سیوریج کے بڑھتے مسائل کم ہوتے کنڈی مین ،غیر متاثر ویژن نے شہر قائد کو سیوریجستان بنا دیا

(Syed Mehboob Ahmed Chishty, )

شہر قائد میں بڑھتے سیوریج کے مسائل اور آپس کی چپقلش نے شہریوں کاجینا دوبھر کردیا ہے یہ فیصلہ نہیں ہوسکاکہ سیوریج مسائل دور کرنے کیلئے مین ہولوں میں کون اترے گا؟ کراچی کی یوسیز میں کنڈی مین ماورائی مخلوق کی طرح غائب ہیں، مسلسل کم ہوتی تعداد نے شہر میں سیوریج مسائل کو بڑھایا ہوا ہے درست سمت میں بھرتیاں نہ ہونے کا خمیازہ کراچی کے شہری بھگتنے پر مجبور ہیں تفصیلات کے مطابق ضلعی بلدیات اور یوسیز پر کنڈی مین رکھنے کیلئے زور دیا جانے لگا ہے جن کا بنیادی طور پر یہ کام ہی نہیں ہے ،شہر میں اسوقت ضرورت سے 60 فیصد کم کنڈی مین ہیں آخری مرتبہ 2016 ء میں محض 600 کنڈی مین بھرتی کر کے یوسیز کو مزید مشکلات کا شکار کر دیا گیا ہے کیونکہ ایک کنڈی مین کو ایک بڑا علاقہ دے دیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ کام کرنے سے اجتناب برت رہے ہیں شہر کی247 یوسیز میں سیوریج مسائل کی گھمبیر صورتحال کو دور کرنے کیلئے یوسیز اور ضلعی بلدیات میں تعینات واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے افسران نے کنڈی مینوں کی کمی پوری کرنے کیلئے زور دے رکھا ہے کہ ان کے پاس افرادی مشینری قوت دستیاب نہیں ہے لہذا یوسیز یا ضلعی بلدیات اپنے فنڈز سے کنڈی مینوں کی تعداد کو ضرورت کے مطابق بڑھائیں، جس پر یوسیز کے چئیرمینز شدید غم وغصے کی کیفیت میں دکھائی دیتے ہیں ضلع کورنگی، شرقی اور غربی میں دیگر اضلاع کی نسبت یہ معاملات روزانہ کی بنیاد پر رونما ہو رہے ہیں جبکہ سیوریج مسائل کے حل کیلئے شہری در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں کراچی کی یوسیز میں کنڈی مینوں کا فقدان شدید تر ہوگیا، نجی سطح پر کام کرنے والے کنڈی مینوں نے غریب عوام کا خون چوس رکھا ہے، مین ہولوں کی صفائی کیلئے ہزاروں روپے طلب کیا جانا معمول بن گیا ہے جس کی روک تھام کیلئے کوئی دردستیاب نہیں ہے تفصیلات کے مطابق کراچی کے تین اضلاع ملیر، کورنگی اور غربی اسوقت بدترین سیوریج مسائل میں گھرے ہوئے ہیں خاص طور پر ضلع ملیر کے گوٹھ، ضلع کورنگی کا لانڈھی اور شاہ فیصل زون اور ضلع غربی میں اورنگی، بلدیہ اور سرجانی ٹاؤن کے کئی علاقے سیوریج کے گھمبیر مسائل میں مبتلا ہیں ضلع شرقی کے پوش علاقے بھی اس عفریت سے عاری نہیں دکھائی دے رہے ہیں ، ضلع جنوبی میں پیپلز پارٹی کے چئیرمین کو سیوریج مسائل حل کرنے کیلئے کافی حد تک معاونت فراہم کی جا رہی ہے لیکن اس کے باوجود لیاری میں سیوریج مسائل کی موجودگی سے رہائشیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ سیوریج مسائل دور کرنے کیلئے صدر ٹاؤن کو بنیادی اہمیت دی جا رہی ہے اور یہ ہی وجہ بتائی جاتی ہے کہ ضلع جنوبی کی جانب سے لیاری زون کو بلدیاتی خدمات کے حوالے سے کم توجہ دینے کی وجہ سے لیاری کی پکی قومی اسمبلی کی نشست پیپلز پارٹی کے ہاتھوں سے نکل گئی ضلع وسطی میں صورتحال ملی جلی ہے لیاقت آباد، نیوکراچی زون میں سیوریج کے مسائل کو حل کرنے میں غفلت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے لیکن مذکورہ اضلاع میں واٹر بورڈ کی عدم توجہی کی وجہ سے صورتحال مزید گھمبیر ہو رہی ہے جبکہ واٹر بورڈ اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہوکر اپنی ذمہ داریوں کا بوجھ ضلعی بلدیات کے سر پر ڈال رہا ہے جو کہ سندھ حکومت کے ماتحت کام کرنے والے ادارے کی جانب سے مناسب نہیں دکھائی دے رہا ہے جبکہ یہ صورتحال واضح ہے کہ ضلعی بلدیات کو فنڈنگ کی کمی کا سامنا ہے جبکہ یوسیز کا ماہانہ فنڈ پانچ لاکھ روپے ہے مزید براں ضلع ملیر میں بلدیاتی مسائل اسقدر بڑھ چکے ہیں جس کے سد باب کیلئے بلدیہ ملیر کچھ کرتی دکھائی نہیں دے رہی ہے ضلع ملیر کرپٹ افسران کی وجہ سے بدنام ترین ضلعوں میں شامل ہو چکا ہے یہاں ذاتی مالی مفادات کے حصول کیلئے فنڈز کو عوام پر خرچ کرنے کے بجائے جعلی کوٹیشنز و دیگر طریقوں سے آپس میں بٹور لیا جاتا ہے مجموعی طور پر ضلعی بلدیات میں کئی کرپٹ افسران موجود ہیں جو فنڈز کو کسی نہ کسی طرح بٹور رہے ہیں اس صورتحال میں سیوریج اور صفائی کی صورتحال دن بہ دن بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے تین ضلعوں ملیر، کورنگی اور غربی میں صورتحال اسقدر خراب ہوچکی ہے کہ اس سلسلے میں فوری اقدامات کی ضرورت ناگزیر ہو چکی ہے کیونکہ یاد رہے کہ چکن گنیا کی ابتدا ملیر سے ہی ہوئی تھی بعد میں جس کا خمیازہ آج تک پورا شہر بھگت رہا ہے جبکہ2006ء میں پہلا ڈینگی مریض کورنگی سے نمودار ہوا تھا اور آج سندھ حکومت ڈینگی روک تھام پروگرام کے نام سے محکمہ قائم کرنے پر مجبور ہوچکی ہے.

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Mehboob Ahmed Chishty

Read More Articles by Syed Mehboob Ahmed Chishty: 33 Articles with 12056 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Sep, 2019 Views: 155

Comments

آپ کی رائے