تبدیلی سرکار کی ایک سالہ کارگردگی،احتساب ، مہنگائی اور چیخیں ۔۔

(Abdul Qayum, )

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت دوسرے سال میں داخل ہوگئی ہے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت کی پہلے سال کی کارکردگی کیسی رہی اس بارے میں تجزیہ کار اپنے اپنے انداز میں تبصرے کررہے ہیں لیکن ایک چیزپر سب متفق ہیں کہ پی ٹی آئی اپنی حکومت کے پہلے سال کے دوران مہنگائی کم کرنے میں بری طرح ناکام ہوئی ہے بلکہ مہنگائی تاریخ کی بلند ترین شرح پر پہنچی۔ وزیراعظم عمران خان اپنی بائیس سالہ سیاسی جدوجہد کے بعدپہلی بارمرکز کی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے اس سے پہلے ان کی پارٹی خیبر پختون خواہ کے اندر صوبائی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تھی وفاق میں حکومت بنانے کا پی ٹی آئی کا پہلا تجربہ ہے وزیراعظم عمران خان تبدیلی کا نعرہ لگاکر میدان سیاست میں کودے تھے انھوں نے ماضی میں برسراقتدار رہنے والے حکمرانوں کی لوٹ مار،کرپشن کا احتساب کرکے لوٹی ہوئی دولت قومی خزانے میں جمع کرانے کا وعدہ کیا تھاکرپشن کیخلاف احتساب کا سلسلہ تو جاری ہے گزشتہ تیس چالیس سالوں سے باری باری اقتدار کے مزے لوٹنے والے دو سابق وزیراعظم،ایک سابق صدر سمیت کئی طاقتور لوگ کرپشن کے الزامات میں جیلوں کے اندر ہیں یا ضمانتوں پر کیس بھگت رہے ہیں ایسے ہی طاقتور لوگوں میں مسلم لیگ ن کے ایک ا ہم راہنما رانا ثناء اﷲ سابق وزیر داخلہ پنجاب منشیات اسمگلنگ کے الزام میں اے این ایف کے پاس گرفتار ہیں اسی جماعت کی ایک خاتون رکن اسمبلی کے گھر سے چار من چرس برآمد کرکے اس کے بیٹے کو گرفتار کیا گیا اس طرح کے بڑے لوگوں کی گرفتاریوں اور پکڑ دھکڑ کو ایک حد تک تبدیلی تو کہا جاسکتا ہے کہ تمام تر دباؤ کے باوجود وزیراعظم عمران خان نے اپنے وعدے کیمظابق کرپشن کرنے والوں کیخلاف احتساب کا سلسلہ جاری رکھا ہواہے لیکن اس کا دائرہ کار محدوداور مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے خلاف ہی گھومتا نظر آتا ہے احتساب بلاامتیاز اور شفاف ہونا چاہیے تو دوسری طرف یہ احتساب بھی کسی منطقی انجام تک پہنچتا نظر نہیں آتا اور اس کے ثمرات بھی عوام کے سامنے نہیں آرہے۔ قومی معشیت سنبھلی ہے اور نہ ہی مہنگائی پر قابو پایا جاسکا ہے احتساب سے کرپشن کرنے والوں کی اور مہنگائی سے عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں ۔الیکشن میں کیے گئے پی ٹی آئی کے وعدوں اور دعوؤں کو دیکھتے ہوئے عوام حکومت سے مہنگائی میں کمی کی امید لگائے بیٹھے تھے خاص طور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں ضرور کم ہونے کی امید تھی لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہوا بلکہ مہنگائی گزشتہ ادوار کی نسبت تیزی کیساتھ چھ فیصد سے تیرہ فیصد تک بڑھی حکومت کی پہلے سال کی کارگردگی میں عوام اس چیز کوبہت زیادہ محسوس کرتے ہیں سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہوئیں تو بھی تبدیلی حکومت نے عوام کو مہنگائی میں کسی قسم کا کوئی ریلیف نہیں دیا مجموعی طور پر عوام کو حکومت کی پہلے سال کی کارگردگی میں مہنگائی کم کرنے کے حوالے سے سخت مایوسی ہوئی ہے۔ مہنگائی کایہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو پی ٹی آئی کی عوام میں مقبولیت کم ہوگی اس چیز سے بچنے کے لیے وزیراعظم عمران خان کو اپنی حکومت کے دوسرے سال میں مہنگائی کم کرنا اپنی اولین ترجیح بنانا ہوگی خاص طور پر اشیائے خوردنی آٹا،چینی۔گھی اور دالوں وغیرہ کی قیمتوں میں کمی ہونی چاہیے کیونکہ غریب آدمی کو زندہ رہنے کے لیے اور کچھ نہیں تو دال روٹی چاہیے حکومت اس پر سب سے پہلے غور کرے۔ تاکہ غریب آدمی کا چولہا جلتا رہے یہ سچ ہے کہ مہنگائی دنیابھر کی طرح ہمارے ملک کا بھی ایک ہمہ گیر مسئلہ ہے ہمارے ہاں اس کی شدت زیادہ محسوس ہوتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ دیگر ممالک کی نسبت پاکستان کے اندر مہنگائی بڑھنے کے مقابلے میں ذرائع آمدن کم ہوتے جارہے ہیں پی ٹی آئی کی حکومت کو تباہ حال قومی معشیت بیرونی قرضوں میں جکڑی میں ملی تھی جسے سنبھالنا کسی طور بھی چیلنج سے کم نہیں تھا ایسے میں حکومت کو اپنے معاشی معاملات سیدھے کرنے کے لیے سخت ترین شرائط کے تحت آئی ایم سے قرضہ حاصل کرنا پڑا جس سے بھی پچھلے قرضوں کی قسطیں ادا ہونا تھیں آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کا نتیجہ ہوشربا مہنگائی کی صورت میں سامنے آرہا ہے آئی ایم ایف کی دوسری شرط زیادہ سے زیادہ ٹیکس لگا کر ٹیکس نیٹ بڑھانا ہے جس پر عمل کرنے میں حکومت کو بڑے تاجروں کی طرف سے مزاحمت اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن حکومت کے ارادوں سے ظاہرہوگیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس لگا کر ٹیکس نیٹ بڑھانے میں بھی سنجیدہ ہے ٹیکس کلچر کے فروغ کے لیے ایف بی آر اور متعلقہ محکموں کی خامیوں کو دور کرکے اس پر نیک نیتی سے عملدرآمد کیا جائے تو اس سے ٹیکسز کی وصولی بڑھ سکتی ہے اس کے لیے بڑے سرمایہ داروں،صنعتکاروں کیساتھ حکمران طبقے،بیورکریٹس،وزراء،ممبران اسمبلی،سینیٹرز کو اپنی آمدن کے حساب سے ٹیکسز جمع کرانے کے بطور نمونہ پیش کرنا چاہیے اور عوام کو اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ جمع ہونے والے ٹیکسز ملک کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہونگے کیونکہ ماضی میں حکمران عوام کے ٹیکسز اپنی عیاشیوں اور شاہانہ اخراجات پر خرچ کرتے تھے۔ حکومت کا پہلے سال ہی سینٹ میں چیئرمین کیخلاف عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑا جسے حکومت نے ایوان میں اکثریت نہ ہونے باوجود بڑی حکمت عملی سے ناکام بنایا جو حکومت کی بڑی کامیابی ہے۔اپنے پہلے سال کے آخری ہفتوں میں پی ٹی آئی حکومت ایک اور چیلنج کا سامنا پڑا کہ بھارت نے مقبوضہ جموں کشمیر کے عوام کی رضامندی کے بغیر یکطرفہ طور پر کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کردی جس سے کشمیریوں میں زبردست اشتعال پھیلا دنیا بھر کیساتھ ملک بھر میں انڈیا کے اس غاصبانہ اقدام کیخلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے حکومتی سطح پر اس بات اعادہ کیا گیا کہ ہم آخری حد تک کشمیریوں کیساتھ ہیں اور بروقت اقدامات کیے گئے اس معاملے کو قومی سلامتی میں اٹھایا گیا جس کے نتیجے میں قومی سلامتی کے اجلاس میں انڈیا کے اس اقدام کو غلط قرار دیتے ہوئے زور دیاکہ دونوں فریقین کو معاملہ اس طرح نہ صرف انڈیا کو عالمی سطح پر پسپائی اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا بلکہ یہ امید بھی پیدا ہوئی ہے کہ موجودہ حکومت کی کوششوں سے مقبوضہ کشمیر کا دیرینہ مسئلہ ہوجائے گا․وزیراعظم عمران خان نے بے گھر غریب لوگوں کو پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کا بھی آغاز کردیا ہے یہ عوامی مفاد کا بہت اچھا منصوبہ ہے جس کو مکمل ہونے میں ابھی وقت لگے گا لیکن دیکھا جارہا کہ حکومت میں شامل کچھ لوگ اس پروگرام کو ذاتی خواہشات کے تابع بنانے کے لیے کوشاں ہیں جس سے اس منصوبے کی افادیت ختم نہیں تو بہت زیادہ کم ہوجائے گی جس کا وزیراعظم عمران خان اور پارٹی کو بہت زیادہ سیاسی نقصان ہوگا۔اسی طرح وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ وہ طرز حکمرانی میں سادگی اور کفایت شعاری لائیں گے اور اقرباء پروری کا خاتمہ کریں گے اس پر پوری طرح عملدرآمد نہیں ہورہا حکومت میں شامل کچھ لوگ اقرباء پروری پر پوری طرح عمل پیرا ہیں۔وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ اردگرد لوگوں پر بھی کڑی نظر رکھیں جو ان ویژن اور پروگرام کو کامیاب بنانے کی بجائے اپنے مخصوص ذاتی ایجنڈے پر زیادہ زور دیتے ہیں۔اسی طرح حکومت کو تبدیلی لانے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے اگرچہ پہلے سال کی کارگردگی میں عوام کو مہنگائی کے سوا کچھ نہیں ملا لیکن انھیں ابھی تبدیلی اور نیا پاکستان بننے کی امید ہے جس کے لیے حکومت کے پاس ابھی چار سال باقی ہیں۔امید رکھنی چاہیے کہ وزیراعظم عمران خان اپنے ویژن کیمطابق ملک سے کرپشن کا خاتمہ کرکے کرپشن فری نیا پاکستان بنانے اور غریب کو مہنگائی سے نجات دلانے کے وعدے پورے کرنے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں گے-
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Qayum

Read More Articles by Abdul Qayum: 25 Articles with 9182 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Aug, 2019 Views: 279

Comments

آپ کی رائے