غیرت مند

(Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi)
برائی ختم کرنے کے لئے کسی کو پہل کرنی پڑتی ہے۔

تیار کیوں نہیں ہو رہی ہو۔
میں نے زیب سے پوچھا۔
ماما میرا آج جانے کا دل نہیں ہو رہا ہے۔
زیب نے جواب دیا۔
میں کچھ دنوں سے اس کو بدلتا ہوا دیکھ رہی تھی۔
پھر ایک دن میں نے اُسے اسکول کی وین میں جاتے ہوئے گھبرایا ہوا دیکھا تو چونک گئی۔
میں نے معاملے کی چھان بین کرنے کا سوچ لیا تھا۔
میں نے دیکھ لیا ایک دن کہ وین ڈرائیور کے ساتھ بیٹھتے ہوئے وہ گھبرارہی تھی۔روز وہ اپنی دوستوں کے ساتھ بیٹھ جاتی تھی تو کوئی بھی مسئلہ نہیں ہوتا تھا۔
پھر میں نے ایک دن کڑا دل کر کے دین ڈرائیور سے بات کا فیصلہ کرلیا تھا۔
زیب کے والد عرصہ دراز ہوا تھا فوج میں تھے شہادت کا رتبہ پا چکے تھے، میرے گھر والے تو تھے نہیں پر اپنی حفاظت کرنا خوب جانتی تھی۔
تم زیب کے ساتھ ایسا کیا کرتے ہوئے جو اگلی سیٹ پر بیٹھنے سے ڈرتی ہے۔ میں نے اُس وین ڈرائیور کا سامنا کرتے ہی فورا سے ایساسوال کیا کہ اس کے چہرے پر کئی رنگ آکر گذر گئے۔
میں نے کیا کرنا ہے جی، ابھی تو بچی ہے، آپ کو شک کیوں ہو رہا ہے، آپ کی بیٹی نے کوئی شکایت کر دی ہے کیا؟ وین ڈرائیور نے الٹا سوال کر ڈالا۔
بس حالات خراب ہیں نا تو بس ایسے ہی پوچھ لیا۔ میں نے اُس کی آنکھوں میں دیکھ کر جواب دیا۔
مگر وہ چونک گیا تھا اور میں بہت کچھ سمجھ گئی تھی۔
تین روز بعد میں نے گلی میں دیکھا زیب کی کئی دوست اسکول وین کے انتظار میں تھیں۔
مگر کوئی بھی اس روز اسکول نہیں جا سکی تھی۔
اگلے روز اخبار میں خبر تھی کہ اسکول وین کا ڈرئیور بھی شہر میں ہونے والی دہشت گردی کا شکار ہو گیا تھا کسی اندھی گولی نے اُسے شکارکرلیا تھا مگر کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ کسی کی غیرت مندی کا شکار ہو گیا تھا۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 152 Print Article Print
About the Author: Zulfiqar Ali Bukhari

Read More Articles by Zulfiqar Ali Bukhari: 275 Articles with 205194 views »
I’m only a student of knowledge, NOT a scholar. And I do NOT preach, I only share what I learn and feel!

I'm an original, creative Thinker, Teacher
.. View More

Reviews & Comments

Language: