پولیس گردی

(Kiran Khan, Bahwalpur)

#salahuddin

خط بنام وزیراعظم پاکستان ۔۔۔۔

اک گل پُچھاں ؟؟ تسی ماروگے تاں نئیں؟؟
تسی مارنا کِتھوں سِکھیا اے؟؟

یہ ہیں وہ الفاظ جو صلاح الدین نے مار کے دوران کہے تھے۔ جب یہ ویڈیو دیکھی۔اس کا معصوم اور بے بس انداز دیکھ کر میرا دل بے اختیار پسیجا تھا۔۔
اس وقت اس کے جملے میں چھپا کرب اور درد مکمل طور پر سمجھ نہیں آیا کہ اس نے کیسی اور کتنی مار کھائی ہے ۔

اور وہ کیوں ڈر رہا تھا ..

تب معلوم ہوا جب اس کے جسم پر پڑے زخم، جلی ہوئی کھال، کٹے ہوے ہاتھ کی پشت دیکھی۔

۔ ظالمو انسان ہو یا جانور؟؟؟بے غیرتو اللہ سے ڈر کیوں نہیں لگا یہ ظلم ڈھاتے ہوے؟؟؟

اب دوبارہ وہ ویڈیو دیکھیں جس میں انتہائی بے بسی سے پوچھ رہا ہے کہ ماروگے تو نہیں؟

مرحوم مینٹلی طور پر کافی ڈسٹرب تھا اس چیز کا ثبوت اس کے بازو پر لکھوایا گیا تھا۔ جس طرح کیمرے میں دیکھ کر اس نے منہ چڑایا تھا گنجایش ہی نہیں رہ جاتی کہ اس کہ ذہنیت پر شک کیا جاے سوال یہ ہے ایک ابنارمل بندے کو اس طرح مارنے والے نارمل کہلاے جا سکتے؟؟؟

۔اس کا جرم کیا تھا؟
چند ہزار کی چوری۔۔ٹھیک ہے چوری کی جرم کیا ۔۔لیکن آپ نے کس جرم کی سزا دی اسے؟؟

کیا غریبوں لاچاروں کو معمولی سی غلطی کے بدلے آپ کے پاس تشدد زدہ لاشوں میں بدل دینے کے علاوہ کوئی قانون نہیں؟؟

کوئی امیر چور کبھی آپ کی کسٹڈی میں کیوں نہیں مرا؟؟

جس چور کے پاس دولت کے انبار ہوں اس کو ہیرو سے کم پروٹوکول نہیں دیا ہوتا ۔۔وہ پیشی پر بھی آے تو آپ کو بے عزت کرکے چلا جاتا ہے۔آپ ان کو ہر سہولت دیتے ہیں۔بہترین کھانے کے ساتھ ساتھ شراب تک کا بندوبست کرکے دیتے ہیں۔

خان صاحب آپ یہ مان لیں کہ آپ کی پولیس سب سے بڑی ڈاکو ،ہٹ دھرم ،متشدد اور دہشت گرد ہے۔

۔آپ بے بس ہیں اس معاملے میں یہ مان لیں۔

۔آپ سے پولیس کا ڈیپارٹمنٹ نہیں سدھرنا ۔۔
دولت مند چور کے سر میں ہی درد پڑ جاے جان پر بن جاتی ہے مہنگے ہسپتالوں ان کی ٹریٹمنٹ کراتے ہیں غریب کو البتہ جب مار لیتے ہو خانہ پوری کے لیے ہسپتال لے جاتے ہو وہ بھی ایک جعلی پوسٹ مارٹم کی فارمیلیٹی پوری کرنے کے لیے۔؟؟

اگر مسئلہ ہے تو صرف غریبوں سے۔۔۔بڑے چوروں سے ڈیل ہو سکتی ہے تو چھوٹے چوروں سے کیوں نہیں ہوسکتی؟؟

ملک کو سیاستدان لوٹ کر کھا گئے ۔۔ان کا کچھ نا بگاڑ سکے یہ چند ہزار لوٹنے والا ابنارمل بندہ کونسا خزانہ لے رہا تھا؟؟

۔ساہیوال والا دل سوز واقعہ ہوا آپ کو ایکشن لینا چاہیے تھا۔۔کیا ایکشن ہوا؟؟؟

اگر اسی دن ان کو الٹا لٹکا دیتے تو آج یہ دن نا دیکھنا پڑتا۔۔یہ لوگ مارتے پہلے ہیں قصور بعد میں گھڑ لیتے ہیں۔۔کیا آپ کے پاس اپنے ملک کی پولیس جتنا جگرا یا حوصلہ بھی نہیں ہے؟؟؟

آپ دیکھتے نہیں کس قدر بے خوفی سے یہ سنگین فیصلے کرتے ہیں؟؟؟ فرانزک لیبارٹری ان کے گھر کی باندی ٹھہری۔۔جیسی مرضی رپورٹ بنوا لیں۔۔۔
موت کے پروانے ان کے ہاتھ میں رہتے ہیں۔۔کب کس کو تھما دیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔۔کیوں؟؟؟

خان صاحب آپ کا ہی فرمان ہے نا کہ امیر کے لیے الگ قانون اور غریب کے لیے الگ قانون ہو تو قومیں تباہ ہوجاتی ہیں ۔تو ہمیں تباہ و برباد ہونے میں مزید کتنا عرصہ درکار ہے؟؟

آپ مان لیں کہ پولیس ریفارمز آپ نافذ نہیں کر سکتے کیوں کہ پولیس بھی ایک مافیا بنتی جا رہی ہے اور آپ ان کے آگے بے بس ۔

ان کو ہر دور حکومت میں خون پلایا گیا اب انکے منہ کو لہو لگ چکا ہے تشدد مار پیٹ کیے بغیر ان کو چین ہی نہیں آتا۔
مرنے والا ذہنی طور پر بیمار تھا لیکن میرے خیال میں مارنے والے اس سے بھی زیادہ بیمار تھے۔۔ایسے وحشی درندوں کو پولیس میں نہیں ہسپتال میں علاج کرانا چاہیئے۔

۔خدارا ہمیں نہیں چاہیے ایسی پولیس ۔۔۔۔اس ملک میں لاقانونیت کا راج ہے ظلم ہی ظلم ہے غریبوں لاچاروں کا بری طرح استحصال ہو رہا ہے تو ان حالات میں یہ پولیس صرف مزید ذلیل مزید پریشان کر رہی ہے۔۔

خدارا اس ملک کو مدینہ کی ریاست بنانے کا خواب دکھایا ہے تو ایکشن لیں۔۔ہمیں اس مظلوم کا انصاف چاہیئے۔۔ہمیں حساب لیں دیں مظلوم کے ایک ایک زخم کا۔۔آپ سے ریکویسٹ ہوگی زرا وہ ویڈیو دیکھیں جس میں میت باپ کے حوالے کی گئی۔۔اگر آپ درد دل رکھتےہیں تو اس باپ کا درد اس باپ کا کرب محسوس ہوگا۔۔۔
۔۔ یاد رکھیں ۔۔۔روز قیامت اس باپ کو جواب دہ ہونا ہے آپ نے۔یہ وحشت اور بربریت کا کھیل بند کروائیں خان صاحب ورنہ مان لیں کہ آپ بے بس ہیں۔۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 260 Print Article Print
About the Author: Kiran Khan

Read More Articles by Kiran Khan: 10 Articles with 3173 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Great article dear,and i totally agree with u. The punjab police department is just a rubbish.
By: saqlain khan, islamabad on Sep, 08 2019
Reply Reply
0 Like
Language: