سچ تو یہ ہے (نواں حصہ)

(Muhammad Siddique Prihar, Layyah)

 منظر۸۶
بشریٰ دودھ گرم کررہی ہے۔دودھ میں چمچ ہلارہی ہے۔سعیداحمداس کے ساتھ آکرکھڑاہوجاتاہے۔بشریٰ چولھے میں آگ درست کرتے ہوئے سعیداحمدکودیکھ لیتی ہے
بشریٰ۔۔۔سعیداحمدسے۔۔۔۔آپ کھڑے کیوں ہیں بیٹھ جائیں
سعیداحمد۔۔۔۔یہ حکم ہے یادرخواست ہے
بشریٰ۔۔۔۔آج لڑائی کرنے کاارادہ تونہیں
سعیداحمد۔۔۔۔میرے سوال کایہ جواب تونہیں
بشریٰ۔۔۔۔آپ نے جوسوال کیااس کامیری بات سے کیاتعلق ہے
سعیداحمد۔۔۔تعلق ہے تعلق ہے گہراتعلق ہے
بشریٰ۔۔۔۔مجھے بھی سمجھادیں
سعیداحمد۔۔۔۔اب توبات کوبڑھارہی ہے اورفضول بحث کررہی ہے
بشریٰ۔۔۔۔بات کومیں نے نہیں آپ نے بڑھایاہے
سعیداحمد۔۔۔۔میں نے بات کوکیسے بڑھایا میں نے نہیں تونے بڑھایاہے
بشریٰ۔۔۔۔وہ کیسے
سعیداحمد۔۔۔۔تونے میری بات کاجواب نہیں دیا ایک اورسوال کردیا
بشریٰ۔۔۔۔میں نے بھی بیٹھنے کاکہاہے آپ نے بھی سوال کردیا آپ بیٹھیں یاکھڑے رہیں سوال کرنے کی کیاضرورت تھی
سعیداحمد۔۔۔۔تومیری بات کاجواب دے دیتی بات کوبڑھانے کی کیاضرورت تھی
بشریٰ۔۔۔اس سوال کاجواب دیناضروری ہے کیا
سعیداحمد۔۔۔۔ضروری ہے بہت ضروری ہے یہ حکم ہے یادرخواست ہے
بشریٰ۔۔۔۔۔میں توصرف درخواست کرسکتی ہوں
سعیداحمدبیٹھ جاتاہے بشریٰ دودھ چولھے سے اتارکررکھ دیتی ہے ٹھنڈاکرنے کے لیے چمچ ہلانے لگتی ہے۔
بشریٰ۔۔۔سعیداحمد۔۔۔۔گرم گرم دودھ پیو گے
سعیداحمد۔۔۔۔ابھی نہیـں عارف اورعبدالحق کے ساتھ
بشریٰ۔۔۔۔جیسے آپ چاہیں
سعیداحمد۔۔۔۔میں ایک بات پوچھنے آیاتھا
بشریٰ ۔۔۔۔پوچھیں جوبھی آپ کومجھ سے پوچھناہے
سعیداحمد۔۔۔۔تونے عارف کوکہاہے یانہیں کہ عبدالحق کورکشے پرلے جائے
بشریٰ۔۔۔۔ابھی تک نہیں کہا کہوں گی ضرورکہوں گی
منظر۸۷
نورالعین پلیٹیں کپڑے سے صاف کررہی ہے۔اسی دوران دروازے پردستک ہوتی ہے۔
نورالعین۔۔۔آوازدے کر۔۔۔۔افضل بیٹا دروازے پرجاؤ دیکھو کون آیاہے
افضل دروازہ کھولتاہے توسامنے کریم بخش اورطارق کھڑے ہیں ۔افضل کریم بخش کودونوں ہاتھوں سے ادب سے سلام کرتاہے۔اس کے بعدگرم جوشی سے بھائی کے گلے لگ جاتاہے اورکہتاہے بھائی آپ کہاں چلے گئے تھے۔۔
طارق ۔۔۔خاموش ہے
افضل۔۔۔ایک بارپھر۔۔۔۔بھائی آپ کہاں چلے گئے تھے
کریم بخش۔۔۔۔بھائی ابھی آیاہے اسے گھرمیں توجانے دو اس کے بعدجوپوچھناہے بھائی سے پوچھ لینا
