زرعی میدان میں مصنوعی ذہانت کا اطلاق

زرعی میدان میں مصنوعی ذہانت کا اطلاق
تحریر: شاہد افراز خان ،بیجنگ

چین میں زرعی شعبہ تیزی سے جدید ٹیکنالوجی کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت اب صرف صنعت اور خدمات تک محدود نہیں رہی بلکہ کھیتی باڑی، مویشی پالنے اور زرعی انتظام تک پھیل چکی ہے۔ اسی سلسلے میں نانجنگ زرعی یونیورسٹی نے چین کا پہلا اوپن سورس زرعی لارج لینگوئج ماڈل متعارف کرایا ہے، جو زرعی علوم کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت چین میں اسمارٹ ایگریکلچر کے فروغ اور زرعی تحقیق کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

نانجنگ زرعی یونیورسٹی کی جانب سے متعارف کرایا گیا یہ ماڈل "سِنونگ" کہلاتا ہے، جو چین کا پہلا ایسا لارج لینگوئج ماڈل ہے جو مکمل طور پر زرعی شعبے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ ماڈل اوپن سورس بنیادوں پر جاری کیا گیا ہے، تاکہ زرعی تحقیق، پالیسی سازی اور عملی اطلاق میں وسیع پیمانے پر استعمال ممکن ہو سکے۔

سائنسی و تکنیکی رپورٹس کے مطابق، سِنونگ کو ایک جامع اور منظم زرعی ڈیٹا سیٹ پر تربیت دی گئی ہے، جس میں زرعی علوم کے تقریباً تمام اہم شعبے شامل ہیں۔ ان میں حیوانی علوم، زرعی معیشت و انتظام، زرعی وسائل اور ماحولیات، باغبانی، اسمارٹ ایگریکلچر، ویٹرنری میڈیسن، پودوں کا تحفظ اور فصلوں کی افزائش جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔

سِنونگ ماڈل کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا وسیع علمی ذخیرہ ہے۔ اس کی تربیت کے دوران تقریباً 9 ہزار کتابوں، 2 لاکھ 40 ہزار سے زائد تحقیقی مقالوں، 20 ہزار کے قریب پالیسی دستاویزات اور زرعی معیار سے متعلق مواد کو شامل کیا گیا۔ اس کے علاوہ، انٹرنیٹ پر دستیاب مستند زرعی معلومات بھی ماڈل کا حصہ بنائی گئیں، تاکہ اس کی معلوماتی بنیاد مضبوط اور جامع ہو۔

ماہرین کے مطابق، اس قدر بڑے اور متنوع ڈیٹا کی شمولیت نے سِنونگ کو نہ صرف زرعی سوالات کے درست جوابات دینے کے قابل بنایا ہے بلکہ اسے تحقیقی، تعلیمی اور عملی میدان میں مؤثر معاون بھی بنا دیا ہے۔


ماڈل کا نام "سِنونگ" قدیم چینی تاریخ سے ماخوذ ہے، جہاں سِنونگ ایسے سرکاری عہدیداروں کو کہا جاتا تھا جو زراعت اور مالی امور کی نگرانی کے ذمہ دار ہوتے تھے۔ اس نام کا انتخاب اس بات کی علامت ہے کہ یہ ماڈل زرعی پیداوار، انتظام اور پالیسی سازی میں ایک جدید مگر ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

خصوصی شعبوں کے لیے تیار کیے گئے لارج لینگوئج ماڈلز کو عام طور پر دو بڑے مسائل کا سامنا ہوتا ہے:اول، غلط یا خیالی معلومات کی تخلیق، اور دوم، علم کی تیزی سے فرسودگی۔سِنونگ کی تیاری کے دوران ان مسائل سے نمٹنے کے لیے جامع تکنیکی حکمت عملی اختیار کی گئی۔

روایتی انسٹرکشن فائن ٹیوننگ کے ساتھ ساتھ، تربیتی عمل میں چین آف تھاٹ، سیاق و سباق پر مبنی حوالہ جاتی مواد اور کثیر جہتی ڈیٹا کو شامل کیا گیا۔ اس طریقۂ کار نے ماڈل کی فہم اور تجزیاتی صلاحیت کو نمایاں طور پر بہتر بنایا، جس کے نتیجے میں زرعی موضوعات پر زیادہ درست، مربوط اور قابلِ اعتماد مواد تیار کیا جا سکتا ہے۔

سِنونگ ماڈل کو مکمل طور پر اوپن سورس بھی کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد زرعی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو کم کرنا ہے، تاکہ تحقیقی ادارے، کمپنیاں اور ڈیولپرز اس ماڈل کو اپنی ضروریات کے مطابق مزید بہتر بنا سکیں۔

نانجنگ زرعی یونیورسٹی کے مطابق، اوپن سورس حکمتِ عملی زرعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ جدت کو فروغ دے گی اور اسمارٹ ایگریکلچر کے لیے ایک ہمہ گیر ماحولیاتی نظام تشکیل دینے میں مددگار ثابت ہو گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سِنونگ جیسے ماڈلز زرعی فیصلہ سازی، فصلوں کی منصوبہ بندی، بیماریوں کی پیش گوئی، زرعی پالیسی کے تجزیے اور کسانوں کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب موسمیاتی تبدیلی، وسائل کی کمی اور غذائی تحفظ جیسے مسائل درپیش ہوں، ڈیٹا پر مبنی ذہین نظام زرعی شعبے کے لیے ناگزیر بنتے جا رہے ہیں۔

سِنونگ کی صورت میں چین نے زرعی مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک نمایاں قدم اٹھایا ہے۔ یہ ماڈل نہ صرف زرعی علوم کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑتا ہے بلکہ تحقیق، پیداوار اور پالیسی سازی کے درمیان ایک مضبوط پل بھی قائم کرتا ہے۔ اوپن سورس بنیادوں پر اس کی دستیابی زرعی شعبے میں جدت کے نئے دروازے کھول سکتی ہے۔ مجموعی طور پر، سِنونگ اس امر کی علامت ہے کہ مستقبل کی زراعت محض زمین اور محنت تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ علم، ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت اس کی بنیاد بنیں گے۔ 
Shahid Afraz Khan
About the Author: Shahid Afraz Khan Read More Articles by Shahid Afraz Khan: 1758 Articles with 1010132 views Working as a Broadcast Journalist with China Media Group , Beijing .. View More