تفریق کا بیج

(Fatmah Hussain, )

فرح کمبخت کہاں مرگئ…؟؟؟
اک کام بھی جو تو ڈھنگ سے کر لے…!!!
بھئ کہیں ٹکے جب ناں…!!
کتنی دیر ہوگئ …!!!
کب سے کہا تھا چائے بنادے سر پھٹا جارہا ہے درد سے……مجال ہے جو مہرانی صاحبہ کے کان پہ جوں بھی رینگے…!!!
ذرا سا ہلنےمیں بھی اسےگھنٹوں لگ جاتے ہیں…!!
ارے اوں آواز نہیں جارہی تجھے…؟؟؟

گلشن بیگم چراغ پا تھیں…آج صبح سے انکا مزاج بگڑا ہوا تھا رہی صحیح کسر کرایہ دار نے وقت پہ کرایہ نہ دیکے پوری کردی تھی …گھر میں گھستے ہی بیچاری فرح کی شامت آچکی تھی…!!!

فرح اپنی ماں کی اتنی صلواتیں سن کے بوکھلا چکی تھی ، ہاتھ کپکپانے لگے تھے!!
آئ اماں!!!بس چائے کپ میں انڈیل ہی رہی تھی …ساتھ تیرے لئے پراٹھا بھی بنانے بیٹھ گئ تھی …بھوک لگی ہوگی ناں تجھے…!!
کب سے باہر کی خاک چھان رہی ہے…!!

13 سا ل کی فرح اسکول سے آتے ہی کچن مین گھس جاتی تھی…!!
پتلی دبلی ،سانولی رنگت والی ، بلا کی پر کشش تھی جو بھی اسے اک بار دیکھتا بس کہیں کھو ساجاتا…!!اتنی چھوٹی عمر میں بھی بڑی پھرتیلی تھی اور سلیقہ بھی خوب تھا۔ حساسیت سے بھرپور،شکر،صبر کرنے والی بچی تھی۔!!!

"ارے پراٹھا بھی کھالیتی پہلے مجھے چائے تو تھما دیتی…!!
مجال ہے کوئی بھی کام جو تو وقت پہ کرسکے …!!
بہن بھائیوں کو کھانا کھلادیا؟؟
تونے کھالیا؟
گلشن بیگم اسکے خیال کرنے کو مکمل نظر انداز کرتے ہوئے لتڑانے لگیں!!

جی امی میں نے سب کو کھانا کھلا کے سولا دیا ہے۔میں بس تیرا انتظار کرہی تھی اسلئے ابھی تک خود بھی کھانا نہ کھا سکی!!

فرح میں فرمانبرداری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ۔اسکی ماں اسے جتنی صلواتیں سناتی،خوب ڈانٹ ڈپٹ کرتی رہتیں…!!وہ پھر بھی یو ہی اپنی ماں پہ جان چھڑکتی ،انکا بہت خیال رکھتی تھی۔

"اچھا چل جا پہلے یونیفارم تو تبدیل کرلے…!!!
میں نہیں دھوؤں گی اگر گندا ہوگیا …!!
مجھ سے نہیں ہوتی اب اتنی محنت …!!
کتنی بار تجھے سمجھاچکی ہوں…!!
اسکول سے آتے ہی سب سے پہلے یونیفارم تبدیل کرلیا کر۔ مگر تجھے تو اللہ واسطے کا بیر رہتا ہے…!!
مجال ہے جو میری کوئی بات وقت پہ مان جائے…!!


گلشن بیگم کو بس موقع چاہئے ہوتا تھا، فرح پہ دنیا بھر کا غصہ نکالنے کا…!!
وہ جو اس پہ شروع ہوتیں تو بس پھر چپ ہونے کی باری کافی دیر میں آتی تھی…!!

"جی اماں معاف کردو !!
اب سے تیری ہر بات پہ چٹکی بجاکے عمل کرونگی!!
اچھا اب کچھ کھالوں مجھے بھی بھوک لگی ہے…!!
فرح بھوک کی شدت سے پیٹ پہ ہاتھ رکھے بولی …!!

اچھا جا جا!!
لے آ اپنی بھی روٹی سالن …!!!
کھالے میرے ساتھ ہی…!!
گلشن بیگم کو بھی بھوک کے احساس نے پاگل سا کردیا تھا اسلئے فٹافٹ ہاتھ منہ دھوکے کھانے کیلئےبیٹھ چکی تھیں۔!!


فرح دیکھ تو سہی دروازے پہ کون ہے…؟؟
کب سے بجےجا رہاہے …!!
کچھ دیر یوں ہی بجتا رہا ناں تو دروازہ ہی ہاتھ میں آجائیگا…!!
یہاں تو لوگ تمیز ہی بھول چکے ہیں سر سپاٹ دروازہ پیٹنا شروع کردیتے ہیں۔جیسے سارا غصہ اس بیچارے پہ ہی نکالنا ہو…!!

گلشن بیگم دروازے کے مسلسل بجنے سے تنگ آچکی تھیں

فرح آٹا گوندھنا چھوڑ کے فورا دروازے کی جانب لپکی

"السلام علیکم …!!
بہن گلشن!!
کیا حال چال ہیں؟؟ بھئی تم تو جیسے میرے گھر کا راستہ ہی بھول چکی ہو… !!
ارے محلہ کیا بدلہ میں نے !!
تم تو سارے رشتے ناطے ہی توڑ بیٹھیں…!!
بانو آپا نے آتے ہی گلے شکوے شروع کردیئے تھے …!!

"وعلیکم السلام …!!
بس بہن کیا بتاؤں؟؟
سارا دن گھر کے کاموں میں بری طرح جتی رہتی ہوں…!!مجھے تو اتنا بھی وقت نہیں مل پاتا کہ بالوں میں ڈھنگ سے کنگھی بھی کرسکوں…!!
حال دیکھ لو میرا…!!
4 بچوں کی اماں ہوں مگر لگتی ہوں 10بچوں کی …!!
گلشن بیگم منہ بسورتی اپنا دکھڑا رونے لگیں…!!

بانو آپا کی تو ہنسی چھوٹ گئ …!!
جب ذرا ہنسی تھمی تو انہوں نے ایک گہری نگاہ انکے سراپے پہ ڈالی…!!
اچھی بھلی حلیے میں بڑی شان سے بیٹھی تھیں۔عمر بھی کم ہی معلوم ہورہی تھی۔مگر حسب عادت گلےشکوے ،شکایتیں ہی رہتی تھیں انہیں…!!

انہوں نے پاس کھڑی فرح کو دیکھا جو کافی دیر سے شربت کا گلا س تھامے کھڑی تھی۔انہیں وہ بچی بڑی پیاری لگی۔گلاس تھامتے ہوئے بے اختیار اسکا ماتھا چوم لیا…!!
فرح اس اچانک حملے سے ہربڑا گئی…!!
وہ شرماتے ہوئے خالی گلاس لیکے پلٹ چکی تھی…!!

تمھاری یہ بچی بڑی ہی پیاری اور سعادت مند ہے بھئ گلشن بیگم ابھی سے اتنا سگھڑاپہ ہے اس میں ماشآء اللہ …دھیمہ مزاج رکھنے والی بچی ہے… بڑی ہوکے تو کمال ہی کردیگی … جس گھر میں بھی جائیگی راج کریگی …!!!
بانو آپا کے رویے میں محبت کی چاشنی نمایا ں تھی وہ رسانیت سے کہتی چلی گئیں…!!

گلشن بیگم کو تو جیسےپتنگے لگ گئے انہیں بانو آپا کی باتیں بری طرح کھلی تھیں …!!!
ارے رہنے دو تمہیں کیا پتہ فرح کے اصل کا!!
سارا دن بستر توڑتی رہتی ہے …!!
یہ تو میرا دم ہے جو اس کے سر پہ ڈنڈا رکھکر کام کرواتی ہوں ورنہ وہ تو اک کپ بھی اٹھا کے نہ رکھ سکے…یہ تو میری چھوٹی بیٹی نوشابہ ہے جو سب کام کرتی ہے اور یہ فرح اس سے خوب جلتی ہے …!!