افضل بھائی کوچھوڑ دیتاہے تینوں باپ بیٹے گھرمیں داخل ہوتے ہیں۔
افضل۔۔۔۔بھاگ کر۔۔۔ماں سے۔۔۔۔امی امی بھائی آئے ہیں
نورالعین چمچ صاف کرتے ہوئے رکھ دیتی ہے طارق کی طرف جانے لگتی ہے توکریم بخش اورطارق اس کے پاس پہنچ جاتے ہیں
طارق۔۔۔السلام علیکم امی
نورالعین۔۔۔وعلیکم السلام آگیا میرابیٹا
طارق۔۔۔۔جی امی آگیاہوں
نورالعین۔۔۔۔کیساہے میرابیٹا
طارق۔۔۔امی آپ کی دعاؤں کی وجہ سے ٹھیک ہوں
کریم بخش۔۔۔۔ماں بیٹے نے آتے ہی طارق سے سوال پہ سوال کرنے شروع کردیے ہیں
نورالعین۔۔۔۔ماں بیٹے نے کیامطلب افضل توخاموش کھڑاہے اس نے توایک لفظ بھی زبان سے نہیں نکالا
کریم بخش۔۔۔اس نے دروازہ کھولتے ہی سوال شروع کردیے اب توسوال پہ سوال کررہی ہے
نورالعین۔۔۔۔اتنے دنوں کے بعدمیرابیٹا گھرآیاہے اب میں اس سے حال احوال بھی نہ پوچھوں
کریم بخش۔۔۔اتنے دنوں بعد توایسے کہہ رہی ہے جیسے طارق چھ مہینوں کے بعد آیاہو
نورالعین۔۔۔۔اتنے دنوں کے بعد توآیاہے میرابیٹا
کریم بخش۔۔۔۔یہ پانچ دنوں کے بعد آیاہے
نورالعین۔۔۔۔میرے لیے پانچ دن پانچ ہفتوں کے برابرہیں
کریم بخش۔۔۔۔طارق تھکاہواہے اسے بیٹھنے دو سانس لینے دو پھرحال احوال پوچھتی رہنا
نورالعین۔۔۔طارق سے۔۔۔۔بیٹھ جا میرابیٹا بیٹھ جا
منظر ۸۸
عبدالمجیدچارپائی پرٹانگیں لہراکربیٹھ جاتاہے۔سرسے پگڑی اتارتاہے چارپائی پررکھ دیتاہے راشدہ آکراسے ایک کپڑا دیتی ہے اس کپڑے سے عبدالمجیداپناچہرہ،گردن اورگلاصاف کرتاہے۔اس کے بعدکپڑا راشدہ کودے دیتاہے۔
راشدہ۔۔۔۔کپڑا ہاتھ میں لے کر۔۔۔۔آج آپ پریشان لگ رہے ہیں خیریت ہے کیاپریشانی ہے
عبدالمجید۔۔۔ایک ہی توپریشانی ہے
راشدہ۔۔۔وہی توپوچھ رہی ہوں کیاپریشانی ہے
عبدالمجید۔۔۔احمدبخش کی وجہ سے پریشان ہوں
راشدہ۔۔۔۔اب کیاکردیاہے اس نے
عبدالمجید۔۔۔جتناسمجھانے کی کوشش کرتاہوں۔۔۔۔جتناسمجھانے کی کوشش کرتاہوں وہ میری بات مانتا ہی نہیں
راشدہ۔۔۔۔اس نے تیرے کام کی وجہ سے روٹی بھی پوری نہیں کھائی تھی اورکہاتھا ابوکے کام ہوجائیں
عبدالمجید۔۔۔روٹی اس نے میرے کام کی وجہ سے نہیں چھوڑی
راشدہ۔۔۔۔تونے ہی توکہاتھا جلدی کر اورکام بھی کرنے ہیں احمدبخش نے روٹی کام کی وجہ سے نہیں چھوڑی توکس وجہ سے چھوڑی
عبدالمجید۔۔۔غصہ کی وجہ سے اسے غصہ آگیا تھا کہ یہ میں نے کیوں کہاجلدی کرو
راشدہ۔۔۔آپ بھی ہروقت میرے بیٹے پرغصہ کرتے رہتے ہیں بات بات پراسے ڈانٹ دیتے ہیں
عبدالمجید۔۔۔۔اورکیاکروں وہ غصہ جودلادیتاہے
راشدہ۔۔۔۔۔احمدبخش نے کبھی آپ کوغصہ نہیں دلایا ۔ آپ خود اس پرغصہ کرتے ہیں
عبدالمجید۔۔۔۔بجائے اس کے کہ تواپنے بیٹے کوسمجھائے تومجھے کہہ رہی ہے
راشدہ۔۔۔۔آپ اس سے نرمی سے بات کیاکریں ۔اسے پیارسے کام بتایاکریں
عبدالمجید۔۔۔۔میں تواس سے نرمی اورپیارسے ہی کام بتاتاہوں
راشدہ۔۔۔۔جس طرح آپ اسے کام بتاتے ہیں اسے نرمی اورپیارنہیں کہتے
عبدالمجید۔۔۔۔مجھے نہ سمجھاؤ اپنے بیٹے کوسمجھاؤ اپنے بیٹے کو جاؤ مجھے آرام کرنے دو
منظر۸۹
بشیراحمد۔۔۔۔جب تک آپ پردہ نہیں کرائیں گے میں گھرمیں نہیں آؤں گا
وہ شخص۔۔۔۔میں نے ابھی کہاہے اس کی ضرورت نہیں
بشیراحمد۔۔۔۔ہمارے مذہب اسلام میں پردے کی سخت تاکیدکی گئی ہے آپ کہتے ہیں اس کی ضرورت نہیں
وہ شخص۔۔۔۔اب بھی یہی کہتاہوں
بشیراحمد۔۔۔آپ کے گھروالے کسی سے پردہ نہیں کرتے کیا
وہ شخص۔۔۔۔ایسی کوئی بات نہیں میرے گھروالے پردے کے پابندہیں
بشیراحمد۔۔۔۔ایساہے توآپ پردہ کیوں نہیں کرارہے
وہ شخص۔۔۔۔آپ بھی سچ کہہ رہے ہیں غلط میں بھی نہیں
بشیراحمد۔۔۔وہ کیسے
وہ شخص۔۔۔۔۔وہ ایسے کہ میرے گھروالے رشتہ داروں کے پاس گئے ہوئے ہیں گھرمیں میرے سواکوئی نہیں ہے
بشیراحمد۔۔۔اچھا یہ بات ہے مجھے معلوم نہیں تھا
وہ شخص۔۔۔۔اب توآجائیں
بشیراحمد۔۔۔۔جی ضرور
اس کے ساتھ ہی بشیراحمداس شخص کے گھرمیں چلاجاتاہے وہ شخص بشیراحمدکوایک کمرے میں لے جاتاہے اس میں چارٹوٹی ہوئی کرسیاں اورایک ٹوٹی ہوئی میزپڑی ہے ۔وہ شخص بشیراحمدکودوسرے کمرے میں لے جاتاہے۔وہاں دوٹوٹی ہوئی میزیں اوردوٹوٹے ہوئے لکڑی کے بینچ پڑے ہیں۔اسی کمرے میں ایک پلنگ بھی پڑاہواہے۔وہ شخص بشیراحمدکوگھرکے ایک کونے میں لے جاتاہے ۔وہاں پرپانچ کرسیاں ،دوبینچ اوردوبڑی میزیں پڑی ہوئی ہیں۔اس کے بعددونوں تیسرے کمرے میں جاتے ہیں۔اس میں ایک بڑی صندوق اورچارچھوٹی صندوقیں پڑی ہوئی ہیں۔ایک الماری بھی کھڑی ہے۔
وہ شخص۔۔۔۔یہ سامان شہرلے کرجانا ہے وہاں اس سامان کی مرمت بھی ہوجائے گی اورپالش بھی
بشیراحمد۔۔۔میں ایک مشورہ دے سکتاہوں؟
وہ شخص۔۔۔۔ہاں ہاں کیوں نہیں
بشیراحمد۔۔۔یہ سامان شہرمیں لے جانے سے بہترہے کہ آپ کسی کاری گرکوگھربلالیں
وہ شخص۔۔۔اس کاکیافائدہ ہوگا
بشیراحمد۔۔۔۔آپ کاساراسامان گھرمیں ہی رہے گا ۔اس سامان کی جوبھی مرمت ہوگی وہ آپ کے سامنے ہوگی ۔اس کے علاوہ بھی گھرمیں سامان مرمت کرانے کے اوربھی فائدے ہیں۔
