پی ایس پی افسران بمقابلہ رینکرز پولیس افسران

(Rasheed Ahmed Naeem, )

 وزیر اعلیٰ پنجاب کا تھانہ کلچر کا ویژن تبدیل نہ ہو سکا ہے جس کی وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ پولیس ملازمین اور پولیس افسران کو ان کا حق نہیں مل سکا۔جس کی وجہ سے وہ دل جمعی سے نوکری نہیں کرتے ہیں۔پنجاب میں اس وقت دو طرح کے بڑے افسران ہیں ایک پی ایس پی افسران ہیں جو کہ براہ راست سی ایس ایس کا امتحان پاس کر کے آتے ہیں اور ڈائریکٹ اے ایس پی بھرتی ہوتے ہیں اور گریڈ17 میں بھرتی ہو کر آئی جی گریڈ22تک ترقی پاتے ہیں۔ کانسٹیبل بھرتی ہونے والے سب انسپکٹر یا انسپکٹر تک ترقی پاتے ہیں اور اے ایس آئی بھرتی ہونے والے ڈی ایس پی تک پہنچ جاتے ہیں اور پنجاب پبلک سروس کمیشن سے انسپکٹر بھرتی ہو کر آنے والوں کو 22سال بعدایک ایک ترقی ملی ہے،1993میں اے ایس پی بھرتی ہونے والے آج ایڈیشنل آئی جی بننے والے ہیں جبکہ 1993ئمیں انسپکٹر بھرتی ہونے والے آج بڑی مشکل سے ایس پی ہی بن سکے ہیں۔ اس طرح 1995ئمیں اے ایس پی بھرتی ہونے والے آج ڈی آئی جی کے عہدہ پر پہنچ چکے ہیں جبکہ اسی سال انسپکٹر بھرتی ہونے والے آج صرف ایک ترقی پا کر ڈی ایس پی ہی ہیں۔ پی ایس پی افسران نے پروموشن کے معاملے میں رینکرز پولیس افسران کو ایک طرح سے اچھوت قرار دے رکھا ہے حالانکہ تمام فیلڈ اور کرائم سے متعلقہ کام یہی رینکرز کرتے ہیں۔جب کوئی انعام یا ترقی کا کام آتا ہے تو پی ایس پی افسران اس کے حق داران ٹھہرتے ہیں۔ سانحہ قصور میں زینب کے زیادتی اور قتل کا ایک واقعہ ہوا، جس پر اس کے رینکر ڈی پی او ذوالفقار احمد کو او ایس ڈی بنا دیاگیا جبکہ اس ضلع میں اس سے قبل آٹھ بچیوں کے ساتھ زیادتی کا واقعہ ہوا اور ایک بے گناہ شخص مدثر کو اس الزام میں ایک جعلی مقابلے میں قتل کر دیا گیا،لیکن سابقہ کسی بھی ڈی پی او قصور کے خلاف کوئی کارروائی ابھی تک نہیں ہو سکی، کیونکہ وہ پی ایس پی افسران ہیں۔ لاہور شہر میں سری لنکا ٹیم پر ایک حملہ ہوا جس میں انکوائری میں گناہ گار پائے جانیوالے رینکرز افسران اور ملازمین کو سزا دی گئی لیکن اس وقت کے پی ایس پی پولیس افسران کو عدالتی انکوائری میں گناہ گار قرار دینے کے باوجود فیلڈ پوسٹنگ بھی دی گئی ہے اور انہیں ترقی بھی مل چکی ہے اور کسی نے پوچھا تک نہیں۔یہ سانحہ سری لنکا ٹیم کے ملزم پی ایس پی افسران کے مقابلے میں رینکرز پولیس افسران کا کوئی پرسان حال نہیں۔ سب سے زیادہ سزائیں رینکرز کو ملتی ہیں اور سارا دن ٹف سکیورٹی اور رسک ڈیوٹی بھی یہی پولیس افسران کرتے ہیں۔ جزا اور سزا کے معاملے میں پی ایس پی افسران کے لئے الگ قانون اور رینکرز کے لئے الگ قانون ہے۔ جہاں تک رویے کا تعلق ہے، پی ایس پی افسران کے رینکرز سے رویہ میں بھی فرق پایا جاتا ہے، رینکرزکے ساتھ اچھوت جیسا سلوک روا رکھاجاتاہے اور کسی ڈی ایس پی نے ڈی آئی جی یا ایس ایس پی کو ملنا ہوتا ہے تو وہ چٹ بھیج کر ملتا ہے جبکہ اے ایس پی کسی بھی رکاوٹ کے بغیر کمرہ میں جاتا ہے۔ اگر اے ایس پی ٹریننگ کر کے ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز کو رپورٹ کرتے ہیں تو انہیں ان کی من پسند پوسٹنگ دی جاتی ہے جبکہ ڈی ایس پی کو میرٹ کے نام پر کئی رپورٹ سے گزار کر ہی پوسٹنگ دی جاتی ہے اور کسی بھی اے ایس پی کو برانچ میں کھڈے لائن تقرری نہیں دی جاتی ہے انہیں ہمیشہ ہی ایس ڈی پی او تعینات کیا جاتا ہے اور انہیں ہر پانچ سال بعد اگلے گریڈ میں ترقی مل جاتی ہے جبکہ رینکرز کی ترقی 22 سال بعد ہوتی ہے۔ جو کہ ایک طرح سے ظلم اور زیادتی سے کم نہیں۔ پنجاب میں 16 اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور ایک کمشنر اور چھ محکموں کے سیکرٹری بھی پی سی ایس افسران ہیں جبکہ پی سی ایس انسپکٹر بھرتی ہونے والے کسی ایک بھی ضلع کا ڈی پی او نہیں۔ جبکہ آر پی او یا ایڈیشنل آئی جی کا تو تصور اور سوچا بھی نہیں جا سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے تھانہ کلچر کی بہتری اسی وقت ہوگی جب رینکرز اور ماتحت ملازمین کی بہتری کے لئے کام ہوگا۔ جب حکومت کی جانب سے بجٹ آتا ہے اور وہ افسران کی گاڑیوں کی خریداری اور دفاتر کی تزئین و آرائش پر لگا دیا جاتا ہے۔اگر کسی بھی پی ایس پی افسر کے گھر کے قریب سے گزریں تو اس گھر کے باہرٹینٹ میں بیٹھے درجنوں پولیس ملازمین ’’صاحب بہادر‘‘ کے آنے پر گیٹ کھولنے اور گھر کے گیٹ بند کرتے نظر آئیں گے۔پنجاب پولیس میں جتنے بھی نئے گھر یا رہائش گاہیں بنائی گئی ہیں یاقربان لائن پولیس لائن، چوہنگ ٹریننگ سکول میں بڑے بڑے گھر بھی پی ایس پی افسران کو دیئے جاتے ہیں۔ تھانہ کلچر کی بہتری کے لئے پی ایس پی افسران کی فلاح و بہبود پر کام کرنے کی بجائے بیٹ افسر، ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کے عہدوں کو ٹھیک کیا جائے اور ان کی بہتری، سروس سٹرکچر، پروموشن، پوسٹنگ، ڈیوٹی اوقات اور دیگر انتظامی ایشوز پر کام کیا جائے جب یہ تین عہدے درست ہو جائیں گے تو تھانہ کلچر از خود ٹھیک ہو جائے گا اور رینکرز پولیس افسران کی پروموشن کا سلسلہ تیز کیا جائے اور انہیں ٹائم سکیل پروموشن دی جائے اور رینکرز اور پی ایس پی کے درمیان پایا جانے والا امتیاز ختم کیا جائے اور ایسا نظام متعارف کرایا جائے کہ تمام پولیس افسران اور ملازمین مل کر عوام کی خدمت کریں اور کرائم کی بیج کنی کریں تاکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا محفوظ پنجاب کا خواب پورا ہو سکے۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 105 Print Article Print
About the Author: Rasheed Ahmed Naeem

Read More Articles by Rasheed Ahmed Naeem: 4 Articles with 676 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: