی کا اظہار کیا تو یہ امیدے اور بھی بڑھ گئے ہیں اب خان صاحب کو اس مسئلہ میں خصوصی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ قوم گرتے ہوئے معیشت کو برداشت کرسکتے ہیں ِ بھوک وافلاس اور غربت کو برداشت کرسکتے ہیں لیکن کشمیر کو قربان کرنے کو کبھی بھی تیار نہیں ہونگے کیونکہ کشمیر پاکستانی قوم کے رگوں میں خون کے طرح دوڑتی ہیں کشمیر کے بغیر پاکستان ادھورا ہے یہ قوم سقوط ڈھاکہ تو برداشت کرگئی لیکن سقوط کشمیر کبھی بھی برداشت نہ کرپائی گی اس قوم کیلیے کشمیر اپنے زندگیوں سے بھی زیادہ عزیز ہیں انڈیا میں کشمیر پر مرنے کیلیے پانچ بندے اپکو نظر نہیں آیئنگے لیکن پاکستانی قوم کشمیر پر ہر وقت کٹ مرنے کو تیار رہتی ہیں لیکن کمی صرف دوراندیش قیادت کی ہیں اور یہ کمی خان صاحب پورا کرسکتے ہیں اور جو کشمیر کے مسئلہ کو کامیابی سے حل کروائے گا وہ پاکستانی قوم اور کشمیری عوام کیلیے صلاح الدین ایوبی کا درجہ رکھے گا ِ ہوسکتا ہے اس فیصلے میں اللہ تعالٰی کے طرف سے بہتری ہو اور یہی بھارتی پارلیمنٹ کا فیصلہ خود انکے لیے وبال جان بن جائےاور کشمیریوں کے لیے رحمت ثابت ہوجائے لیکن اس کے لیے ضروری ہیں کہ عالمی طاقتوں کی توجہ اس مسئلہ جانب مبذول کرایا جائے - اس مسئلہ کو خوش اسلوبی سے حل کرانے کیلیے یہی بہترین وقت ہے- شاید یہ فیصلہ انڈیا کی بڑی حماقت ثابت ہوجائےاور کشمیر ہمیشہ ہمیشہ کیلیے ظلم وبربریت کے تاریک رات سے نکل آئے لیکن کشمیر کی یہ طویل رات صبح کرنے کیلیے پاکستانی قیادت اور قوم متحد ہونا پڑے گا اور بڑے سوچ سمجھ کر فیصلے کرنا ہونگے تبی جاکے کشمیر کے آزادی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا کشمیر بنے گا پاکستان انشا اللہ
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: جمیل قادر

Read More Articles by جمیل قادر: 2 Articles with 833 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Aug, 2019 Views: 412

Comments

آپ کی رائے