سیرت نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم (سبق نمبر 6)

(Babar Alyas, Chichawatni)

تحریر
بابرالیاس (ایڈمن قلمدان ڈاٹ نیٹ )

عنوان...
(1) بنو ہاشم کا محاصرہ
(2) ہجرت سے پہلے کے دو واقعات
( عقبہ کا پہلہ اور دوسرا عہد نامہ)
(3) ہجرت مدینہ
( احکامات...جہاد...اور غلبہ اسلام کا دور تھا)

بنو ہاشم کا محاصرہ
مفصل مضمون: شعب ابی طالب

قریش نے جب مکہ میں مسلمانوں کی مسلسل پیشقدمی کا مشاہدہ کیا اور دیکھا کہ نجاشی نے ان کے نمائندوں کی حبشہ کے مہاجرین کو حوالے کرنے کی درخواست مسترد کردی ہے، تو انھوں نے محمد(ص) اور بنی ہاشم پر معاشی دباؤ ڈالنے کا فیصلہ کیا اور ایک عہدنامہ لکھا کہ "اس کے بعد کوئی بھی ہاشم اور عبدالمطلب کی اولاد کو رشتہ نہ دے گا اور ان سے رشتہ نہ لے گا، کوئی بھی انہیں کچھ نہ بیچے گا اور ان سے کچھ نہ خریدے گا. اس کے بعد انھوں نے یہ عہدنامہ خانہ کعبہ میں لٹکا دیا. اس کے بعد بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب شعب ابی یوسف نامی درے میں محصور کئے گئے جو بعد میں شعب ابی طالب کے نام سے مشہور ہوا.[61]

بنو ہاشم کا محاصرہ 2 یا 3 سال تک جاری رہا. بنو ہاشم کی دشواریوں کے ایام میں ان کے ایک یا دو رشتہ دار رات کے وقت کچھ گندم یا دیگر اشیائے خورد و نوش ان تک پہنچا دیتے تھے. ایک رات بنو ہاشم کے ساتھ شدید دشمنی برتنے والے ابوجہل کو معلوم ہوا تو اس نے حکیم بن حزام کا راستہ روکا جو خدیجہ کے لئے گندم لے کر جارہا تھا. دوسروں نے مداخلت کی اور ابوجہل پر لعنت ملامت کی. رفتہ رفتہ لوگ اپنے کئے پر نادم ہوئے اور بنو ہاشم کی حمایت کرنے لگے اور کہنے لگے کہ (ابوجہل کا قبیلہ) بنو مخزوم کیوں نعمتوں میں کھیلے جبکہ بنو ہاشم و بنو عبدالمطلب کو سختی میں رکھا جارہا ہے. آخر کار انھوں نے کہا کہ بنو ہاشم کے خلاف لکھا ہوا عہدنامہ منسوخ ہونا چاہئے. معاہدے کے بعض فریقوں نے اسے پھاڑنے کا فیصلہ کیا.
ابن ہشام نے ابن اسحاق کے حوالے سے لکھا ہے کہ انھوں نے دیکھا کہ معاہدہ دیمک نے چاٹ کھایا ہے اور صرف جملہ "باسمک اللهم" باقی ہے.[62]
ابن ہشام نے بعض اہل علم کے حوالے سے لکھا ہے کہ: ابو طالب(ع) قریش کے اکٹھ میں پہنچے اور ان سے کہا: میرے بھتیجے نے مجھے بتایا ہے کہ تمہارا لکھا ہوا عہدنامہ دیمک نے کھا لیا ہے اور صرف اللہ کا نام باقی ہے؛ جاؤ دیکھو! اگر ان کی بات صحیح ہے تو ہماری ناکہ بندی ختم کرو اور اگر صحیح نہیں ہے تو میں انہیں تمہاری تحویل میں دونگا. جب قریش کعبہ کے اندر پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ دیمک نے خدا کے نام کے سوا پورا عہدنامہ کھا لیا ہے. اور یوں محاصرہ اٹھ گیا اور بنو ہاشم شعب ابی طالب سے باہر نکل کر مکہ پلٹ آئے.[63]

ہجرت سے پہلے کے واقعات

عقبہ کا پہلا عہد نامہ
مفصل مضمون:عقبہ کا پہلا عہد نامہ

بعثت کے گیارہویں سال حج کے موقع پر بنی خزرج کے چھ افراد نے رسول اللہ سے ملاقات ۔آپ نے انہیں دیں الہی کا پیغام پہنچایا انہوں نے اسے قبول کیااور رسول اللہ سے عہد کیا کہ وہ اس پیغام کو اپنے قبیلے کے افراد تک پہنچائیں گے۔اگلے سال مدینے کے 12 افراد نے عقبہ نامی جگہ پر رسول اللہ کی بیعت کی ۔انہوں نے شرک،چوری ، زنا،تہمت نہ لگانے اور اپنی اولاد کے قتل نہ کرنے اور رسول اللہ کی جانب سے امور خیر میں دیے گئے احکامات کی پیروی کرنے پر بیعت کی ۔رسول اللہ نے مصعب بن عمیر کو مبلغ اور لوگوں کو تعلیم قرآن دینے کے عنوان سے ان کے ساتھ یثرب روانہ کیا۔اس کے ذریعے آپؐ اس شہر کے حالات اور لوگوں کی طرف سے اسلام کے استقبال سے مطلع ہونا چاہتے تھے۔[67]

عقبہ کا دوسرا عہد نامہ
مفصل مضمون: عقبہ کا دوسرا عہد نامہ

بعثت کے 13ویں سال بنی خزرج قبیلے کے 73 افراد حج سے فارغ ہونے کے بعد عقبہ میں اکٹھے ہوئے ۔ رسول خدا اپنے چچا عباس بن عبد المطلب کے ہمراہ انکے پاس گئے ۔مؤرخین کے مطابق پہلے عباس بن عبد المطلب نے گفتگو کرتے ہوئے کہا:

اے بنی خزرج! محمد ہم میں سے ہے۔جہاں تک ہم میں توان و سکت تھی ہم نے اسے کسی قسم کی تکلیف پہنچنے سے محفوظ رکھا۔اب وہ آپ کے پاس آنا چاہتا ہے اگر تم اس کی حمایت اور اسکے مخالفین کے شر سے دفاع کی قدرت رکھتے ہو تو بہت خوب وگرنہ ابھی سے ہی اسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔
بنی خزرج نے جواب میں کہا:

عباس ! ہم نے تمہاری گفتگو سن لی ہے ۔اے رسول خدا! آپ کے اپ کے خدا کے نزدیک پسندیدہ کیا ہے؟
رسول اللہ نے جواب میں قرآن کی آیات کی تلاوت کی اور فرمایا:

میں تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں کہ تم میری حمایت کرو گے۔
بنی خزرج کے نمائندوں نے آپ کی اس بات پر بیعت کی کہ وہ آپ کے دشمنوں کے دشمن اور دوستوں کے دوست ہونگے،جو کوئی بھی آپ سے جنگ کرے گا وہ بھی ان سے جنگ کریں گے۔اسی وجہ سے اس بیعت کو بیعت الحرب کہتے ہیں۔اس بیعت کے بعد رسول اللہ نے مسلمانوں کو یثرب جانے اجازت دی ۔تاریخ اسلام میں مکہ سے مدینہ جانے والوں کو مہاجر اور انہیں قبول کرنے والوں کو انصار کہا جاتا ہے ۔

دار الندوۃ کی سازش
قریش جب یثرب کے لوگوں سے رسول اللہ کے عہد و پیمان سے مطلع ہوئے تو انہوں نے اپنے قبیلوں کے عہد وپیمان کی پرواہ کئے بغیر رسول خدا کے قتل کا منصوبہ بنایا ۔لیکن آپ ؐ کو قتل کرنا آسان کام نہ تھا کیونکہ آپ ؐ کے قتل ہو جانے کی صورت میں بنو ہاشم خونخواہی کا مطالبہ کرتے ۔قریش نے اس کے مناسب حل کیلئے دار الندوۃ میں ایک میٹنگ بلائی باہمی صلاح و مشورہ سے اس نتیجے پر پہنچے کہ ہر قبیلہ سے ایک نوجوان لیا جائے تمام افراد یک لخت رسول اللہ پر حملہ آور ہوں اور انہیں اکٹھے قتل کر دیں ۔اس صورت میں قاتل ایک شخص نہیں ہوگا اور بنی ہاشم کیلئے تمام قبیلوں سے انتقام لینا ممکن نہیں ہو گا کیونکہ تمام قبائل سے جنگ کرنا ان کیلئے ناممکن ہو گا اور وہ مجبور ہو کر خون بہا پر راضی ہو جائیں گے۔

اس نقشے پر عمل درآمد کی رات خدا کے فرمان کے مطابق رسول اللہ علی کو اپنی جگہ سلا کر مکہ سے نکل گئے ۔(دیکھیں:شب ہجرت)رسول خدا ابو بکر بن ابی قحافہ کے ساتھ مدینہ کی جانب عازم سفر ہوئے اور 3دن تک مکہ کے نزدیک غار ثور میں ٹھہرے رہے تا کہ ان کا پیچھا کرنے والے نا امید ہو جائیں۔اس کے بعد آپؐ نے غیر معروف راستے سے یثرب کی طرف ہجرت فرمائی۔[68]

ہجرت مدینہ

اصل مضمون: ہجرت
رسول خدا کے مکہ سے نکلنے اور مدینے پہنچنے کی تاریخ میں مؤرخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ابن ہشام جس نے رسول اللہ کی ہجرت کا مکمل نقشہ بیان کیا وہ لکھتا ہے ہے کہ رسول اللہ ربیع الاول کی 12ویں تاریخ بروز سوموار ظہر کے بعد قبا پہنچے۔ابن کلبی نے رسول اللہ کے مکہ سے باہر نکلنے کی تاریخ 1 ربیع الاول اور قبا پہنچنے کی تاریخ اسی مہینے کی 12 بروز جمعہ ذکر کی ہے۔بعض نے وہاں پہنچنے کی تاریخ 8 ربیع الاول لکھی ۔متاخرین اور یورپین مؤرخین نے کہا ہے کہ آپ بعثت کے 12ویں سال ربیع الاول کے 9 دن سفر میں رہے اور 12 تاریخ بمطابق 24 ستمبر622سن عیسوی مدینے کے نزدیک قبا کے مقام پر پہنچے۔(حوالہ درکار ہے)۔

پیغمبر کی مکہ سے مدینہ ہجرت مسلمانوں کیلئے اسلامی تاریخ کا مبدا اور آغاز قرار پائی۔ رسول خدا نے قبا میں توقف کے دوران مسجد تعمیر کی اسے مسجد قبا کہا جاتا تھا ۔[69].

حضرت علی رسول اللہ کی ہجرت کے بعد تین دن تک مکہ رہے اور آپؑ نے رسول خدا کے پاس موجود لوگوں کی امانتیں ان کے مالکوں کو واپس کیں۔ پھر حضرت فاطمہ سمیت بنی ہاشم کی خواتین لے کر مدینہ کی طرف گئے اور قبا میں کلثوم بن ہدم کے گھر رسول اللہ سے ملحق ہو گئے ۔ [70].

رسول خدا 12 ربیع الاول کو بنی نجار کے ہمراہ مدینے روانہ ہوئے ۔پہلی نماز جمعہ قبیلۂ بنی سالم میں پڑھائی۔آپ کے مدینہ میں داخلے کے موقع پر وہاں ہر قبیلہ کا سربراہ اپنے اہل خانہ سمیت چاہتا تھا کہ وہ آپ کو اپنے گھر لے جائے تا کہ دوسروں کی نسبت آپکی مہمان نوازی کا شرف اسے حاصل ہو جائے ۔ رسول اللہ دعوت دینے والوں کے جواب میں کہتے میرا اونٹ حکم دے دیا گیا ہے اور وہ جانتا ہے کہ کس جگہ جانا ہے ؟ بنی مالک بن نجار کے گھروں کے درمیان دو یتیموں کی زمین پر بیٹھ گیا ۔رسول خدا نے ان یتیموں کے سرپرست معاذ بن عقراء سے زمین خرید لی اور اس میں مسجد بنائی گئی جو مسجد النبی کی بنیاد ہے ۔ابوایوب انصاری رسول اللہ کا سامان اپنے گھر لے گئے اور آپ کے حجرے کی تعمیر تک انہی کے گھر رہے ۔

رسول خدا مسجد کی تعمیر میں اصحاب کی مدد فرماتے تھے ۔مسجد کی ایک طرف ایک چبوترہ صفہبنایا گیا تا کہ وہاں مستمد حضرات رہ سکیں۔ وہاں رہنے والوں کو اصحاب صفہ کہا گیا۔[71].

دن بدن مہاجروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا اور انصار انہیں اپنا مہمان بناتے رہے ۔رسول اللہ نے ان کے درمیان صیغۂ اخوت قائم کیا اور رسول اللہ نےحضرت علی کو اپنا بھائی بنایا۔[72]

ایک چھوٹی سی جماعت جو دلی طور پر ایمان نہیں لائے تھے ظاہری طور ایمان لائے انہیں منافقان کہتے تھے۔ مدینے میں کچھ دیر قیام کے بعد آپؐ نے مدینے کے یہودیوں کے ساتھ معاہدہ کیا تا ایک دوسرے کے معاشرتی حقوق کی رعایت کی جاسکے ۔[73]
(ر ک: اسلام کا پہلا عمومی معاہدہ)

منافقین اور یہود

اس کے باوجود کہ اکثر یثربی عوام یا تو مسلمان تھے یا پھر رسول اللہ(ص) کے حامی تھے، ایسا بھی نہیں تھا کہ پورا شہر اور اس کے نواحی علاقے مکمل طور پر مطیع اور پرسکون ہوں. عبداللہ بن ابی، ـ جس کی بادشاہت کا انتظام مدینہ میں مکمل ہوچکا تھا اور محمد(ص) کے مدینہ پہنچنے پر وہ اس منصب سے محروم ہوچکا تھا ـ چین سے نہيں بیٹھا تھا اور اس کے باوجود کہ بظاہر مسلمان کہلواتا تھا، خفیہ طور پر محمد(ص) اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتا اور یہودیوں کے ساتھ بھی ساز باز میں مصروف تھا.[74]

اس گروہ نے ـ جنہيں قرآن کی پہلی مدنی آیات میں منافقین کے نام سے پکارا گیا ہے ـ رسول اللہ(ص) اور مسلمانوں کی راہ میں بڑی بڑی رکاوٹیں کھڑی کردیں. ان لوگوں کا علاج مشرکین اور یہودیوں کے علاج کی نسبت بہت مشکل تھا کیونکہ یہ لوگ مسلمانوں کے ہاں مسلمان کہلواتے تھے اور پیغمبر اسلام، خدا کے ظاہری حکم کے تحت، ان کے خلاف جنگ نہيں لڑ سکتے تھے.[75]
خداوند متعال کبھی قرآنی آیات کے ذریعے انہيں ڈراتا اور خبردار کرتا تھا کہ خدا اور اس کے پیغمبر تمہارے کرتوتوں کی خبر رکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ تم نے مسلمانی کو اپنے تحفظ کے لئے ڈھال قرار دیا ہے:

"إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَ سُولُ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَ سُولُهُ وَاللَّـهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ".(منافقون 1)
ترجمہ: جب منافق لوگ آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں یقینا آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ آپ ضرور اسکے پیغمبر ہیں اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافقین جھوٹے ہیں. ترجمہ سید علی نقی نقوی آیت 1.
اسلام کی راہ میں عبداللہ بن ابی کی طرف سے روڑنے اٹکانے اور خلل اندازی کا سلسلہ سنہ 9 ہجری میں اس کی موت کے لمحات تک جاری رہا. یہودی بھی ـ جنہیں میثاق مدینہ کے تحت کافی حقوق اور مراعاتوں سے سے نوازا گیا تھا، یہاں تک کہ جنگی غنائم میں بھی حصہ پاتے تھے، وہ ابتدائی طور پر مسلمانوں کے ساتھ خندہ پیشانی کے ساتھ پیش آئے تھے اور کئی یہودیوں نے اسلام بھی قبول کیا تھا لیکن آخر کار ناسازگاری و بےآہنگی کے راستے پر گامزن ہوئے. سبب یہ تھا کہ وہ نہ صرف یثرب کی معیشت پر مسلط تھے بلکہ صحرائی عربوں اور مشرکین مکہ کے ساتھ بھی لین دین کرتے تھے؛ انہیں توقع تھی کہ عبداللہ بن ابی مدینے کا حکمران بنے گا اور یوں مدینہ کی معیشت پر ان کے اثر و نفوذ میں مزید اضافہ ہوگا؛ لیکن جب محمد(ص) اس شہر میں تشریف لائے اور اسلام کو مدینہ میں فروغ ملا تو یہ امر یہودیوں کے بڑھتے ہوئے معاشی اثر ورسوخ کے راستے میں رکاوٹ بن گیا.
علاوہ ازیں یہودی اپنی نسل یہود سے باہر کسی شخص کو ہرگز نبی کے طور پر تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھے چنانچہ انھوں نے کچھ عرصہ بعد محمد(ص) کے ساتھ اپنی مخالفت آشکار کردی. بظاہر عبداللہ بن ابی کا کردار بھی ان کو اکسانے اور مشتعل کرنے میں مؤثر تھا.
یہودیوں نے کہا: جس پیغمبر کا ہم انتظار کررہے تھے وہ محمد(ص) نہیں ہیں اور وہ[[[قرآنی]] آیات کے مقابلے میںتورات اور انجیل کے حوالے دیتے اور ان پر فخر و مباہات کرتے تھے. وہ کہتے تھے کہ جو کچھ ہماری کتابوں میں ہے اور جو کچھ قرآن میں ہے، وہ ایک نہیں ہے. اس یہودی سازش کے جواب مین قرآن مجید کی متعدد آیات نازل ہوئیں اور ان آیات کے ضمن میں کہا گیا کہ تورات اور انجیل وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ تحریف کا شکار ہوئی ہیں اور یہودی علماء نے اپنے خاص مقاصد اور مفادات کی خاطر ان کی آیات میں تحریف اور تبدیلی کی ہے.
بالآخر قرآن نے یکبارگی یہود و نصاریٰ کے ساتھ اسلام کا ربط توڑ کر رکھ دیا تا کہ عرب کو سمجھا سکے کہ وہ یہودیوں سے بالکل الگ ایک جداگانہ امت ہیں. قرآن مجید میں اللہ تعالی نے فرمایا:
عرب ابراہیم کے دین پر ہیں اور ابراہیم اسرائیل کے جد اعلیٰ ہیں:

"يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تُحَاجُّونَ فِي إِبْرَ اهِيمَ وَمَا أُنزِلَتِ التَّوْرَ اةُ وَالْإِنجِيلُ إِلَّا مِن بَعْدِهِ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ﴿65﴾ هَا أَنتُمْ هَـٰؤُلَاءِ حَاجَجْتُمْ فِيمَا لَكُم بِهِ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَاجُّونَ فِيمَا لَيْسَ لَكُم بِهِ عِلْمٌ ۚ وَاللَّـهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ﴿66﴾ مَا كَانَ إِبْرَ اهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَ انِيًّا وَلَـٰكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِ كِينَ".
ترجمہ: اے کتاب والو! ابراہیم کے بارے میں کیوں خوامخواہ تکرار کرتے اور جھگڑتے ہو حالانکہ تورات اور انجیل دونوں تو ان کے بعد اتریں، تو کیا تم عقل سے کام نہیں لو گے؟ ٭ اچھا! اب تک تو تم ان سے ایسی باتوں میں بحث اور حجت کر رہے تھے جن کا تمہیں کچھ علم ہے اب کیوں تم ان باتوں میں حجت کرتے ہو جن سے تمہیں کوئی بھی واقفیت نہیں ہے اللہ علم رکھتا ہے اور تم علم نہیں رکھتے ٭ ابراہیم نہ تو یہودی تھے اور نہ نصرانی بلکہ وہ تو نرے کھرے مسلم تھے اور وہ مشرکین میں سے نہیں تھے.[76].[77].[78]
بابر الیاس
ایڈمن قلمدان ڈاٹ نیٹ

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 256 Articles with 91043 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
09 Sep, 2019 Views: 160

Comments

آپ کی رائے