فکر اقبال دور حاضر میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قسط 3۔۔

(Afzal RAZVI, Adelaide-Australia)

چنانچہ اس نظریے کو زیادہ وسعت عطا کرتے ہوئے علامہ اقبالؒ خودی کو مختلف منازل میں تقسیم کرتے ہیں اور سب سے پہلے اثباتِ خودی کی تعلیم دیتے ہیں۔ 1902 میں جب ڈاکٹرنکلسن نے انگریزی میں اسرار خودی کا ترجمہ کیا تو علامہ نے نکلسن کو مسئلہ خودی کی جو تشریح لکھی اس میں اثبات ِ خودی کا تذکرہ کچھ اس طرح سے کیا:”انسان کا اخلاقی اور مذہبی نصب العین نفیئ خو دی نہیں بلکہ اثباتِ خودی ہے۔ہر وہ شے جو خودی کو مستحکم بنائے خیر اور جو اسے کمزور کرے وہ شر ہے۔“

نفئ خودی کے سلسلے میں شاعر ِ مشرق صوفیا کے مشہور عقیدے وحدت الوجود سے اختلاف کرتے ہوئے نظر آ تے ہیں۔ صوفیا کے عقیدے کے مطابق خدا کی مثال سمندر کی سی ہے اور انسان اور اس سمندرکا قطرہ ہے؛لہذا قطرے کا سمندر میں مل کر اپنی ذات کو فنا کر دینا نفئ خودی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ غرق ہونے کے بعد خودی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ سمندر لا محدود ہے اور قطرہ اس کے مقابلے میں ایک ادنیٰ چیز ہے اور قطرے کا سمندر میں مل جانا اورفنا ہو جاناہی خودی کے تصور کو ختم کر دیتا ہے۔اسی نظریے کے مطابق صوفیا کے ہاں انسان کی زندگی کی تکمیل اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنی ہستی کو مٹا کر فنا کردے لیکن علامہ کا نظریہ اس سے متضاد ہے۔وہ کہتے ہیں کہ بے شک خدا کی ذات ایک سمندر سے مشابہ ہے اور انسان اس کا ایک قطرہ ہے؛مگر انسان جو کچھ بھی ہے اپنی انفرادیت رکھتا ہے۔
علامہ کہتے ہیں کہ ہستی کا اپنے سے برتر ہستی میں مل جانا،صوفیا کے یہاں اس ہستی کا مٹ جانا اور فنا ہو جانا سمجھا جاتا ہے، جو درست نہیں۔دراصل وہ ہستی اپنی حقیقت سے مل کر فنا نہیں ہوتی بلکہ بقائے دوام حاصل کر لیتی ہے،جیسے: قطرہ دریا میں مل کر یا کرن سورج میں مل کر بظاہر اپنی خودی کھو بیٹھتی ہے؛لیکن حقیقت میں وہ اپنی خودی کی تکمیل کرتی ہے۔ایسا کرنے سے اس کی ہستی فنا نہیں ہوتی بلکہ اوجِ کمال کو پہنچ جاتی ہے۔
ضربِ کلیم میں علامہ اقبالؒ اسی نظریے کی وضاحت و صراحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
زندگانی ہے صدف قطرہء نیساں ہے خودی
وہ صدف کیا جو قطرے کو گہر کر نہ سکے
ہو اگر خود نگر و خود گر و خود گیر خودی
یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے
تو گویا، صوفیا کے عقیدے کے مطابق نفئ خودی یا ہستی کا فنا کر دینا قرب ِ الٰہی کا باعث ہوتا ہے لیکن علامہ اقبال ؒ کے نزدیک احساسِ خودی یا عرفان ذات ہی خدا سے قربت اور تسخیر ِ کا ئنات کا ذریعہ ہے۔ ڈاکٹر عابد حسن علامہ کے اس نظریے کے بارے رقم طراز ہیں:
”اس عقیدے کو جو اقبال کے نزدیک ملتِ اسلامی کے زوال کی حقیقی وجہ ہے،وہ اسے نفئ خودی کے نام سے موسو م کرتے ہیں اور اسے اثبات ِ خودی کے نظریے سے رد کرنا چاہتے ہیں۔“
علامہ اقبال کے فلسفہء خودی کو زیرِ بحث لاتے ہوئے ایک بات جس کی وضاحت کرنا میں ضروری سمجھتا ہوں وہ ان کے کلام کے اساسی نظریے خودی کے مآخذ ہیں۔ نقادوں نے ان کے فلسفہ خودی کو مختلف مغربی فلسفیوں کے فلسفے سے مشابہ قرار دینے کی کوشش کی ہے۔مثلاً:
