تھانہ کلچر

(Danish Hameed, Rahimyarkhan)

^ ایک پروگرام سے منسوب ^
میڈیا میں ٹاک شوز صرف حکومت اور حکومتی کار کردگی کے بارے میں ہوتے ہیں یا ان میں حکومتی اور سیاسی مسائل پر بحث ہوتی ہے۔ ایک پروگرام سے منسوب میری یہ تحریر ۔
تجزیے اور تجربے کے بعد معلوم پڑا کہ برائی دو قدم اور آگے چلی گئی ہے۔
ایک اینکر اور ایک مقتول نوجوان بچے کے والد کی باتیں دل کو لگیں۔ ان صاحب کی باتیں سننے کے بعد پتا یہ چلا کہ برائی اور کرپٹ لوگ وہیں کھڑے ہیں جبکہ غریب کے بچے جیلوں میں ہی قتل ہو گےء ۔
یہ واقعہ جولائی 2015 کا ہے۔
وہ صاحب کچھ اس طرح بیان فرماتے ہیں؛
19 جولائی 2015 کو ان کے بیٹے کو ڈیرہ غازی خاں سے پولیس نے پکڑا۔ بقول ان صاحب کے ان کے بیٹے پر پورے پاکستان میں کوئی ایف آئی آر نہیں تھی ۔ پھر اس کو پکڑا کیوں؟
وہ صاحب فرماتے ہیں کہ ان دنوں رحیم یار خان میں ڈی پی او طارق الہی تھا۔ پولیس کا ایک مخبر عامر لطیف نے اس کو ڈی پی او کے کہنے پر پکڑ وایا۔19 جولائی کو اس کو اور 2 لڑکے اور تھے ان کو بھی پولیس نے اریسٹ کیا۔مقتول کا نام عبدالروف تھا۔جو کہ ایک پڑھا لکھا نوجوان لڑکا تھا۔
وہ صاحب فرما رہے تھے کہ ان کے بیٹے کو رحیم یار خان سرکل صادق آباد تھانہ کوٹ سبزل لایا گیا۔ ان دنوں اس تھانے میں ایس ایچ او مسلم ضیاء تعینات تھے۔20 جولائی کو اس لڑکے کے والد صاحب رحیم یار خان آئے ۔انہوں نے ایس ایچ او سے کہا کہ کیوں پکڑا ان کو۔ جب کوئی جواب نا ملا تو وہ صاحب فرماتے ہیں کہ وہ ڈسٹرکٹ چئرمین اظہر خاں لغاری کے پاس گئے ۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی آپ کے بیٹے کے ساتھ ملاقات ہو جائے گی آپ تھانے جائیں ۔ وہ صاحب تھانے گئے ۔ 21 جولائی کو بھی ان کو ان کے بیٹے کے ساتھ ملنے نہیں دیا گیا۔ صاحب فرماتے ہیں کہ مسلم ضیاء کے کسی بندے نے کہا کہ آپ 10 لاکھ روپے لے آئیں آپ کی ملاقات ہوجاے گی۔ وہ صاحب اس پر بھی مان گئے ۔ مگر وہ ملاقات کرنے میں ناکام ہوئے ۔ ان کو ملاقات کرنے کا موقع نہیں ملا۔ وہ صاحب رو رو کر بتا رہے تھے کہ 23 کو جب وہ دوبارہ تھانے گئے تو 23 کی شام کو پولیس نے ان کا بیٹا عبدالروف کی لاش ان کے حوالے کر دی۔
وہ صاحب غم و غصے کی حالت میں نوجوان بیٹے کی لاش لے کر گھر آئے ۔ کچھ دنوں بعد وہ صاحب انصاف کی تلاش میں رحیم یار خان آئے ۔ وہ صاحب ڈی پی او سے ملنا چاہتے تھے مگر ان کو نہیں ملنے دیا گیا۔ ان صاحب نے کیس ہائی کورٹ میں دائر کر دیا۔ وہ صاحب فرماتے ہیں کہ وہ دو مرتبہ وہاں بھی گئے مگر پولیس کا وہاں اتنا ہولڈ تھا کہ کوئی ان کا کیس لڑنے کو تیار نا تھا۔ ان کو کوئی پیشی نہیں دی گئی ۔ پولیس نے باقی دو لڑکوں کو چھوڑ دیا۔
وہ لڑکے واپس گھر آئے تو مقتول کے والد صاحب سے ملے۔ ان لڑکوں نے مقتول کے والد کو بتایا کہ ان کے بیٹے کو پولیس نے تشدد کر کے مار دیا تھا۔
آخر ایسا ایک غریب کے ساتھ کیوں؟
جوڈیشل انکوئری سے کچھ نہیں ہو سکا۔
یہ ایس ایچ او صاحب متعدد بار معطل ہوئے اور ان پر محکمانہ انکوئری بھی ہوی ۔ ان کو ضلع بدر بھی کیا گیا۔ نوکری بھی ان سے چھن گئی ۔مگر افسوس کی بات یہ صاحب دوبارہ سے اسی تھانے میں بطور ایس ایچ او تعینات ہیں۔
آپ سب کو نیا پاکستان مبارک ہو ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Danish Hameed

Read More Articles by Danish Hameed: 10 Articles with 3660 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Sep, 2019 Views: 330

Comments

آپ کی رائے