چین میں رابطوں کی نئی جہت
(Shahid Afraz Khan, Beijing)
|
چین میں رابطوں کی نئی جہت تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ
چین کے جنوبی ساحلی خطے میں واقع گوانگ دونگ۔ہانگ کانگ۔مکاؤ گریٹر بے ایریا میں بنیادی ڈھانچے کی تیز رفتار ترقی اور سرحد پار سہولت کاری کے نمایاں نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ہانگ کانگ۔چوہائی۔مکاؤ پل کے چوہائی لینڈ پورٹ سے 2018 میں ٹریفک کے آغاز کے بعد اب تک اندرون و بیرون سفر کرنے والے مسافروں کی مجموعی تعداد 10 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ سنگِ میل ایسے وقت پر عبور کیا گیا جب گوانگ چو۔شینزن۔ہانگ کانگ ایکسپریس ریل لنک کے ہانگ کانگ سیکشن پر بھی 10 کروڑواں مسافر سفر مکمل کر چکا ہے۔
یہ اعداد و شمار گریٹر بے ایریا میں انفراسٹرکچر، قواعد و ضوابط کے انضمام اور عوامی روابط کے بڑھتے ہوئے باہمی تعلق کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔
اب تک گریٹر بے ایریا میں دریا یا سمندر کو عبور کرنے والے چھ بڑے راستے ٹریفک کے لیے کھولے جا چکے ہیں، جو اس خطے کی مربوط ترقی کے لیے مرکزی شریانوں کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان منصوبوں نے نہ صرف سفری سہولت میں اضافہ کیا ہے بلکہ علاقائی معیشت اور شہری انضمام کو بھی نئی رفتار دی ہے۔
حالیہ صورتحال کے مطابق گوانگ چو ساؤتھ ریلوے اسٹیشن سے ہانگ کانگ کے ویسٹ کولون اسٹیشن تک تیز رفتار ٹرین کا سفر کم از کم 50 منٹ سے بھی کم وقت میں مکمل ہو جاتا ہے، جبکہ شینزن کے فُوتیان اسٹیشن سے ویسٹ کولون کا فاصلہ محض 15 منٹ میں طے ہو جاتا ہے۔
ہانگ کانگ سیکشن پر مسلسل اور ریکارڈ مسافر تعداد اس بات کی عکاس ہے کہ چائنیز مین لینڈ اور ہانگ کانگ کے درمیان بڑھتا ہوا انضمام معاشی اور سماجی سرگرمیوں کو فروغ دے رہا ہے۔
ہانگ کانگ۔چوہائی۔مکاؤ پل کی بدولت ہانگ کانگ اور چوہائی یا مکاؤ کے درمیان سفر کا وقت تین گھنٹے سے کم ہو کر تقریباً 45 منٹ رہ گیا ہے۔ حکام کے مطابق پہلے 5 کروڑ مسافروں تک پہنچنے میں پانچ سال سے زائد کا عرصہ لگا، جبکہ اگلے 5 کروڑ کا ہدف صرف ایک سال اور آٹھ ماہ میں حاصل ہو گیا، جو آمدورفت کی رفتار میں تیز اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
سات برس سے زائد عرصے کی کوششوں کے بعد یہ دونوں سرحد پار منصوبے عوام کے روزمرہ سفری معمولات کو تبدیل کر رہے ہیں۔ گریٹر بے ایریا میں بڑھتی ہوئی تعداد میں افراد کے لیے سرحد پار کاروباری اجلاس میں شرکت کے لیے تیز رفتار ٹرین یا خریداری کے لیے پل کے ذریعے ڈرائیونگ اب غیر معمولی تجربہ نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔
10 کروڑ مسافروں کی آمدورفت کو گریٹر بے ایریا کے مجوزہ "ایک گھنٹے کا لیونگ سرکل " کی عملی شکل قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ دونوں بڑے منصوبے افرادی قوت، سرمایہ اور جدت کے بلا رکاوٹ بہاؤ کو ممکن بنا رہے ہیں، جس سے شہروں کے افعال، سماجی و معاشی وسائل اور صنعتی زنجیروں کا باہمی انضمام تیز ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق جہاں بہتر انفراسٹرکچر"ہارڈ ویئر" فراہم کرتا ہے، وہیں سہولت کاری پر مبنی پالیسیاں اس نظام کا"سافٹ ویئر" ہیں۔ حالیہ برسوں میں متعدد پالیسی اقدامات کے تحت ہانگ کانگ۔چوہائی۔مکاؤ پل پر انضمام کو تیز کیا گیا ہے اور بڑے بارڈر پوائنٹس پر کلیئرنس کے طریقہ کار کو مزید آسان بنایا گیا ہے۔
آج ، ہانگ کانگ تک گاڑی چلانا ایک نہایت ہموار تجربہ بن چکا ہے، کیونکہ گاڑیوں کی پابندیوں اور فیری شیڈول سے متعلق سابقہ خدشات بڑی حد تک ختم ہو چکے ہیں۔
گزشتہ ایک سال سے گونگ بے پورٹ اور شینزن بے پورٹ پر ایک نیا منظر عام ہو چکا ہے، جہاں مسافر دستاویزات دکھانے کے بجائے کیمرے کے سامنے کھڑے ہو کر اور فنگر پرنٹ کے ذریعے تقریباً 10 سیکنڈ میں کلیئرنس مکمل کر لیتے ہیں۔ یہ اسمارٹ چینل نظام نومبر 2024 میں آزمائشی بنیادوں پر متعارف کرایا گیا تھا۔
بہتر انفراسٹرکچر اور سہولت کاری کی پالیسیوں کے نتیجے میں گوانگ دونگ، ہانگ کانگ اور مکاؤ کے درمیان عوامی روابط مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ سرحد پار سفر چند منٹوں کا عمل بن چکا ہے، جبکہ نئی رہائشی کمیونٹیز میں سہولیات اور کاروباری سرگرمیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ افراد کی آزادانہ نقل و حرکت قدرتی طور پر لاجسٹکس کی بہتری اور سرمائے کی گردش کو فروغ دیتی ہے ۔ مجموعی طور پر ہانگ کانگ۔چوہائی۔مکاؤ پل اور سرحد پار ریل منصوبے گریٹر بے ایریا کے مربوط ترقیاتی وژن کو عملی حقیقت میں تبدیل کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، جہاں فاصلے کم اور دلوں کی قربت بڑھتی جا رہی ہے۔ |
|