منظر۹۰
جاوید، رحمتاں ،ان کی بیٹیاں اوردیگررشتہ دارایک کمرے میں بیٹھے ہوئے ہیں۔سورج نکل چکاہے۔ٹھنڈی میٹھی دھوپ پھیلناشروع ہوچکی ہے۔
صابراں کاپھوپھا۔۔۔۔اب ناشتہ بھی کرلیاہے دن چڑھنے لگاہے جوبات کرنی ہے کریں
رحمتاں۔۔۔صابراں کے ابو مولوی صاحب کے پاس گئے تھے
صابراں کی خالہ۔۔۔۔مولوی صاحب کے پاس تولوگ جاتے رہتے ہیں اس میں کیاخاص بات ہے
جاوید۔۔۔۔اس میں خاص بات ہے
صابراں کی خالہ۔۔۔۔وہ کیا
جاوید۔۔۔۔یہ اپنی بہن سے پوچھو
صابراکی خالہ رحمتاں کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتی ہے صابراں کی طرف دیکھنے کے بعدرحمتاں جاویدکی طرف دیکھتی ہے ۔
رحمتاں۔۔۔۔میں نے صابراں کے ابوکوکہاتھا مولوی صاحبب کے پاس جائیں اوران سے بچیوں کے لیے دعاکرائیں
بشیراحمد۔۔۔۔توکیامولوی صاحب نے دعانہیں کی مولوی صاحب نے کہیں ایسی ویسی بات تونہیں کہہ دی۔
رحمتاں۔۔۔۔مولوی صاحب نے دعابھی کی اورایسی ویسی بات بھی نہیں کی
صابراں کی پھوپھو۔۔۔۔اگرایساہے تویہ بتانے کی کیاوجہ ہے جاوید مولوی صاحب کے پاس گئے تھے
رحمتاں۔۔۔۔بات دراصل اورہے
اریبہ۔۔۔۔کیا مولوی صاحب نے تینوں بیٹیوں کی شادیاں ایک ہی دن میں کرنے سے منع کردیاہے؟
جاوید۔۔۔۔مولوی صاحب نے منع نہیں کیا بلکہ انہوں نے تومجھے شاباش دی
صابراں کاخالو۔۔۔۔پھربات کیاہے
جاوید۔۔۔جب میں نے مولوی صاحب کوکہا کہ میں اپنی تینوں بیٹیوں کی شادیاں ایک ہی دن کرناچاہتاہوں آپ دعاکرادیں مولوی صاحب نے دعاکرانے کے بعدکہا کہ بچیوں سے پوچھ لو وہ کہاں شادی کرناچاہتی ہیں
عبدالمجید۔۔۔۔ماں باپ جہاں چاہیں بیٹوں اوربیٹیوں کی شادی کردیں ان سے پوچھنے کی کیاضرورت ہے۔
جاوید۔۔۔۔یہ بات میں نے مولوی صاحب سے بھی کہی
صابراں کی پھوپھو۔۔۔۔پھرمولوی صاحب نے کیاکہا
جاوید۔۔۔۔مولوی صاحب نے کہا بیٹا ہویابیٹی اس کی شادی کرنے سے پہلے اس سے پوچھیں کہ وہ کس سے شادی کرناچاہتے ہیں
راشدہ۔۔۔۔مولوی صاحب سچ کہتے ہیں ہمارے مذہب اسلام کی یہی تعلیمات ہیں

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 333 Print Article Print
About the Author: Muhammad Siddique Prihar

Read More Articles by Muhammad Siddique Prihar: 295 Articles with 111073 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: