ہارن مت بجائیں، اسلامی ممالک کا اتحاد سو رہا ہے

انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ دورہ متحدہ عرب امارات کے پسِ منظر میں پاکستان کے ایوانِ بالا کے چیئرمین محمد صادق سنجرانی نے سنیچر کی رات متحدہ عرب امارت کا اپنا پہلے سے طے شدہ دورہ منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔
 


سینیٹ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 'پاکستان کشمیریوں کی جدوجہد کی بھرپورحمایت کرتا ہے۔ اور مودی حکومت کی جانب سے اس وقت کشمیری مسلمانوں پر ظلم و بربریت کی انتہا کر دی گئی ہے اور کرفیو نافذ ہے۔ لہٰذا ایسے موقع پر متحدہ عرب امارات کا دورہ پاکستانی قوم اور کشمیری ماؤں، بہنوں اور بزرگوں کی دل آزاری کا سبب بنے گا۔'

نمائندہ بی بی سی دانش حسین سے بات کرتے ہوئے سینیٹ کے ترجمان رمضان ساجد کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ محمد بن زید النہیان کی جانب سے وزیر اعظم مودی کو دیے گئے ایوارڈ کے بعد چیئرمین سینٹ نے بطورِ احتجاج اپنا اور پارلیمانی وفد کا طے شدہ دورہ منسوخ کیا ہے۔

یاد رہے کہ سنیچر کے روز انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے متحدہ عرب امارات کا ایک روزہ دورہ کیا تھا جس میں انھیں یو اے ای کے سب سے بڑے سول ایوارڈ 'زید میڈل' سے نوازا گیا تھا۔

شیخ زید نے اپنے سرکاری ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے بتایا کہ نریندر مودی کو یہ ایوارڈ 'دوستی اور تعاون کو فروغ دینے میں ان کے کردار کے اعتراف میں' دیا گیا ہے۔
 


نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر انسانی حقوق کے نمائندہ اراکین اور عام شہری مودی کو دیے گئے ایوارڈ کے باعث یو اے ای حکومت پر تنقید کر رہے ہیں اور اس کی واحد وجہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی موجودہ صورتحال ہے۔

انڈین وزیر اعظم کا اپنی ایک ٹویٹ میں کہنا تھا کہ 'تھوڑی دیر پہلے ہی آرڈر آف زید سے نوازا گیا۔ ایک فرد سے زیادہ، یہ ایوارڈ انڈیا کے ثقافتی اقدار اور 130 کروڑ انڈیا کے شہریوں کے نام ہے۔'
 


اس سے قبل 19 اگست کو برطانیہ کی رکنِ پارلیمان ناز شاہ نے بھی متحدہ عرب امارات کے ولی عہد محمد بن زید النہیان کو ایک خط لکھا تھا جس میں کشمیر کا حوالہ دیتے ہوئے ان سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ انڈین وزیرِ اعظم کو ایوارڈ دینے کے اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کریں۔
 


حقوقِ انسانی کے سرگرم کارکن عمار علی جان نے لکھا کہ ’یمن میں متحدہ عرب امارات کا کردار اتنا ہی مجرمانہ ہے جتنا مودی کا کشمیر یا گجرات میں۔ ظالموں کا اتحاد فطری ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہمیں (پاکستان) ان بادشاہوں نے کس طرح مسحور کیا اور انھیں خوش کرنے کے لیے ہم نے اپنے ہی شہریوں پر ظلم ڈھایا۔ (ہم نے) امریکہ اور چین کے لیے بھی ایسا ہی کیا۔ ریاست کی یہ سوچ ہمیں صرف شرمندہ کرے گی۔‘
 


ٹویٹر صارف عمر خان داوڑ کا کہنا تھا کہ ’ایڈولف ہٹلر کو بھی ایک بار نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ (ہٹلر کو) امن کے لیے جنگ کرنے والا خدا کا عطا کردہ تحفہ اور زمین پر امن کا شہزادہ کہا گیا تھا۔ اسے (نوبل امن انعام) نہیں مل سکا مگر آپ (مودی) کو (ایوارڈ) مل گیا۔'
 


ایک اور ٹویٹر صارف خاقان اجمل نے اپنے ردِعمل میں کہا کہ 'مودی، یو اے ای اور مسلم امہ کو مبارک ہو۔ ان لوگوں کو بھی مبارک ہو جو اب تک اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) جیسی افسانوی باتوں پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ کتنی شرمناک بات ہے۔'
 


صحافی سلیم صافی نے وزیر اعظم عمران خان کو تجویز پیش کی کہ اس واقعے کے بعد انھیں پاکستان کے سابق آرمی چیف اور اسلامی ممالک کے فوجی اتحاد کے سربراہ راحیل شریف کا اجازت نامہ منسوخ کر کے انھیں واپس پاکستان بلا لینا چاہیے۔
 


جمیل فاروقی نامی صارف نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ اس طرح کیا۔۔۔
 


ایک صارف نے لکھا کہ ’متحدہ عرب امارات کی حکومت نے مودی کو ایوارڈ پیش کیا ہے اور ایسا کر کے کشمیریوں کی بے عزتی کی ہے۔‘
 


رائزنگ پاکستان نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’ہارن مت بجائیں۔ 54 اسلامی ممالک کا اتحاد سو رہا ہے۔‘
 


Partner Content: BBC

Reviews & Comments

لو آج ایک اور لیڈر ھندوؤں کو پیارا ھو گیا کاش مسلم حکمران عقل کے ناخن لیں اور اپنی آخرت اور مسلم امہ کی فکر کریں یہ وہ لیڈر ھیں جن کا ایمان صرف پیسہ ہے جنھوں نے کچھ دن پہلے مندر بنایا تھا اور ھندو کلما وندے ماترم پھرا تھا اور آج ھندوؤں سے ھاتھ ملا کر مسلمانوں کی کمر میں چھرا مار کر ھندؤ مذھب قبول کر لیا۔ان کے ملک میں شراب شباب اور سور کا گوشت عام دستیاب یے جس کے لئے اسلام میں خاص منع کیا گیا ھے
By: Ashfaq Uddeen, Karachi on Aug, 26 2019
Reply Reply
0 Like
Language:    
Prime Minister Narendra Modi was honoured with "The King Hamad Order of the Renaissance" in Manama on Saturday as he held talks with King of Bahrain Hamad bin Isa Al Khalifa on various bilateral and regional issues. While receiving the award PM Modi said: "It is an honour for entire India. This is a symbol of the close and friendly relations between the Kingdom of Bahrain and India."