خلیفہ عبدالحکیم کہتے ہیں:
”اپنی شاعری کے اس دور میں جس میں اسرارِ خودی تصنیف کی گئی اقبال نتشے سے متاثر تھے۔“
آگے چل کر لکھتے ہیں:
”یہ سب فشٹے کا فلسفہ انا اور فلسفہ حیات ہے۔جہاں تک افکارِ اقبال ؒکا تعلق ہے۔اقبال بہ نسبت نتشے کے فشٹے سے زیادہ متاثر ہے۔“
لیکن علامہ اقبال ؒنے نتشے کی تقلید و تتبع سے انکار کیا ہے۔انہوں نے خود ڈاکٹر نکلسن کو ایک خط میں تحریر کیا کہ:
”بعض انگریز تنقید نگاروں نے اس سطحی تشابہ اور تماثل جو میرے اور نتشے کے خیالات میں پایا جاتا ہے، دھوکا کھایا ہے اور وہ غلط راہ پر پڑ گئے ہیں۔ ’دی اینتھم‘ والے مضمون میں جو خیالات ظاہر کیے گئے ہیں، وہ بہت حد تک حقائق کی غلط فہمی پر مبنی ہیں لیکن اس غلط فہمی کی ذمہ داری صاحب مضمون پر عائد نہیں ہوتی۔وہ انسان ِ کامل کے متعلق میرے تخیل کو صحیح طور پر نہیں سمجھ سکا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے غلط بحث کرکے میرے انسانِ کامل اور جرمن مفکر کے فوق الانسان (Super man) کو ایک ہی چیز فرض کرلیا۔ میں نے آج سے تقریباً بیس سال قبل انسانِ کامل کے متصوفانہ عقیدے پر قلم اٹھایا تھا اور یہ وہ زمانہ تھا جب نہ تو نتشے کے عقائد کا غلغلہ میرے کانوں تک پہنچا تھا، نہ اس کی کتابیں میری نظروں سے گز ری تھیں۔“
جب علامہ اقبال ؒ نے خود ہی اس بات کی تردید کردی کہ فلسفہ خودی کا مآخذنتشے کا فلسفہ نہیں توپھر شک کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی۔ ان حالات میں اگر کو ئی علامہ اقبال ؒ کے فلسفے کو کسی مغربی مفکر کے فلسفے سے مشابہ قرار دیتا ہے تو گویا وہ علامہ کو کاذب ثابت کرنے کی کوشش کررہاہے؛ کیونکہ میں نے ابھی ابھی یہ عرض کیا ہے کہ انہوں نے کسی سے اپنے اس اساسی نظریے کی فکر لینے سے صاف انکار کیا ہے؛لہذا جو لوگ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں، میرے نزدیک ان کا مقصود ماسوا اس کے کہ وہ حضرت علامہ کی ذات پر کیچڑ اچھالنا چاہتے ہیں اور کچھ نہیں۔علامہ اقبال کے نظریہ خودی کے سلسلے میں عرض کرتا چلوں کہ ان کے اس نظریے (خودی) کا سب سے بڑا مآخذ قرآن ِ حکیم فرقان ِ مجیدہے۔اس سلسلے میں انہوں نے اپنے خطبات میں کافی شہادتیں پیش کی ہیں۔وہ کہتے ہیں:
”قرآن ِ مجید اپنے سادہ اور بلیغ انداز میں انسان کی انفرادیت اور یکتائی پر زور دیتا ہے۔انسان کا خدا سے جتنا بعد ہو جاتا ہے اتنی ہی اس کی انفرادیت کمزور وضعیف ہو جاتی ہے۔خدا کے قریب رہ کر ہی وہ اپنی خودی پر گرفت رکھ سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ وہ اپنے آپ کو خدا میں جذب کرے بلکہ خودی سے آشنا ہو کر وہ خدا کو اپنے آپ میں جذب کر لیتا ہے۔ یہ خودی ہی کے ذریعے ہوتا ہے۔“ (جاری ہے)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Afzal Razvi

Read More Articles by Afzal Razvi: 111 Articles with 46273 views »
Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allama
.. View More
06 Sep, 2019 Views: 461

Comments

آپ کی رائے