علم دولت ہے دولت مندوں کے لئے

(Muhammad Ibrahim Jethwa, Karachi)

علم دولت ہے دولت مندوں کے لئے

علم دولت ہے دولت مندوں کے لئے اس اہم موضوع پر اپنے قلم کو استعمال کرنے کا مقصد یہ ہے کہ علم سے متعلق معاشرے میں پھیلی اس سوچ نظریے اوراس رواج کو زیر بحث لایا جائے بظاہر تو معاشرے میں اعلی تعلیمی نظام کو رائج کرنے میں گامزن ہے لیکن اس نظریے اور سوچ کے نتائج اس قدر منفی ہیں کہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ملک میں شرح خواندگی میں کمی کا باعث بن رہا ہے۔ علم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن کی پہلی وحی کا پہلا لفظ ہی اقرا نازل کیا جس سے مراد جاننا اور معلومات حاصل کرنے کے ہیں موجودہ دور میں دنیا جس رفتار سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے اس لحاظ سے علم حاصل کرنا لازم و معلم لزوم ہے انسان کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف بھی علم کے باعث ہی دیا گیا ہے قرآن پاک میں اللہ تعالی نے علم حاصل کرنے کا حکم دیا اور حدیث میں بھی علم حاصل کرنے کو بے حد اہمیت دی گئی ہے جس سے متعلق لاتعداد احادیث موجود ہیں جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام میں علم کو کتنی اہمیت دی گئی ہے دنیا کے وہ ترقی یافتہ ممالک جو کہ دنیا میں صفحہ اول پر موجود ہیں اس کی سب سے بڑی اور اہم وجہ اعلی اور یکساں تعلیمی نظام کی موجودگی ہے دنیا کے مختلف ممالک میں تعلیمی نظام کے لیے مکمل قانون سازی کی گئی ہے جس کا مقصد نہ صرف تعلیم ہر کسی کے لیے بلکہ یکساں تعلیمی نظام ہر کسی کے لیے موجود ہونا ہے جس کی وجہ سے معاشرے کا ہر فرد بہترین تعلیم حاصل کر سکتا ہے دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی تعلیم کےلئےقوانین موجود تو ہیں لیکن یہ صرف کتابوں کی حد تک ہی موجود ہیں پاکستانی آئین کے مطابق ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر شہری کو معیاری اور مفت تعلیم فراہم کرے اس کے علاوہ آئین میں ریاست کویہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ ہر شہری کو میٹرک تک مفت تعلیم فراہم کرے ریاست یہ اہم ذمہ داری کس حد تک پورا کر رہی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پرائمری سرکاری اسکول میں موجود اساتذہ کو پرائمری تک لکھنا نہیں آتا وہ نونہالوں کو کیا تعلیم فراہم کریں گے اس کے علاوہ سرکاری تعلیمی نظام میں موجود نصاب اتنا غیر معیاری اور پرانا ہے کہ سائنس کی کتاب میں موجود تحقیق کو آج سائنسدانوں کی نئی تحقیق نے غلط ثابت کر دیا ہے لیکن ہم نصاب میں طالب علموں کو وہی پرانی غلط تحقیق پڑھائے جا رہے ہیں تعلیم فراہم کرنے میں حکومت کی اس قدر نااہلی اورتعلیمی نظام کی خستہ حالی کے باعث ملک میں نجی تعلیمی نظام پروان چڑھا بالکل اسی طرح جیسے پی ٹی کی جانب داری کے باعث دوسرے نجی ٹی وی چینلز کو پروان چڑھنے کا موقع ملا نجی تعلیمی نظام بظاہر تو ملک میں اعلیٰ اور معیاری تعلیم عام کرنے کے لیے بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے لیکن اس سے ریاست کا اہم فرض جو کہ عوام کا بنیادی حق ہے اس سے ریاست اپنی جان چھڑاتی نظر آرہی ہے علم جسے اس قدر اہمیت حاصل ہے کہ اسے انسان کی بنیادی حق کرار دیا گیا ہے اور کسی بھی قیمتی چیز سے زیادہ علم کو ترجیح دی گئی ہے آج ہمارے ملک میں موجودنجی تعلیمی نظام نے علم کو اس قدر حقیرکردیا ہے کہ اسے کسی شہ کی طرح مختلف درس گاہ نما دوکانوں پر مختلف داموں میں فروخت کیا جا رہا ہے علم کو مختلف درجات میں تقسیم کرکے اسے مختلیف طبقات سے منسلک کر دیا گیا ہے جیسےسرکاری طور پر مفت دستیاب انتہائی غریب اور مساکین کے لئے بازار میں بکنے والی چیز متواسط طبقے کے لیے اور شاپینگ مال کے کسی آوٹ لیٹ م میں دستیاب چیز کسی خاص طبقے کے لئے ہو جی ہاں بالکل اسی طرح جیسے کسی آوٹ لیٹ میں سجے کھلونے کی جانب ایک غریب اور سفید پوش کا بچہ حسرت سے دیکھ رہا ہوتا ہے کیونکہ وہ چاہتے ہوئے بھی اسے خرید نہیں سکتا۔ بالکل اسی طرح ملک میں رائج نجی تعلیمی نظام نے علم کی حالت بھی ایسی ہی کی ہے کہ اسے حاصل کرنے کے لئے غریب اور سفید پوش کا بچہ ان درسگاہ نما علم کے آوٹ لیٹ کی جانب حسرت سے دیکھ رہا ہے لیکن وہ چاہتے ہوئے بھی اس علم کو حاصل نہیں کرسکتا ۔کیونکہ ملک کے دولت مند طبقے نے علم کو ایک ایسی دولت بنادیا ہے جو دولت مند کے حصے میں ہی آسکتی ہےکسی نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ علم دولت ہے لیکن آج یہ دولت صرف دولت مندوں کے لئے ہی رہ گئی ہے اس کاروباری طبقے نے علم کو اپنا ایسا کاروبار بنا لیا ہے کہ انتہائی سلیقے سے علم کو درسگاہ نما دکانوں میں بیچ رہے ہوتے ہیں اور جو اسے خریدنے کی صلاحیت نہیں رکھتا وہ اس سے محروم ہے یہ معاشرے کا ڈبل اسٹینڈرڈ انسانوں میں طبقات کے فرق کے باعث پہلے ہی انسانیت گھٹیا ترین مثال تھا اور اب تعلیمی نظام کا بھی یہی حال کیا ہے علمی درسگاہ ایک کاروباری ٹھکانہ بن کے رہ گئی ہے اور اس میں بیوپاری کوئی اور نہیں بلکہ علم کے ٹھیکیدار اور سیل من کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے اساتذہ اورخریدار میں اور آپ جو وہاں سے اپنے بچوں کو تعلیم خرید کر دے رہے ہیں علم کا یہ کاروبار کسی خاص سیزن کا محتاج نہیں بلکہ بارہ مہینے چلتا ہے اور اور بنیادی ضرورت کا یہ کاروبارسب سے زیادہ عروج پر ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ شہر کی ہر گلی کے کونے پرموجود وہ تعلیمی ادارہ جو کسی دولت مند نے علم سے دولت بنانے کیلئے کھولا ہوا ہے افسوس کے علم کو دولت بنانے والے علم کے ٹھیکیداروں نے علم کو توبیچ دیا لیکن تربیت نہ فروخت کر سکے کیونکہ تربیت ایک ایسی چیز ہے جسے نہتو فروخت کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی خریدا جا سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ طالب علم تعلیم یافتہ تو ہیں لیکن طالب علموں میں تربیت کا فقدان نمایا ہے۔جس کا اندازاہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آج طالب علم کی نظر میں استاد روحانی باپ ہونے کے بجائے صرف علم خریدنے کا ایک ذریعہ ہے۔ ملک میں رائج نجی تعلیم کا یہ کاروبار نہ صرف غریب اور ضرورت مند طبقے کے لئے تعلیم حاصل کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے بلکہ ان افراد کے لئے نوکریوں سے محرومی کا باعث بھی بن رہا ہے کیونکہ نوکری کے لئے بھی کمپنیاں نجی تعلیمی اداروں کو ہی ترجیح دیتی ہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ ملک میں سرکاری سطح پر اعلی معیاری اور یکساں تعلیمی نظام کا موجود نہ ہونا ہے جس کے باعث عوام تعلیم اور روزگار کے سہولیات سے محروم ہیں ۔ملک کو ترقی کی راہوں پر گامزن کرنے کے لئے تعلیمی نظام میں ہنگامی بنیادوں پر تبدیلی کی ضرورت ہے اور ملک میں بین الاقوامی سطح کا یکساں تعلیمی نظام ریاست کے ہر شہری کے لئے موجود ہونا بے حد ضروری ہے تاکہ ہرشخص کو تعلیم کے حصول کے یکساں مواقع درکار ہوں تاکہ معاشرے کا ہر فرد احساسِ کم تری کا شکار ہونے کہ بجائے اپنی صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھنے کے مواقع حاصل کر سکے۔ ۔میرا اس موضوع پر آپ قارئین کی توجہ ملبوس کروانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم علم کو بازار میں بکنے والی کسی چیز کی طرح خریدنے اور نجی تعلیم کے اس کاروبار کو پروان چڑھانے کے بجائے علم کو حق کے طور پر حاصل کریں۔ ملک میں اعلیٰ اور معیاری تعلیم فراہم کرنے کا دعوی کرنے والے نجی تعلیمی ادارے اگر ملک میں تعلیمی نظام کی بہتری کے لیئے اپنا کردار ادا کرتے ہوئےاپنے اداروں میں کچھ فیصد ان طالب علموں کو داخلہ دے دیں جو کہ ان اداروں کی طرف حسرت سے دیکھ رہے ہیں لیکن علم خریدنے سے قاصر ہیں تو ملک میں تعلیمی نظام بہتری جانب گامزن ہو سکتا ہے۔ امید ہے میری اس تحریر سے آپ قارئین متفق ہونگے۔اللہ وطن عزیز کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Ibrahim Jethwa

Read More Articles by Muhammad Ibrahim Jethwa: 5 Articles with 3449 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Aug, 2019 Views: 946

Comments

آپ کی رائے