استاد کے اجتماعی اوصاف

(Prof Shoukat Ullah, Banu)

تدریس عربی زبان کے لفظ ’’درس‘‘ سے نکلا ہے جس کے معنی ’سبق ‘ کے ہیں۔ اسی سے لفظ مدرس ہے جس سے ’ درس دینے والے ‘ کے معنی لیے جاتے ہیں۔ اگر تدریس کو محدود تر مفہوم میں دیکھا جائے تو اس سے مراد ایسی معلومات بہم پہنچانا ہے جو طلبہ میں شوق اور تجسس کے جذبات اُبھارے اور اُن کو ایک اچھا اور مفید شہری بنانے میں مدد گار ثابت ہوں۔ اس محدود مفہوم میں تدریس کے تین اجزائے ترکیبینمایاں نظر آتے ہیں۔ اول، طالب علم ، یہ تدریس کا ایک انتہائی اہم جُز ہے ، یعنی اس کے بغیر ایک استاد کیسے پڑھا سکتا ہے ۔ اس کی مثال ایسے ہوگی جیسے چینی یا گڑ کے بغیر شربت۔ لہٰذا تدریس کی تکمیل کے لئے ایک یا ایک سے زائد طالب علموں کا ہونا ضروری ہے۔ دوم ، استاد ، یہ بھی تدریس کا ایک اہم جُز ہے اس کے بغیر تدریس وقوع پذیر نہیں ہوسکتی ہے۔ سوم ، مطالعاتی مواد ، اس سے مراد درسی کتب یا وہ مواد ہے جو استاد طالب علم کو پڑھاتا اور سیکھاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ مواد کوئی ہنر اور فن بھی ہوسکتا ہے جو ایک طالب علم کسی استاد سے سیکھتا ہے۔ ان تینوں اجزاء کی اپنی اپنی جگہ اہمیت بنتی ہے ۔ اس کالم میں تدریس کے ایک اہم جُز استاد کے اجتماعی اوصاف کا تذکرہ کرنا مقصود ہے۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ اوصاف ذاتی اور اجتماعی دونوں ہوسکتے ہیں۔ذاتی یا شخصی اوصاف ایک شخص کو نیک بناتے ہیں اور اس کے کردارکو مزین کرتے ہیں جب کہ اجتماعی اوصاف ایک شخص کو اس قابل بناتے ہیں کہ وہ دوسروں کے ساتھ مل کر چل سکے اور اُن کے خیالات پر اثرانداز ہوسکے۔ لہٰذا ایک استاد کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ ذاتی طور پر نیک ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں اجتماعی اوصاف پائے جائیں۔اجتماعی اوصاف حاضر خدمت ہیں۔ اول ، اخلاص ، استاد کی ایک بڑی صفت اخلاص ہوتی ہے ۔ یعنی وہطلبہ کو صرف دنیاوی جاہ منصب کے لئے تیار نہ کرے بلکہ یہ تگ و دو کرے کہ اﷲ تعالیٰ کی رضا اور اس کے دین کی سربلندی حاصل ہو۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ سے متعلق سوانح نگار لکھتے ہیں کہ جب آپ کوئی خطبہ دیتے یا کوئی تحریر لکھتے اور اس کے متعلق دل میں غرور پیدا ہوجانے کا خطرہ پیدا ہوتا تو وہ بولتے بولتے خاموش ہو جاتے اور تحریر لکھتے لکھتے پھاڑ ڈالتے اور فرمایا کرتے کہ میں اپنے نفس کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں۔ پس ایک استاد کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اخلاص کے ساتھ اپنا فریضہ ادا کرے اور تعریف و ستائش کی توقع صرف اﷲ تعالیٰ سے رکھے کیوں کہ وہی ہستی اخلاص سے بھرپور اعمال کو پسند کرتی ہے۔ فارسی کے ایک شعر کا ترجمہ کچھ یوں ہے۔ ’’ اس بات کا احسان نہ رکھ کہ تو بادشاہ کی خدمت کررہا ہے بلکہ بادشاہ کا یہ احسان مان کہ اس نے تجھے اپنی خدمت کرنے دی ۔ ‘‘پس ایک استاد کو چاہیے کہ وہ اﷲ تعالیٰ کی ذات کا احسان مند رہے کہ جس نے اس کا انتخاب معلمی جیسے مقدس اور پیغمبرانہ پیشے کے لئے کیا ہے۔ دوم، سیرت و کردار ، فرمان ایزدی ہے۔ ’’ اے ایمان والو ! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ۔ تم جو کرتے نہیں اس کا کہنا اﷲ تعالیٰ کو سخت نا پسند ہے۔ ‘‘ آپ ﷺ کے زمانہ میں بنی اسرائیل کا یہ حال ہوچکا تھا کہ وہ لوگوں کو تو نیکی کی تلقین کرتے تھے لیکن اپنی سیرت و کردار پر دھیان نہیں دیتے تھے۔ ان کے بارے میں قرآن فرماتا ہے۔ اتامرون الناس بالبر و تنسون انفسکم و انتم تتلون الکتب ۔ پس استاد کا یہ وصف ہونا چاہیے کہ وہ سیرت و کردار کے اعلیٰ نمونے پر فائز ہو، کیوں کہ اس کے بغیر تدریس مؤثر نہیں ہوسکتی ہے۔ سوم ، صبر و استقامت ، ایک استاد کو تدریس کے دوران بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے پاس مختلف ذہنی سطح ، انفرادی اختلافات، گھریلو اور معاشی حالات کے بچے ہوتے ہیں ، کند ذہن و غبی ، ذہین و فطین، امیر اور غریب گھرانوں کے۔ پس استاد کے لئے تدریس ایک صبر آزما عمل ہوتا ہے اور وہ اپنے مقصد تک رسائی صبر و استقامت کے بل بوتے پر ہی کرسکتا ہے۔ بقول شاعر۔
جاں دی ہوئی اس کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