بانو آپا سوچ میں پڑ گئیں…!!
انہوں نے خاموشی اختیار کرلی ۔بات بڑھانے کا کوئ فائدہ نہیں تھا…!!
گلشن بیگم اپنی بات سے کبھی پیچھے ہٹنے والی نہیں تھیں۔انہیں گلشن بیگم کی بات پہ اعتبار آجاتا اگر اکثر خود انہوں نے فرح کو گھر کے کام میں پیستا نہ دیکھا ہوتا…!!
جبکہ نوشابہ پلے درجے کی کام چور تھی۔ ذرا سا اٹھکر پانی دینے کی بھی روادار نہیں رہی کبھی…!!

فرح کچن میں کھڑی اپنی ماں کی تمام باتیں سن چکی تھی اور یہ اسکے لئے کوئی نئی بات ہرگز نہ تھی۔ وہ 7 سال کی عمر سے اپنی ماں کے یہی الفاظ سنتے آرہی تھی ۔جب بھی کوئی آجاتا گھر میں،فرح کی تعریف میں دوبول بولنے کی غلطی کر بیٹھتا …گلشن بیگم فرح کے بارے میں اسی طرح کی جلی کٹی باتیں کرنے شروع ہوجاتی تھیں۔

شروع شروع میں فرح خوب روتی تھی اس سے بہت تکلیف ہوتی تھی …!!مگر پھر اگلے دن سب بھول بھال کے اپنی ماں کو خوش کرنے کیلئے ایک نئے عزم کے ساتھ گھر کے کاموں مں جت جاتی تھی۔مگر ہمیشہ اسکی ہر محنت پہ اسے جلی کٹی ہی سننے کو ملتی تھی۔کبھی کبھی اسے لگتا تھا کہ وہ اپنی ماں کی سگی اولاد ہے ہی نہیں وہ کیوں انکی آنکھ میں ہمیشہ کھٹکتی ہے ؟؟ کئی بار اسکا دل اس سے یہی سوال کرتا رہتا تھا مگر اسے کوئی جواب نہ مل سکا تھا ۔پھر اسکا دل خود ہی کہنے لگتاکہ ایک دن ایسا ضرور آئیگا جب اسکی ماں اس سے خوش ہونگیں…!!

آج بھی وہی صورت حال تھی اسے عادت سی ہوگئی تھی مگر تکلیف اب بھی ویسی ہی محسوس ہوئی تھی جیسی پہلے ہواکرتی تھی ،وہ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی تھی ۔اسکا دل چیخ چیخ کہ کہہ رہاتھا آخر یہ تفریق کیوں؟؟ میں بھی انہی کی اولاد ہوں پھر میرے ساتھ ایسا سلوک کیوں؟؟
آخر کب ہوگا ختم یہ سلسلہ ؟؟
کب مجھے بھی عزت، محبت مل سکے گی؟؟
ماں باپ اولادوں کے درمیان یہ تفریق کا بیج کیوں بوتے ہیں؟؟!!
وہ یہ کیوں نہیں سمجھ پاتے اس سے اولاد کے دل پہ کیا گزرتی ہے۔۔۔؟؟؟

وہ گلوگیر آواز سے اللہ کے حضور دعا کرنے لگ گئی تھی کہ اللہ اسکی ماں کے دل میں اسکے لئے بھی محبت ڈال دے، جگہ بنادے…تاکہ اس سے بھی بہن بھائیوں کی طرح چاہا جا سکے!!
دعا مانگنے کے بعد اس سے یقین ہوگیا تھا ایک دن ضرور ایسا آئیگا جب اسکی ماں اسے سینے سے لگا کے خوب پیار کرینگی وہ اس عزم کے ساتھ آنسو پونچھتے ہوئے پھر سے گھر کےکاموں میں لگ چکی تھی!!

ماں باپ کو اپنی سب اولادوں کو ایک جیسا سمجھنا چاہیے یہ فرق اولاد کی شخصیت کو ختم کردیتا ہے وہ کبھی کانفیڈنٹ نہیں ہوپاتی ہمیشہ احساس کمتری کا شکار رہتی ہے!!

#حیا_مسکان


 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 206 Print Article Print
About the Author: Fatmah Hussain
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: