حسین ؓ و علی اکبرؓ وعلی اصغرؓ کی شہادت

(Ali Jan, Lahore)

یارب غم حسینؓ کے رونے کے واسطے
آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندراتاردے
یہ وہ ذکرہے جسے جتناسنیں دل کواتنی زیادہ بے قراری ہوتی ہے نہ سنیں توروح بے رونق بے رنگ ہوجاتی ہے حضورکی مشابہت رکھنے والے علی اکبرؓ: حضرت امام حسینؓ نے فرمایایااﷲ پاک میں تجھے اس قوم پرگواہ بناکرعرض کرتاہوں کہ ان کے مقابلے میں ایساشخص جوسارے انسانوں میں ظاہری شباہت،باطنی اوصاف وکمالات میں تیرے محبوب محمدﷺ کی مشابہت رکھتاہے ہم جب بھی تیرے محبوبﷺ کے دیدارکے مشتاق ہوتے توعلی اکبرؓ کودیکھ لیتے (ابوالمعید،مقتل الحسین ج۲ص۳۵)ان سعدنے جب علی اکبرؓ کومیدان کربلا میں دیکھ اتوکہاہم آپکوامان دیتے ہیں کہ آپ میدان سے چلے جائیں توسیدناعلی اکبرؓ نے کہا یہ ہاشمی جوان کی تلوارہے اورمیں دشمن پرسخت وارکروں گااوراپنے باپ حسین ابن علی کی حمایت کروں گا(ابن عساکر،ترجمہالحسین ص۲۲۷)آپ نے جنگ میں اترنے سے پہلے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جوبھی محمدﷺ کی آل کے خون کاپیاسہ ہے سامنے آئے آپ کے جلال کودیکھتے ہوئے کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ آگے بڑھتا آخرآپ خودٓآگے بڑھ کردشمن پرحملہ کیاآپ کے ایک ایک وارسے کئی کئی فوجی سبزی کی طرح کٹتے جارہے تھے کہیں نیزے کے وارسے توکہیں تلوارکی دھاری خون چوس لیتی ایسے محسوس ہورہاتھاکہ دشمنان اہلبیت پرقہرجاری ہوگیاہولڑتے لڑتے آپ نے 100سے زائددشمنوں کوجہنم واصل کیاآپ کی کمال جوہری کودیکھ کردشمن کے حوصلے پست ہوگئے ۔اتنے زیادہ دشمنوں کومارنے کے بعدریگستان کی تپتی دھوپ گرمی اورجسم کوجھلسادینے والی گرم ہواسیدناعلی اکبرؓ نے گھوڑے کی باگ موڑی اورامام عالی شان کے خدمت میں حاضرہوئے اورعرض کی کہ اباجان پیاس کاشدیدغلبہ ہے تھوڑاساپانی مل جاتاتودشمنوں کی صفوں کوالٹ کررکھ دوں ۔اباحضورکی آنکھوں میں آنسوآگئے اورتوکچھ نہ کرسکتے تھے اپنی زبان علی اکبرکے منہ میں ڈالی تاکہ حلق خشک نہ ہوتھوڑی دیربعدفرمایاتھوڑی دیراورصبرلوپھراپنے ناناجان ﷺ کے ہاتھ سے حوض کوثرکے جام سے سیراب ہوناہے (خوارزمی)سیدناعلی اکبرؓ دوبارہ میدان میں اترے توللکاراہے کوئی مقابلہ کرنے والاتوابن سعدنے نامی گرامی پہلوان طارق کوکہا علی اکبرؓ کاسرلاؤ تجھے گورنربنادوں گاگورنربننے کے خواب کوپوراکرنے کیلئے آگے بڑھاتوسیدناعلی اکبرنے ایک ہی وارسے نیزااسکے جسم کوچیرتااسکی پیٹھ سے نکل گیااسے تب پتہ چلاجب خون کے فوارے جاری ہوئے باپ کومرتادیکھ کرطارق کابڑابیٹا عمروبن طارق غصے میں سیدپاک کی طرف دوڑاسیدناعلی اکبرنے اسی طرح وارکرکے اسے بھی باپ کے پاس جہنم واصل کیاباپ بھائی کومرتادیکھ کر طارق کا چھوٹابیٹاطلحہ بدلہ کی آگ میں آگے بڑھا مگروہ بھی سیدپاک کے ہاتھوں مردارہوگیا۔سیدناعلی اکبرکی حیدری دیکھ کرابن سعدنے کہا سیدناعلی اکبرؓ کاگھیرتنگ کرلوورنہ ہم میں سے کوئی نہ بچے گابس پھرکیاتھاآپرنیزوں تیروں کی بارش شروع ہوگئی امام طبری لکھتے ہیں کہ مروہ بن ملعون نے آپ کوآگے سے برچھی ماری جس سے آپ گھوڑے سے نیچے آگئے تیرونیزوں کی بارش سے آپ نے جام شہادت نوش فرمائی اوردین اسلام کی بنیاد کومضبوط کردیا۔

سیدناعلی اصٖغرؓکربلامیں شہیدہونے والے شیرخوارتھے ابن کثیرلکھتے ہیں کہ آپ خیمہ میں تشریف فرماتھے کہ خاندان نبوت کے باقی افرادشہیدہوجانے کے بعدآپ میدامیں جانے والے تھے آپکو حضرت بی بی زینب ؓ نے آپکوخیمہ میں بلایا کہ ہم سے علی اصغرؓ کی حالت نہیں دیکھی جاتی پیاس سے ان کی حالت بگڑرہی ہے آپ انہیں لے جائیں اوردشمنوں کودیکھائیں شایدانہیں معصوم بچے پرترس آجائے توآپ ؓ نے سیدناعلی اصغرؓ کولیاوردشمنوں کے سامنے تشریف لائے اورفرمایا کہ میرے تمام ساتھی ،رفقہااورعزیزتمہارے ظلم کی نظرہوچکے ہیں اب یہ معصوم بچہ شدت پیاس سے دم توڑرہاہے ابن سعدتوجانتاہے میں حق پرہوں پھربھی تونے میرے بچوں ساتھیوں کومیرے سامنے شہیدکیااس میں اس معصوم کاکیاقصورہے ابھی آپ گفتگوکرہی رہے تھے کہ ایک بدبخت یزیدی حرملہ بن کاہل مردودوملعون نے سیدھاتیرماراجوسیدناعلی اصغرکے سینے سے ہوتاہواامام حسین کے بازومیں پیوست ہوگیاآپ ؓ نے حسرت بھری نگاہوں سے آسمان کی طرف دیکھااورتیرکونکال پھینکاخون کافوراہ سیدناعلی اصغرکے سینے سے ابلنے لگاتوآپ نے خون کواپنے دامن میں لے لیااوراﷲ پاک کی بارگاہ میں عرض کی مولاکریم تومیری معصوم قربانی کوقبول فرما(البدایہ والنہایہ ج ۸ص۱۸۶(آپ نے علی اصغرکالاشہ خیمہ میں لائے جہاں حضرت زینب اسی انتظارمیں تھیں کہ ابھی پیاسے کی پیاس ختم ہوگی اوروہ چہچہاتاآئے گامگرانہیں کیامعلوم تھا کہ جن کے دل میں بغض اہل بیت ہووہ پانی کہاں دیں گے امام حسین نے علی اصغرکالاشہ زینب ؓ کودیاتومعصوم لاشے کودیکھ کرسب کی بے اختیار چیخیں نکل گئیں امام حسین ؓ نے فرمایاصبرکروبے شک اﷲ پاک نے ہماری اس معصوم قربانی کو بھی اپنی جناب میں قبول فرمالیاہے ۔

آپ نے آخری بار حجت کے طورپر عمرسعدکوبلایا اور فرمایا میرے قتل سے باز آجاؤاگریہ قبول نہیں تو ایک ایک کرکے اپنے سپاہی کٹنے کیلئے بھیجوتو ابن سعدنے ایک ایک سپاہی بھیجنے کا معاہدہ کیا مگرایک کے بعدایک حضرت امام حسینؓ کی تلوار سے گاجرمولی کی طرح کٹنے لگے توعمرسعدنے اپنے لشکرسے کہا دیکھ کیا رہے ہو سب ایک ہوکے حملہ کرویہ علی کا شیرہے اس سے ایک ایک کرکے کامیابی حاصل نہیں کرسکتے پہلے حملے میں آپکی تلوار سے ایک ہزارنوسوپچاس یہودی مارے گئے ابھی آپ سانس نہ لے پائے تھے کہ 28,000دشمنوں کالشکرآن ٹوٹاآپ پرمسلسل حملوں کی وجہ سے ایک پتھرآپ کی پیشانی اقدس پرلگا اس کے فوراًبعدابوالحتوف ملعون نے آپکی جبین مبارک پر تیرماراجسے آپ نے نکال کرپھینکا اور کچھ پوچھنے ہی والے تھے کہ ایک اورتیرسہ شعبہ پیوست ہوگیاجو زہریلا میں ڈبوکرلائے تھے اسکے بعدصالح ابن وہب لعین نے آپ کے پہلوپرپوری طاقت سے نیزاماراجس کی تاب نہ لاتے ہوئے آپ تپتی زمین پر رخسارکے بل گرے اور فوراًاٹھ کھڑے ہوئے ورعہ ابن شریک لعین آپ کے دہنے شانے پروارکیاملعون نے دوسری طرف وارکیاتوآپ دوبارہ زمین پرگرپڑے اتنے میں سنان بن انس نے آپؓ کی ہنسلی پرنیزہ مارااوراسے کھینچ کردوسری مرتبہ سینہ اقدسپرماراآخرمیں شمرملعون نے آپ کے کندھے پر سوارہواتوآپ نے پوچھا کون ہوتو اس نے کہامیں شمرہوں اور مجھے ایسا کرنے سے یزیدسے مال وزرملے گا حضرت امام حسین نے اپنے ساتھیوں کو اپنے ناناﷺ کو اوراﷲ رب العزت کو یادکرتے کرتے شہادت کے رتبے پرفائض ہوگئے: خوش نصیب ہے وہ جسے شہادت ملے
شہادت خوش نصیب ہے حسین ؓ مل گیا

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 62 Print Article Print
About the Author: Ali Jan

Read More Articles by Ali Jan: 111 Articles with 21307 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