چہارم ، خوئے دل نوازی ، ایک استاد کے لئے ضروری ہے اگر وہ اپنے مقصد میں کامیابی چاہتا ہے تو وہ اپنے اندر یہ صفت پیدا کرے۔ علامہ محمد اقبال ؒ فرماتے ہیں۔
کوئی کارواں سے ٹوٹا ، کوئی بد گماں حرم سے
کہ امیر کارواں میں نہیں خوئے دل نوازی

پس ایک استاد کا اخلاق ایسا ہونا چاہیے کہ وہ اپنی نرم مزاجی ، خوش خلقی ، حلم و عفو ، اور محبت و شفقت سے طلبہ کے دل جیتے۔ شیخ سعدی ؒ کا قول ہے۔ ’’ شیریں کلامی اور نرم زبانی غضب ناک انسان ( کے غضب ) کی آگ پر پانی جیسا کام کرتی ہے۔ ‘‘یہی وصف طلبہ کی پڑھائی میں دل چسپی کا باعث بنتا ہے۔ پنجم ، اُمید کا دامن ، ایک استاد کے لئے یہ نہایت ضروری ہوتا ہے کہ وہ کبھی نا اُمیدی کا شکار نہ ہو، اپنے دل میں یہ بات پکی بیٹھالے کہ میرا کام تدریس ہے اور نتائج پیدا کرنا اﷲ تعالیٰ کا کام ہے ۔علامہ محمد اقبال ؒ فرماتے ہیں۔
اثر کرے نہ کرے ، سن تو لے میری فریاد
نہیں ہے داد کا طالب یہ بند ۂ آزاد
پس استاد کو بلا تخصیص تمام طلبہ کو پڑھانا چاہیے۔ بقول شاعر۔
ہمارا کام تو سیراب کرتے جانا ہے
خبر نہیں کہ یہ برگ و بار کس کا ہے

ششم ، حکمت و دانائی ، فرمان ایزدی ہے ۔ ’’ اے ہمارے رب ! ان میں انہی میں سے رسول بھیج جو اُن کے پاس تیری آیتیں پڑھے ، انہیں کتاب و حکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے ، یقینا تو غلبہ والا اور حکمت والا ہے ۔ ‘‘ یہ ایک استاد کی ذمہ داری ٹھہرتی ہے کہ وہ دانائی و حکمت کے ساتھ تعلیم دے۔ ہفتم ، مخاطبین ، ایک استاد کو طلبہ کے ذہنی معیار کو مدنظر رکھ کر پڑھانا چاہیے تاکہ وہ جلد سمجھ سکیں اور وہ اپنا مطمع نظر ان پر اچھی طرح واضح کر سکے۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں۔ ’’ لوگوں سے وہی بات کرو جس کو وہ سمجھ سکیں۔ ‘‘ لہٰذا استاد کے لئے ضروری ہے کہ وہ طلبہ کی ذہنی حیثیت کو پیش نظر رکھ کر تدریس کرے۔ ہشتم ، موقع شناسی ، استاد کی دانائی کا ایک تقاضا یہ ہے کہ اس میں موقع شناسی کی صفت موجود ہو ۔ وہ بے موقع اور بے محل بات کرنے سے گریز کرے کیوں کہ یوں وہ اپنی بات ضائع کر بیٹھے گا اور اگر کوئی مناسب موقع ملے تو اسے ضائع نہ کرے۔ نہم ، انسان دوستی ، اس سے مراد یہ ہے کہ استاد محبت و شفقت اور مہربانی سے طلبہ کے ساتھ پیش آئے ۔ قرآن نے مؤمنین کی یہ صفات بیان کی ہیں، یعنی رحماء بینھم۔ دہم ، عفو و درگزر ، ایک استاد کو اس صفت کی بہت ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ غلطیاں اور کوتاہیاں انسان سے سرزد ہوتی ہیں۔ اس صفت سے محبت و شفقت پیدا ہوتی ہے جو طلبہ کو نہ صرف تعلیم حاصل کرنے بلکہ اس پر عمل کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔یہ وہ اجتماعی اوصاف ہیں جو ایک استاد کر اندر کوٹ کوٹ کر بھرے ہونے چاہیے۔ان کے ساتھ ساتھ استاد کے اندر ذاتی صفات جیسا کہ فصاحت و بلاغت ، علم و بصیرت ، فہم و فراست ، دانش و خلق اور صبر و تحمل وغیرہ بھی موجود ہونے چاہیے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Shoukat Ullah

Read More Articles by Prof Shoukat Ullah: 202 Articles with 124906 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Aug, 2019 Views: 855

Comments

آپ کی رائے